قولِ سدید

قولِ سدید خيركم من تعلم القران وعلمه
تم میں سے بہتر وہ ہے جو خود قران سیکھے اور دوسروں کو سکھائے

26/08/2026
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ ...
22/08/2026

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلاَ تَحَسَّسُوا، وَلاَ تَجَسَّسُوا، وَلاَ تَنَاجَشُوا، وَلاَ تَحَاسَدُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَلاَ تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا.» (صحیح البخاری: 6064، صحیح مسلم: 2563)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے! اور نہ کسی کے عیبوں کا کھوج لگاؤ، نہ جاسوسی کرو، نہ خرید و فروخت میں دھوکا دینے کے لیے بولی بڑھاؤ، نہ آپس میں حسد کرو، نہ بغض رکھو، نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو (تعلقات توڑو)، اور اے اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔"
تشریح:
اس حدیث مبارکہ میں لفظ "الظَّنّ" سے مراد کسی انسان کے بارے میں بغیر کسی شرعی دلیل، واضح قرینے یا ثبوت کے محض شک و شبہ کی بنیاد پر دل میں برا گمان قائم کر لینا ہے۔ انسان کے دل میں جو وساوس یا خیالات خود بخود آتے ہیں اور وہ ان پر قائم نہیں رہتا، ان پر کوئی پکڑ نہیں ہے، لیکن ممنوع اور حرام بدگمانی وہ ہے جو دل میں پختہ ہو جائے، انسان اس کو حقیقت مان لے اور اسی کی بنیاد پر اپنے رویے یا زبان میں تبدیلی لے آئے۔
نبی کریم ﷺ نے بدگمانی کو "أَكْذَبُ الْحَدِيثِ" (سب سے بڑا جھوٹ) اس لیے قرار دیا کیونکہ عام جھوٹا انسان سنی سنائی بات بتاتا ہے، جبکہ بدگمان شخص محض اپنے وہم، شک اور نفسانی خیال کو بغیر کسی وجود کے "حقیقت" بنا کر پیش کرتا ہے، جس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔
اس حدیث میں گناہوں کی ایک گہری تسلسل کے ساتھ نشاندہی کی گئی ہے؛ سب سے پہلے انسان کے دل میں بدگمانی کی بنیاد پڑتی ہے، پھر اس شک کی تصدیق کے لیے انسان تجسس اور عیب جوئی کرنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں دل میں حسد، کینہ اور بغض جنم لیتا ہے، اور یہی چیز بالآخر رشتوں کو توڑنے، آپس میں پیٹھ پھیرنے اور قطع تعلقی کا باعث بنتی ہے۔
حدیث کے آخر میں "وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" کہہ کر اس کا علاج بیان کیا گیا ہے کہ انسان تمام مسلمانوں اور اپنے عزیزوں کے ساتھ اخوت و بھائی چارے کا تعلق قائم رکھے، ان کے ظاہر کو دیکھے، ان کی غلطیوں کو درگزر کرے، عذر قبول کرے اور شکوک و شبہات کی جگہ حسنِ ظن (اچھا گمان) اختیار کرے۔ تاہم، جس شخص کا ظاہر واضح طور پر فسق و فجور یا برائی پر مبنی ہو، اس سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اس ممنوع بدگمانی کے زمرے میں نہیں آتا۔

18/08/2026
21/07/2026

قرامتیوں کی تاریخ جب انہوں نے خانہ کعبہ سے حجر اسود چرایا

Address

Abu Dhabi
Abu Dhabi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when قولِ سدید posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share