29/04/2026
URDU Stories
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from URDU Stories, Education, abu dhabi, Abu Dhabi.
کیا آپ دل کو چھو لینے والی، دلوں کی تسکین، روح کی غذا،ہدایت کا نور،اور ایمان کو تازہ کرنے والی اور زندگی کو بدلنے والی حقائق پر مبنی اسلامی اور تاریخی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں؟
یہ پیج آپ کے لیے ہی ہے۔
29/04/2026
*سوال :- وہ کون سے نبی علیہ السلام ہیں جنہیں ذوالنون کہا جاتا ہے ؟* 🤔
درست جواب یہ ہے: 🔊
🎊*حضرتِ سیِّدُنا یونس علیہ السلام ہے۔*🎊
حضرتِ سیِّدُنا یونس علیہ السلام کو ایک بڑی مچھلی نگل گئی۔ 🐳
آپ کو کئی اندھیروں کا سامنا تھا!!
1️⃣ رات کا اندھیرا 🌙
2️⃣ دریا کا اندھیرا 🌊
3️⃣ مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا ⚫️
اِن اندھیروں میں آپ نے یہ دعائیہ کلمات پڑھے👇
لَا اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
(ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہر عیب سے پاک ہے، بے شک مجھ سے بے جا ہوا)۔
اس آیتِ کریمہ کی بدولت اللہ نے آپ کو عاشُورا یعنی 10 مُحَرَّمُ الْحَرَام کو... کئی دن مچھلی کے پیٹ میں رکھنے کے بعد آزادی عطا فرمائی۔
*مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ علیہ السَّلام کو ”ذُوْالنُّوْن“بھی کہا جاتا ہے۔*
تمہیں شکستہ حال کیوں دیکھ رہا ہوں؟
نبی کریم ﷺ کی ملاقات حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: "اے جابر، کیا بات ہے کہ میں تمہیں شکستہ حال (غم زدہ) دیکھ رہا ہوں؟"
انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرے والد احد کے دن شہید ہو گئے اور پیچھے (بڑی) عیال اور قرض چھوڑ گئے ہیں!"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ تمہارے والد سے ملا؟"
جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ نے کبھی کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے، لیکن تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے روبرو کلام فرمایا اور کہا: اے میرے بندے! مجھ سے تمنا کر، میں تجھے عطا کروں گا!"
انہوں نے عرض کیا: "اے میرے رب! (تمنا یہ ہے کہ) تو مجھے دوبارہ زندگی دے تاکہ میں تیری راہ میں دوسری بار شہید کیا جاؤں!"
رب عزوجل نے فرمایا: "میری طرف سے یہ بات پہلے ہی طے ہو چکی ہے کہ وہ (دنیا کی طرف) لوٹ کر نہیں جائیں گے!"
پھر اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ سے ملے اور ان سے فرمایا: "جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے، تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے قالب میں رکھ دیا، جو جنت کی نہروں پر اترتے ہیں، اس کے پھل کھاتے ہیں اور عرش کے سائے میں لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ جب انہوں نے اپنے کھانے، پینے اور آرام گاہ کی پاکیزگی اور عمدگی کو دیکھا، تو کہنے لگے: ہمارے بھائیوں کو ہماری طرف سے کون یہ خبر پہنچائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور ہمیں رزق دیا جا رہا ہے، تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ کے وقت بزدلی نہ دکھائیں؟"
تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: "میں تمہاری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچاتا ہوں!"
تب اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی:
وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَۙ فَرِحِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ۙ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمۡۙ اَ لَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَۘ
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں ہرگز مردہ گمان نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے، وہ اس پر خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا...
پہلا سبق:
غزوہ احد کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ: اس امت کے لیے نصرت (کامیابی) صرف اپنے رب کی اطاعت اور اپنے نبی ﷺ کی سنت پر چلنے میں ہے! اس کے علاوہ سب قوتوں کا ٹکراؤ اور لوہے کا لوہے سے مقابلہ ہے؛ جس کے پاس نصرت کے اسباب زیادہ ہوں گے، جیت اسی کی ہوگی!
اور ایسی شکست جو تمہیں توڑ دے اور تمہارے اندر کے نقص کی جگہ دکھا دے، اس فتح سے بہتر ہے جو تمہیں سرکش بنا دے اور تم یہ سمجھنے لگو کہ تم اپنے معاملے کے خود مالک اور خود ہی تدبیر کرنے والے ہو!
دوسرا سبق:
جدائی تکلیف دہ ہے اور اپنوں کو کھونا دکھ دیتا ہے۔ اگر تم سے کوئی کہے کہ کسی شخص کا تمہاری دنیا سے چلے جانا اسے خالی کر دیتا ہے، تو اس کا یقین کر لینا!
جابر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی وفات پر ٹوٹ چکے تھے؛ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی جگہ کوئی دوسرا نہیں بھر سکتا!
اور نبی کریم ﷺ اپنے چچا (سید الشہداء) حضرت حمزہ کی وفات پر رنجیدہ تھے۔ انسان کے لیے اپنے پیاروں کی جدائی کی عادت ڈالنا گراں گزرتا ہے، اور اس کا ایمان کے درجے سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہی یہ اللہ کی قضا و قدر پر راضی ہونے کے منافی ہے۔ ہم انسان ہیں، اور ایمان کی جتنی بھی طاقت ہمارے پاس ہو، ہم انسان ہی رہیں گے۔ ایمان نفس کو ادب سکھاتا ہے مگر اس کی فطرت کو تبدیل نہیں کرتا۔ اور پھر نبی کریم ﷺ کے جوتے کے تسمے کے برابر بھی کس کا ایمان ہو سکتا ہے؟ حالانکہ حضرت خدیجہ کی جدائی نے آپ ﷺ کو رنجیدہ کیا، بیٹے ابراہیم کی موت پر آپ ﷺ روئے، اور چچا حمزہ کے بچھڑنے نے آپ ﷺ کا دل چھلنی کر دیا۔ ہم ایمان کی کمی کی وجہ سے نہیں روتے، بلکہ درد کی شدت کی وجہ سے روتے ہیں!
تیسرا سبق:
"اے جابر، میں تمہیں شکستہ حال کیوں دیکھ رہا ہوں؟"
یہ کتنا شیریں جملہ ہے اور کتنے میٹھے الفاظ ہیں!
لوگ عموماً یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ان کے مسائل حل کرے، بلکہ وہ ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کے دکھ کو محسوس کرنے والا ہو!
تم اپنے اس دوست کو اس کی ماں واپس نہیں لا کر دے سکتے جسے اس نے کھو دیا، لیکن تم اس کے غم میں اس کے لیے ایک "کاندھا" بن سکتے ہو! تم اپنی اس بہن کے شوہر کا متبادل نہیں بن سکتے جس کا شوہر انتقال کر گیا، لیکن تم اسے یہ احساس دلا سکتے ہو کہ وہ اکیلی نہیں ہے!
تم کسی کٹے ہوئے پاؤں والے کو پاؤں واپس نہیں دے سکتے، نہ گردے کے مریض کو گردہ لگا سکتے ہو، اور شاید تم کسی بے روزگار کو نوکری بھی نہ دلوا سکو، لیکن تم آسانی سے لوگوں کو یہ دکھا سکتے ہو کہ تم "فکر مند" ہو اور تمہیں ان کا احساس ہے!
چوتھا سبق
"اے جابر، میں تمہیں شکستہ حال کیوں دیکھ رہا ہوں؟"
اپنے دل کا خاص خیال رکھو کیونکہ یہ تمہارے خدوخال (چہرے) پر ظاہر ہوتا ہے!
تمہیں وہ چیزیں نہیں ماریں گی جنہیں تم کھاتے ہو، بلکہ وہ چیزیں مار ڈالیں گی جو تمہیں (اندر ہی اندر) کھا رہی ہیں!
تمام برے جذبات اور احساسات تم پر اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ میرا یقین کرو، ہم گزرتے ہوئے دنوں سے اتنا بوڑھے نہیں ہوتے جتنا گزرتے ہوئے حادثات سے ہوتے ہیں۔ پریشانی کی ایک رات اپنے اثر میں سکون کے ایک سال کے برابر ہوتی ہے! اور تناؤ والے ماحول میں کام کا ایک سال، پرسکون ماحول کے دس سالوں کے برابر ہوتا ہے!
پس اگر تم کسی شخص کے چہرے کے اثرات اس کی عمر سے کہیں زیادہ بڑے دیکھو تو حیران نہ ہونا؛ یہ دنوں کا اثر ہے، کبھی کبھی دن ہمیں بڑی بے رحمی سے کچل دیتے ہیں!
پانچواں سبق:
"اے جابر، میں تمہیں شکستہ حال کیوں دیکھ رہا ہوں؟"
معاملہ فہم اور باریک بین بنو! لوگ اپنی شکست اور دکھ بیان کرنے میں ہچکچاہٹ اور گھٹن محسوس کرتے ہیں۔ ہر ضرورت مند تم سے یہ نہیں کہے گا کہ "میں ضرورت مند ہوں"، اور ہر انسان اپنا دکھ سنانے کی قدرت نہیں رکھتا، بنیادی طور پر کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ بیان نہیں کر سکتے! کوئی شخص خود سے آ کر اپنا دکھ تمہارے سامنے نہیں رکھے گا، تمہیں ان چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کو محسوس کرنا ہوگا، کیونکہ ان کے پیچھے بڑے بڑے واقعات ہوتے ہیں! وہ ہنسی جو اچانک غائب ہوگئی، اس کے پیچھے کوئی ایسا دکھ ہے جس پر دروازہ بند کر کے اسے اندر ہی قید کر لیا گیا ہے۔ وہ مستقل باہر جانا اور سیر سپاٹا جو اچانک رک گیا، اس کے پیچھے اچانک آنے والی کوئی مالی تنگی ہو سکتی ہے، یا کوئی ایسا ازدواجی اختلاف جو بند گلی میں پہنچ گیا ہو، یا اس نوکری کا چھٹ جانا جو خوشحال زندگی کی ضمانت تھی، یا کوئی ایسی بیماری جو اچانک آپہنچی اور دنیا کی تمام لذتوں کو ختم کر دیا۔ تم سے یہ مطالبہ نہیں کہ تم لوگوں کے چھپے ہوئے حالات کی ٹوہ لگاؤ، لیکن جو چیزیں تمہارے سامنے ظاہر ہو رہی ہیں انہیں نظر انداز نہ کرو، ہو سکتا ہے اللہ نے ان کا حل تمہارے ہاتھ میں رکھا ہو۔ اور اگر تمہارے پاس حل نہ بھی ہو، تو لوگ بسا اوقات حل نہیں چاہتے، بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اپنے اردگرد کوئی ایسا پائیں جو ان کی بات سنے اور
ان کا خیال رکھے!
اگر یہاں تک پڑھی لیا ہو تو کمنٹ میں لازمی درود شریف لکھے
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ❣️ ❣️
میں ٹیکسی میں بیٹھا 🙂💁♂️
تو بوڑھے ڈرائیور نے پوچھا :
پُتر، اکیلے ھو...؟
میں نے آہ بھری اور کہا :
جی بابا جی، کافی عرصے سے اکیلا ھوں...🥹💔
بوڑھا ڈرائیور بولا :
" بیٹھ جاؤ، دو تین سواریاں اور آ جائیں پھر چلتے ھیں "😝
*🌹جمعہ کے دن کی فضیلت 🌹*
1️⃣جمعہ تمام دنوں کا سردار ہے۔
2️⃣جمعہ کے روز مرنے والے سے قبر میں سوالات نہیں کئے جاتے ہیں۔
3️⃣روز جمعہ میں ایک ایسا وقت ہے جس میں دعا رد نہیں کی جاتی ہے۔
4️⃣ جمعہ کے دن ایک نیکی کا ثواب ستر گناہ زیادہ ملتا ہے جبکہ اور دنوں میں ایک نیکی کرنے پر صرف دس نیکیاں ملتی ہے۔
5️⃣جمعہ کے دن ہر گھنٹہ میں چھ لاکھ مسلمان عذاب نار سے نجات پاتے ہیں۔ جس پر جہنم واجب ہو چکی ہوتی ہے۔
6️⃣جمعہ کی نماز غریبوں کا حج ہے۔
7️⃣جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے گا، اللہ پاک اسے فتنۂ قبر سے بچالے گا
*فرمان مصطفے ﷺ*
جمعہ کے دن مجھ پر درودِ پاک کی کثرت کرو کہ میری اُمّت کا دُرُود ہر جمعہ کو مجھ پرپیش کیا جاتا ہے،ان میں سے جو سب سے زیادہ درودِ پاک پڑھنے والا ہوگا وہ میرے زیادہ قریب ہوگا۔۔
آپ بھی پڑھ لیجیئے 👇
*صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا ﷺ*
* *ثابت ہوا جمعہ کے دن ہر کھڑی بڑی قیمتی ہے اس لئے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے اسے اور دنوں کی طرح غفلت میں ہرگز نہیں گزارنی چاہئے۔*
جو شخص *زندگی* کے *غموں اور فکروں* کا *بوجھ* اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوتا ہے،
وہ *غفلت اور نیند* سے *نا آشنا* ہو جاتا ہے۔ نہ وہ عارضی سکون پر قناعت کرتا ہے
اور نہ ہی *دنیاوی خوشیوں* میں کھو جاتا ہے۔ جب کبھی اس کے *قدم ڈگمگانے* لگتے ہیں،
اس کی *ذمہ داریوں* اور *فکر کا بوجھ* اسے پھر سے *جھنجھوڑ* دیتا ہے،
اور وہ *فولادی عزم* کے ساتھ *دوبارہ اٹھ کھڑا* ہوتا ہے۔
وہ ہر لمحہ گردشِ زمانہ، گزرتے دنوں اور موت کی حقیقت کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھتا ہے۔
بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں 24 مئی تک توسیع، نوٹم جاری
ڈومیسائل سسٹم کو مکمل ڈیجیٹل اور پیپر لیس بنانے کا فیصلہ، ڈومیسائل اب آن لائن اپلائی اور گھر بیٹھے موصول ہوگا
پنجاب کابینہ نے ڈومیسائل فیس میں 175 فیصد اضافے کی منظوری دے دی
ڈومیسائل فیس 200 روپے سے بڑھا کر 550 روپے مقرر کرنے کی منظوری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی پر حملہ کرنے کا حکم
چھوٹی کشتیاں ہوں یا بڑی، اب کسی قسم کی ہچکچاہٹ برداشت نہیں کی جائے گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ.
تب تک ایران اپنا وفد پاکستان نہیں بھیجے گا جب تک امریکہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، ایران کا واضح پیغام
بڑا اسکینڈل بےنقاب
پاکستان کی مشہور بسکٹ بنانے والی کمپنی کے خلاف 6 ارب ٹیکس چوری کا مقدمہ درج، بینک افسران ملوث پائے گئے
اخلاص نیت کا ثمرہ 👉😳😘
ایک دوست نے ایک واقعہ سنایا کہ
میں اور میرا دوست سعودی شہر
بریدہ میں تجارت کرتے تھے ایک دن میں
جمعہ کی نماز کے لیے مسجد میں گیا تو نماز
جمعہ کے بعد جنازہ کا اعلان ہوا نماز جنازہ ادا کی گئی
لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کردیا کہ یہ
جنازہ کس کا ہے پتہ چلا کہ یہ جنازہ میرے ہی
دوست سعود کا ہے جو گزشتہ رات دل کا دورہ پڑنے
سے انتقال کر گیا تھا میں یہ سن کر انتہائی صدمہ پہنچا۔
یہ 1415ھ یعنی کوئی 22 برس پہلے کی بات ہے اس وقت ابھی موبائل فون عام نہیں ہوا تھا۔ چند مہینے گزرنے کے بعد وہاں کے ایک دکاندار نے مجھ سے بات کی کہ مرحوم سعود کے ذمے میرے 3لاکھ ریال ہیں تو آپ میرے ساتھ چلیں ہم جا کر اس کے بیٹوں سے بات کریں۔
اور میرے علم میں یہ بات پہلے سے تھی کہ سعود کے ذمہ یہ قرض ہے چنانچہ ہم مرحوم کے بیٹوں سے جاکر ملے بات چیت ہوئی تو انہوں نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے رقم لوٹانے سے صاف انکار کردیا اور کہا کہ ہمارے باپ نے تو صرف 6 لاکھ ریال چھوڑا ہے اگر 3 لاکھ ہم آپ کو دیتے ہیں تو پھر ہمارے پاس کیا بچے گا۔
جبکہ وہ قرض باہم اعتمادی ہوا تھا لکھت پڑھت نہ ہوئی تھی چنانچہ ہم واپس آگئے- یوں وقت گزرتا گیا لیکن ہر وقت مجھے سعود کی یاد ستاتی رہی یہی سوچتا رہا کہ ناجانے قرض نہیں چکانے کی وجہ سے قبر میں اس کے ساتھ کیا بیت رہی ہوگی۔
ایک دن میں نے اپنے پیارے دوست کا قرض اتارنے کا عزم کر لیا، اس ارادے کے بعد پھر مجھے دو دن تک نیند نہیں آئی جب بھی میں سونے کے لئے آنکھیں بند کرتا تو سعود کا مسکراتا چہرا میرے سامنے آجاتا گویا وہ میری مدد کا منتظر ہو ۔
تیسرے دن میں نے اپنے عزم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنی دکان سامان سمیت فروخت کر دی اور دیگر جمع پونجی اکٹھی کی تو میرے پاس 4 لاکھ پچاس ہزار ریال جمع ہو گئے تو فوراً 3 لاکھ ریال سے دوست کا قرض ادا کیا جس سے مجھے دلی سکون ملا ۔
اس ادائیگی کے 2 ہفتے بعد وہی شخص جس کو میں نے 3 لاکھ ادا کئے تھے میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے اپنا سب کچھ بیچ کر یہ پیمنٹ کی ہے لہذا میں 1 لاکھ ریال سے دستبردار ہوتا ہوں، یہ کہہ کر اس نے 1 لاکھ ریال مجھے واپس کر دئیے اور مارکیٹ میں دوسرے تاجروں کے ساتھ بھی اس واقعہ کا تذکرہ کیا کہ مخلص دوست نے کمال کی مثال قائم کر دی ہے۔
چند دن گزرے کہ ایک تاجر کا فون آیا اس نے پیشکش کی کہ میرے پاس دو دکانوں پر مشتمل ایک سٹور ہے جو میں آپ کو بلا معاوضہ دینا چاہتا ہوں میں نے اس کی پیشکش کو قبول کیا مزدور لگا کر دکانوں کی صفائی کی۔ ابھی پوری ہوئی تھی کہ اسی دوران سامان سے لدا ہوا ایک بڑا ٹرک دکانوں کے سامنے آ کر رکا جس میں سے ایک نوجوان نیچے اترا سلام کے بعد کہنے لگا کہ میں فلاں تاجر کا بیٹا ہوں یہ سامان میرے ابا جان نے بھیجا ہے اور کہا ہے کہ سامان بیچ کر اسکی نصف قیمت آپ ہمیں لوٹا دینا اور باقی آدھا مال ہماری طرف سے گفٹ ہے اور آئندہ جتنے مال کی ضرورت ہو ہم سے ادھار لے کر فروخت کر کے پیمنٹ کر دیا کریں۔
وہ لوگ جنہیں میں جانتا نہیں تھا چاروں طرف سے میرے ساتھ تعاون کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور تھوڑے ہی عرصے میں میرا بزنس پہلے سے دگنا ہوگیا المختصر یہ کہ 1436ھ کے رمضان المبارک میں میں نے 30 لاکھ ریال اپنے مال کی زکٰوة ادا کی ہے يہ كوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے۔
آپﷺ کا فرمان کس قدر سچا ہے کہ : ’’اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں ہے
‘‘ [صحیح مسلم''، کتاب الذکر والدعاء۔۔۔ إلخ، الحدیث: 6853]
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شیئر کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. 😘
جزاک اللہ خیراً کثیرا 💝
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Abu Dhabi
Abu Dhabi
00000