All Pakistan Education News

All Pakistan Education News

Share

ہمارا مقصد لوگوں کو پاکستان میں ہونے والی تعلیمی سرگرم?

08/01/2026

آپ کی گردن روزانہ 22 سے 27 کلو وزن اٹھا رہی ہے — اور آپ کو احساس تک نہیں 💀
💭
انسان کے سر کا وزن تقریباً 5 کلو ہوتا ہے۔
قدرت نے گردن کو اس طرح بنایا ہے کہ جب سر سیدھا ہو تو یہ وزن آرام سے سنبھل جاتا ہے۔
💭
مسئلہ سر کے وزن میں نہیں،
مسئلہ سر کے جھکاؤ میں ہے۔
جیسے ہی ہم موبائل دیکھنے کیلئے سر آگے جھکاتے ہیں،
یہ پانچ کلو پانچ نہیں رہتا 😨
💭
سائنس کے مطابق:
تھوڑا جھکاؤ → 12 کلو
مزید جھکاؤ → 18 کلو
تقریباً 60° جھکاؤ پر → گردن، کندھوں اور ریڑھ کی ہڈی پر 22–27 کلو تک دباؤ ⚠️
💭
یہ دباؤ صرف ہڈیوں پر نہیں پڑتا۔
گردن کے پٹھے، نسیں، لیگامنٹس اور ریڑھ کی ہڈی کے نرم ڈسکس سب آہستہ آہستہ تھکنے لگتے ہیں 🩻
💭
اسی لیے:
گردن اکڑتی ہے 🧍‍♂️
سر درد رہتا ہے 🤕
کندھے بھاری لگتے ہیں 💪
ہاتھ سن ہونے لگتے ہیں ✋
💭
یہ سب اچانک نہیں ہوتا۔
یہ برسوں کی عادت کا نتیجہ ہوتا ہے۔
💭
اسمارٹ فون برا نہیں،
غلط استعمال برا ہے 📵
💭
ہم اسکرین میں اتنے گم ہو جاتے ہیں کہ اپنا جسم بھول جاتے ہیں۔
وقت گزر جاتا ہے اور گردن وہیں جھکی رہتی ہے 😔
💭
بچوں کے معاملے میں خطرہ زیادہ ہے 👶
گردن نازک
ریڑھ کی ہڈی مکمل مضبوط نہیں
عادت جلد پکی ہو جاتی ہے
💭
بچوں کو خاموش رکھنے کیلئے ان کے ہاتھ میں موبائل دینا آسان ضرور ہے، لیکن محفوظ نہیں۔
💭
حل آسان ہے:
موبائل آنکھوں کی سطح پر رکھیں 👀
وقفہ لے کر استعمال کریں ⏱️
گردن کو حرکت دیں 🤸‍♂️
بچوں کا اسکرین ٹائم محدود رکھیں ⛔
💭
کیونکہ گردن ایک ہی ملتی ہے
اور یہ چھوٹا سا آلہ اگر حد میں نہ رکھا جائے،
تو خاموشی سے زندگی کا سکون چرا لیتا ہے 💔

02/01/2026

یکم جنوری 2026 سے مینول اسٹامپ ختم !!

صوبائی حکومت خیبر پختنخواہ کی نوٹیفکیشن کے احکامات کی روشنی میں آج یعنی یکم جنوری 2026 سے مینول اسٹامپ ختم کردی گئی اور آج کے بعد اب صرف E اسٹامپ جاری ہوگا۔

لہذا عوام کی معلومات کےلیے عرض ہے کہ اپنے لین دین و کام کےلیے e اسٹامپ حاصل کریں اور مینول اسٹامپ سے پرہیز کریں کیونکہ قانونی طور پر مینول اسٹامپ ختم کردی گئی۔

30/12/2025

خیبر پختون خواہ PSRA کے ہدایات کے مطابق موسم سرما کی چھٹیوں کے دوران امتحان لینا ممنوع ہے

24/12/2025

کل ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی

24/12/2025

کل کی “Does God Exist” ڈیبیٹ میں سائنسی و انگریزی اصطلاحات کی وضاحت

کل کی بحث میں واضح طور پر جذبات یا نعرہ بازی سے ہٹ کر ایک علمی گفتگو ہوئی۔ اس میں کئی سائنسی، فلسفیانہ اور عقلی اصطلاحات استعمال ہوئیں، جنہیں سمجھے بغیر بحث کی اصل روح تک پہنچنا ممکن نہیں۔
ویسے تو کل کی بحث کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ مولوی انگریزی میں بھی جھکے جھڑا سکتا ہے، مگر پھر بھی مختصر وضاحت یہ ہے۔
دو طرح کی اصطلاحات زیرِ بحث آئیں:
1. سائنسی اصطلاحات
2. انگریزی اصطلاحات
سائنسی اصطلاحات

١۔ ہائپوتھیٹیکل / مفروضاتی (Hypothetical)
مطلب: ایسا تصور جسے وقتی طور پر مان لیا جائے، مگر اس کے حق میں کوئی قطعی، تجرباتی یا عقلی ثبوت موجود نہ ہو۔
یعنی: اگر ایسا مان لیا جائے تو پھر کیا ہوگا؟

٢۔ امکان / احتمال (Probability)
مطلب: کسی چیز کے ہونے یا نہ ہونے کا محض امکان ہو، نہ کہ یقینی حقیقت۔
امکان دلیل نہیں ہوتا۔
الاحْتِمَالُ لَا يَنْهَضُ دَلِيلًا
مثال کے طور پر کائنات کا خود بخود وجود میں آ جانا صرف ایک امکان ہو سکتا ہے، عقلی ثبوت نہیں۔ جیسا کہ ملحدین اس پر بگ بینگ کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔

٣۔ بگ بینگ نظریہ (Big Bang Theory)
مطلب: کائنات کے آغاز سے متعلق ایک سائنسی نظریہ۔ بگ بینگ کائنات کے کیسے (How) بننے کی وضاحت تو کر سکتا ہے، لیکن کیوں (Why) اور کس نے (Who) بنایا—اس کا جواب سائنس کے پاس صرف “احتمالات” کی صورت میں ہے، جبکہ ٹھوس عقلی دلیل ایک خالق کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

٤۔ اتفاق / بے ترتیبی (Randomness)
مطلب: کوئی ایسا عمل جو بغیر کسی منصوبہ بندی، قانون یا شعوری نظم کے ہو۔
نوٹ: انتہائی منظم اور متوازن کائنات محض اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔

٥۔ انتہائی دقیق ہم آہنگی (Fine-Tuning)
مطلب: کائنات کے قوانین، قوتوں اور پیمانوں کا اس حد تک ناپ تول کر ہونا کہ ان میں معمولی سا فرق بھی زندگی کے خاتمے کا سبب بن سکتا تھا۔
یہ دقیق ہم آہنگی اور منظم نظام کسی شعوری منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

٦۔ سبب اور مسبب (Cause & Effect)
مطلب: ہر اثر کے پیچھے کسی نہ کسی سبب کا ہونا۔ اگر کائنات ایک اثر ہے تو اس کا کوئی سبب بھی ضرور ہوگا۔ بغیر سبب کے مسبب ماننا عقل کے خلاف ہے۔

٧۔ انحصاری وجود / وجودِ عارضی (Contingency)
یہ وہ نکتہ ہے جس کا مفہوم جاوید اختر صاحب کو آخر تک سمجھ میں نہیں آیا؛ وہ ادھر سمجھ سکتے ہیں۔
مطلب: ایسی چیز جو اپنے وجود میں خود کفیل نہ ہو بلکہ کسی اور پر منحصر ہو۔
جیسے کائنات کا وجود—وہ خود قائم نہیں بلکہ کسی قائم کرنے والے کا محتاج ہے۔
مزید آسان مثال: کائنات کی ہر چیز محتاج ہے—ستارے ایٹموں کے محتاج ہیں، ایٹم توانائی کے محتاج ہیں، اور انسان آکسیجن اور روشنی کا محتاج ہے۔ کائنات کی کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو یہ کہہ سکے کہ “میں اپنے وجود کے لیے کسی کی محتاج نہیں ہوں۔”
عقلی نتیجہ: اگر کائنات کی ہر اکائی (Unit) کسی دوسری چیز کی محتاج ہے تو پوری کائنات مجموعی طور پر بھی محتاج (Contingent) ہے۔ جب پوری کائنات محتاج ثابت ہو گئی تو منطقی طور پر ایک ایسی ہستی کا ہونا لازم ہے جو:

خود محتاج نہ ہو (واجب الوجود)

جس نے اس محتاج کائنات کو وجود بخشا ہو
كُلُّ مُمْكِنٍ لَا بُدَّ لَهُ مِنْ مُوجِدٍ

٨۔ واجب الوجود / لازم ہستی (Necessary Being)
مطلب: ایسی ہستی جس کا ہونا لازمی ہو، جو کسی پر منحصر نہ ہو، اور جو سب کو وجود عطا کرے۔

٩۔ کائنات کی ابتدا (Universe Began to Exist)
مطلب: کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں تھی بلکہ ایک مخصوص لمحے میں وجود میں آئی۔
جدید سائنس بھی کائنات کے ازلی ہونے کی نفی کرتی ہے۔

١٠۔ قانون اور قانون بنانے والا (Law vs Law Maker)
مطلب: قانون خود بخود وجود میں نہیں آتا بلکہ اس کے پیچھے قانون ساز ہوتا ہے۔
مثال: کائناتی قوانین بھی کسی بااختیار اور باشعور قانون ساز ہستی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

١١۔ تجرباتی ثبوت (Empirical Evidence)
مطلب: وہ ثبوت جو مشاہدہ، تجربہ یا تجربہ گاہ (Laboratory) میں ثابت کیا جا سکے۔
ملحدین اکثر ہر چیز کے لیے تجرباتی ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ ہر حقیقت کا تجربہ ممکن نہیں۔

١٢۔ عقلیت / معقولیت (Rationality)
مطلب: بات کو عقل، منطق اور درست استدلال کی بنیاد پر پرکھنا۔
خدا کا تصور عقلیت کے خلاف نہیں بلکہ اس کا تقاضا ہے۔

١٣۔ ماورائے طبعیات حقیقت (Metaphysical Reality)
مطلب: وہ حقائق جو مادّی دنیا اور طبعی قوانین سے ماورا ہوں؛ یعنی وہ سچائیاں جو نظر نہ آئیں مگر عقل انہیں مانے۔
جیسے خدا اور روح—یہ حقائق ہیں مگر نظر سے ماورا۔

١٤۔ لامتناہی تسلسل (Infinite Regress)
مطلب: ہر سبب کے پیچھے ایک اور سبب مانتے چلے جانا بغیر کسی آخری نقطے کے۔
عقل اسے قبول نہیں کرتی؛ اسی لیے ایک پہلے سبب کو ماننا لازم ہوتا ہے۔
غیر متناہی سلسلہ عقل میں ناممکن ہے، اس لیے ایک خالقِ اول (First Cause) کا ہونا ضروری ہے۔

١٥۔ اوّل سبب (First Cause)
مطلب: وہ بنیادی سبب جس کے پیچھے کوئی اور سبب نہ ہو۔

١٦۔ خود قائم بالذات (Self-Existing)
مطلب: ایسی ہستی جو اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہ ہو؛ واجب الوجود، قائم بالذات۔

١٧۔ دلیلِ نظم (Design Argument)
مطلب: نظم، ترتیب اور مقصدیت سے خالق کے وجود پر استدلال۔
جہاں ڈیزائن ہو، وہاں ڈیزائنر بھی ہوتا ہے۔
مثال: اگر آپ ریگستان میں چلتے ہوئے ایک قیمتی گھڑی پائیں تو کیا یہ مانیں گے کہ ریت کے ذرات خود بخود جڑ کر یہ گھڑی بن گئے؟
جواب: ہرگز نہیں! گھڑی کی پیچیدہ ترتیب بتاتی ہے کہ اسے کسی گھڑی ساز نے بنایا ہے۔

١٨۔ شعور (Consciousness)
مطلب: سوچنے، سمجھنے، فیصلہ کرنے اور ادراک کی صلاحیت۔

١٩۔ معروضی حقیقت (Objective Truth)
مطلب: ایسی حقیقت جو انسان کے ماننے یا نہ ماننے سے تبدیل نہ ہو۔
جیسے خدا کا وجود—یہ رائے کا نہیں بلکہ حقیقت کا مسئلہ ہے۔

٢٠۔ ثبوت کی ذمہ داری (Burden of Proof)
مطلب: دعویٰ کرنے والے پر دلیل پیش کرنے کی ذمہ داری۔
خدا کا انکار بھی ایک دعویٰ ہے، جس کے لیے دلیل درکار ہے۔

٢١۔ الحادی پیش مفروضہ (Atheistic Presupposition)
مطلب: بحث شروع ہونے سے پہلے ہی خدا کے نہ ہونے کو مان لینا۔
یہ سائنسی نہیں بلکہ نظریاتی تعصب ہے۔

٢٢۔ فطرت پرستی (Naturalism)
مطلب: یہ مان لینا کہ حقیقت صرف وہی ہے جو مادّی اور طبعی ہو۔
یہ خود ایک فلسفیانہ نظریہ ہے، سائنسی حقیقت نہیں۔

٢٣۔ فلسفیانہ استدلال (Philosophical Argument)
مطلب: ایسا استدلال جو تجربے کے بجائے عقل و منطق پر قائم ہو۔
خدا کا وجود اسی دائرے میں زیرِ بحث آتا ہے۔

٢٤۔ علمیات (Epistemology)
مطلب: ہم کسی چیز کو جانتے کیسے ہیں؟ علم کے ذرائع کیا ہیں؟
صرف سائنس کو واحد ذریعہ ماننا خود غیر سائنسی دعویٰ ہے۔

انگریزی کی اصطلاحات

Assumption — بغیر دلیل کے مان لیا گیا قیاس
Claim — دعویٰ، جسے ثابت کرنا ضروری ہو
Evidence — واضح اور قابلِ قبول ثبوت
Logical Fallacy — ایسی منطقی غلطی جو بظاہر درست لگے مگر حقیقت میں فاسد ہو
Scientific Limitation — سائنس کی وہ حد جہاں وہ خاموش ہو جاتی ہے
Observable — جو تجربے یا آلات سے ثابت ہو سکے
Unobservable — جو براہِ راست مشاہدے میں نہ آ سکے
Metaphysics — طبعی دنیا سے ماورا حقائق کا مطالعہ
Rational Argument — عقل و منطق پر قائم استدلال

Inference — دلیل سے نکالا گیا منطقی نتیجہ
Premise — استدلال کی بنیاد، وہ بات جس پر پوری دلیل کھڑی ہو
Conclusion — دلائل کے بعد سامنے آنے والا حتمی نتیجہ
Hypothesis — ابتدائی مفروضہ جسے جانچ کے لیے پیش کیا جائے
Theory — شواہد پر مبنی منظم توضیح (محض خیال نہیں)
Fact — ثابت شدہ حقیقت جس سے انکار ممکن نہ ہو
Correlation — دو چیزوں کا باہم تعلق؛ لازمی نہیں کہ سبب ہو
Causation — ایک چیز کا دوسری کا سبب ہونا
Verification — کسی بات کی تصدیق یا جانچ
Falsification — کسی دعوے کو غلط ثابت کرنے کی صلاحیت
Assumption بغیر دلیل کے مانا جاتا ہے۔
Empiricism — علم کو صرف تجربے تک محدود ماننے کا نظریہ
Materialism — حقیقت کو صرف مادّے تک محدود سمجھنا
Determinism — ہر چیز کو لازمی اسباب کے تحت ماننا
Free Will — انسان کی اختیار و ارادہ رکھنے کی صلاحیت
Objective Reality — ایسی حقیقت جو انسانی رائے سے متاثر نہ ہو
Subjective Opinion — ذاتی رائے جو فرد کے احساس پر مبنی ہو
Ontology — وجود اور حقیقت کی ماہیت کا مطالعہ
Teleology — کائنات میں مقصدیت کا تصور
Cosmology — کائنات کے آغاز، ساخت اور انجام کا مطالعہ
Explanatory Power — کسی نظریے کی وضاحتی قوت
Consistency — کسی موقف کا باہم متضاد نہ ہونا
Burden of Proof — دعویٰ کرنے والے پر دلیل کی ذمہ داری
Reductionism — پیچیدہ حقیقت کو صرف ایک پہلو تک محدود کر دینا
Holistic View — حقیقت کو مجموعی انداز میں دیکھنا
Agnosticism — خدا کے وجود پر قطعی رائے نہ رکھنا
Skepticism — ہر دعوے پر تنقیدی نظر رکھنا
Natural Law — کائنات میں جاری مستقل قوانین
Law Giver — قانون بنانے والی ہستی
Necessary vs Contingent — جو لازمی ہو بمقابلہ جو محتاج ہو

از وال ڈاکٹر حیات قاسمی

21 December 2025

24/12/2025

✈️🌟 عارف حبیب — خاک سے پرواز تک

پی آئی اے خریدنے والا عارف حبیب کون ہے؟

کراچی کی تنگ گلیوں میں ایک لڑکا رہتا تھا۔
گھر کی آسائشیں تھوڑے مگر اس کے خواب آسمان سے بلند تھے اور اس لڑکے کا نام عارف حبیب تھا۔

ہجرت کے بعد ان کے خاندان نے نئی زندگی شروع کی۔
ان کی تعلیم میٹرک تک تھی لیکن ان کا پڑھائی کا شوق کسی بڑی یونیورسٹی سے کم نہ تھا۔
1970 میں، وہ کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ایک چھوٹے بروکر کے طور پر داخل ہوئے۔
وہ روزانہ گھنٹوں بازار کو دیکھنے، سمجھنے اور نوٹ لینے میں گزارتا تھا۔
اس کی ایمانداری، محنت اور تیز بصارت نے اسے دوسروں سے آگے رکھا۔
وہ چھوٹا بروکر رفتہ رفتہ پاکستان کے بڑے سرمایہ کاروں میں سے ایک بن گیا۔

پھر ایک دن اس نے وہ قدم اٹھایا جس نے ان کی زندگی بدل دی اور عارف حبیب گروپ کی بنیاد رکھی۔
ایک گروپ جو آج سٹیل، سیمنٹ، کھاد، توانائی، رئیل اسٹیٹ اور فنانس جیسے بڑے شعبوں میں کام کرتا ہے۔

عارف حبیب صرف ایک بزنس مین نہیں ہیں۔
وہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے پاکستان کی معیشت کو مضبوط کیا۔

ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار دیا۔
ان کی کمپنیوں کے گروپ نے ہزاروں خاندانوں کو ملازمت دی۔
اس نے ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی جہاں ملازمتیں کم تھیں،
اور لوگوں کو اچھی نوکریاں ملیں۔
کراچی کا نیا چہرہ
ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ جس نے ہزاروں خاندانوں کو فراہم کیا۔
محفوظ، صاف اور جدید رہائش۔
یہ منصوبہ کراچی کی ترقی کی علامت بن گیا۔

اسٹاک مارکیٹ کو بحرانوں سے نکالا۔
وہ کئی بار پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین رہے۔
مشکل وقت میں اس نے بازار کو سنبھالا،
سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا،
اور ملک کے مالیاتی نظام کو مضبوط کیا۔

توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری
انہوں نے بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرکے ملک میں توانائی کی قلت کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

عارف حبیب کا ایک رخ بھی ہے۔
جو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
وہ دل سے انسانیت کی خدمت کرتا ہے۔

عارف حبیب فاؤنڈیشن
یہ فاؤنڈیشن تعلیم، صحت، کھیل اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر کام کرتی ہے۔
غریب خاندانوں کی مدد کرنا، اسکولوں کی مدد کرنا،
اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا اس کا بنیادی مقصد ہے۔

ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو سپورٹ کرنا
وہ مختلف ہسپتالوں، ٹرسٹوں اور تعلیمی اداروں کو فنڈ فراہم کرتے ہیں،
تاکہ غریب مریضوں کا علاج ہو سکے۔
اور بچے تعلیم حاصل کر سکیں۔

کھیل اور نوجوانوں کی ترقی
نیا ناظم آباد میں اسٹیڈیم، گراؤنڈز اور کھیلوں کی سہولیات
ان کی سوچ کی علامت ہیں۔
"صحت مند نوجوان ایک مضبوط قوم بناتے ہیں۔"

✈️ اور آج… سب سے بڑا سنگ میل

انہوں نے پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کا 75 فیصد حصہ خریدا۔

135 ارب روپے کے اس تاریخی معاہدے نے پورے ملک کو حیران کر دیا۔
یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نجکاری ہے۔
اور انہوں نے کہا ہے کہ پی آئی اے میں کام کرنے والے ملازمین کو برطرف نہیں کیا جائے گا اور مزید 20 طیارے پی آئی اے میں لائے جائیں گے۔

ایک وقت تھا جب وہ اسٹاک مارکیٹ کے باہر کھڑا ہوا کرتا تھا۔
سینئر بروکرز کو دیکھیں۔
آج وہ ایک ایئر لائن کے مالک ہیں۔
جن کے ہوائی جہاز دنیا بھر کے آسمانوں پر اڑتے ہیں۔

🌤️ یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ امید کی کہانی ہے۔

یہ کہانی بتاتی ہے کہ:

"کامیابی ڈگریوں میں نہیں حوصلہ میں ملتی ہے"
"حقیقی طاقت حالات میں نہیں بلکہ انسان کے اندر ہوتی ہے۔"
اگر نیت خالص ہو اور محنت سچی ہو تو میٹرک پاس لڑکا بھی قومی ائیر لائن کا مالک بن سکتا ہے۔

21/12/2025

21 گریڈ تک ٹرانسفر پوسٹنگ کا اختیار وزیر اعلیٰ کریں گے۔
گریڈ 16 سے 20 تک ٹرانسفر پوسٹنگ چیف سیکرٹری کریں گے۔
گریڈ 1 سے 15 تک ٹرانسفر پوسٹنگ متعلقہ محکمے کا سیکرٹری کرے گا۔

19/12/2025

جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں محققین نے ایک گائے پر ایک تجربہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ذبح کے دوران (اسلامی طریقے کے مطابق) جانور کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے EEG (الیکٹرو اینسفالوگرافی) کے ذریعے گائے کے دماغی سگنلز کو مانیٹر کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ جانور کو درد محسوس ہوتا ہے یا نہیں، اور اگر ہوتا ہے تو کس حد تک۔

تجربے کے لیے گائے کو تیار کیا گیا اور پھر اسے ذبح کیا گیا۔

ذبح کے بعد پہلے تین سیکنڈ تک دماغی برقی سرگرمی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جس سے ظاہر ہوا کہ گائے کو اس دوران کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔

اگلے تین سیکنڈ میں یہ دیکھا گیا کہ گائے بے ہوش ہو گئی اور شدید خون کے بہاؤ اور دماغ کو خون کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے گہری نیند (کوما جیسی حالت) میں چلی گئی۔

چھ سیکنڈ بعد EEG نے ظاہر کیا کہ دماغ کی برقی سرگرمی مکمل طور پر رک چکی تھی، یعنی گائے کی موت واقع ہو چکی تھی اور اسے کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہوا۔

اب سوال یہ ہے کہ اس تجربے کا نتیجہ کیا نکلا؟

ہم سب ذبح کے وقت جانور کے خون کے بہنے کو دیکھتے ہیں اور اکثر یہ سوچتے ہیں کہ جانور کو تکلیف کیوں محسوس نہیں ہوتی، حالانکہ وہ ت ، حالانکہ وہ تڑپتا ہوا نظر آتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی طریقۂ ذبح میں سانس کی نالی، خوراک کی نالی اور خون کی بڑی رگیں کاٹی جاتی ہیں جبکہ ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کاٹا جاتا۔

اس مرحلے پر دماغ کو خون اور آکسیجن کی فراہمی منقطع ہو جاتی ہے، جس کے باعث جانور چند ہی سیکنڈز میں بے ہوش ہو جاتا ہے۔

سبحان اللہ! جانور کا جسم درد محسوس کیے بغیر زندگی کی آخری حد تک قائم رہتا ہے۔ دماغ میں موجود پچوٹری گلینڈ ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے ایڈرینل گلینڈز کو پیغام بھیجتا ہے، جس کے نتیجے میں ایڈرینالین خارج ہوتی ہے۔ یہ ہارمون دماغ تک خون پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن دماغ وہ پہلا عضو ہوتا ہے جسے خون کی فراہمی منقطع ہو جاتی ہے اور تمام غیر ارادی افعال رک جاتے ہیں۔

اس عمل کے نتیجے میں جسم کا تقریباً سارا خون خارج ہو جاتا ہے، جس سے جسم صاف ہو جاتا ہے۔ اگر یہ خون جسم میں رہ جائے تو مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

یوں اسلامی طریقۂ ذبح تیز، زیادہ رحم دل اور کم تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔

جانے سے پہلے یہ کہنا نہ بھولیے:

"سبحان اللہ العظیم" 🌹😍

19/12/2025

سکولز کے لئے موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلامیہ جاری
Summer 🌞 Zone: 1st January to 15th January
Winter 🥶 Zone: 23rd December to 28th February

16/12/2025

یہ اکثر صبح ناشتہ بهی نہیں کرتے کہ کہیں گاڑی ہی چهوٹ نہ جائے
ناشتہ نظر انداز کرکے کہتے ہیں " کام کی جگہ پہ پہنچ کر کچھ کها لیں گے"

جب کام کی جگہ پہ پہنچ جاتے ہیں تو کام کے دباو کی وجہ سے ناشتہ کرنا پهر بهول جاتے ہیں۔
سوچتے ہیں چلو دوپہر لنچ ٹائم ہی کچھ کهالیں گے۔۔۔

لنچ ٹائم میں بهی اکثر یہ بچارے پردیسی مزدور بهوکے رہ جاتے ہیں کہ اکثر کام کے لوڈ کی وجہ سے اوور ٹائم کا لالچ بیچ میں آجاتا ہے کہ اس بار چلو گهر کچھ ہزار زیادہ چلے جائے گے۔
گهر کے معاملات اور خوش اسلوبی سے طے پالے گے۔

بریک کے ٹایم یہ مزدور جن پہ آپکو ناز ہوتا ہے کہ وہ دبئی، شارجہ، بحرین,سعودیہ، قطر، کویت دنیا کے کسی کونے میں ہی کیوں نہ ہو جن پہ آپکو فخر ہوتا ہے کہ میرا بهائی تو بیرون ملک ہوتا ہے،
بریک ٹائم یہ کوئی کارٹن کا پیس اٹها کر کوئی پلاسٹ کچہرے کے ڈیر سے اٹها کر اسکو جهاڑ کر وہی بچهاتے ہوئے سو جاتے ہیں۔
کچہرے کے ڈیر میں پڑا گندہ بدبودار پلاسٹ یا کارٹن کا پیس

جی ہاں ۔۔۔!!!
وہ خود گهتوں پہ سوتے ہیں اور آپ کو گدوں پہ سلاتے ہیں۔

صبح 5 بجے سے لیکر رات شام 7 بجے تک مسلسل خون و پسینے کا ایک ایک قطرہ بہایا جاتا ہے ریال, درہم, دینار کے لئے

جلا دینے والی گرمی دماغ کو ابال کر رکھ دیتی ہے۔ پینے کو گرم پانی،
گرم ترین ہوا جیسے کہ تندور سے اٹهی ہو،
صحراوں میں گرد و غبار کے خوفناک ترین طوفان،
58ویں چھت کے سکفولڈنگ پہ کهڑے زندگی اور موت کی یہ جنگ صرف دینار اور آپکی خوشیوں کے لئے پردیس میں ہر دن ہر صبح ہر وقت ہر سیکنڈ لڑی جاتی ہے۔
پردیس میں ایک پردیسی پہ کیا گزرتی ہے آپ اسکا اندازہ بهی نہیں لگا سکتے۔

نہایت طاقتور جسمانی وجود کے مالک کو ایک معمولی دبلا پتلا انسان بنا کسی بات کے سو سو باتیں سنا دیتا ہے۔
پردیس میں رہنے والا کوئی ایک ایسا مزدور نہیں جو کسی فکر کسی غم کسی پریشانی سے آزاد ہو۔

کبھی اقامے کی فکر،
کبھی کفالے کی بهاگ دوڑ،
کبھی کفیل کی ٹینشن،
کبھی جوازات کے مسائل،
کبھی کمپنی کی مصیبتیں،
کبھی تبادلے کی تشویشیں،
کبھی تنخواہ وقت پہ نہ آنا،
کبھی کام ہونے نہ ہونے کی تکالیف،
کبھی سالن نہ بنانے پہ لڑائی جهگڑے،
کبھی روم رینٹ کی فکر،
کبھی روم سے نکالنے کی دهمکیاں اور کبھی آپ سب کی فرمائیشیں۔۔۔!!!

یہ جو پردیسی ہیں نا۔۔۔!!!
یہ ایک ایک حلالہ (سعودی, بخرینی, قطری, کویتی, دوبئ پیسہ) بچاتے ہیں۔

انکا بہت من کرتا ہے کہ کچھ اچها سا کها لے کچھ اچها سا پی لے۔
بے حد من کرتا ہے کہ کبھی KFC برگر کنگ البیک کباب کهائے یا ریڈ بل پی لے،
لیکن
گهر کا خیال آتے ہی جیب اجازت نہیں دیتا،
تو یہ بیچارے واپس ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے ایک ایک روپے بچا کر اپنے لئے بهی کچھ بچت کی ہوتی ہے کہ زندگی کا کیا بهروسہ۔۔۔۔
یہ سارا وقت اسی بچت کو دیکھ کر مزدوری کرتے ہیں کہ چلو اس ماہ گهر بهیجنے اور خرچہ نکال کر میرے پاس چالیس پچاس روپے بچ رہے ہیں۔
یہ اسی کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
ایک ایک روپے جوڑ کر جب کچھ آس بن جاتا ہے تو پاکستان آنے کی تیاری کرتے ہیں۔

ٹکٹ کی معلومات کرتے ہیں ہیڈا آفس بات کرتے ہیں۔
پتہ چل جاتا ہے کہ صاحب کی چهٹی برابر ہونے والی ہے،
پهر وہ اپنا پروگرام بناتا ہے کہ کب جانا ہے

کہ

کہ اچانک گهر سے کسی فرمائش آجاتی ہے کہ اسکو فلاں کام کے لئے اتنے پیسے چاہیے

تب ایک طرف پاکستان اور دوسری طرف گهر والوں کی خواہشات،
کس کو منتخب کرے۔
تب وہ سوچتا ہے کہ چلو کوئی مسئلہ نہیں میں ایک سال اور لگا دیتا ہوں۔

" اچها جی میں پیسے بهیج دوں گا" ایک سال کی ہی تو بات ہے میں اگلے سال واپس آجاتا ہوں چهٹی پہ..."
اور وہ اپنی وہی بچت شام کو گهر روانہ کردیتا ہے۔

یہ جو پردیسی ہوتے ہیں نا۔۔۔!!!
یہ آپکے لئے روز موت کا سامنا کرتے ہیں،
پل پل جی کر مرتے ہیں۔
اکثر رات کو کمبل میں رو بهی لیتے ہیں۔
کہ دکھ درد کس کو سنائے۔
یہی سوچ کر
کہ چلو میں تکلیف ہوں پیچهے گهر والے تو سکهی ہیں نا میری وجہ سے،
اپنے پردیسوں کو بے جا فرمائیشیں کرکے تنگ نہ کریں۔
ان کے اعصاب پہلے ہی پریشانیوں کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں۔
ان سے کوئی شے مانگنی ہو بے حد قیمتی شے کی ڈیمانڈ بلکل نہ کریں۔
ایک گیلکسی سیون ایج کی قیمت ایک مزدور کی تین ماہ کی تنخواہ ہے۔
یہ تین ماہ کی تنخواہ وہ سورج کے سامنے کهڑے ہوکر اپنا چمڑا اور خون جلا کر وصول کرتے ہیں۔
آپ کی ایسی فضول کی فرمائیشیں انکو مزید پریشان کردیتی ہیں،
ان کو مزید سوچوں میں ڈال دیتی ہیں۔

اور آپکو بحرین, دبٸی، قطر، سعودیہ میں سورج کے تپش کی طاقت کا اندازہ نہیں،
وہ انسان کو کوئلہ بنا دیتی ہے۔

پردیسیوں کے دکھ
Copy

Want your school to be the top-listed School/college in Abu Dhabi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Musaffah
Abu Dhabi