ilm-e-islam

ilm-e-islam

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ilm-e-islam, Tutor/Teacher, 17a, Al Garhoud.

22/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

“جس شخص نے یہ کہا:
رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَّسُولًا

“میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی۔”

حوالہ: سنن ابو داود، حدیث نمبر: 1529

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایمان کے بنیادی اقرار اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہونے کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی مومن اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول مان کر اس پر مطمئن اور راضی ہو، یہ صرف زبان سے الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ دل میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اسلام کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت پر کامل یقین رکھنے کا تقاضا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اعتماد اور اسلام کی تعلیمات پر ثابت قدم رہنا چاہیے، مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو زندگی میں کوئی مشکل یا آزمائش پیش آئے تو وہ اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرنے کے بجائے یہ یقین رکھے کہ میرا رب میرے لیے بہتر جانتا ہے اور مجھے اس کے فیصلے پر راضی رہنا ہے، یہ حدیث ہمیں ایمان کی مٹھاس اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس کلمے کو سمجھ کر دل سے پڑھیں اور اپنی عملی زندگی کو بھی اللہ تعالیٰ کی رضا، اسلام کی تعلیمات اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔

21/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر دو یا چار رکعتیں پڑھے، ان میں ذکر اور خشوع اچھی طرح کرے، پھر اللہ عزوجل سے بخشش مانگے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے۔”

حوالہ: مسند احمد، حدیث نمبر: 27546

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اچھی طرح وضو کرنے، خشوع اور اللہ کے ذکر کے ساتھ نماز ادا کرنے اور پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنے کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی بندہ جب مکمل توجہ اور اہتمام کے ساتھ وضو کرتا ہے، پھر دو یا چار رکعتیں اس طرح ادا کرتا ہے کہ اس کا دل اللہ کی طرف متوجہ ہو اور وہ نماز میں ذکر اور خشوع کا خیال رکھے، پھر اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ وضو اور نماز صرف ظاہری اعمال نہیں بلکہ ان کے ساتھ دل کی حاضری، خشوع اور اللہ کی یاد بھی بہت اہم ہے، مثال کے طور پر اگر کسی شخص سے کوئی گناہ یا غلطی ہوجائے اور وہ سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کرے، اچھی طرح وضو کرکے دو یا چار رکعتیں ادا کرے اور پھر عاجزی کے ساتھ اللہ سے مغفرت طلب کرے تو یہ عمل اس کے لیے اللہ کی بخشش حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، یہ حدیث ہمیں اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور مغفرت کی امید دلاتی ہے اور سکھاتی ہے کہ بندے کو اپنی کوتاہیوں کے بعد مایوس ہونے کے بجائے توبہ، نماز اور استغفار کے ذریعے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

20/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"صدقہ پروردگار کے غضب کو بجھاتا ہے اور بری موت کو دفع کرتا ہے۔"

حوالہ: جامع الترمذی، حدیث نمبر: 664

یہ حدیث صدقہ کی عظیم فضیلت بیان کرتی ہے۔ صدقہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے، محتاجوں کی مدد کرنے اور مصیبتوں سے حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔ صدقہ صرف بڑی رقم دینے کا نام نہیں؛ اپنی استطاعت کے مطابق تھوڑا سا مال، کھانا یا کسی ضرورت مند کی مدد بھی نیکی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ دکھاوے سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ صدقہ کرے اور یقین رکھے کہ اصل حفاظت اور شفا اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ جو مال اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیا جاتا ہے، وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے ہاں اجر کی صورت میں محفوظ ہو جاتا ہے۔

18/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، اس کے جسم سے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں۔"

حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 282

یہ حدیث وضو کی عظیم فضیلت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو بیان کرتی ہے۔ وضو صرف نماز کی ظاہری تیاری نہیں بلکہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے جسم اور روح کو پاکیزگی کے احساس سے جوڑتا ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے اخلاص کے ساتھ وضو کرتا ہے تو اس کے سابقہ گناہوں کی معافی کا سبب بنتا ہے۔ اسی لیے وضو کو محض ایک معمول نہ سمجھیں بلکہ ہر بار وضو کرتے ہوئے دل میں یہ نیت رکھیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پانی کے چند قطرے ظاہری پاکیزگی دیتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بندے کے گناہوں کو معاف کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

15/08/2026

جنت کی تمام نعمتیں پانے والا شخص

13/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"ہر تسبیح (سبحان اللہ کہنا) صدقہ ہے، ہر تکبیر (اللہ اکبر کہنا) صدقہ ہے، ہر تحمید (الحمدللہ کہنا) صدقہ ہے، ہر تہلیل (لا إلہ إلا اللہ کہنا) صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔"

حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1006

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ صدقہ صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے نیکی کے بہت سے ایسے راستے رکھے ہیں جن کے لیے مال کی ضرورت نہیں۔ "سبحان اللہ" کہنا، "الحمدللہ" کہنا، "اللہ اکبر" کہنا اور "لا إلہ إلا اللہ" کہنا بھی صدقہ ہے۔ اسی طرح کسی کو نیکی کی ترغیب دینا، برائی سے روکنا اور بھلائی کی طرف رہنمائی کرنا بھی اجر کا باعث ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کے پاس صدقہ کرنے کے لیے مال نہ ہو تو وہ اللہ کا ذکر کر سکتا ہے، کسی پریشان شخص کو تسلی دے سکتا ہے یا کسی کو نماز اور نیکی کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مومن کے لیے ہر دن بے شمار نیکیاں کمانے کے دروازے کھلے ہیں۔

12/08/2026

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"مدینہ لوگوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کی میل کو نکال دیتی ہے۔"

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1871 | صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1382

یہ حدیثِ مبارک مدینہ منورہ کی عظمت اور اس کی خاص تاثیر کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کو ایسی بھٹی سے تشبیہ دی جو لوہے کی میل اور کھوٹ کو الگ کرکے اسے پاکیزہ بنا دیتی ہے۔ اسی طرح مدینہ منورہ کی حرمت، آزمائش اور ماحول کے ذریعے مخلص اور ثابت قدم لوگ نمایاں ہوتے ہیں جبکہ وہ لوگ جو اس مقدس شہر کی نسبت اور دین کے تقاضوں کے ساتھ مخلص نہ ہوں، وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ مدینہ منورہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت، زندگی اور مسجدِ نبوی ﷺ کی نسبت رکھنے والی مقدس سرزمین ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس شہر کی محبت، ادب اور حاضری نصیب فرمائے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر اخلاص کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

10/08/2026

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

**"جو شخص اللہ کی رضا کے لیے روئے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے بچا لے گا۔"**

**حوالہ:** جامع الترمذی، حدیث نمبر: 1633

اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی محبت میں بہنے والا آنسو بہت قیمتی ہے۔ دنیا میں انسان مختلف وجوہات سے روتا ہے، لیکن وہ آنسو جو اپنے رب کی عظمت، اپنے گناہوں پر ندامت، آخرت کی فکر اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں بہیں، اللہ کے ہاں بڑی قدر رکھتے ہیں۔ جب بندہ تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے اللہ سے معافی مانگتا ہے اور اس کا دل نرم ہو کر آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں تو یہ اس کے ایمان کی کیفیت کی علامت ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے زندہ رکھیں، اپنے گناہوں پر نادم ہوں اور اس کی رحمت و مغفرت کی امید کے ساتھ اس کے سامنے جھکیں۔

09/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"کیا میں تمہیں جنت والوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر کمزور اور عاجز سمجھا جانے والا شخص، اگر وہ اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم پوری فرما دے۔ اور کیا میں تمہیں جہنم والوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر سخت مزاج، مال جمع کرنے والا اور متکبر شخص۔"

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4918

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظاہری حیثیت اور اصل کامیابی کے درمیان فرق سمجھایا ہے۔ بعض لوگ دنیا کی نظر میں کمزور، سادہ یا بے حیثیت سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کے دل اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی، اخلاص اور تقویٰ سے بھرے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر و منزلت بہت بلند ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس سخت مزاجی، مال کی حرص اور تکبر انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کرنے والے اوصاف ہیں۔ مثال کے طور پر کسی غریب یا کمزور شخص کو اس کی ظاہری حالت کی وجہ سے حقیر سمجھنے کے بجائے اس کے دل اور کردار کو دیکھنا چاہیے، جبکہ اپنے مال اور حیثیت پر غرور کرنے سے بچنا چاہیے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل معیار مال، طاقت اور ظاہری مقام نہیں بلکہ ایمان، عاجزی، نرم مزاجی اور تقویٰ ہے۔

08/08/2026

جنت کا عہد پانے والا خوش نصیب شخص

Want your school to be the top-listed School/college in Al Garhoud?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


17a
Al Garhoud
00971