Amir Shafiq

Amir Shafiq اور یتیموں کو ان کے مال دیدو اور پاکیزہ مال کے بدلے گندا مال نہ لواور ان کے مالوں کو اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ بیشک یہ بڑا گناہ ہے۔

22/08/2026

معاف کرنا کیوں ضروری ہے؟

اکثر ہم دوسروں کی غلطیوں کو دل پر لگا لیتے ہیں، اور ان کو معاف نہ کرنے کی وجہ سے دل میں بوجھ رکھتے ہیں۔ مگر اصل نقصان ہمیں خود ہوتا ہے، کیونکہ غصہ اور کینہ ہمارے دل کا سکون چھین لیتا ہے۔

معاف کرنا ضروری ہے کیونکہ

1۔ معاف کرنا دل کو ہلکا کرتا ہے
جب آپ کسی کو معاف کرتے ہیں تو آپ اپنے دل سے ایک بوجھ اتار دیتے ہیں۔ مطلب آپ اپنے اوپر احسان کر رہے،

2۔ غصہ اور نفرت نقصان دہ ہیں
سائیکالوجی کہتی ہے کہ دل میں کینہ رکھنے سے ذہنی دباؤ اور جسمانی بیماریاں بڑھتی ہیں۔

3.قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اور معاف کر دو، بے شک اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

4.اپنی زندگی آسان بنائیں
دوسروں کو معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بھول جائیں، بلکہ یہ کہ آپ خود کو سکون دینے کے لیے بوجھ چھوڑ دیں۔

کسی نے آپ کی بات پر تنقید کی۔ اگر آپ اسے دل میں رکھتے ہیں تو آپ بار بار پریشان ہوں گے۔ لیکن اگر آپ دل میں کہیں: "اللہ بہتر جانتا ہے، میں نے معاف کیا" تو سکون خود بخود آ جاتا ہے۔

معاف کرنا دوسروں پر احسان نہیں بلکہ اپنے دل پر رحمت ہے۔

22/08/2026

حسد دوسرے بندے کی نعمت نہیں چھین سکتا لیکن انسان کا اپنا سکون چھین لیتا ہے۔

نفسیات کہتی ہے کہ حسد کرنے والا انسان دوسروں کی خوشی کو اپنی ناکامی سمجھتا ہےاور پھر وہ اپنی نعمتیں دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔

اسی لئے قرآن پاک نے حسد سے پناہ مانگنا سکھایا، کیونکہ حسد آگ کی طرح ہے... جو سب سے پہلے اپنے ہی دل کو جلاتی ہے۔

آج کے بعد جس شخص سے دل میں حسد محسوس ہو، اس کے لیے دل سے خیر کی دعا کرنی ہے۔۔۔

04/08/2026

ہمارے گھروں میں مسئلہ یہ نہیں کہ بات نہیں ہوتی، مسئلہ یہ ہے کہ لہجہ سخت ہوتا ہے۔

اچھے اصول جو ہمیں اپنانے چاہئے۔

☺️ بات آہستہ کریں۔
🙂 غصے میں خاموشی اختیار کریں۔
😇 بات کا وقت منتخب کریں، کہ کس سے کس ٹائم بات ٹھیک ہے۔

آدھی لڑائیاں خود ہی ختم ہو جائینگی۔

22/07/2026

کبھی اپنے دل کو بھی میٹھا تحفہ دیجیے۔

🔅آج کسی کو معاف کر دیجیے.
🔅کسی کے لیے دل سے دعا کر دیجیے.
🔅اپنی ماں، باپ یا کسی عزیز کو محبت سے ایک فون کر لیجیے.

اور چند لمحے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں گزار دیجیے۔

👈 یاد رکھیے،
دل کی اصل مٹھاس نہ چاکلیٹ میں ہے، نہ مٹھائی میں.
بلکہ اللہ کی یاد، شکرگزاری، اور نیک عمل میں ہے۔

"الحمد لله على كل حال"
(ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔)

اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے آباد، ہماری زندگیوں کو خیر و برکت سے بھر دے۔ آمین۔

22/07/2026

اسلام میں ہر انسان کی عزت پر زور دیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ خود لوگوں کو بڑے احترام سے مخاطب فرماتے، ان کی کنیت سے پکارتے، اور ہر شخص کو اس کے مقام کے مطابق عزت دیتے تھے۔

کسی کو احترام سے پکارنا بھی حسنِ اخلاق کا حصہ ہے۔
لوگ یہ بھولتے ہیں کہ آپ نے ان سے کیا کہا...
لیکن یہ یاد رکھتے ہیں کہ آپ نے انہیں کیسا محسوس کروایا۔

اگر آپ کسی کا نام لے کر، مسکرا کر، احترام سے بات کرتے ہیں...
تو وہ خود کو اہم محسوس کرتا ہے۔

اور یہی بہترین کمیونیکیشن سکلز کا حصہ ہے ۔

19/07/2026

اپنی قدر لوگوں کی رائے سے نہیں، اپنے کردار، اپنے اعمال اور اللہ کے ساتھ اپنے تعلق سے پہچانیے۔

جو دل اللہ کی رضا میں سکون ڈھونڈ لیتا ہے، وہ لوگوں کی توجہ کا محتاج نہیں رہتا۔

اپنی توانائی دوسروں کی توجہ حاصل کرنے پر نہیں، بلکہ خود کو بہتر بنانے پر لگائیں۔

16/07/2026

مستقل مزاجی اچھی ہے۔
مگر اندھی مستقل مزاجی نہیں...

یہ اصول اپنی اصل میں بہت خوبصورت ہے۔ اگر آپ نے وعدہ کیا ہے، تو اسے پورا کریں۔ اگر آپ نے کسی اچھے مقصد کا عزم کیا ہے، تو ثابت قدم رہیں۔

لیکن

اگر آپ کو واضح ہو جائے کہ آپ غلط راستے پر ہیں، تو صرف اپنی انا بچانے کے لیے اس پر چلتے رہنا دانشمندی نہیں۔

ایک سمجھدار انسان اپنی غلطی ماننے سے نہیں ڈرتا۔

08/05/2026

درد کے سجدے ہمیشہ مقبول ہوتے ہیں کیونکہ ان میں تڑپ ہوتی ہے، شدت ہوتی ہے، جو آپ کے رب کی رحمت کو متوجہ کر لیتی ہے۔ یاد رکھیں، بے چین دل کی دعائیں کبھی رد نہیں ہوتیں۔

08/05/2026

سنو! اللہ سب بہتر کر دے گا، اللہ راستہ بنا دے گا، اللہ تمہاری پریشانیاں ختم کر دے گا، اللہ تمہاری چاہت تمہیں عطا کر دے گا، اللہ تمہاری سب دعائیں قبول کر لے گا، اللہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا، مایوس مت ہو، بس اللہ پر یقین رکھو۔

25/04/2026

شجر کاری کی اہمیت

شجر کاری یعنی درخت لگانا نہ صرف ایک اچھی عادت ہے بلکہ یہ ہماری زندگی اور ماحول کے لیے نہایت ضروری ہے۔ درخت قدرت کا قیمتی تحفہ ہیں جو زمین پر زندگی کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

درخت ہوا کو صاف کرتے ہیں اور کے عمل کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ اس طرح ماحول آلودگی سے پاک رہتا ہے اور ہمیں سانس لینے کے لیے صاف ہوا ملتی ہے۔

درخت گرمی کو کم کرتے ہیں اور سایہ فراہم کرتے ہیں جس سے درجہ حرارت معتدل رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں زیادہ درخت ہوتے ہیں وہاں موسم خوشگوار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ درخت بارش کے نظام کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

شجر کاری زمین کو کٹاؤ سے بچاتی ہے اور مٹی کو مضبوط بناتی ہے۔ درختوں کی جڑیں مٹی کو بکھرنے سے روکتی ہیں، جس سے زراعت کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ درخت جانوروں اور پرندوں کے لیے رہائش فراہم کرتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شجر کاری ایک قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہئیں تاکہ ہم اپنے ماحول کو صاف اور خوبصورت بنا سکیں اور آنے والی نسلوں کو ایک بہتر دنیا دے سکیں۔

Address

Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amir Shafiq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Amir Shafiq:

Shortcuts

Share

Category