Tareekh ka ghar تاریخ کا گھر

Tareekh ka ghar  تاریخ کا گھر تاریخ کا گھر:صفحہ کا مقصد آپ احباب کو ھرطرح کی تاریخی اوراسلامی معلومات پہنچانا ہے امید ھے آپکو تمام فیس بک پیجزز سے منفرد لگے گا انشاء اللہ،

28/09/2026

یہ دور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کے مصداق اور آپ کی پیش گوئی کے عین مطابق ہے۔ آپ نے فرمایا ’’حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’ دجال کے خروج سے پہلے چند سال دھوکا و فریب کے ہوں گے۔ سچے کا جھوٹا بنایا جائے گا اور جھوٹے کو سچا بنایا جائے گا۔ خیانت کرنے والے کو امانت دار بنا دیا جائے گا اور امانت دار خیانت کرنے والا قرار دیا جائے گا اور ان میں روبیضہ بات کریں گے۔ پوچھا گیا روبیضہ کون؟ فرمایا گھٹیا (فاسق و فاجر) لوگ۔ وہ لوگوں کے اہم معاملات پر بولا کریں گے۔ (مسند احمد 1332، مسند ابی یعلی 3715، السنن الواردۃ فی الفتن)
ہم اس دور میں زندہ ہیں جس پر جھوٹ کا غلبہ اور کذب کی حکمرانی ہے۔ یہ دور میڈیا کادور ہے۔ کیا کسی سچے کو جھوٹا، جھوٹے کو سچا، امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار ثابت کرنا میڈیا کے بائیں ہاتھ کا کھیل نہیں۔ کیا دنیا بھر میں لوگوں کے اہم معاملات پر روبیضہ فاسق و فاجر لوگ روز گفتگو نہیںکرتے، تجزیہ نہیں پیش کرتے، کیا کوئی سنجیدہ، صاحب کردار، صاحب علم شخص آج کے میڈیا میں باوقار ہے۔ دنیا کا تمام میڈیا جس چکاچوند میں لوگوں کی آنکھیں چندھیائے ہوئے ہے۔ اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ اپنی مرضی کا سچ، مرضی کا کلچر اور مرضی کی اطلاع لوگوںتک پہنچے جس سے ایک خاص مقصد کے مطابق نفرت اور محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو۔

27/09/2026

میری پچھلی پوسٹ پر خواتین کے بہت زیادہ کمنٹس آئے، اور زیادہ تر بات گھوم پھر کر اسی نکتے پر آ رہی تھی کہ اگر کمائی مرد کی ہے تب بھی تب بھی کم سے کم آدھا مکان عورت کے نام ہونا چاہیے، تاکہ اسے معاشی تحفظ حاصل ہو۔ کئی خواتین نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا اسلام میں عورت کے لیے کوئی معاشی تحفظ نہیں؟ کیا عورت کو کچھ نہیں ملتا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنیادی غلط فہمی یہی ہے کہ بہت سی خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ شادی صرف ایک ہی ہے، چاہے بعد میں خلع ہو، طلاق ہو یا بیوگی، پھر بھی ان کے ذہن میں یہی رہتا ہے کہ سابق شوہر پر ہی ان کی مستقل ذمہ داری ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ شوہر کی ساری کمائی صرف بیوی کا حق ہے، حالانکہ مرد کی کمائی میں اس کی بیوی، بچوں، والدین، دوسرے ضرورت مند رشتہ داروں، غریبوں اور خود اس کے اپنے حقوق اور ذمہ داریاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ اسی تصور کو نظر انداز کرنے سے بعد میں بہت سے معاشی اور خاندانی اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔
اسلام نے عورت کے معاشی حقوق کا بہت واضح تحفظ کیا ہے، لیکن اس کا طریقہ یہ نہیں کہ شوہر جو کچھ کمائے وہ سب لازماً بیوی کے نام کر دیا جائے۔ اسلام نے عورت کے معاشی تحفظ کے لیے ایک پورا نظام دیا ہے، اور اس نظام کو مجموعی طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اسلام نے عورت پر کوئی بھی معاشی ذمہ داری نہیں ڈالی۔ گھر چلانا، رہائش دینا، بیوی اور بچوں کا خرچ اٹھانا، یہ ذمہ داریاں مرد پر رکھی گئی ہیں۔ عورت پر گھر داری کی ساری ذمہ داریاں ہیں۔ گھر داری سے جو وقت بچ جائے اس میں اگر عورت کماتی بھی ہو تو اس کی کمائی اس کی اپنی ہے، اسے گھر کا خرچ اٹھانے پر مجبور نہیں کیا گیا۔
شادی کے وقت بھی پہلا مالی حق عورت ہی کو دیا گیا، یعنی حق مہر۔ مہر عورت کا حق ہے اور یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ جتنا مرضی مہر کا مطالبہ کر لے چاہے وہ لاکھوں میں ہو یا کروڑوں اربوں میں۔ وہ رقم اس کی اپنی ملکیت ہوتی ہے، شوہر یا سسرال کا اس پر کوئی حق نہیں۔ اب عورتیں کہیں گی کہ حق مہر زیادہ تو کوئی دیتا نہیں۔ اس لیے نہیں دیتا کہ ایک سے زائد شادیوں پر پابندی سے ہر مرد کو ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ مل جاتا ہے۔ اسلامی نظام میں تو ایک مرد کی چار شادیاں ہیں۔ یوں ایک عورت سے نکاح کے خواہش مند کئی مرد ہوتے ہیں اور ان میں سے جو مالدار ہوں وہ حق مہر کا مطالبہ پورا کرتے ہیں۔ تاریخ میں بھی ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جہاں خواتین نے بہت زیادہ حقِ مہر کا مطالبہ کیا اور اسے ادا کیا گیا۔ آج بھی بعض عرب معاشروں میں یہ روایت کافی مضبوط ہے کہ عورت یا اس کا خاندان اپنی مرضی سے مہر طے کرتا ہے اور مرد، اگر اس نکاح کا خواہش مند اور مالی طور پر صاحبِ استطاعت ہو، تو وہ اس مطالبے کو پورا کرتا ہے۔یعنی حقِ مہر صرف ایک رسمی رقم نہیں، بلکہ عورت کا باقاعدہ مالی حق ہے۔ البتہ اس حق کی عملی اہمیت اسی وقت زیادہ نمایاں ہوتی ہے جب نکاح کا پورا معاشرتی نظام بھی اسی ترتیب کے ساتھ موجود ہو۔
اسی طرح اسلام میں جہیز کی کوئی شرعی ذمہ داری عورت یا اس کے والدین پر نہیں رکھی گئی۔ گھر بسانے اور بیوی کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری مرد پر ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہیز کی رسم الگ چیز ہے۔ کئی مرتبہ لڑکے والے خود بھی کہتے ہیں کہ ہمیں جہیز نہیں چاہیے، لیکن لڑکی خود اصرار کرتی ہے کہ مجھے جہیز لینا ہے تاکہ وہ اپنے باپ اور بھائیوں سے یہ سب لے سکے۔
اس کے بعد وراثت کو دیکھ لیں۔
اگر شوہر فوت ہو جائے اور اس کی اولاد موجود ہو تو بیوی کو اس کے ترکے میں آٹھواں حصہ ملتا ہے، اور اگر اولاد نہ ہو تو چوتھا حصہ ملتا ہے۔
اسی طرح اگر خدانخواستہ کسی عورت کا بیٹا یا بیٹی فوت ہو جائے تو ماں ہونے کی حیثیت سے بھی حصہ ایک تہائی تک ہوتا ہے یا کم سے کم چھٹا حصہ۔
عورت کا اپنے والد کی جائیداد میں بھی باقاعدہ حصہ موجود ہے اور کچھ صورتوں میں کل جائیداد میں سے آدھا حصہ بیٹی کا ہو سکتا ہے۔لیکن اس کا حصہ دوسرے وارثوں، بہن بھائیوں اور خاندانی صورتِ حال کے مطابق متعین ہوتا ہے۔
یعنی عورت کو والد کی طرف سے بھی وراثت ملتی ہے، شوہر کی طرف سے بھی، اور اولاد کی طرف سے بھی۔ اور یہ تمام مال اسی عورت کی ذاتی ملکیت ہوتا ہے۔اور اس پر کوئی خرچ بھی نہیں ہے۔
پھراگر کسی عورت کو طلاق ہو جائے یا وہ بیوہ ہو جائے تو عدت تک اس کے رہنے سہنے کا مکمل انتظام اورخرچ شوہر یا اس کے وارثوں پر فرض کیا گیا ہے اور اس دوران اسے شوہر کے گھر سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ بیوگی کی صورت میں اسے شوہر کی وراثت میں سے حصہ ملتا ہے ۔ عدت کے بعد اس کے نکاح ثانی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہےتاکہ وہ بے آسرا نہ رہے۔ یہاں بھی مسئلہ وہی ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کو رواج ہوگا تو کوئی مرد کسی بیوہ یا مطلقہ عورت سے شادی کرے گا۔ اسلامی معاشرت میں بیوہ، مطلقہ یا خلع لینے والی عورت کا دوبارہ نکاح ایک بالکل معمول ہوتا ہے۔ لیکن اس نظام کو خود عورتوں نے ہی عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔
خود عورتوں نے دوسری شادی کو تقریباً ناممکن بنا دیا، اور اس کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان کا حل ان کے پاس کوئی نہیں ہے۔ کسی بھی نظام میں جب ایک اینٹ بھی اپنی جگہ سے ہلا دی جائے تو پھر بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس ایک بات پر پابندی سے اب بے جا توقعات کی جاتی ہیں کہ طلاق یا بیوگی کے بعد بھی سابقہ شوہر ہی اس عورت کا ذمہ دار رہے۔
ایسا کوئی نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔
اگر عورت کی شادی ختم ہو جاتی ہے، عدت مکمل ہو جاتی ہے، تو پھر اصولی طور پر اس کی نئی زندگی شروع ہونی چاہیے اور اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے راستے کھلے ہونے چاہئیں۔ یہ نہیں کہ دوسری شادی کے تمام دروازے معاشرہ بند کر دے اور پھر سوال یہ ہو کہ اب اس عورت کا خرچ کون اٹھائے گا۔
اور اگر کسی عورت کی عمر یا حالات ایسے ہو جائیں کہ اس کے لیے دوبارہ شادی ممکن نہ رہے، تو اسلام نے معاشرے میں بیواؤں، ضرورت مند خواتین اور محتاج لوگوں کی کفالت کی بہت زیادہ ترغیب دی ہے۔ ایسے لوگوں کی مدد کرنا بہت بڑے اجر کا کام قرار دیا گیا ہے۔ یعنی وہاں بھی اسے مکمل طور پر بے سہارا چھوڑ دینے کا تصور نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج ہم نے مختلف نظاموں کی اپنی پسند کی چیزیں جمع کر لی ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ گھر مرد بنائے، خرچ مرد کرے، بچوں کا خرچ مرد کرے، عورت کی ذاتی کمائی بھی صرف عورت کی ہو، مہر بھی اسے ملے، وراثت بھی اسے ملے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا جائے کہ مرد نے جو گھر اپنی کمائی سے بنایا ہے وہ بھی لازماً عورت کے نام ہونا چاہیے، اور اگر خدانخواستہ طلاق، خلع یا علیحدگی ہو جائے تو اس کے بعد بھی سابق شوہر ہی اس کی معاشی ذمہ داری اٹھاتا رہے۔
جبکہ مرد کی کمائی میں عورت کا حق وہ ہے جو اسلام نے اس مرد پر واجب کیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ شوہر کی پوری کمائی یا ہر جائیداد خود بخود بیوی کی ملکیت بن جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے عورت کی کمائی اور اس کی وراثت خود بخود شوہر کی ملکیت نہیں بن جاتی۔
عورتوں کو اس نکتے پر ضرور سوچنا چاہیے کہ کوئی ایک نظام اختیار کرنا ہوگا۔
اگر اسلامی نظام اختیار کرنا ہے تو اسے پورا اختیار کریں۔ اس میں مہر بھی ہے، نان و نفقہ بھی ہے، وراثت بھی ہے، مرد کی معاشی ذمہ داری بھی ہے، عورت کی اپنی ملکیت کا تحفظ بھی ہے، بیوہ اور مطلقہ کے دوبارہ نکاح کی حوصلہ افزائی بھی ہے اور پورے معاشرے کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں۔لیکن اس میں مردوں کی ایک سے زیادہ شادیاں ہیں۔
اور اگر مغربی معاشی نظام اختیار کرنا ہے تو پھر وہاں بنیادی تصور یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں اپنی اپنی معاشی ذمہ داریاں خود اٹھائیں، دونوں کمائیں، دونوں اپنی اپنی ملکیت بنائیں اور مالی معاملات بھی اسی اصول پر طے ہوں۔
لیکن اگر ایک نظام سے صرف حقوق لے لیے جائیں اور ذمہ داریاں دوسرے نظام پر ڈال دی جائیں، تو پھر کوئی بھی معاشرتی نظام متوازن نہیں رہتا۔
مسئلہ اسلام کے دیے ہوئے معاشی تحفظ میں نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس پورے نظام میں سے اپنی اپنی پسند کی چند چیزیں رکھ لی ہیں اور باقی چھوڑ دی ہیں۔ پھر جو خلا پیدا ہوتا ہے، اسی سے ہمارے بیشتر معاشی اور خاندانی مسائل جنم لیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عدنان نیازی

18/09/2026

قرآن نے ہمیں کچھ باتوں کو چھپانا کیوں سکھایا؟

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا"

"یعقوب نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی فریب کاری کریں گے۔"

1.... یعقوب علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ "بیٹا! کسی پر بھروسا نہ کرنا"، اور نہ ہی یہ کہا کہ "سب لوگ تم سے حسد کرتے ہیں۔" بلکہ انہوں نے انسانی نفوس کی فطرت کو سمجھا، اپنے بچوں کی نفسیات کو جانا، اور یہ اندازہ لگایا کہ ایک مخصوص معلومات اگر ان تک پہنچی تو شاید ان کے اندر کوئی برائی بیدار کر دے۔ پھر فرمایا:

"إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُبِينٌ"

"بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔"

2... یہاں ایک عظیم سبق ہے:

حکمت یہ نہیں کہ آپ ہر بات ظاہر کر دیں، بلکہ حکمت یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ کیا کہنا ہے؟ کس سے کہنا ہے؟ اور کب کہنا ہے؟

ہر دل اس قابل نہیں ہوتا کہ اس میں راز رکھے جائیں، ہر کان اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ آپ کے خواب سنے، اور ہر آنکھ اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ آپ کی نعمتوں کی تفصیلات دیکھے۔

ہو سکتا ہے کوئی شخص آپ سے محبت کرتا ہو، لیکن وہ آپ کو خود سے بہتر مقام پر نہ دیکھ سکتا ہو۔
ہو سکتا ہے وہ آپ کے قریب ہو، لیکن اندر ہی اندر آپ سے اپنا موازنہ کر رہا ہو۔
وہ آپ کی کامیابی پر مسکرا تو سکتا ہے، لیکن اندر سے اسے تکلیف ہو سکتی ہے؛ اس لیے نہیں کہ وہ برا ہے، بلکہ اس لیے کہ انسان بعض اوقات اپنے احساسِ کمتری اور موازنے کی کیفیت پر قابو نہیں پا سکتا۔

اسی لیے یعقوب علیہ السلام کی حکمت محض حسد کے خوف سے کہیں زیادہ گہری تھی؛ یہ معاملہ پیش آنے سے پہلے ہی نفوس کو پڑھ لینے کی بصیرت تھی۔

3... اپنے تعلقات میں سادہ لوح نہ بنیں:

حسنِ ظن کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ ہر ایک کو اپنے منصوبوں، مال، حکمتِ عملی، گھریلو مسائل، میاں بیوی کے اختلافات، بچوں کے راز، اپنی خواہشات، خدشات اور کل کے ارادوں کے بارے میں بتاتے رہیں۔

اپنی خصوصیت اور راز داری برقرار رکھنا لوگوں کے بارے میں بدگمانی کرنا نہیں ہے۔ جس طرح اپنے گھر دروازہ بند کر لینا ہمیشہ کوئی بری بات نہیں ہوتی۔

4...ان دو باتوں میں بڑا فرق ہے:

"میں نہیں چاہتا کہ لوگ میرے بارے میں ہر بات جانیں۔" (یہ حکمت ہے)

"میں کسی پر بھروسا نہیں کرتا۔" (یہ نفسیاتی چوٹ یا ردِعمل ہو سکتا ہے)

4... یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا واقعہ:

غور کریں، تمام مسئلے کی شروعات صرف ایک معلومات سے ہوئی۔ پھر وہ معلومات ایک موازنے میں بدل گئی:

"لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ "

"یقیناً یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ ہم ایک پورا گروہ ہیں۔"

پھر یہ موازنہ رشک و رقابت میں بدلا، اور رقابت شدید کینے اور حسد میں ڈھل گئی:

"اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا"

"یوسف کو قتل کر دو یا اسے کسی (نامعلوم) زمین میں پھینک دو۔"

پھر وہ حسد ایک سازش بن گیا، اور بالآخر یوسف علیہ السلام کنویں کی گہرائی میں پہنچا دیے گئے۔

5... یہاں تھم کر سوچنے کی ضرورت ہے:

ہماری زندگی میں کتنے مسائل صرف ایک موازنے سے شروع ہوئے؟
کتنے لوگوں نے بھائی سے اپنا موازنہ کر کے تعلقات خراب کر لیے؟

کتنی عورتوں کو دوسری کی نعمت دیکھ کر تکلیف ہوئی؟

کتنے مردوں کا دل دوست کی کامیابی پر تنگ ہوا؟

خطرناک بات صرف یہ نہیں کہ لوگ ہم سے حسد کریں، بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ دوسروں کی نعمتیں دیکھ کر ہمارے اپنے دل خراب ہو جائیں۔

اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

"آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، اور اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔"

آپ ﷺ نے ان تمام بیماریوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا، کیونکہ حسد اگر دل میں رہے اور اس کا علاج نہ ہو تو وہ بغض، تعلقات کی قطع تعلقی، غیبت اور ظلم میں بدل جاتا ہے۔

6... حسد کا علاج:

علاج صرف یہ نہیں کہ کہا جائے "اپنی نعمت چھپاؤ"، بلکہ یہ بھی ہے کہ "اپنے دل کو پاک کرو۔"

جب اپنے بھائی کے پاس کوئی نعمت دیکھیں تو کہیں: «اللہم بارک لہ، وارزقنی من فضلک»

(اے اللہ! اس میں برکت دے اور مجھے بھی اپنے فضل سے عطا فرما)۔ یہ نہ کہیں کہ "اسے کیوں دیا اور مجھے کیوں نہیں؟"

کیونکہ اللہ جب کسی کو دیتا ہے تو اس سے اس کے خزانے کم نہیں ہوتے:

وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِن فَضْلِهِ
(ترجمہ: "اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔")

7... راز داری کا تناسب :

یوسف علیہ السلام نے خواب چھپایا، لیکن اپنے والد سے نہیں چھپایا۔

قرآن نے یہ نہیں کہا کہ "کسی کو نہ بتاؤ"، بلکہ فرمایا: "اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا"۔ یعنی چھپانا بھی انتخابی تھا۔ جو قابلِ اعتماد تھے (والد)، ان سے بات کی، اور جن سے اندیشہ تھا، ان سے چھپایا۔

8... تعلقات کے دائرے (Circles of Life):
حکمت یہ سکھاتی ہے کہ زندگی میں دائرے ہونے چاہئیں:

عام لوگ: ان کے لیے صرف عام خبریں۔

صرف شناسا و دوست: ان کے لیے زندگی کا ایک مخصوص حصہ۔

قابلِ اعتماد لوگ: جو گہری باتیں سکت و ظرف کے ساتھ سن سکیں۔

ایک یا دو خاص افراد: جو آپ کے حقیقی راز جانتے ہوں۔

کچھ امور: جو صرف آپ کے اور اللہ تعالٰی کے درمیان رہیں۔

یہ منافقت نہیں، زندگی کا نظم ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

"وہ مومن جو لوگوں میں مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے، اس مومن سے بہتر ہے جو لوگوں سے ملتا جلتا نہیں اور نہ ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے۔"

اسلام آپ کو الگ تھلگ نہیں دیکھنا چاہتا، لیکن آپ کو ہر ایک کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے سلامت رکھے، اور ہم سب کو قرآنِ کریم کا صحیح فہم اور ہدایتِ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین
تحریر : ثناءاللہ حسین

14/09/2026

جب اللہ تعالیٰ کا فضل تمہاری دعا سے بھی بڑا ہو !

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا میں ایک ایسی بات ہے جو پہلے ہی لمحات میں دل کو کھینچ لیتی ہے:

﴿رَبِّ اغفِر لي وَهَب لي مُلكًا لا يَنبَغي لِأَحَدٍ مِن بَعدي إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ﴾

"اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے شایانِ شان نہ ہو۔ بے شک تو ہی بہت بڑا عطا فرمانے والا ہے۔"

وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

ایک واضح، متعین اور عظیم طلب:

ایسی بادشاہت جو ان کے بعد کسی اور کو نہ ملے۔

اگر اللہ تعالیٰ انہیں صرف ایک منفرد اور بے مثال بادشاہت ہی دے دیتا، تو بھی یہ دعا کا بہترین جواب ہوتا۔

لیکن قرآن صرف یہ بتانے پر اکتفا نہیں کرتا کہ سلیمان علیہ السلام کو ان کی مانگی ہوئی چیز مل گئی۔

بلکہ وہ آپ کو قدم بہ قدم ایک سفر پر لے جاتا ہے تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل سوال کے انداز پر نہیں، بلکہ "الوھاب" (بے حساب عطا کرنے والے) کی شان کے مطابق آتا ہے۔

سلیمان علیہ السلام نے مانگا تھا کہ انہیں "عطا کیا جائے"۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں صرف نعمتیں حاصل کرنے والا نہیں بنایا۔

بلکہ انہیں دوسروں کو عطا کرنے والا بنا دیا۔

اللہ نے فرمایا:

﴿هٰذا عَطاؤُنا فَامنُن أَو أَمسِك بِغَيرِ حِسابٍ﴾
"یہ ہماری عطا ہے، اب تو (جسے چاہے) احسان کر (دے) یا روک رکھ، (تجھ سے) کوئی حساب نہ ہوگا۔"

اس تبدیلی اور تحول پر غور کیجیے۔

قصے کے شروع میں سلیمان علیہ السلام کہتے ہیں:

﴿وَهَب لي﴾ ("مجھے عطا کر").

اور اس کے آخر میں اللہ ان سے فرماتا ہے:

﴿فَامنُن أَو أَمسِك﴾ ("تو احسان کر (دے) یا روک رکھ").

انہوں نے ایک عطا کے طلب گار بن کر شروعات کی تھی۔

اور بات یہاں ختم ہوئی کہ انہیں خود عطا کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔

یہ آیات میں فضل و کرم کا ایک نہایت خوبصورت اور لطیف پہلو ہے۔

ترجمہ جاری رکھنے سے پہلے، اسی مفہوم کو مزید واضح کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی یہ صحیح حدیثِ مبارکہ یاد آتی ہے:

(الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى)

(صحیح البخاری: 1429، صحیح مسلم: 1042)

"اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔"

آپ اللہ تعالیٰ سے کسی نعمت کا سوال کرتے ہیں، تو وہ آپ کو وہ نعمت دے دیتا ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل کا ایک اس سے بھی بلند ترین مقام ہے:

وہ آپ کو اس حد تک عطا کرتا ہے کہ آپ کو دوسروں کے لیے عطاؤں کا سبب بنا دیتا ہے۔

آپ رزق مانگتے ہیں، وہ آپ پر اتنی وسعت کر دیتا ہے کہ آپ دوسروں کے لیے رزق کا دروازہ بن جاتے ہیں۔

آپ علم مانگتے ہیں، وہ آپ پر علم کے باب کھول دیتا ہے یہاں تک کہ آپ معلم بن جاتے ہیں۔

آپ پردہ پوشی مانگتے ہیں، وہ آپ کا ستر ڈھانپتا ہے اور پھر آپ کے ہاتھوں لوگوں کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔

آپ دل جوئی اور زخموں کا مرہم مانگتے ہیں، وہ آپ کو ایسا سنبھالتا ہے کہ آپ لوگوں کے دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

بسا اوقات نعمت کے ساتھ آپ کی کہانی اس صدا سے شروع ہوتی ہے:

"یا رب! مجھے عطا کر۔"

پھر ایک دن اللہ کا فضل آپ کو اس مقام پر لے آتا ہے جہاں آپ کا عمل خود کہتا ہے:

"اب تم تقسیم کرو۔"

یہ صرف نعمت کی مقدار میں اضافہ نہیں ہے۔

یہ نعمت کے مقام اور مرتبے کی ترقّی ہے۔

مفلس اور محتاج سوال کرتا ہے کہ اسے دیا جائے۔

لیکن جس پر وسعت کر دی گئی ہو، وہ دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔

سلیمان علیہ السلام کو صرف ایسی بادشاہت نہیں ملی جس کے وہ مالک ہوتے؛ بلکہ انہیں ایسا اختیار اور سلطان ملا جس میں وہ تصرف کر سکتے تھے:

﴿فَامنُن أَو أَمسِك بِغَيرِ حِسابٍ﴾

یہاں ایک ایسا معنوی راز کھلتا ہے جو آیات کو جلدی میں پڑھنے سے نظر نہیں آتا۔

سلیمان علیہ السلام نے مالک بننے کی خواہش کی تھی۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں "امانت دار" (امین) بنا دیا۔

اور ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔

نعمت کی سب سے بڑی بات یہ نہیں کہ وہ آپ کے ہاتھ میں ہو۔

اس سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس پر امین اور قابلِ اعتماد بنا دے۔

کسی انسان کے ہاتھ میں مال کا ہونا لازمی طور پر اس کی عزت و کرامت کی دلیل نہیں ہوتا۔

کسی کے ذہن میں علم کا ہونا لازمی طور پر رفعت کا باعث نہیں ہوتا۔

عہدہ، اقتدار، قابلیت اور مقبولیت یہ سب آزمائش اور امتحان ہو سکتے ہیں۔

لیکن اللہ تعالیٰ کا آپ کو عطا کرنا، پھر تصرف میں وسعت دینا، اور آپ کو اس نعمت کو سنبھالنے، چلانے اور خرچ کرنے کے اہل بنانا؛ یہ فضل و احسان کی ایک الگ ہی سطح ہے۔

اسی لیے یہ فرمانِ الٰہی:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾ ("یہ ہماری عطا ہے")

صرف بادشاہت کے منبع کی نشاندہی نہیں ہے۔

یہ سلیمان علیہ السلام اور ہم سب کے لیے ایک کامل تربیت اور تربیتِ نفس ہے۔

آپ کے ہاتھ میں کتنی ہی وسعت کیوں نہ آ جائے، اس کا اصل نام یہی رہے گا:

"اللہ کی عطا"

آپ کی طاقت و قوت کتنی ہی عروج پر پہنچ جائے:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾

آپ کے لیے کامیابیوں کے کتنے ہی دروازے کھل جائیں:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾

آپ کو ایسی صلاحیت مل جائے جو کسی اور کے پاس نہ ہو:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾

اور جب آپ یہ جان لیتے ہیں کہ یہ اسی کی عطا ہے، تو وہ نعمت آپ کے دل میں استحقاق (حق جتانے) کی صورت اختیار نہیں کرتی۔

آپ یہ نہیں کہتے: "یہ تو میری ذہانت کی وجہ سے ہے۔"

اور نہ یہ کہتے ہیں: "میں دوسروں سے بہتر ہوں اس لیے ملا۔"

اور نہ ہی قارون کی طرح کہتے ہیں:

﴿إِنَّما أوتيتُهُ عَلى عِلمٍ عِندي﴾

(القصص: 78) - "یہ تو مجھے صرف اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے۔"

بلکہ آپ کو یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی آپ کے ہاتھ میں ہے، وہ صرف ایک ہی باب سے ہو کر گزرا ہے:

﴿إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ﴾

"بے شک تو ہی بے حساب عطا فرمانے والا ہے۔"

اور یہ کتنا خوبصورت ہے کہ یہ اسمِ الٰہی اس تمام بادشاہت کے ذکر سے پہلے آیا!

گویا قرآن آپ کے دل میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں آنے دینا چاہتا کہ یہ منظر سلیمان اور ان کی بادشاہت کا ہے۔

یہ منظر سب سے پہلے "الوھاب" اور اس کی "ھبہ و عطا" کا منظر ہے۔

اس قصے کا حقیقی مرکز یہ نہیں کہ سلیمان کے ہاتھ میں کتنا کچھ آیا۔

اصل مرکز یہ ہے کہ: سلیمان کو عطا کرنے والی ذات کون سی ہے؟

اسی لیے ایک مومن صرف نعمت کی وسعت پر تعجب نہیں کرتا۔

وہ نعمت دینے والے کے کرم اور سخاوت پر دنگ رہ جاتا ہے۔

آپ شاید صرف ایک چیز مانگتے ہیں، اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ اس کے گرد دس ایسی نعمتیں بن دیتا ہے جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھیں۔

سلیمان علیہ السلام نے ایک بادشاہت مانگی تھی۔

انہیں بادشاہت دی گئی۔

پھر تسخیر (ہواؤں اور جنات کا تابع ہونا) عطا کی گئی۔

پھر تصرف کی کامل صلاحیت دی گئی۔

پھر دینے اور روکنے کی کھلی وسعت دی گئی۔

اور جب اس وسعتِ دنیا کا تمام تر ذکر ختم ہو جاتا ہے، تو سب سے بڑی اور حیران کن خوشخبری سامنے آتی ہے:

﴿وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفى وَحُسنَ مَآبٍ﴾

"اور بے شک ان کے لیے ہمارے پاس قرب اور عمدہ ٹھکانا ہے۔"

یہاں آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے سلیمان علیہ السلام کو صرف ان کی مانگی ہوئی چیز سے زیادہ نہیں دیا۔

بلکہ انہیں اس چیز کی پوری جنس اور نوع سے بھی بلند تر مقام عطا فرمایا۔

بادشاہت اپنی تمام تر عظمت کے ساتھ دنیا کا حصہ ہے۔

لیکن "زُلفى" (قربِ الٰہی) بادشاہت کی جنس سے نہیں ہے۔

"حسنِ مآب" (بہترین انجام) سلطنت میں اضافے کا نام نہیں ہے۔

یہ کوئی تیز ہوا نہیں ہے۔

نہ زیادہ لشکر ہیں۔

نہ وسیع تر ملک۔

بلکہ یہ بالکل ایک الگ ہی شے ہے:

﴿عِندَنا لَزُلفى﴾ ("ہمارے پاس قرب").

انہوں نے وہ چیز مانگی تھی جو ان کے لیے زمین میں ہو (دنیاوی ملک)۔

اللہ نے انہیں وہ عطا کر دیا جو اس کے پاس ان کے لیے تھا (اخروی قرب)۔

اور یہی وہ فضل و احسان ہے جو انسان خود اپنے لیے وضع یا پلان نہیں کر سکتا۔

ہم تو بس چیزوں کا نام لے کر مانگنا جانتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں:

"اے اللہ! مجھے ملازمت دے دے۔"

"اے اللہ! میرے لیے کوئی راستہ کھول دے۔"

"اے اللہ! مجھے رزق عطا کر۔"

"اے اللہ! میرے معاملے کو سنوار دے۔"

"اے اللہ! میری فلاں خواہش پوری کر دے۔"

لیکن ہم ان تمام خیر و برکات کو نہیں جانتے جو اللہ تعالیٰ اس دعا کی قبولیت کے ارد گرد لپیٹ دیتا ہے۔

ہم اس چیز کا نام جانتے ہیں جو ہمیں چاہیے ہوتی ہے۔

لیکن ہم ان خیرات و برکات سے ناواقف ہوتے ہیں جو اللہ اس کے ساتھ بھیجتا ہے۔

آپ رزق کا ایک دروازہ مانگتے ہیں، اور اللہ اس کے ساتھ قناعت و کفایت لکھ دیتا ہے۔

آپ کفایت مانگتے ہیں، وہ اس کے ساتھ دل کا اطمینان جوڑ دیتا ہے۔

آپ اطمینان مانگتے ہیں، وہ اس کے ساتھ اپنا قرب عطا کر دیتا ہے۔

آپ دنیا کی کوئی چیز مانگتے ہیں، اور اللہ اس تک پہنچنے کے راستے کو آپ کی آخرت کی اصلاح کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

یہیں سے دعا کے بارے میں آپ کا فہم اور سوچ بدل جانی چاہیے۔

آپ اپنی دعا کسی ایسے رب کی بارگاہ میں نہیں پیش کر رہے جو صرف وہی چیز آپ کی ہتھیلی پر رکھ دے جو آپ نے اپنی خواہشات کی فہرست میں لکھی تھی اور بات ختم ہو جائے۔

آپ تو "الوھاب" کو پکار رہے ہیں۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ کا جواب آپ کے سوال سے کہیں زیادہ وسیع اور بے اندازہ ہو سکتا ہے۔

اور شاید کچھ سالوں بعد آپ پر یہ انکشاف ہو کہ آپ کو ملنے والی سب سے بڑی نعمت وہ چیز تھی ہی نہیں جس کی آپ نے اصل میں دعا کی تھی۔

آپ نے ایک چیز مانگی تھی۔

اس کے ساتھ ایک اور نعمت آئی۔

پھر تیسری نعمت ملی۔

پھر اس راستے میں آپ کی اپنی ذات اور شخصیت بدل گئی۔

پھر آپ کا دل اللہ تعالیٰ کے اور قریب ہو گیا۔

پھر آپ دوسروں کے لیے خیر کا باعث بن گئے۔

پھر آپ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور کہا:

"میں نے تو صرف ایک چھوٹی سی چیز مانگی تھی۔ یہ سب کہاں سے آ گیا؟"

جواب ہے:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾

اللہ جب اپنا فضل فرماتا ہے، تو وہ آپ کے محدود تصور کا پابند نہیں ہوتا۔

اور اس کا کرم وہاں نہیں رکتا جہاں آپ کی طلب ختم ہوتی ہے۔

اسی لیے سلیمان علیہ السلام کے واقعے سے سیکھی جانے والی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ آپ دعا کو اس نظر سے نہ دیکھیں جیسے آپ اللہ کے لیے عطا کی حدیں مقرر کر رہے ہیں۔

آپ صرف اپنی ضرورت بیان کیجیے۔

جو چاہتے ہیں، مانگیے۔

لیکن اپنے دل میں ایک ایسا گوشہ کھلی حالت میں رکھیے جو کہے:

"اے رب! میں جانتا ہوں کہ میں کیا مانگ رہا ہوں۔

لیکن تو جانتا ہے کہ مجھے واقعی کس چیز کی ضرورت ہے۔

میں اپنی آرزو کو جانتا ہوں۔

اور تو اس کے پیچھے چھپی حکمتوں کو جانتا ہے۔

میں تجھ سے ایک چیز مانگتا ہوں۔

اور تو 'الوھاب' ہے۔

پس مجھے اپنے فضل سے وہ بھی عطا کر جو میں نے مانگا، اور وہ بھی جو اسے سنوار دے، اس کی حفاظت کرے، اس میں برکت ڈالے، اور اس کے ذریعے مجھے تیرے قریب کر دے۔"

کیونکہ کچھ لوگوں کو نعمت ملتی ہے اور وہ ان کے لیے اذیت بن جاتی ہے۔

بعض کو نعمت ملتی ہے اور وہ انہیں اللہ تعالیٰ سے کاٹ دیتی ہے۔

اور کچھ کو نعمت ملتی ہے جو انہیں اللہ تعالیٰ سے غافل کر دیتی ہے۔

لیکن سلیمان علیہ السلام کو ایک عجائب سے بھری بادشاہت دی گئی، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اس فرمان پر ختم کیا:

﴿وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفى وَحُسنَ مَآبٍ﴾

یہاں جا کر عطیہ اپنے کمال کو پہنچتا ہے۔

کامل عطیہ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا دے دے۔

کامل عطیہ یہ ہے کہ وہ آپ کو دنیا میں سے عطا کرے، اور پھر بھی آپ اس کے ہاں اپنا مقام و مرتب نہ کھوئیں۔

آپ کے ہاتھ کشادہ ہو جائیں، لیکن آپ کا دل تنگ نہ ہو۔

آپ کا مقام و مرتبہ بلند ہو جائے، لیکن آپ کی بندگی میں کمی نہ آئے۔

آپ کی نعمتیں بڑھ جائیں، اور آپ کی سب سے بڑی ملکیت وہی رہے یعنی نعمتیں دینے والے (المنعم) کا قرب۔

بلکہ آیات کی ترتیب ہی دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہے:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾

اور اس کے فوراً بعد:

﴿وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفى﴾

گویا پچھلا تمام تر ذکر، اپنی تمام تر عظمت کے باوجود، آپ کو اس آخری جملے سے غافل نہ کرنے پائے۔

ہاں، یہ ہماری عطا ہے۔

لیکن یہ نہ سمجھنا کہ یہ عطا ہی آخری حد ہے۔

"ان کے لیے ہمارے پاس قربِ خاص ہے۔"

ہواؤں کا چلنا اس کی عطا سے ہے۔

بادشاہت اس کی عطا سے ہے۔

تسخیر اور اختیارات اس کی عطا سے ہیں۔

دینے اور روکنے کی قدرت اس کی عطا سے ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کا قرب ہونا؛ یہ وہ عطا ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام چیزیں ہیچ اور بے حقیقت ہو جاتی ہیں۔

اور شاید یہی سب سے خوبصورت دعا ہے جو آپ اللہ سے مانگ سکتے ہیں:

"اے رب! اگر تو مجھے عطا کرے، تو مجھے صرف اپنی نعمت پر رکنے نہ دینا۔

اس نعمت کے ذریعے مجھے اپنے تک پہنچا دے۔

اگر تو مجھے مال دے، تو مال ہی میرے رزق کا خاتمہ نہ ہو۔

اگر تو مجھے کامیابی دے، تو کامیابی ہی تیرے فضل کی آخری حد نہ ہو۔

اور اگر تو میرے لیے کوئی دروازہ کھولے، تو وہ دروازہ ہی میری آخری منزل نہ ہو۔

ہر نعمت کے پیچھے اس سے بڑی نعمت رکھ دے:

کہ میں تجھے اور زیادہ پہچان سکوں،

تیرا اور زیادہ شکر ادا کر سکوں،

تیری نعمت کے ساتھ تیرے بندوں کے لیے نفع بخش بن سکوں،

اور یہ کہ دنیا میں جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے، اس کے بعد تیرے پاس آخرت میں بھی میرے لیے ایک بلند مقام ہو۔"

سلیمان علیہ السلام کے قصے میں خوبصورت بات صرف یہ نہیں ہے کہ انہوں نے کہا:

﴿وَهَب لي﴾ ("مجھے عطا کر")

اور اللہ نے انہیں عطا کر دیا۔

بلکہ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اللہ نے انہیں اس حد تک دیا کہ ان سے فرمایا:

﴿فَامنُن﴾ ("اب تو احسان کر/عطا کر")۔

پھر انہیں اس سے بھی بڑھ کر وہ چیز دی جو دنیا کی کوئی بادشاہت نہیں دے سکتی:

﴿عِندَنا لَزُلفى وَحُسنَ مَآبٍ﴾

قصے کی شروعات ایک ایسے بندے سے ہوئی جو ہبہ اور عطا مانگ رہا تھا۔

اور اختتام ایک ایسے بندے پر ہوا جسے اللہ نے اس قدر غنی کر دیا کہ وہ خود دینے والا بن گیا، اور اسے اتنا قریب کر لیا کہ اس کے لیے اللہ کے ہاں خاص قرب کا مقام بن گیا۔

اور "الوہاب" کا فضل و کرم ایسا ہی ہوتا ہے:

آپ اس کے سامنے ایک محدود سوال رکھتے ہیں

وہ آپ کو ایسا عطیہ لوٹاتا ہے جو آپ کے سوال سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے،

ایک ایسا کردار جو آپ کے تصور سے کہیں بڑا ہوتا ہے،

ایک ایسی نعمت جو آپ کے ہاتھ سے نکل کر دوسروں کے ہاتھوں تک پھیل جاتی ہے ۔

تحریر : ثناءاللہ حسین

05/09/2026

مکہ کی گلیوں میں ایک خبر پھیلی۔
مگر اس خبر پر کسی کے گھر میں ماتم نہیں تھا۔
کچھ چہروں پر مسکراہٹ تھی۔
رسول اللہ ﷺ کے دوسرے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تھا۔
ایک باپ کے لیے یہ کیسا لمحہ ہوتا ہے، اسے وہی جان سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر کا ٹکڑا مٹی کے سپرد کیا ہو۔
مگر مکہ کے کچھ لوگوں کے لیے یہ غم نہیں، خوشی کی خبر تھی۔
ابو لہب تو پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔
آج تو جیسے اسے اپنی خوشی کا ایک اور بہانہ مل گیا تھا۔
صبح ہوئی تو وہ ایک گھر سے دوسرے گھر جانے لگا۔
اور لوگوں کو خبر سناتے ہوئے طنز سے کہتا:
"اَبْتَرَ مُحَمَّدٌ اللَّیْلَةَ"
محمد ﷺ کی جڑ آج رات کٹ گئی۔
نعوذ باللہ۔
وہ سمجھتا تھا کہ بیٹے کے چلے جانے کے ساتھ محمد ﷺ کا مستقبل بھی ختم ہو گیا۔
جیسے ایک درخت کی جڑ کاٹ دی جائے تو اس کے لیے کھڑا رہنا ممکن نہیں رہتا۔
---
پھر مکہ کے ایک اور سردار نے اس طعنے کو اپنا ہتھیار بنا لیا۔
عاص بن وائل۔
جب بھی رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہوتا، وہ تحقیر سے کہتا:
"انہیں چھوڑو… وہ تو ابتر ہیں۔"
وہ یہ لفظ صرف زبان سے نہیں بولتا تھا۔
وہ چاہتا تھا کہ یہ لفظ لوگوں کے ذہنوں میں گھر کر جائے۔
کہ محمد ﷺ کی نسل باقی نہیں رہے گی۔
کہ ان کا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔
کہ ان کا ذکر وقت کے ساتھ مٹ جائے گا۔
اور سب سے بڑھ کر—
وہ چاہتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے دل کا زخم ہر بار تازہ ہو۔
مسلمان گلیوں سے گزرتے تو پیچھے سے آواز آتی:
"ابتر!"
پھر دوسری طرف سے:
"ابتر!"
ایک لفظ۔
مگر ہر بار جیسے کسی زخمی دل پر تیر۔
---
پھر آسمان نے جواب دیا۔
اور ایسا جواب آیا جس نے مکہ کی زبان ہی بدل دی۔
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ۝
بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی۔
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ۝
پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔
پھر آخری ضرب آئی:
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ۝
بے شک آپ سے بغض رکھنے والا ہی ابتر ہے۔
بس۔
وہی لفظ…
جو دشمن نے طعنہ بنا کر پھینکا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے اٹھایا اور اسی دشمن کی طرف لوٹا دیا۔
ابتر محمد ﷺ نہیں تھے۔
ابتر تو وہ تھا جو محمد ﷺ سے بغض رکھتا تھا۔
---
مکہ نے ایک عجیب منظر دیکھا۔
کل تک لوگ ایک لفظ سنتے تھے:
ابتر۔
اب ایک دوسرا لفظ ہر طرف گونجنے لگا:
کوثر۔
"کوثر کیا ہے؟"
لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے۔
بازاروں میں بات ہونے لگی۔
محفلوں میں سوال ہونے لگا۔
اہلِ زبان سے پوچھا جانے لگا۔
اہلِ علم کی طرف لوگ جانے لگے۔
وہ لوگ جو کل تک "ابتر" کا لفظ پھیلا رہے تھے، اب خود ایک نئے لفظ کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔
کوثر۔
یہ لفظ ان کے پروپیگنڈے پر ایسا چھایا کہ ان کا پھیلایا ہوا "ابتر" خود پس منظر میں چلا گیا۔
انہوں نے ایک لفظ سے محمد ﷺ کا نام مٹانا چاہا تھا۔
اللہ نے ایک لفظ سے ان کے پورے منصوبے کو بے معنی کر دیا۔
---
عرب کی زبان اپنی فصاحت پر ناز کرتی تھی۔
شاعروں کا کلام کعبہ کے گرد اپنی جگہ بناتا تھا۔
اعلان ہوتے تھے۔
چیلنج دیے جاتے تھے۔
"اگر اس کلام کا جواب ہے تو لاؤ۔"
مگر قرآن سامنے آیا تو معاملہ بدل گیا۔
سورۃ الکوثر—
صرف تین آیات۔
چھوٹی سی سورت۔
مگر ایسی تاثیر کہ بڑے بڑے فصحاء خاموش رہ گئے۔
وہ جواب دینا چاہتے تھے۔
مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔
مگر جس زبان پر انہیں فخر تھا، اسی زبان نے ان کے ہاتھ باندھ دیے۔
آخرکار وہ عاجز ہو کر رہ گئے۔
کیونکہ یہ انسانی کلام نہیں تھا۔
---
ذرا غور کیجیے۔
دشمن نے کہا:
"ابتر!"
اللہ نے فرمایا:
"کوثر!"
دشمن نے کہا:
"ان کی نسل نہیں رہے گی۔"
اللہ نے عطا فرمائی:
خیرِ کثیر۔
دشمن نے کہا:
"ان کا نام مٹ جائے گا۔"
اللہ نے فرمایا:
"وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ"
اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔
---
صدیاں گزر گئیں۔
وہ لوگ کہاں ہیں جو "ابتر" کہتے تھے؟
وہ زبانیں کہاں ہیں جو رسول اللہ ﷺ کا نام سن کر تمسخر کرتی تھیں؟
وہ محفلیں کہاں ہیں جہاں یہ منصوبہ بنایا جاتا تھا کہ محمد ﷺ کا نام وقت کے ساتھ مٹ جائے گا؟
سب گزر گئے۔
مگر محمد ﷺ کا نام؟
آج بھی فجر کے وقت بلند ہوتا ہے۔
آج بھی اذان میں بلند ہوتا ہے۔
آج بھی بچے جب قرآن پڑھتے ہیں تو اس نام کی محبت ان کے دل میں اترتی ہے۔
آج بھی کروڑوں زبانیں درود بھیجتی ہیں۔
اور قیامت تک بھیجتی رہیں گی۔
جنہوں نے سمجھا تھا کہ نام اولاد سے باقی رہتے ہیں،
انہیں تاریخ نے بتا دیا کہ نام صرف اولاد سے نہیں رہتے۔
کچھ نام اللہ خود باقی رکھتا ہے۔
---
وہ شخص جسے "ابتر" کہا گیا تھا—
اس کا ذکر آج زمین کے ہر خطے میں ہے۔
اور وہ لوگ جنہوں نے اسے "ابتر" کہا تھا—
ان کے نام آج صرف اس لیے باقی ہیں کہ وہ اس عظیم ہستی کے دشمن تھے۔
کیا عجیب فیصلہ ہے وقت کا۔
جس نام کو مٹانے نکلے تھے،
اپنا نام مٹوا بیٹھے۔
اور جسے بے نسل، بے نشان اور بے ذکر سمجھ رہے تھے—
اس کا ذکر قیامت تک بلند کر دیا گیا۔
یہ صرف تاریخ نہیں۔
یہ اللہ کا فیصلہ ہے۔
اور اللہ کے فیصلے کے سامنے زمانے کے سارے شور آخرکار خاموش ہو جاتے ہیں۔
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ
بے شک آپ ﷺ سے بغض رکھنے والا ہی ابتر ہے۔
اور شاید اس واقعے کا سب سے گہرا جواب یہی ہے:
جڑ وہ نہیں کٹتی جس کا ایک درخت دنیا سے چلا جائے؛
جڑ وہ کٹتی ہے جس کا نام دنیا کے دلوں سے مٹ جائے۔
اور محمد ﷺ کا نام؟
وہ تو اللہ نے خود بلند کر دیا۔
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔

04/09/2026

ایک مرتبہ ایک فقیر ایک دانا شخص کے پاس آیا اور اپنی مشکلات کی شکایت کرنے لگا۔
وہ ہر روز اس دانا سے کہتا کہ تم لوگوں کے حالات نہیں جانتے۔
آخرکار وہ دانا اس کی باتوں سے تنگ آ گیا اور اسے عملی طور پر ایک سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔
اس نے گاؤں کے لوگوں کو جمع کیا اور ہر شخص سے کہا کہ وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ایک کاغذ پر لکھ دے، لیکن اپنا نام نہ لکھے۔
سب نے اپنے مسائل لکھے اور وہ کاغذات ایک صندوق میں ڈال دیے۔
دانا شخص نے اس فقیر سے کہا:
’’یہ لوگوں کی زندگیاں تمہارے سامنے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک زندگی اپنے لیے منتخب کر لو۔‘‘
وہ شخص ایک کاغذ اٹھاتا، پڑھتا اور اسے پھینک دیتا، کیونکہ وہ زندگی اسے پسند نہ آتی۔
پھر اس نے دوسرا کاغذ اٹھایا، اسے بھی پڑھا اور واپس رکھ دیا۔
پھر تیسرا، پھر چوتھا...
وہ صندوق کے تمام کاغذات دیکھ چکا تھا۔
آخرکار اس نے دانا سے کہا:
’’مجھے کسی اور کی زندگی نہیں چاہیے، میں اپنی ہی زندگی پر راضی ہوں۔‘‘

پس یاد رکھو:
اصل دولت رضامندی میں ہے۔
دنیا کا سارا مال اگر دل میں رضامندی نہ ہو تو بھی فقر ہی ہے۔
اور دنیا کی ساری غربت اگر دل اللہ کی عطا پر راضی ہو تو وہ بھی دولت ہے۔

کبھی انسان ایسی چیز مانگتا ہے جس میں دراصل اس کے لیے نقصان ہوتا ہے، اور اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اللہ کا روک دینا بھی ایک عطا ہے۔
کچھ لوگوں کی اصلاح صرف فقر سے ہوتی ہے، اور کچھ لوگوں کی صرف دولت سے۔
کچھ بیمار اگر صحت مند ہو جائیں تو سرکش بن جائیں۔
کچھ غریب اگر دولت مند ہو جائیں تو تکبر میں مبتلا ہو جائیں۔
کبھی ایک شکر گزار امیر اگر فقیر ہو جائے تو ناشکری میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

اور کبھی ایک عبادت گزار صحت مند انسان اگر بیمار ہو جائے تو گناہوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

لہٰذا حضرت عمرؓ کی طرف منسوب یہ بات ہمیشہ یاد رکھو:
’’اگر ہمارے لیے غیب کے پردے اٹھا دیے جائیں تو ہم میں سے کوئی شخص اپنے لیے اس کے سوا کچھ پسند نہ کرے جو اللہ نے اس کے لیے پسند کیا ہے۔‘‘

Address

Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tareekh ka ghar تاریخ کا گھر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share