درد کے سجدے ہمیشہ مقبول ہوتے ہیں کیونکہ ان میں تڑپ ہوتی ہے، شدت ہوتی ہے، جو آپ کے رب کی رحمت کو متوجہ کر لیتی ہے۔ یاد رکھیں، بے چین دل کی دعائیں کبھی رد نہیں ہوتیں۔
Amir Shafiq
اور یتیموں کو ان کے مال دیدو اور پاکیزہ مال کے بدلے گندا مال نہ لواور ان کے مالوں کو اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ بیشک یہ بڑا گناہ ہے۔
سنو! اللہ سب بہتر کر دے گا، اللہ راستہ بنا دے گا، اللہ تمہاری پریشانیاں ختم کر دے گا، اللہ تمہاری چاہت تمہیں عطا کر دے گا، اللہ تمہاری سب دعائیں قبول کر لے گا، اللہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا، مایوس مت ہو، بس اللہ پر یقین رکھو۔
شجر کاری کی اہمیت
شجر کاری یعنی درخت لگانا نہ صرف ایک اچھی عادت ہے بلکہ یہ ہماری زندگی اور ماحول کے لیے نہایت ضروری ہے۔ درخت قدرت کا قیمتی تحفہ ہیں جو زمین پر زندگی کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
درخت ہوا کو صاف کرتے ہیں اور کے عمل کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ اس طرح ماحول آلودگی سے پاک رہتا ہے اور ہمیں سانس لینے کے لیے صاف ہوا ملتی ہے۔
درخت گرمی کو کم کرتے ہیں اور سایہ فراہم کرتے ہیں جس سے درجہ حرارت معتدل رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں زیادہ درخت ہوتے ہیں وہاں موسم خوشگوار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ درخت بارش کے نظام کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
شجر کاری زمین کو کٹاؤ سے بچاتی ہے اور مٹی کو مضبوط بناتی ہے۔ درختوں کی جڑیں مٹی کو بکھرنے سے روکتی ہیں، جس سے زراعت کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ درخت جانوروں اور پرندوں کے لیے رہائش فراہم کرتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شجر کاری ایک قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہئیں تاکہ ہم اپنے ماحول کو صاف اور خوبصورت بنا سکیں اور آنے والی نسلوں کو ایک بہتر دنیا دے سکیں۔
صدقے کی ایک بہت ہی آسان صورت
اپنے گھر والوں کے ہمراہ الماری کے قریب بیٹھیں،
اور ان کپڑوں کو نکالیں جو اب آپ کے زیرِ استعمال نہیں،
نیز وہ لباس بھی الگ کر لیں جو آپ کے بچوں کے لیے تنگ ہو چکے ہیں
۔اسی طرح وہ جوتے جو اپ کے گھر میں فالتو ہیں اسی طرح اپنے مختلف کمروں میں ایسی چیزیں دیکھیں جو اپ کے لیے فائدہ مند نہیں ہیں لیکن پھر بھی گھر میں رکھی ہوئی ہیں
پھر ان چیزوں کو ایسے باحیا اور خوددار ضرورت مندوں تک پہنچائیں جو سوال کرنے سے جھجکتے ہیں، مگر دل میں امید رکھتے ہیں۔
ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ان عطا کردہ کپڑوں اور جوتوں کو عید کا جوڑا سمجھ کر پہنیں گے اور خوشی سے ان کی آنکھیں نم ہو جائیں گی۔
اور اگر آپ اپنی کچھ پسندیدہ، خوبصورت پوشاکیں بھی دل سے نکال کر ان کی جھولی میں ڈال دیں، تو یہ ایثار آپ کے حق میں عظیم ترین نیکی بن جائے گا،
کیونکہ جو چیز دل کو عزیز ہو،
اسے راہِ خدا میں دینا قربانی کی معراج ہے۔
مولاۓکریم ہمارا حامی و ناصر ہو...
*بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ*
کیا انہوں نے نہ د یکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپا دیں انہیں ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا جو تم کو نہ دیا اور ان پر موسلا دھار پانی بھیجا اور ان کے نیچے نہریں بہائیں تو انہیں ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا اور ان کے بعد اور سنگت اٹھائی۔سورت الانعام ایت 06
تفسیر صراط الجنان
{ اَلَمْ یَرَوْا:کیا انہوں نے نہ دیکھا۔} اس سے پہلی آیات میں سرزنش اور وعید کے ذریعے کفارِ مکہ کواللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے منہ پھیرنے، حق کو جھٹلانے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا مذاق اڑانے سے منع کیا گیا اور ا س آیت میں سابقہ قوموں کا عبرت ناک انجام بیان کر کے انہیں نصیحت کی جا رہی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کیا شام اور دیگر ملکوں کی طرف سفر کرنے کے دوران کفارِ مکہ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا۔ اے اہلِ مکہ! ہم نے انہیں زمین میں وہ قوت و طاقت عطا فرمائی تھی جو تمہیں نہیں دی اور جب انہیں ضرورت پیش آئی تو ہم نے ان پر موسلا دھار بارش بھیجی جس سے ان کی کھیتیاں شاداب ہوئیں اور ان کے درختوں ، رہائش گاہوں اور محلات کے قریب نہریں بہا دیں جس سے باغ پرورش پائے ،پھلوں کی کثرت ہوئی اور دنیا کی زندگانی کے لئے عیش و راحت کے اسباب بَہم پہنچے لیکن جب انہوں نے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی اور ان کے احکامات کو جھٹلایا تو پھر ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا اور ان کی یہ جاہ و حشمت اور سازو سامان انہیں ہلاکت سے نہ بچاسکا اور ان کے بعد دوسری قومیں پیدا کردیں اور دوسرے لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا۔ ان کاعبرت ناک انجام دیکھ کر تم بھی نصیحت حاصل کرو اور سابقہ کفار والی روش اختیار نہ کرو ورنہ تم پر بھی ویسا ہی عذاب آ سکتا ہے۔
سابقہ امتوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں :
اس آیت میں گزری ہوئی اُمتوں کا جو حال اور انجام بیان کیا گیا کہ وہ لوگ قوت ، دولت اور مال و عیال کی کثرت کے باوجود کفر و سرکشی اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے احکام کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ہلاک کردیئے گئے، اس میں بطورِ خاص کفار اور عمومی طور پر ہر مسلمان کے لئے عبرت اور نصیحت ہے ،ا س لئے سب کو چاہئے کہ اُن کے حال سے عبرت حاصل کرکے خواب ِغفلت سے بیدار ہوں اور کفر و سرکشی اور گناہوں کو چھوڑ کر ایمان، اطاعت، عبادت اور نیک کاموں میں مصروف ہو جائیں۔
کفار کی دنیوی ترقی بار گاہِ الٰہی میں مقبولیت کی دلیل نہیں :
اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دنیوی خوشحالی ، مال و دولت اور سہولیات کی کثرت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا مندی کی علامت نہیں ورنہ قارون تو بہت بڑا مقبولِ بارگاہِ الٰہی ہوتا۔ یہاں سے ان لوگوں کو درس حاصل کرنا چاہیے جو مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کی دنیوی ترقی، سائنسی مہارت، سہولیات کی کثرت، ایجادات کی بہتات، مال و دولت کی فراوانی دیکھ کر انہیں بارگاہِ الٰہی میں مقبول اور مسلمانوں کو مردود سمجھتے ہیں اور اخلاق و کردار میں مسلمانوں کو کفار کی تقلید کامشورہ دیتے ہیں۔ کفار کی یہ دنیوی کامیابی مقبولیت کی نہیں بلکہ مہلت کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ کافروں کی جلد پکڑ نہیں فرماتا بلکہ انہیں مہلت دیتا اور آسائشیں عطا فرماتا ہے،پھر انہیں اپنے عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ نیز نام نہاد دانشور، مسلمانوں کو یورپ کی اندھی تقلید کا نہ ہی فرمائیں تو بہتر ہے اور وہ اپنی قارونی سوچ اپنے پاس ہی رکھیں۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
سب خوبیاں اللہ کو جس نے آسمان اور زمین بنائے اور اندھیریاں اور روشنی پیدا کی اس پر کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔سورت الانعام آیت 1
تفسیر صراط الجنان
{اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ:تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔} اس آیت میں بندوں کو اللہ تعالیٰ کی حمد کی تعلیم فرمائی گئی کہ وہ جب حمد کرنے لگیں تو ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ‘‘ کہیں ،ا ور آسمان وزمین کی پیدائش کا ذکر اس لئے ہے کہ اِن میں دیکھنے والوں کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حکمت وقدرت کے بہت سے عجائبات ، عبرتیں اور منافع ہیں۔ حضرت کعب احبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ تو ریت میں سب سے پہلی یہی آیت ہے۔( خازن، الانعام، تحت
الآیۃ: ۱، ۲ / ۲)
{ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ:اور اندھیروں اور نور کو پیدا کیا۔}یعنی ہر اندھیرا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی نے پیدا فرمایا ہے خواہ وہ اندھیرا رات کا ہو، کفر کا ہو، جہالت کا ہو یا جہنم کا ہو ۔ یونہی ہر ایک روشنی اسی نے پیدا فرمائی خواہ وہ روشنی دن کی ہو ، ایمان و ہدایت کی ہو، علم کی ہو یا جنت کی ہو۔
برا کام کر کے اللہ تعالیٰ کی مشیت کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے:
یہاں ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ اگرچہ ہر اچھی بری چیز کو پیدا فرمانے والا رب تعالیٰ ہے لیکن برا کام کر کے تقدیر کی طرف نسبت کرنا اور مشیتِ الٰہی کے حوالے کرنا بری بات ہے، بلکہ حکم یہ ہے کہ جو اچھا کام کرے اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کہے اور جو برائی سرزد ہو اسے اپنے نفس کی شامت تصور کرے۔
نیز اس آیت میں ظُلُمات یعنی تاریکیوں کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ باطل کی راہیں بہت زیادہ ہیں اور راہِ حق صرف ایک دینِ اسلام ہے۔
{ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ:پھر (بھی) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔}قدرت ِ الٰہی کے ان دلائل کے بعد فرمایا کہ ایسے دلائل پر مطلع ہونے اور
قدرت کی ایسی نشانیاں دیکھنے کے باوجود کفار اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو حتّٰی کہ پتھروں کو پوجتے ہیں حالانکہ کفار اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ یہاں کفار کے شرک کا ذکر ہوا اس مناسبت سے شرک کی تعریف درج ذیل ہے۔
شرک کی تعریف :
شرک کی تعریف یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی غیر کو واجبُ الوجود یا لائقِ عبادت سمجھاجائے ۔ حضرت علامہ سعدُ الدین تفتازانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شرک کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :’’اَلْاِشْتِرَا کُ ھُوَاِثْبَاتُ الشَّرِیْکِ فِی الْاُلُوْہِیَّۃِبِمَعْنٰی وُجُوْبِ الْوُجُوْدِکَمَا لِلْمَجُوْسِ اَوْ بِمَعْنٰی اِسْتِحْقَاقِ الْعِبَادَۃِ کَمَا لِعَبَدَۃِ الْاَصْنَامِ‘‘ یعنی ’’شرک یہ ہے کہ خدا کی اُلوہیت (یعنی معبود ہونے) میں کسی کو شریک کرنا اس طرح کہ کسی کو واجبُ الوجود مان لینا جیسا کہ مجوسیوں کا عقیدہ ہے یا خدا کے سوا کسی کو عبادت کا حقدار مان لینا جیسا کہ بت پرستوں کا خیا ل ہے۔(شرح عقائد نسفیہ، مبحث الافعال کلہا بخلق اللہ تعالی والدلیل علیہا، ص ۷۸)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ آدمی حقیقۃً کسی بات سے مشرک نہیں ہوتا جب تک غیرِخدا کو معبود یا مستقل بالذّات و واجبُ الوجود نہ جانے ۔(فتاوی رضویہ، ۲۱ / ۱۳۱)
صدرُالشریعہ بدرُالطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’شرک کے معنی غیرِ خدا کو واجبُ الوجود یا مستحقِ عبادت جاننا یعنی الوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا اور یہ کفر کی سب سے بد تر قسم ہے اس کے سوا کوئی بات کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں۔(بہار شریعت، حصہ اول، ایمان وکفر کا بیان،۱ / ۱۸۳)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Dubai