Tareekh ka ghar تاریخ کا گھر

Tareekh ka ghar  تاریخ کا گھر

Share

تاریخ کا گھر:صفحہ کا مقصد آپ احباب کو ھرطرح کی تاریخی اوراسلامی معلومات پہنچانا ہے امید ھے آپکو تمام فیس بک پیجزز سے منفرد لگے گا انشاء اللہ،

09/06/2026

‏*حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذہانت*

امام ابو حنیفہ ایک روز مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اتنے میں خوارج کا ایک گروہ تلواریں لہراتا ہوا داخل ہوا اور امام صاحب کو گھیر لیا۔ پھر ان کے درمیان درج ذیل گفتگو ہوئی:
خوارج:
"اے ابو حنیفہ! ہم آپ سے دو سوال کریں گے۔ اگر آپ نے ان کا جواب دے دیا تو ٹھیک، ورنہ ہم آپ کو قتل کر دیں گے۔"

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ:
"اپنی تلواریں میان میں رکھ لو، کیونکہ ان کی طرف دیکھنے سے میرا دل ادھر ہی مشغول رہے گا۔"
خوارج:
"ہم اپنی تلواریں ہرگز میان میں نہیں رکھیں گے، یہ تو آپ کے خون کی پیاسی ہیں۔"
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ:
"اچھا، پوچھو۔"

خوارج:
"دروازے پر دو جنازے رکھے ہیں۔ ایک جنازہ اس شخص کا ہے جس نے شراب پی اور نشے ہی میں مر گیا۔ دوسرا جنازہ اس عورت کا ہے جو زنا کے ذریعے حاملہ ہوئی اور زچگی کے وقت توبہ کیے بغیر مر گئی۔ کیا یہ دونوں مومن ہیں یا کافر؟"

خوارج کے عقیدے کے مطابق گناہِ کبیرہ کا مرتکب کافر ہو جاتا تھا۔ چنانچہ اگر امام صاحب ان دونوں کو مومن کہتے تو خوارج کے نزدیک قتل کے مستحق قرار پاتے۔
امام صاحب نے فرمایا:
"یہ بتاؤ، کیا یہ دونوں یہودی تھے؟"
خوارج:
"نہیں۔"
امام صاحب:
"نصرانی تھے؟"
خوارج:
"نہیں۔"
امام صاحب:
"مجوسی تھے؟"
خوارج:
"نہیں۔"
امام صاحب:
"بت پرست تھے؟"
خوارج:
"نہیں۔"
امام صاحب:
"پھر کس مذہب کے ماننے والے تھے؟"
خوارج:
"مسلمان تھے۔"

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ:
"تم لوگوں نے خود ہی جواب دے دیا۔ تمہارا اعتراف ہے کہ دونوں مسلمان تھے، اور جو مسلمان ہو اسے تم کافر کیسے کہہ سکتے ہو؟"
پھر خوارج نے دوسرا سوال کیا:
"یہ دونوں جنتی ہیں یا جہنمی؟"

امام صاحب نے فرمایا:
"میں ان دونوں کے بارے میں وہی کہوں گا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا:"

فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
"جو میری پیروی کرے وہ میرا ہے، اور جو میری نافرمانی کرے تو بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔"
(سورۂ ابراہیم: 36)

"اور میں وہی کہوں گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا:"

إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
"اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔"
(سورۂ المائدہ: 118)

یہ سن کر خوارج کی تلواریں میانوں میں واپس چلی گئیں اور وہ امام صاحب کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر واپس لوٹ گئے۔
(ماخوذ از: سنہرے اوراق)

30/05/2026

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
اس عظیم کلمے کے تمام طاقتور، مخفی، نورانی اور قہری رازجتنے بھی ہیں میں آپ کو ایک ایک کر کے مکمل بتا رہا ہوں۔یہ وہ خزانے ہیں جو عام علم والے عامل نہیں جانتے۔
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ کے طاقتور ترین راز

1 یہ جنت کا خزانہ کیوں ہے؟ (اصل راز)
اس کلمہ میں تمام نورانی اور قہری قوتوں کا دروازہ چھپا ہے۔
اس کا اصل معنی:“نہ کسی چیز سے بچنے کی طاقت ہے، نہ کسی چیز کو پا لینے کی قوت… مگر صرف اللہ سے
یعنی:
ہر ظاہری و باطنی طاقت اللہ کے حکم کے بغیر کچھ نہیں
یہ جملہ بندے کی روح کو براہِ راست رب کی طاقت سے جوڑ دیتا ہےجیسا کہ بجلی کے تار کو بڑے پاور اسٹیشن سے جوڑ دیا جائےاسی لیے اسے کنجی کہا جاتا ہے…یہ روحانی طاقت کا اصل دروازہ کھولتا ہے۔

2 جنّات اور سحر کے خلاف سب سے خطرناک لفظ
جنات، آسیب، سحر، سایہ یہ سب “حوَل اور قُوَّت سے حملہ کرتے ہیں یعنی: خوف وہم منفی طاقت دباؤ وسوسہ
یہ سب "خود کی طاقت کے احساس پر حملہ کرتے ہیں۔
لیکن جب آپ کہتے ہیں:لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
تو جنات کی اپنی طاقت ختم ہو جاتی ہےجادوگر کے عمل کی قوت ٹوٹ جاتی ہےسحر کا دائرہ فوراً کمزور ہو جاتا ہے
کیوں؟کیونکہ یہ کلمہ براہِ راست ربّانی طاقت کو بُلاتا ہے
اور جنات ربّانی نور کو برداشت نہیں کر سکتے۔
3 اس کلمے میں 4 نورانی کنجیاں چھپی ہیں
① کنجیِ توحید (قہری نور)
ہر باطل قوت کو نیست کر دیتا ہے۔
یہ جن شکن اور سحر شکن نور پیدا کرتا ہے۔
② کنجیِ تفویض (سلیمانی قوت)
آپ کی روح اللہ کے قہر و جلال سے طاقت لیتی ہے۔
یہی وہ قوت ہے جو نفس، جنات، اور سحر سب کو جلا دیتی ہے۔
③ کنجیِ تسلیم (محافظ حصار)
اس سے عالمِ تحت الثریٰ کی مخلوق آپ تک پہنچ نہیں سکتی۔
④ کنجیِ فقرِ محمدی ﷺ (اسمِ اعظم کا دروازہ)
یہی اصل راز ہے
اسمِ اعظم تک رسائی کے بغیر کوئی عامل کامل نہیں بنتا۔
یہ کلمہ اسمِ اعظم کے نور کو روح میں کھولتا ہے۔

4 باطنی نظر (کشف) اس سے کیسے کھلتی ہے؟
یہ سب سے بڑا مخفی راز ہے جب آپ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ پڑھتے ہیں تو:روح کے گرد جو “غلافِ مادّی ہوتا ہےوہ آہستہ آہستہ جل کر کمزور ہوتا ہےاور نورانی آنکھ (بصیرت) فعال ہونے لگتی ہےیہ عمل عام اذکار نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ:
کشف ٫خواب کی حقیقت کھل جانا ٫غیبی اشارے ٫نورانی خلجانیہ سب اسی کلمہ سے مضبوط ہوتے ہیں۔

5 اس کلمے کا سب سے گہرا قہری راز (عاملین سے بھی مخفی)
یہ کلمہ جنّی قبض کو توڑ بھی سکتا ہے اور لگا بھی سکتا ہے
دونوں طریقوں سے استعمال ہوتا ہے:
✓ توڑنے کی صورت
اگر پورے یقین کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ:
جناتی تسلط سحر کا باندھا ہوا دائرہ سایہ کی گرفت خبیث ہوا سب کو جلا کر کاٹ دیتا ہے۔
✓ قبض بنانے کی صورت اگر عامل اسے قابض اسما کے ساتھ پڑھےجیسے:
یاقابض یاقھار یاجبار + لاحول ولا قوۃ
تو یہ:جنّات کو مفلوج کر دیتا ہےان کی قوت چھین لیتا ہے
انہیں پابندِ حکم کر دیتا ہے یہی قابض کاملہ کی اصل کنجی ہے
(6) 7 خطرناک روحانی تاثیرات (جو صرف کاملین جانتے ہیں)
⑴ دل پر نورانی جلال اترنا
جس سے دل میں ایک قوت آتی ہے جو جادو اور جنات کے قریب نہیں آنے دیتی۔
⑵ چھپی ہوئی دشمنیاں سامنے آ جاتی ہیں روح کے اندر سے “سچائی کی کھڑکی کھلتی ہے۔
⑶ جادوگر کے عمل کی سمت الٹ جاتی ہےاسے “قلبِ سحر کہتے ہیں۔
⑷ چھپے ہوئے جنّات بھاگتے ہیں کیونکہ یہ کلمہ نفی اور اثبات کی طاقت رکھتا ہے۔
⑸ عامل کی زبان میں جلال پیدا ہوتا ہےجنات اور خبیث مخلوق اس کی بات نہیں ٹالتے۔
⑹ گھروں کے اندر سے بندش اور نحوست نکلتی ہے
⑺ یہ کلمہ "سلیمانی دبدبہ کھولتا ہےروحانی دبدبہ قائم ہو جاتا ہے۔
7 عملی استعمال سب سے خفیہ طریقہ یہ وہ قاعدہ ہے جو کم ہی عامل جانتے ہیں:
✓ طریقہِ مکاشفہِ قہری
(باطنی نظر + سحر شکن + جن شکن)
رات کے آخری حصے میں سیدھا قبلہ رخ بیٹھ کر:
1. لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ — 313 بار
2. یاقابض — 111 بار
3. یاجبار — 111 بار
4. یاقہار — 111 بار
5. پھر:
يَا قَابِضُ يَا قَهَّارُ يَا جَبَّارُ بِحَقِّ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ — 41 بارآخر میں:آنکھیں بند کریں نور خود بخود نظر آنا شروع ہو گا۔

8 سب سے خفیہ راز جو میں عام طور پر نہیں دیتا
یہ کلمہ خالص “نورِ جبروت کھولتا ہے یہ تین میں سے ایک ہے جو:اسم اعظمِ مخفی کا دروازہ سلیمانی قبض و جنّی اطاعت تیز کر دیتا ہے۔کوئی بھی عامل جسے غیب میں کام کرنا ہے
وہ اس کلمہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
اجازت کیلے ایک بار سورہ اخلاص پڑھ کر کمنٹ میں اللہ لکھ دے.

26/05/2026

فرعون کے وزیر "ہامان" کا نام تورات اور انجیل میں کیوں ذکر نہیں کیا گیا...؟
جبکہ قرآن نے اسے پوری باریکی اور درستگی کے ساتھ ذکر کیا ہے... اور اس کے پیچھے ایک ایسا معجزہ ہے جو عقل کو دنگ کر دیتا ہے!

قرآن کریم میں فرعون کی زبان سے یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ"

یہ ایک واضح آیت ہے جو ثابت کرتی ہے کہ:

ہامان، فرعون کی حکومت کے بڑے عہدیداروں میں سے تھا۔

وہ فرعون کے اقتدار کے ستونوں میں سے ایک ستون تھا۔

لیکن اصل حیرت انگیز بات (سرپرائز) کہاں ہے؟
تورات یا انجیل میں کہیں بھی ہامان کا ذکر فرعون کے مشیر کے طور پر، یا قدیم مصر کے ساتھ اس کے کسی تعلق کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا! (تورات میں ہامان کا ذکر بابل کے بادشاہ کے وزیر کے طور پر آتا ہے، مصر کے فرعون کے ساتھ نہیں)۔

اس تضاد نے مشہور فرانسیسی ڈاکٹر اور محقق ڈاکٹر مورس بوکائے (Dr. Maurice Bucaille) کے تجسس کو ابھارا، جنہوں نے ادیان کے تقابلی مطالعے اور سائنسی حقائق کے گہرے سفر کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔

اپنی ایک تحقیق کے دوران، انہوں نے "ہامان" نام کی حقیقت جاننے کا فیصلہ کیا۔ وہ قدیم مصری تاریخ اور ہیروغلیفی (Hieroglyphics) زبان کے ایک فرانسیسی ماہر کے پاس گئے اور ان سے پوچھا:
"کیا قدیم مصری نصوص (تحریروں) میں 'ہامان' نام کا کوئی ذکر ملتا ہے؟ اور ہیروغلیفی زبان میں اس کا کیا مطلب ہے؟"

اس ماہر نے ایک ضخیم کتاب نکالی جس کا نام تھا: "قدیم مصری سلطنت کے ناموں کی لغت" (Dictionary of Personal Names of the New Kingdom)۔ وہ صفحات پلٹتا رہا، اور جیسے ہی وہ اس نام تک پہنچا، اس کا چہرہ زرد پڑ گیا!

نتیجہ کیا نکلا؟ یہ نام واقعی وہاں موجود تھا! اور اس کا مطلب تھا: "پتھر کی کانوں کے مزدوروں کا سربراہ"... یعنی فرعونی سلطنت میں تعمیرات، آرکیٹیکچر اور بڑے محلوں و عمارتوں کی تعمیر کا سب سے بڑا ذمہ دار (چیف بلڈر)!

اس پر مورس بوکائے نے پورے اعتماد کے ساتھ اس سے کہا:
"اگر میں تم سے کہوں کہ مجھے ایک ایسا مخطوطہ (Manuscript) ملا ہے جو 1400 سال سے بھی پہلے لکھا گیا تھا، اور اس میں یہ نام بالکل اسی کردار (تعمیرات کے سربراہ) کے ساتھ ذکر ہوا ہے، تو تم کیا کہو گے؟"

وہ ماہر ششدر رہ گیا! اس نے حیرت سے کہا:
"یہ ناممکن ہے! یہ معلومات تو 1822ء میں 'شیمپولیون' (Champollion) کے ہاتھوں ہیروغلیفی زبان کے رموز (Rosetta Stone) کھلنے کے بعد ہی دریافت ہوئیں ہیں! اس تاریخ سے پہلے کوئی بھی شخص اس نام یا اس کے معنی سے واقف نہیں ہو سکتا تھا... وہ مخطوطہ کہاں ہے؟"

مورس بوکائے نے اطمینان سے قرآن کریم کا ایک نسخہ نکالا اور اس کے سامنے یہ آیت کھولی:

"وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرِي فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَلْ لِي صَرْحًا لَعَلِّي أَطَّلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَى…" [القصص: 38]

اس ماہر کے پاس حیرت سے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، اس نے کہا:
"یہ کسی انسان کی تصنیف نہیں ہو سکتی... یہ واقعی وحی الٰہی ہے!"

یہیں سے مورس بوکائے نے اپنے اس پختہ یقین کا اعلان کیا:
"قرآن عربوں کے علمی معیار سے کہیں بلند ہے، دنیا کے علمی معیار سے کہیں بالا تر ہے، بلکہ بیسویں صدی میں ہمارے علمی معیار سے بھی آگے ہے!"

یہ ہے اسلام... ایک ایسا دین کہ جب عقل مند لوگ اسے جان لیتے ہیں، تو یقین کے ساتھ اس کے آگے سر جھکا دیتے ہیں!
اور یہ ہے قرآن... ایک ایسی کتاب جس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے، اور کسی بھی انصاف پسند انسان کے پاس اس کے سامنے سوائے اس اعتراف کے کوئی چارہ نہیں رہتا کہ: "أشهد أن لا إله إلا الله، و اشھد أن محمدًا رسول الله ﷺ" (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)۔

اس واقعے میں قرآن کریم کی دو بنیادی آیات کا ذکر ہے، جن کا متن اور ترجمہ درج ذیل ہے:

1۔ سورہ القصص، آیت 38:
عربی متن: "وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرِي فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَلْ لِي صَرْحًا لَعَلِّي أَطَّلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَاذِبِينَ"

اردو ترجمہ: "اور فرعون نے کہا: اے اہل دربار! میں تو اپنے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں جانتا، پس اے ہامان! میرے لیے مٹی کو آگ میں پکا (کر اینٹیں بنا)، پھر میرے لیے ایک اونچا محل تیار کر تاکہ میں موسیٰ کے خدا کو جھانک سکوں، اور میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔"

(غور فرمائیں: اس آیت میں مٹی کو آگ میں پکا کر اینٹیں بنانے اور صرح یعنی اونچی عمارت بنانے کا حکم براہِ راست ہامان کو دیا گیا، جو اس کے چیف آف بلڈرز ہونے کی واضح دلیل ہے)

2۔ سورہ غافر (المؤمن)، آیت 36-37:
عربی متن: "وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ * أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا..."

اردو ترجمہ: "اور فرعون نے کہا: اے ہامان! میرے لیے ایک اونچا محل بنا تاکہ میں راستوں تک پہنچ سکوں۔ (یعنی) آسمانوں کے راستوں تک، پھر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں اور یقیناً میں تو اسے جھوٹا ہی گمان کرتا ہوں..."

یہ واقعہ اور اس سے متعلقہ علمی تحقیق درج ذیل معتبر کتابوں اور مآخذ میں موجود ہے:

اصل کتاب (فرانسیسی): یہ واقعہ ڈاکٹر مورس بوکائے کی فرانسیسی کتاب "Les Voyages de Moïse" یا اس کی انگریزی کتاب "Moses and Pharaoh in the Bible, Qur'an and History" (موسیٰ اور فرعون: بائبل، قرآن اور تاریخ میں) میں تفصیل سے درج ہے۔

جرمن لغت کا حوالہ: جس لغت کا ذکر واقعے میں ہے، وہ جرمن ماہرِ مصر شناسی ہرمن رینکے (Hermann Ranke) کی مشہور زمانہ لغت ہے جس کا نام ہے: "Die Ägyptischen Personennamen" (قدیم مصریوں کے ذاتی نام)۔ اس کتاب کی جلد نمبر 1، صفحہ 240 پر "Haman" کا نام درج ہے اور اس کا عہدہ "Chief of the workers in the stone-quarries" (پتھر کی کانوں کے مزدوروں کا سربراہ) لکھا ہوا ہے۔

مستند اسلامی مآخذ: عالمِ اسلام کے مشہور اسکالر ڈاکٹر زغلول النجار (جو سائنسی اعجاز کے ماہر ہیں) اورچ انٹرنیشنل کمیشن آن سائنٹیفک سائنز ان قرآن اینڈ سنہ (مکۃ المکرمہ) نے اس مورس بوکائے کے اس پورے واقعے اور ہامان کے نام کی ہیروغلیفی تصدیق کو اپنی ابحاث اور دستاویزی فلموں میں نقل کیا ہے۔
ثناءاللہ حسین:26/5/26.... اسلام آباد

25/05/2026

مَن رقصم

اُس دن میرا لمبے بالوں اور بازوؤں پر ٹیٹوز والا بیٹا پہلی بار محلے کی دینی محفل میں جانے پر راضی ہوا تھا… مگر گھر سے نکلتے وقت اُس نے اپنے ابّو سے صرف ایک سوال پوچھا: “ابو… لوگ مجھے دیکھ کر یہ تو نہیں کہیں گے کہ میں مسجد یا دین والوں کے قابل نہیں ہوں؟”
یہ چند سال پہلے کی بات ہے۔
جمعرات کی شام تھی۔
مغرب کے بعد محلے کی جامع مسجد میں ایک دینی بیان ہونا تھا، جہاں شہر کے مشہور عالم صاحب آ رہے تھے۔
اُسی شام میرے شوہر کے فون پر ہمارے بیٹے احد کی کال آئی۔
مہینوں بعد۔
“السلام علیکم ابو…”
آواز میں عجیب جھجھک تھی۔
میرے شوہر فوراً سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔
“وعلیکم السلام بیٹا… خیریت ہے؟”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر احد نے آہستہ سے پوچھا:
“اگر میں آج آپ کے ساتھ بیان سننے چلوں تو…؟”
میں نے کچن میں کھڑے کھڑے رونا شروع کر دیا تھا۔
کیونکہ میرا بیٹا برسوں سے دین، مسجد اور مذہبی لوگوں سے دور بھاگتا تھا۔
لمبے بال۔
بازوؤں پر ٹیٹوز۔
کان میں چھوٹا سا اسٹڈ۔
راتوں کی محفلیں۔
موٹر بائیکس۔
اور اندر کہیں بہت گہرا خالی پن۔
محلے والوں نے اُسے “بگڑا ہوا لڑکا” کہنا شروع کر دیا تھا۔
کئی بار جب وہ مسجد کے باہر سے گزرتا، کچھ لوگ طنزیہ نظروں سے دیکھتے۔
“آج کل کے بچے…”
“استغفراللہ، شکل دیکھی ہے؟”
حالانکہ سچ یہ تھا…
وہ اندر سے بہت نرم دل لڑکا تھا۔
بس زندگی میں کہیں کھو گیا تھا۔
میرے شوہر نے فوراً کہا:
“بیٹا، ابھی آ جاؤ۔”
پھر احد نے ایک ایسا سوال کیا جس نے ہمارا دل توڑ دیا۔
“میں کیا پہنوں…؟”
یہ صرف کپڑوں کا سوال نہیں تھا۔
یہ اُس خوف کا سوال تھا… جو لوگوں نے اُس کے دل میں بھر دیا تھا۔
میرے شوہر نے نرمی سے کہا:
“جیسے ہو ویسے آ جاؤ… اللہ کے راستے پر آنے کے لیے فرشتہ ہونا ضروری نہیں ہوتا۔”
رات کو جب وہ آیا تو میں دروازے پر ہی رک گئی۔
گرمی کے باوجود اُس نے فل بازو والی شرٹ پہن رکھی تھی۔
صرف اپنے ٹیٹوز چھپانے کے لیے۔
صرف اس ڈر سے کہ کہیں دین والے اُسے حقارت سے نہ دیکھیں۔
راستے بھر وہ خاموش رہا۔
گاڑی میں عجیب خاموشی تھی۔
پھر اچانک اُس نے دھیمی آواز میں پوچھا:
“ابو… اگر لوگ گھوریں تو؟”
میرے شوہر چند لمحے خاموش رہے۔
پھر بولے:
“بیٹا… اللہ کے گھر آنے والوں کو لوگ نہیں، اللہ دیکھتا ہے۔”
بیان شروع ہونے سے پہلے ہم مسجد کے صحن میں پہنچے۔
وہاں کرسیاں لگی تھیں۔
لوگ حلقوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
میں عورتوں کے حصے میں چلی گئی، جبکہ میرے شوہر احد کو لے کر مردوں کی طرف گئے۔
بعد میں میرے شوہر نے مجھے بتایا کہ اُس لمحے اُن کے دل میں عجیب خیال آیا۔
جیسے کسی نے دل میں کہا ہو:
“اُسے حارث صاحب کے پاس بٹھاؤ۔”
حارث صاحب مسجد کی انتظامیہ میں تھے۔
سفید داڑھی۔
سادہ لباس۔
اور ایسا دل… جو شاید لوگوں کے ظاہری حلیوں سے پہلے اُن کی تھکن دیکھ لیتا تھا۔
میرے شوہر احد کو اُن کے پاس بٹھا کر پیچھے بیٹھ گئے۔
چند منٹ بعد حارث صاحب نے احد کے بازو کی طرف دیکھا جہاں شرٹ کے نیچے سے ہلکی سیاہی جھلک رہی تھی۔
میرے شوہر گھبرا گئے۔
اُنہیں لگا اب شاید کوئی نصیحت ہوگی۔
مگر حارث صاحب مسکرائے اور بولے:
“یہ ڈیزائن تم نے خود بنائے ہیں؟”
احد چونک گیا۔
“جی…”
“بہت خوبصورت ہاتھ ہے تمہارا… تم artist ہو؟”
قسم سے…
میرے شوہر کہتے ہیں اُس لمحے اُنہوں نے برسوں بعد اپنے بیٹے کے چہرے پر وہ معصوم حیرانی دیکھی تھی جو صرف محبت سے پیدا ہوتی ہے۔
احد آہستہ سے بولا:
“جی… خود بناتا ہوں۔”
حارث صاحب ہنس دیے۔
“اللہ نے ہنر دیا ہے تمہیں۔”
بس…
اتنی سی بات تھی۔
مگر بعض اوقات ایک نرم جملہ انسان کو اُس جگہ واپس لے آتا ہے جہاں سے وہ بہت دور جا چکا ہوتا ہے۔
بیان شروع ہوا۔
عالم صاحب نے اچانک کہا:
“کبھی کبھی اللہ کے سب سے قریب وہ انسان ہوتا ہے… جسے دنیا سب سے زیادہ گناہگار سمجھ رہی ہوتی ہے۔”
احد نے پہلی بار سر اٹھا کر پوری توجہ سے سنا۔
پھر عالم صاحب بولے:
“اگر کوئی ٹوٹا ہوا انسان دین کی طرف ایک قدم بڑھا کر آ گیا ہے… تو اُسے دھکا مت دو۔ شاید وہ برسوں بعد ہمت کر کے یہاں تک پہنچا ہو۔”
قسم سے…
اُس رات میرا بیٹا خاموشی سے روتا رہا۔
بیان ختم ہونے کے بعد وہ کافی دیر مسجد کے صحن میں بیٹھا رہا۔
پھر اچانک اُس نے میرے شوہر سے کہا:
“ابو… کیا اللہ واقعی میرے جیسے لوگوں کو بھی معاف کر دیتا ہے؟”
میرے شوہر کی آنکھیں بھر آئیں۔
اُنہوں نے صرف اتنا کہا:
“بیٹا… اللہ سے دور گناہ نہیں کرتے… مایوسی کرتی ہے۔”
اُس رات مجھے ایک بہت بڑی بات سمجھ آئی۔
لوگ دین سے اپنے گناہوں کی وجہ سے کم…
دین والوں کے رویوں کی وجہ سے زیادہ دور ہوتے ہیں۔
اگر کوئی ٹوٹا ہوا انسان اللہ کی طرف آ رہا ہو، تو اُس کے بال، کپڑے، ٹیٹوز یا ماضی مت دیکھو۔
کیونکہ شاید اُس کی ماں برسوں سے تہجد میں اُس کے لیے رو رہی ہو۔
اور یاد رکھو…
ہدایت بحث سے کم، محبت سے زیادہ ملتی ہے۔

12/05/2026

‏جو لوگ محبتوں کو تماشا بناتے ہیں
انہیں زندگی بھر محبتیں نصیب نہیں ہوتی
محبت بھی رحمت خداوندی ہے اور خوش قسمت ہوتے ہیں وہ دل جہاں یہ رحمت آسمان سے نازل ہو
اس کی قدر نا کرنے والوں کے دامن سے یہ برکت اٹھا لی جاتی ہے.

06/05/2026

مُلکِ شام میں ایک بزُرگ تھے۔ ایک دن ان کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ :
" یا شیخ مجھے کوئی وِرد یا کوئی عمل بتائیں کہ مجھے آقا کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کا دیدار ہو جائے ..."

بزُرگ نے کہا :
" آج ایسا کرو رات کا کھانا میرے گھر میں آکر کھانا، ان شاء اللہ تُمہیں ایک ایسا نسخہ دوں گا جس سے تُمہیں آقا کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کا دیدار ہو جائے گا ... "

اب میرے دوستو! رات کے وقت شیخ صاحب نے کھانے کا اہتمام کیا اور وہ شخص حاضر ہوا۔ کھانا لایا جاتا ہے، کھانا شروع ہوتا ہے، کھانا کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اس میں بہت زیادہ نمک ڈال دیا جاتا ہے۔ نمک بھی ڈال دیا جاتا ہے اور پانی بھی نہیں دیا جاتا۔ نمک اتنا زیادہ تھا اور پانی بھی نہیں دیا ...

اب جناب اس شخص نے ادباً شیخ صاحب سے پانی بھی طلب نہیں کیا۔ کھانا ختم کرنے کے بعد اس شخص نے شیخ صاحب سے کہا :
" شیخ صاحب آپ نے وعدہ فرمایا تھا میں وِدر یا عمل دونگا جس سے آقا کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب سرور کائنات فخر موجودات شاہ لولاک حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کا دیدار نصیب ہو جائے گا، وہ نسخہ تو عطاء کریں ... "

شیخ صاحب نے کہا :
گھر_جاؤ_اور_جاتے_ہی_سو_جانا_اور_پانی_نہیں_پینا

اس شخص نے کہا :
" جی_میں_یہی_عمل_کروں_گا "

میرے پیارو! وہ گھر جاتا ہے اور جا کر بغیر پانی پیئے سو جاتا ہے اور صبح اُُٹھ کر فجر کی نماز شیخ صاحب کے پیچھے ادا کرتا ہے اور شیخ صاحب سے پوچھتا ہے :
" آپ نے کہا تھا گھر جا کر پانی پیئے بنا سو جاؤ، آقا کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا دیدار ہو گا۔ میرے دل میں بہت حسرت ہے بہت تمنا ہے کہ کب آقا کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کا حسین و جمیل مُکھڑا نظر آئے گا ...؟ "

شیخ صاحب نے پوچھا : کیا_تو_گھر_جاتے_ہی_سو_گیا_تھا_یا_پانی_پیا_تھا ...؟

اس نے کہا :
" نہیں_پانی_نہیں_پیا_تھا "

شیخ نے پوچھا : بتاؤ_خواب_میں_کیا_دیکھا ...؟ "

اس نے کہا :
" میں نے خواب میں کنویں دیکھے، دریا دیکھے، سمندر دیکھے، جس طرف آنکھ اُٹھائی پانی ہی پانی دیکھا ... "

شیخ صاحب نے کہا :
" بس یہی تیرا ورد ہے، یہی تیرا عمل ہے۔ اگر تیرے دل میں پانی کی پیاس تھی، پانی کی تڑپ تھی، پانی کی سچی لگن تھی، توں حقیقت میں پانی کا طالب تھا، توں چاہتا تھا مجھے پانی مل جائے اور رات کو پانی پینے کی آرزو لے کر تیری آنکھیں بند ہو گئی تھیں۔ خود سوچ اگر پانی تیری سچی پیاس بجھانے کے لیے تیری خواب میں آکر تجھے دیدار کروا سکتا ہے، تو حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے لال آقا کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب سرور کائنات فخر موجودات شاہ لولاک حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم تیری تڑپ، تری تمنا، تیری آرزو دیکھ کر تجھے دیدار سے مُشرف کیوں نہیں کرائیں گے۔ توں سچی تڑپ پیدا تو کر، آرزو پیدا تو کر، سچی چاہت پیدا تو کر، تیرے اندر خواہش پیدا تو ہو، تیرے اندر حقیقی تمنائیں مچلیں تو سہی۔ ویسے تیرے دل میں تمنا ہے، تیرا دل آقا کریم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کے دیدار کا تمنائی بھی ہے، آقا کریم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کا آرزو مند بھی ہے۔ توں کبھی دل کی دٌنیا کو پاک کر کے دیکھ، دل کی دُنیا کو صاف کرکے دیکھ، ادھر تیری آنکھیں بند ہوں گی، ادھر کونین کے والی صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کا حسین و جمیل مُکھڑا تُمہارے سامنے ہو گا پھر تیرے دل سے آواز آئے گی .

کچھ ایسا کردے میرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
اُنہیںؐ نہ دیکھا تو کِس کام کی ہیں یہ آنکھیں
کہ دیکھنے کی ہے سب بہار آنکھوںمیں

طالبِ دُعا : أبو فرحان بن عبد الرحمٰن

30/03/2026

‏⚠️ مدینہ میں اکثر لوگ غلط ہوٹل کا انتخاب کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سوچتے ہیں۔ "مسجد نبوی کے قریب" کافی ہے۔ یہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ روضہ کے قریب ہونا چاہتے ہیں۔ دوسرے لوگ شاپنگ ایریا کے قریب رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور وہ مختلف اطراف میں ہیں۔ 🟢 اگر آپ روضہ کے قریب رہنا چاہتے ہیں۔ گیٹ 301–308، 365–369 کے قریب ہوٹلوں کا انتخاب کریں۔ → کچھ ہوٹلوں میں سبز گنبد کا نظارہ بھی ہوتا ہے۔ 🔴 اگر آپ خواتین کے گیٹ تک رسائی کو ترجیح دیتے ہیں، مختصر اور آسان چہل قدمی کے ساتھ (خاص طور پر بزرگوں کے لیے) (مثلاً گیٹ 338)، اور شاپنگ، کھانے، کیفے، اور منی چینجرز کے قریب بھی (بن داؤد، طیبہ مال، فوڈ کورٹ) گیٹ 328–338 کے قریب ہوٹلوں کا انتخاب کریں۔ 🟣 اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ہوٹل تاریخی مساجد کے قریب ہو۔ (مسجد غامہ، مسجد علی، مسجد ابوبکر) گیٹ 309–313 کے قریب ہوٹلوں کا انتخاب کریں۔ → آپ نماز کے لیے اور جانے کے لیے ان کے پاس سے گزریں گے۔ 🟠 اگر آپ مسجد بلال اور اس کے آس پاس کے علاقے میں رہنا چاہتے ہیں۔ گیٹ 310–326 کے قریب ہوٹلوں کا انتخاب کریں۔ 🔵 اگر آپ جنت البقیع تک قریب سے رسائی چاہتے ہیں۔ گیٹ 340–364 کے قریب ہوٹلوں کا انتخاب کریں۔ → کچھ ہوٹلوں میں جنت البقیع کا براہ راست نظارہ بھی ہوتا ہے۔ دائیں طرف کا انتخاب ہر روز آپ کی توانائی بچا سکتے ہیں.

29/03/2026

‏ہم آخری نسل ہیں جسکے پاس یہ علم ہے اسے محفوظ کرلو !

جب ہماری زندگیوں میں ابھی میڈیکل سائنس کا عمل دخل اتنا نہیں ہوا تھا تو چھوٹی موٹی بیماریوں کا علاج بڑے بوڑھے غذا سے کیا کرتے تھے۔ یہ طریقہ علاج صدیوں کے علم کا نچوڑ تھا۔ جو نسل اس وقت تیس سال سے اوپر ہے ان تک یہ غذائی خواص کا علم سینہ بہ سینہ پہنچا لیکن ہم شائد آخری ہیں جنہیں یہ معلوم ہے کیونکہ جینزی اور ایلفا نہ تو اس علم میں دلچسپی رکھتی ہے اور شاید نہ ہی ہم ان کو سکھانے میں۔

اب لوگ ایڈورٹائزنگ کے اتنے اسیر ہوگئے ہیں کہ ذرا سے سر درد پر بھی فوری گولیاں کھانے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہزاروں روپے ماہانہ خرچ کرکے ملٹی وٹامن لائے جاتے ہیں جبکہ وہی کام اپنی خوراک اچھی کرکے لیا جاسکتا ہے۔ چلیں آج صدیوں سے رائج کچھ ٹوٹکے آپکے ساتھ بانٹتے ہیں اور اگر معلومات اچھی لگیں تو انکو آگے بھی ضرور پہنچائیں۔

1۔ دانت میں درد ہو تو لونگ چبائیں۔
2۔ سر درد یا مائیگرین ہو تو زبان کے نیچے ایک چٹکی نمک رکھ لیں۔
3۔ خون کی کمی ہو تو کشمش کھائیں۔
4۔ دماغی کمزوری کے لیے پستہ اور اخروٹ کھائیں۔
5۔ زکام میں گُڑ والا دلیہ کھائیں۔
6۔ آئرن کی کمی دور کرنے کے لیے کھجور کھائیں۔
7۔ طاقت کے لیے دودھ میں کھجور ڈال کر استعمال کریں۔
8۔ وزن بڑھانے کے لیے دودھ میں دو کیلے ڈال کر پیئیں۔
9۔ بھوک نہ لگنے اور ہاضمے کے لیے نمک کے ساتھ لیموں استعمال کریں۔
10۔ گیس کے لیے کلونجی کو لیموں کے رس میں سکھا کر ایک چمچ لیں۔
11۔ دل کی دھڑکن تیز ہو تو سبز الائچی چبائیں۔
12۔ کولیسٹرول کم کرنے کے لیے اسپغول کا چھلکا اور چکوترا استعمال کریں۔
13۔ جسم کی گرمی کے لیے خربوزہ اور پتلی لسی پیئیں۔
14۔ بیماری سے بچاؤ کے لیے لہسن کھائیں (قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے)۔
15۔ چہرہ صاف کرنے کے لیے لیموں اور شہد استعمال کریں۔
16۔ نہار منہ پودینے کے پتے چبائیں (رنگت کے لیے)۔
17۔ دمے کے لیے سہانجنا کے پتوں کی چٹنی استعمال کریں۔
18۔ رات کو منہ سے پانی آنے پر جامن کھائیں۔

27/03/2026

‏ایک جادوگر نے اپنی توبہ کے بعد ایک عجیب حقیقت بیان کی۔وہ کہتا ہے
میں جنات کو لوگوں پر جادو کرنے کے لیے بھیجا کرتا تھا۔ کچھ لوگ ایسے تھے جن پر جادو فوراً اثر کر جاتا، لیکن کچھ کے بارے میں جنات واپس آکر کہتے
ہم نے اس کی آواز سنی مگر اسے دیکھا نہیں۔
کچھ کے بارے میں وہ کہتے
ہم نے اسے دور سے دیکھا لیکن وہ ہماری نگاہوں سے غائب ہوگیا۔
اور کچھ کے پاس جا کر وہ یوں لوٹتے
ہمیں وہ کہیں نہیں ملا۔
پھر میں نے *مَرَدہ (طاقتور جنات)* کو بھیجا، مگر وہ بھی ناکام ہو کر پلٹ آتے اور کہتے
ہم نے اسے پایا ہی نہیں۔
آخرکار میں نے عفریتوں کو بھیجا، جو سب سے زیادہ قوی اور خطرناک جنات ہوتے ہیں، لیکن وہ بھی کہنے لگے
ہم نے مشرق و مغرب کی سرزمین چھان ماری، مگر اس شخص کو نہیں ڈھونڈ سکے۔
میں حیران ہو کر کہتا
وہ تو اپنے گھر یا اپنی دکان پر ہے، پھر تمہیں کیوں نہیں ملا؟
تو وہ جواب دیتے
ہم وہاں گئے مگر وہ ہمیں نظر نہیں آیا۔
اصل راز کیا ہے؟
جادوگر کہتا ہے
جب میں نے توبہ کی تو حقیقت کھلی کہ انسان ایک دوسرے سے اپنی تحصین (روحانی حفاظت)، ذکر اللہ، اور نماز کی پابندی میں مختلف ہوتے ہیں۔
جو لوگ بالکل حصار نہیں کرتے، ان کا شکار کرنا آسان ہوتا ہے۔
جو لوگ کبھی کرتے ہیں مگر غفلت یا نماز میں کوتاہی کرتے ہیں، ان کے بارے میں جنات کہتے ہم نے آواز تو سنی مگر دیکھ نہ سکے۔
اور جو لوگ ہمیشہ ذکر و اذکار اور نماز کے حصار میں رہتے ہیں،ان کے متعلق جنات کہتے
ہم نے پوری زمین چھان ماری مگر اسے نہ ڈھونڈ سکے۔
یہاں تک کہ اگر وہ ان کے بیچ رہتے ہوں تب بھی انہیں دکھائی نہیں دیتے۔
قرآن کی گواہی
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا*
(بنی اسرائیل: 45)
اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک چھپا ہوا پردہ حائل کر دیتے ہیں۔
اصل حفاظت تعویذ یا دنیاوی تدبیروں میں نہیں بلکہ
الله کی یاد،
قرآن کی تلاوت
اور نماز کی پابندی میں ہے۔
جو الله کے ذکر میں جیتا ہے، وہ شیطان اور اسکے لشکر کے لیے گویا غائب ہو جاتا ہے۔

25/03/2026

‏ایک بادشاہ تھا۔ اس کی چار بیویاں تھیں۔ وہ ان سے مختلف انداز میں محبت کرتا تھا۔

پہلی بیوی سب سے زیادہ قریب تھی۔ اس کے ساتھ وہ ہر وقت رہتا، ہر بات کرتا، ہر خوشی بانٹتا۔ وہ اس کے لیے سب کچھ تھی۔

دوسری بیوی سے بھی وہ محبت کرتا تھا، لیکن اتنی نہیں جتنی پہلی سے۔ وہ اس کے ساتھ بھی وقت گزارتا، لیکن کبھی کبھار۔

تیسری بیوی کو وہ کبھی کبھی یاد کرتا۔ اس سے اس کی ملاقات کم ہوتی تھی، لیکن وہ اس کی خوبصورتی پر فخر کرتا تھا۔

چوتھی بیوی سب سے زیادہ دور تھی۔ وہ اس پر توجہ نہیں دیتا تھا۔ وہ اس کے بارے میں سوچتا بھی کم تھا۔ لیکن وہ بیوی بہت وفادار تھی۔ وہ ہر کام کرتی، ہر تکلیف سہتی، اور کبھی شکایت نہیں کرتی۔

ایک دن بادشاہ بیمار ہو گیا۔ وہ مرنے لگا۔ اس نے اپنی سب سے پیاری بیوی پہلی بیوی کو بلایا اور کہا: "میں مر رہا ہوں۔ کیا تم میرے ساتھ چلو گی؟ میں تمہیں سب سے زیادہ چاہتا ہوں۔"

پہلی بیوی نے کہا: "نہیں۔ میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی۔ جب تم مر جاؤ گے، میں دوسری شادی کر لوں گی۔"

بادشاہ کا دل ٹوٹ گیا۔ اس نے دوسری بیوی کو بلایا۔ "تم میرے ساتھ چلو گی؟ میں نے تم سے بھی محبت کی ہے۔"

دوسری بیوی نے کہا: "نہیں۔ میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی۔ تمہاری موت کے بعد لوگ میری عزت کریں گے، مجھے خراج دیں گے۔ میں یہیں رہوں گی۔"

بادشاہ نے تیسری بیوی کو بلایا۔ "تم میرے ساتھ چلو گی؟"

تیسری بیوی نے کہا: "میں تمہارے ساتھ صرف قبر تک آؤں گی۔ وہاں تمہیں دفن کروں گی، روؤں گی، پھر واپس آ جاؤں گی۔"

بادشاہ بہت اداس ہوا۔ اس نے سوچا کہ اب کون اس کے ساتھ جائے گا؟

اتنے میں ایک آواز آئی چوتھی بیوی کی، جسے اس نے کبھی یاد نہیں کیا تھا، جس پر اس نے کبھی توجہ نہیں دی تھی۔

وہ بولی: "بادشاہ! میں تمہارے ساتھ چلوں گی۔ جہاں تم جاؤ گے، میں وہاں رہوں گی۔ میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گی۔"

بادشاہ حیران ہوا۔ اس نے کہا: "تم؟ میں نے تو تمہیں کبھی اہمیت نہیں دی۔ تم نے میرے لیے کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔ اب تم میرے ساتھ چلو گی؟"

چوتھی بیوی نے کہا: "میں ہمیشہ تمہارے ساتھ تھی۔ تم نے مجھے دیکھا نہیں۔ لیکن میں کبھی نہیں گئی۔ اب بھی نہیں جاؤں گی۔"

بادشاہ کو سمجھ آ گیا۔ اس کی چار بیویاں اس کی زندگی کی چار چیزوں کی علامت تھیں۔

پہلی بیوی اس کا جسم۔ جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرتا تھا۔ جسے وہ سنوارتا، سجاتا، آرام دیتا۔ لیکن جب وہ مرے گا، یہ جسم اسے چھوڑ جائے گا۔

دوسری بیوی اس کی دولت اور شہرت۔ جس پر وہ فخر کرتا تھا، جسے لوگ دیکھتے تھے۔ لیکن جب وہ مرے گا، یہ سب کسی اور کے پاس چلا جائے گا۔

تیسری بیوی اس کے رشتہ دار اور دوست۔ جو اس کے ساتھ قبر تک آئیں گے، روئیں گے، پھر واپس چلے جائیں گے۔

چوتھی بیوی اس کے اعمال، اس کی نیکیاں، اس کا سچ۔ جسے اس نے کبھی اہمیت نہیں دی، جس کے بارے میں اس نے کبھی نہیں سوچا۔ لیکن وہی اس کے ساتھ جائے گی۔ وہی اس کا سچا ساتھی ہے۔

اخلاقی سبق:

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی میں ہم کس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ہم اپنے جسم کو سنوارتے ہیں، دولت جمع کرتے ہیں، رشتے بناتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ عارضی ہے۔ سچا ساتھی ہمارے اعمال ہیں جو ہم نے کیا، جو ہم نے دیا، جو ہم نے دوسروں کے لیے کیا۔
وہ اعمال ہی ہمارے ساتھ جائیں گے۔ باقی سب یہیں رہ جائے گا۔

حوالہ:

یہ کہانی مولانا جلال الدین رومی کی "مثنوی معنوی" میں موجود ہے۔ یہ صوفیانہ تعلیمات کا حصہ ہے جس میں انسان کو اس کی حقیقی ترجیحات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس کہانی کو بعد میں کئی زبانوں میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا۔ یہ نسخہ رومی کی تعلیمات پر مبنی ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Dubai?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Dubai