Lore Karaiz Sariab Public Library

Lore Karaiz Sariab Public Library

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Lore Karaiz Sariab Public Library, Education, Lore Karez, Burma Hotel Sariab Quetta, .

07/01/2026

We extend our sincere gratitude to Safia Shakeel Ahmed (Karachi) for donating valuable books to the library. Such contributions play a vital role in promoting education and reading culture. Thank you for your support 📚🤍

14/08/2025

Lore Karez Sariab Public Library Strongly Condemns the Unlawful Detention by LEAs of President Bismillah Jan and Colleagues, Mir khan Baloch and Yaqoob Baloch

15/07/2025

Lore Karez Sariab Public Library expresses its immense pleasure on the success of its members in the written evaluation result of the Tehsildar( B16) conducted by BPSC. Besides LKS administration wishes all of them the best of luck for the next phase.

Bismillah Baloch
Naveed Anjum
Ubaid Ullah
Ehsen Ullah
Shams ul Alam
Meer Khan
Zafer Ullah
Farman
Fida Hussain
Habib Ullah
Naveed
Abdullah
Zulqurnain
Asad Nawaz
Shayk Baloch


28/06/2025

Educated Sariab of Quetta, the Pride of Balochistan — An Emerging Face of Knowledge and Awareness

#نظربان #بلوچستان

Photos from Lore Karaiz Sariab Public Library's post 27/06/2025

The administration of Lore Karez Saraib Public Library expresses its heartfelt gratitude to- Haji Mir Noorullah Lehri and Siraj Ud-din- Lehri for their generous donation of valuable books for the students of the library. Your kindness will greatly benefit our students and contribute to their academic growth. We appreciate your support and look forward to your continued involvement in our library.

06/03/2025
28/02/2025

لوہڑ کاریز سریاب لائبریری کے خلاف بے بنیاد بیانات – حقائق اور مطالبات!

لوہڑ کاریز سریاب لائبریری کے منتظمین نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کے لائبریری سے متعلق بیانات کو حیران کن اور غلط معلومات پر مبنی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمشنر کی جانب سے یہ دعویٰ کہ لائبریری کو ڈی سی آفس کی مالی معاونت حاصل رہی ہے، سراسر غلط ہے۔ حقیقت میں، لائبریری کے قیام (20 مارچ 2018) سے لے کر اب تک کسی بھی سرکاری ادارے سے کوئی ماہانہ فنڈ یا امداد نہیں ملی۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ سابق ڈپٹی کمشنر اورنگزیب بادینی نے لائبریری کی حمایت ضرور کی، مگر یہ لائبریری ان کی تعیناتی سے پہلے ہی قائم ہو چکی تھی۔ کمشنر کا یہ کہنا کہ لائبریری کے مخالفین منشیات کے عادی طلبہ ہیں، نہ صرف طلبہ بلکہ منتظمین کی دل آزاری کے مترادف ہے۔

لائبریری کے قیام سے قبل، مذکورہ عمارت کے کچھ کمروں پر قبضہ تھا، جہاں منشیات اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیاں جاری تھیں۔ منتظمین پر ایک حملہ بھی ہوا، جس کی ایف آئی آر درج کرائی گئی، مگر انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

حالیہ دنوں میں انتظامیہ نے لائبریری کو خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا، جس میں مبہم الفاظ استعمال کیے گئے۔ لائبریری کے منتظمین نے اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر حکام سے ملاقات کی کوشش کی، لیکن ان کے رویے کو غیر سنجیدہ اور دھمکی آمیز پایا۔ ایک موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ "پورے ملک میں کرپشن ہو رہی ہے، یہ آپ لوگوں کا مسئلہ نہیں" اور لائبریری کے زبردستی انخلا کی دھمکیاں دیں۔

منتظمین کا موقف ہے کہ لائبریری کی جگہ متبادل عمارت دی جائے تاکہ طلبہ بلا تعطل اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ سابق وزیر اعلیٰ جام کمال نے لائبریری کے لیے تین ہزار فٹ زمین دینے کا اعلان کیا تھا، مگر بیوروکریسی کی نظر ہو گیا۔
یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں ایک فیسٹیول کے لیے انتظامیہ نے مالی مدد فراہم کی تھی، تاہم اس کے علاوہ لائبریری کو کسی بھی قسم کی ماہانہ معاونت یا مستقل فنڈنگ نہیں ملی۔ لائبریری کے اخراجات طلبہ، مخیر حضرات اور علاقے کے پڑھے لکھے افراد کے تعاون سے پورے کیے جاتے ہیں۔

لوہڑ کاریز لائبریری علاقے میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز ہے، جو طلبہ کی مدد آپ کے تحت چل رہی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایسی کاوشوں کی حمایت کرے، نہ کہ بے بنیاد الزامات لگا کر مشکلات پیدا کرے۔ منتظمین کا مطالبہ ہے کہ زبردستی بے دخلی سے پہلے متبادل جگہ فراہم کی جائے تاکہ طلبہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔


24/02/2025

Save the Library, by Naveed Anjum.

Published in Express Tribune.! 24/02/2025

17/02/2025

*لوڑ کاریز لائبریری کی بندش ریاستی علم دشمنی کی منہ بولتا ثبوت ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ھے۔*

*قلات اسٹوڈنٹس فورم* کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سریاب میں قائم تاریخی لوڑ کاریز لائبریری کی بندش کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اسے علم دشمنی کی بدترین مثال قرار دیتے ہیں۔ بلوچستان میں پہلے ہی تعلیمی مواقع محدود ہیں، اور جو چند ادارے علم و شعور کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، انہیں بھی ریاستی جبر اور سازشوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سریاب، جو کوئٹہ کی قدیم اور گنجان آباد بستیوں میں سے ایک ہے، گزشتہ سات دہائیوں سے ترقی کے بجائے تباہی کی راہ پر ڈال دیا گیا ہے۔ منشیات، چوری، ڈاکہ زنی اور دیگر سماجی برائیوں نے یہاں کے نوجوانوں کو اندھیروں میں دھکیل دیا تھا، مگر انہی نوجوانوں نے اجتماعی جدوجہد کے ذریعے روشنی کی ایک کرن پیدا کی— لوڑ کاریز پبلک لائبریری۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں ریاستی سرپرستی میں سماجی برائیوں کو پنپنے کا موقع دیا گیا، لیکن نوجوانوں نے ہمت دکھائی اور اسے کتابوں کے مرکز میں تبدیل کر دیا۔ آج، یہ لائبریری سینکڑوں طلبہ کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کا واحد سہارا بنی ہوئی ہے۔

مگر افسوس کہ وہی عناصر جو بلوچ عوام کی زمینوں پر قبضہ کر چکے ہیں، اب اس تعلیمی مرکز کو بھی ختم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہسپتال کی بحالی کے نام پر لائبریری کو بند کرنے کی کوشش محض ایک بہانہ ہے، حالانکہ عوام ہسپتال کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت کے پاس زمین کی کوئی کمی نہیں، مگر وہ دانستہ طور پر اس لائبریری کو نشانہ بنا رہی ہے۔

قلات اسٹوڈنٹس فورم واضح کرتا ہے کہ لائبریریوں کی بندش علم دشمنی ہے، اور کسی بھی صورت میں اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ لائبریریاں کسی بھی قوم کے شعور اور فکری ترقی کا مرکز ہوتی ہیں، جہاں کتاب سے محبت پیدا کی جاتی ہے، جہاں نوجوان منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے بچ کر تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ بلوچستان میں پہلے ہی تعلیمی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، اور اب جو چند ادارے نوجوانوں کو علم کی روشنی فراہم کر رہے ہیں، انہیں بند کرنا ایک گھناؤنی سازش ہے۔

قلات اسٹوڈنٹس فورم لائبریری کی بندش کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرے گا اور اس جدوجہد میں سریاب کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

ہم حکومت کو واضح طور پر بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر علم دشمن پالیسیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا، تو طلبہ اور عوام بھرپور مزاحمت کریں گے۔ قلات اسٹوڈنٹس فورم علم کے ہر چراغ کو جلائے رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور کسی بھی تعلیمی ادارے کو ختم کرنے کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

ہم علم دشمن پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں اور لوڑ کاریز لائبریری کے دفاع کے لیے ہر محاذ پر آواز بلند کریں گے!

Want your school to be the top-listed School/college?

Culinary Team

Attire

Telephone