27/06/2026
سمندر کی ایک لہر ایک مکمل پوشیدہ کائنات ھے- صرف ایک لہر کے ساحل سے ٹکرانے اور ریت میں غائب ہونے سے چند سیکنڈ قبل پانی کے اس حجم کے اندر پوری ریکارڈ شدہ اور غیر ریکارڈ شدہ تاریخ میں اب تک سانس لینے والے تمام انسانوں کی کل تعداد سے بھی زیادہ زندہ جاندار موجود ہوتے ہیں- تاریخِ انسانی میں اب تک تقریباً 118 ارب (118 billion) انسان جی چکے ہیں- سمندری پانی کے صرف ایک لیٹر میں، مقام اور موسم کے لحاظ سے، 10 لاکھ سے لے کر 1 ارب کے درمیان خوردبینی خلیات (microbial cells) ہوتے ہیں- جب آپ اسے ساحل پر ٹوٹنے والی ایک چھوٹی سی لہر کے حجم کے مطابق ناپتے ہیں تو یہ اعداد و شمار اتنے بڑے ہو جاتے ہیں کہ انسانی ذہن کے لیے انہیں سمجھنا واقعی مشکل ہو جاتا ہے- اس لہر کے اندر جو کچھ موجود ہے، وہ تقریباً تمام کا تمام عام انسانی آنکھ سے اوجھل ہے- اس میں بیکٹیریا، آرکیا (archaea)، وائرس، یک خلوی الجی (جنہیں فائیٹوپلینکٹن کہا جاتا ہے)، ننھے زوپلینکٹن (zooplankton)، فنگس کے بیج (spores) اور ایسے جاندار شامل ہیں، جن کا کوئی عام نام ہی نہیں ہے کیونکہ بیشتر انسانوں کو کبھی ان کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی- ان میں سے ہر ایک جاندار مکمل حیاتیاتی معنوں میں زندہ ہے، وہ توانائی حاصل کرتے ہیں، اپنی نسل بڑھاتے ہیں، اپنے ماحول پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور ہماری طرح مر جاتے ہیں- زمین کے پھیپھڑے فائیٹوپلینکٹن (phytoplankton) ہی وہ جاندار ہیں، جن پر ذرا رک کر غور کرنا ضروری ہے- سمندر کی دھوپ سے روشن بالائی سطح پر تیرنے والی یہ خوردبینی الجی، ضیائی تالیف (photosynthesis) کے ذریعے زمین کے کرہ ہوائی کی تقریباً نصف سے زیادہ آکسیجن پیدا کرتی ہے- ہم جو ہر دوسری سانس لیتے ہیں، وہ جنگلات نے ہی نہیں بلکہ ان جانداروں نے بھی پیدا کی ہے، جو دیکھنے میں بہت چھوٹے ہیں اور بالکل اسی طرح کی لہروں میں رہتے ہیں- یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بہت بڑی مقدار کو بھی جذب کرتے ہیں، جس سے سمندر اس سیارے کا سب سے بڑا کاربن سِنک (کاربن جذب کرنے والا ذخیرہ) اور ماحولیاتی تبدیلی کی رفتار کے خلاف ایک بنیادی ڈھال بن جاتا ہے- سمندر ابھی بھی ایک غیر دریافت شدہ دنیا ھے، جو زمین کی سطح کے 71 فیصد حصے کو گھیرے ہوئے ہے اور خوردبینی سطح پر اس کا بیشتر حصہ ابھی تک غیر دریافت شدہ ہے- سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ ہم نے سمندری خوردبینی انواع (species) کے ایک فیصد سے بھی کم حصے کی شناخت کی ہے- اس سیارے پر زندگی کی وسیع اکثریت کا نہ تو کوئی نام ہے، نہ کوئی تفصیل اور نہ ہی کسی کیٹلاگ میں ان کا کوئی ذکر ہے- ساحل پر ٹوٹ کر ریت میں جذب ہو جانے والی ہر لہر، دراصل ایک پوری تہذیب کا عروج و زوال ہے، جِسے ہم صرف جھاگ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں-