11/05/2024
Mahe-e-Zulqad
May/June 2024/1445ھہ
Important Knowledge For Everyone...
Follow us in WhatsApp to get daily alert on mobile
https://whatsapp.com/channel/0029VaewP3SChq6ETiFP8b0M
(follow like and share with your frineds)
(For Support=Like Our Page & send invite page Request to others...)
ILTAMAS-E-DUA FOR US.
28/09/2023
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنََ ۔[الانبیاء :آیت۱۰۷] ترجمہ : اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے(کنزالایمان)
اللہ جل جلالہ نے اپنے پیغمبر کو ایسی شریعت کاملہ عطا فرمائی کہ اس کے بعد قیامت تک پوری کائنات انسانی کے لیے کسی مذہبی قانون اور نئی شریعت کی کوئی ضرورت درپیش نہ ہوگ۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا دن ایک عظیم دن ہے جس نے پوری کائنات کو اپنے نور سے منور کیا، یہ دن تمام مسلمانوں کی روحوں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، اور ہم آپ کو اس خوشی کے موقع پر مبارک پیش کرتے ہیں۔۔
25/07/2023
السَّلامُ عَلَيْكَ يَا أَبَاالْفَضْلِ الْعَبَّاسَ ابْنَ أَمِيرِالْمُؤْمِنِينَ
السَّلامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أَوَّلِ الْقَوْمِ إِسْلاما ♡
السلام عليك يا قمر العشيرة
السلام عليك يا قمر بني هاشم
السلام عليك يا عباس ابن علي
السلام عليك يا حبيب الحسين
السلام عليك ساقي العطاشى
وباب الحوائج إلى الله
⏳الثلاثاء ٦ شَهرِ محرّم الْحرام ١٤٤٥ هـ ٢٥\٧\٢٠٢٣م
📡
🏴
📺
⚫️
https://t.me/aljawadaintv
15/03/2021
Majlis-e-aza (Saffar-e-imam hussain as)
Majlis-e-aza (Saffar-e-imam hussain as) :Akhri zamany ki Dawat Zahoor e imam mehdi As ki tayriorganised by:Syed Ali Raza Shah a...
26/09/2020
Majlis-e-Aza basilsila shahadat S.A (13 Saffar) 1 October 2020 7:00 Pm held at
Nisar Syed shah house Gafor petrol pump raod Azeem colony
تمام مومنين سےشرڪت کي اپيل هے۔
29/02/2020
5رجب المرجب ولادت امام علی نقی علیہ السلام کے موقع پر تمام مومنین و مومنات، علماء کرام،رہبر معظم بالخصوص امام زمانہ عج کی بارگاہ میں مبارک پیش کرتے ہین۔۔۔
حضرت امام علی النقی علیہ السلام کی سال ولادت 212 ھ اور شہادت ۲۵۴ ہجری میں واقع ہونے کے بارے اتفاق ہے۔ لیکن آپ کی تاریخ ولادت و شھادت میں اختلاف ہے۔
ولادت کو بعض مورخین نے 15 ذی الحجہ اور بعض نے دوم یا پنجم رجب بتائی ہے اسی طرح شھادت کو بعض تیسری رجب مانتے ہیں لیکن شیخ کلینی اور مسعودی نے ستائیس جمادی الثانی بیان کی ہے.
البتہ رجب میں امام ھادی علیہ السلام کی پیدایش کی ایک قوی احتمال وہ دعای مقدسہ ناحیہ کا جملہ ہے، جس میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں : "اللھم انی اسئلک بالمولودین فی رجب ، محمد بن علی الثانی و ابنہ علی ابن محمد " آپ کا نام گرامی علی اور لقب، ھادی، نقی، نجیب، مرتضی، ناصح، عالم، امین، مؤتمن، منتجب، اور طیب ھیں، البتہ ھادی اور نقی معروف ترین القاب میں سے ھیں، آنحضرت کی کنیت " ابو الحسن " ہے اور یہ کنیت چھار اماموں یعنی امام علی ابن ابی طالب ،امام موسی ابن جعفر ،امام رضا علیہم السلام کیلئے استعمال ہوا ہے، تنھا (ابو الحسن) صرف امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لۓ اور امام موسی بن جعفر علیہ السلام کو ابوالحسن اول، امام رضا علیہ السلام کو ابو الحسن الثانی، اور امام علی النقی علیہ السلام کو ابو الحسن الثالث کہا جاتا ہے۔
امام علی النقی الھادی علیہ السلام کی ولادت مدینہ منورہ کے قریب ایک گاؤں بنام " صریا " میں ھوئی ہے جسے امام موسی کاظم علیہ السلام نے آباد کیا اور کئ سالوں تک آپ کی اولاد کا وطن رہا ہے۔ حضرت امام علی النقی علیہ سلام جو کہ ھادی اور نقی کے لقب سے معروف ہیں 3 رجب اور دوسری قول کے مطابق 25 جمادی الثانی کو سامرا میں شھید کۓ گۓ، حضرت امام علی النقی علیہ سلام کا دور امامت، عباسی خلفاء معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین، اور معتز کے ھمعصر تھے۔ حضرت امام علی النقی علیہ سلام کے ساتھ عباسی خلفا کا سلوک مختلف تھا بعض نے امام کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو کسی نے حسب معمول برا، البتہ سب کے سب خلافت کو غصب کرنے اور امامت کو چھیننے میں متفق اور ھم عقیدہ تھے، جن میں سے متوکل عباسی اھل بیت کی نسبت دشمنی رکھنے میں زیادہ مشہور تھا اور اس نے خاندان رسالت کو آزار و اذیت پہنچانے میں کوئی کسر باقی نھیں چھوڑی، یہاں تک کہ اماموں کی قبروں کو مسمار کیا، خاص کر قبر مطھر سید الشھدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور اس کے اطراف کے تمام گھروں کو مسمار کرکے اور وہاں کھیتی باڑی کرنے کا حکم دیا۔
متوکل نے حضرت امام نقی علیہ السلام کو سن 243 ھجری میں مدینہ منورہ سے سامرا بلایا۔ عباسی خلفا میں سے صرف منتصر باللہ نے اپنے مختصر دور خلافت میں خاندان امامت و رسالت کے ساتھ قدرے نیک سلوک کیا۔ حضرت امام علی النقی علیہ سلام کو سامرا " عباسیوں کے دار الخلافہ" میں 11 سال ایک فوجی چھاونی میں قید رکھا، اس دوران مکمل طور پر لوگوں کو اپنے امام کے ملاقات سے محروم رکھا گیا۔
آخر کار 3 رجب اور دوسری روایت کے مطابق 25 جمادی الثانی سن 254 ھجری کو معتز عباسی خلیفہ نے اپنے بھائی معتمد عباسی کے ھاتھوں زھر دے کر آپ کوشہید کر دیا.
عصر امام علیہ السلام کے دور میں سیاسی اور اجتماعی حالات
عباسی خلافت کے اس دور میں چند ایک خصوصیات کی بناء پر دوسرے ادوار سے مختلف ہے لھذا بطور اختصار بیان کردیا جاتا ہے:
1۔ خلافت کی عظمت اور اس کی زوال:خواہ اموی خلافت کا دور ہو یا عباسی کا ، خلافت ایک عظمت و حیثیت رکھتی تھی لیکن اس دور میں ترک اور غلاموں کے تسلط کی وجہ سے خلافت گیند کی مانند ایک بازیچہ بن گیا تھا جس طرف چاہے پھیرتے تھے۔
2۔ درباریوں کا خوش گذرانی اور ھوسرانی: عباسی خلفاء نے اپنے دور کے اس خلافت میں خوش گذرانی و شرابخواری و … کے فساد و گناہ میں غرق تھے جس کو تاریخ نے ضبط کیا ہے۔
3۔ ظلم و بربریت کی بے انتھا:عباسی خلفاء کی ظلم تاریخ میں بھری پڑی ہے قلم لکھنے سے قاصر ہے۔
4۔ علوی تحریکوں کا گسترش:اس عصر میں عباسی حکومت کی یہ کوشش رہی کہ جامعہ میں علویوں سے نفرت پیدا کی جائے اور مختصر بہانے پر ان کو بی رحمانہ قتل و غارت کیا جاتا تھا کیونکہ علوی تحریک سے عباسی حکومت ہمیشہ اپنے آپ کو خطرہ سمجھ رہی تھی۔
اسی لئے اس سلسلے کی ایک کڑی یعنی امام ھادی علیہ السلام کو حکومت وقت نے مدینے سے سامرا بلایا اور فوجی چھاونی میں بہت سخت حفاظتی انتظام کے ساتھ گیارہ سال قید بند میں رکھا۔
عباسی خلفاء کا سیاہ ترین دور اور امام ھادی (ع) کا موقف
عباسی خلفاء میں سے خصوصا خلیفہ متوکل سب سے زیادہ علویوں اور شیعوں کے ساتھ عجیب دشمنی رکھتا تھا، اس لئے یہ دور تاریخ کا سب سے زیادہ سخت ترین اور سیاہ ترین دور کہا جاتا ہے لہذا امام ھادی علیہ السلام اس خلیفہ کے زمانے میں اپنے ماننے والوں کیلئے پیغام دینا بہت ہی سری اور احتیاط کے ساتھ انجام دیتے تھے؛ چونکہ امام (ع) سخت کنٹرول میں تھے اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے وکالت اور نمایندگی کے طریقے کو اپنایا۔
امام ھادی (ع) اور مکاتب کلامی
امام ھادی علیہ السلام کے اس سخت ترین شرائط کے زمانے میں دیگر مکاتب اور مذاھب کے ماننے والے اپنے عروج پر تھے اور باطل عقائد اور نظریات مثلا جبر و تفویض، خلق قرآن و غیرہ جامعہ اسلامی اور شیعوں کے محافل میں نفوذ کرکے امام (ع) کی ھدایت و رھبری کی ضرورت کو دو چندان کردیا تھا اور بہت سارے مناظرے ان موضوعات پر روشن گواہ ہے۔
حوالہ جات
(1)طبرسی، اعلام الوری، الطبعة الثالثه، دارالکتب الاسلامیه، ص 355؛ شیخ مفید، الارشاد، قم، مکتبه بصیرتی، ص 327
(2)شبلنجی، نورالابصار، ص 166، قاهره، مکتبته المشهد الحسینی
(3)وقایع الایام، ص ۲۸۲
28/02/2020
3رجب المرجب
شہادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام۔۔۔
شہادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کے موقع پر تمام مومنین و مومنات، علماء کرام، رہبر معظم بالخصوص امام زمانہ عج کی بارگاہ میں تعزیت پیش کرتے ہین۔۔۔💔
25/02/2020
امام محمد باقر علیہ السلام، ہدایت کے پانچویں چراغ کی آمد مبارک
امام اول حضرت علي ابن ابيطالب عليہم السلام کي تيسري پشت اور ھدايت کے پانچويں امام، حجت خدا حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کي ولادت پہلي رجب57 قمري ميں مدينہ منورہ ميں ہوئي، اور94 ہجري قمري ميں امام علي ابن الحسين زين العابدين عليہم السلام کي شہادت کے بعد امامت تفويض ہوئي اور 114 ہجري قمري کو 18 سال کي عمر ميں درجہ شہادت پر فائز ہوئے-
آپ (ع) کي والدہ دوسرے امام حضرت حسن بن علي عليہ السلام کي بيٹي تھيں اور والد علي بن حسين بن علي عليہم السلام تھے ،اس اعتبار سے آپ (ع) پہلے شخص ہيں جو ماں اور باپ کي طرف سے علوي (ع) فاطمي (ع) ہيں-
حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کا دور امويوں اور عباسيوں کے سياسي اختلافات اور اسلام کا مختلف فرقوںميں تقسيم ہونے کے زمانے سے مصادف تھا جس دور ميں مادي اور يوناني فلسفہ اسلامي ملکوں ميں داخل ہوا جس سے ايک علمي تحريک وجود ميں آئي- جس تحريک کي بنياد مستحکم اصولوں پر استوار تھي – اس تحريک کے لئے ضروري تھا کہ ديني حقايق کو ظاہر کرے اور خرافات اور نقلي احاديث کو نکال باہر کرے – ساتھ ہي زنديقوں اور ماديوں کا منطق اور استدلال کے ساتھ مقابلہ کرکے انکے کمزور خيالات کي اصلاح کرنا- نامور دھري اور مادہ پرست علماء کے ساتھ علمي مناظرہ و مذاکرہ کرنا تھا يہ کام امام وقت حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کے بغير کسي اور سے ممکن نہ تھا – آپ عليہ السلام نے حقيقي عقايد اسلامي کي تشہيرکي راہ ميں علم کے دريچوں اور درازوں کو کھول ديا اور اس علمي تحريک کو پہلي اسلامی يونورسٹي کے قيام کے طور پر ديکھا جاتا ہے -آپ کے بارے ميں امام حنبل اور امام شافعي جيسے اسلام شناس کہتے ہي
ابن عباد حنبلي کہتے ہيں : ابو جعفر بن محمد(ع) مدينہ کے فقہا ميں سے ہيں -آپ (ع) کو باقر کہا جاتا ہے اس لئےکہ آپ (ع) نے علم کو شکافتہ کيا اور اس کي حقيقت اور جوہر کو پہچانا ہے-(الامام الصادق و المذاہب الاربعہ -ج -1-ص 149)-
محمدبن طلحہ شافعي کہتے ہيں: محمد بن علي (ع) ، دانش کو شکافتہ کرنے والے اور تمام علوم کے جامع ہيں آپ کي حکمت آشکار اورعلم آپ کے ذريعہ سر بلند ہے-آپ (ع) کے سرچشمہ و جود سے دانش عطا کرنے والا دريا پر ہے-آپ کي حکمت کے لعل و گہر زيبا و دلپذير ہيں- آپ (ع) کا دل صاف اور عمل پاکيزہ ہے- آپ مطمئن روح اور نيک اخلاق کے مالک ہيں- اپنے اوقات کو عبادت خداوندميں بسر کرتے ہيں- پرہيز گاري و ورع ميں ثابت قدم ہيں- بارگاہ پرور دگار پروردگار ميں مقرب اور برگذيدہ ہونے کي علامت آپ (ع) کي پيشاني سے آشکار ہے-آپ (ع) کے حضور ميں مناقب و فضائل ايک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہتے ہيں- نيک خصلتوں اور شرافت نے آپ سے عزت پائي ہے-(الامام الصادق و المذاہب الاربعہ -ج -1- ص 149)-
پانچويں امام (ع) نے پانچ خليفوں( اسلامي بادشاہوں ) کا دور ديکھا:
1. وليدبن عبد الملک 86-96ھ-
2. سليمان بن عبدالملک 96-99 ھ-
3. عمر بن عبد العزيز 99-101ھ-
4. يزيد بن عبد الملک 101-105 ھ-
5. ھشام بن عبد الملک 105-125 ھ-
مذکورہ اسلامي ممالک کے حاکموں( خليفوں) ميں عمر بن عبد العزيز جو کہ نسبتاً انصاف پسند اور خاندان رسول اï·² (ص) وآلہ کے ساتھ نيکي کے ساتھ رفتار کرنے والا منفرد اسلامي بادشاہ (خليفہ) تھا جس نے معاويہ عليہ ہاويہ کي سنت يعني” معصوم دوم(ع) ،امام اول(ع) اور خليفہ چہارم حضرت علي ابن ابيطالب (ع) کے نام 69 سال تک خطبوںميں لعنت کہنے کي شرمسار بدعت اور گناہ کبيرہ کو ممنوع کيا –
پانچويں امام اور پہلي اسلامي دانشگاہ کے باني حضرت محمد باقر عليہ السلام سے اصحاب پيغمبر اسلام(ص) ميں سے جابر بن عبداï·² انصاري اور تابعين ميں سے جابر بن جعفي، کيسان سجستاني،اور فقہا ميں سے ابن مبارک،زھري، اوزاعي، ابو حنيفہ، مالک، شافعي اور زياد بن منزر نھدي آپ (ع) سے علمي استفادہ کرتے رہے-معروف اسلامي مورخوں جيسے طبري، بلاذري، سلامي، خطيب بغداداي، ابو نعيم اصفہاني و مولفات و کتب جيسے موطا مالک ، سنن ابي داوود، مسند ابي حنيفہ، مسند مروزي، تفسير نقاش،تفسير زمخشري جيسے سينکڈوں کتابوں ميں پانچويں امام (ع) کي درياي علم کي دُرّبي بہا باتيں جگہ جگہ نقل کي گئي ہيں اور جملہ قال محمد بن علي يا قال محمد الباقر ديکھنے کو ملتا ہے-(ابن شھر آشوب ج 4 ص 195)-
حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کي قايم کردہ اسلامي مرکز علم(يونيورسٹي) ميں سے مايہ ناز علمي شخصيتيں فقہ، تفسير اور ديگر علوم ميں تربيت حاصل کر گئے جيسے محمد بن مسلم، ذرارہ بن اعين، ابو بصير ، بُريد بن معاويہ عجلي، جابر بن يزيد، حمران بن اعين اور ھشام بن سالم قابل ذکر ہيں-
پانچويں امام (ع) نے دوسرے ائمہ کے مانند اپني زندگي کو نہ صرف عبادت اور علمي مصروفيت ميں بسر کي بلکہ زندگي کے دوسرے کاموں ميں بھي سرگرم تھے، جبکہ کچھ سادہ لوح مسلمان جيسے محمد بن مُنکَدِر ايسے اعمال کوامام (ع) کي دنيا پرستي تصور کرتے تھے ، موصوف کہتا ہے” امام کا کھيت ميں زياد کام کرتے ديکھنے کي وجہ سے ميں نے اپنے آپ سے کہا کرتا تھا کہ حضرت (ع) دنيا کے پيچھے پڑے ہيں لہٰذاميں نے سوچا کہ ايک دن انہيں ايسا کرنے سے روکنےکي نصيحت کروں گا، چنانچہ ميں نے ايک دن سخت گرمي ميں ديکھا کہ محمد بن علي زيادہ کام کرنيکي وجہ سے تھک چکے تھے اور پسينہ جاري تھا ميں آگے بڑھا اور سلام کيا اور کہنے لگا اے فرزند رسول (ص) آپ مال دنياکي اتني کيوں جستجو کرتے ہيں؟ اگر اس حال ميں آپ پر موت آجائے تو کيا کرينگے، آپ (ع) نے فرمايا يہ بھترين وقت ہے کيونکہ ميں کام کرتا ہوں تاکہ ميں دوسروں کا محتاج نہ رہوں اور دوسروں کي کمائي سے نہ کھاوں اگرمجھ پر اس حالت ميں موت آئے توميں بہت خوش ہونگا، چونکہ ميں خدا کي اطاعت و عبادت کي حالت ميں تھا-
حضرت امام محمد باقر عليہ السلام ديگر ائمہ ھدي کے مانند تمام علوم و فنون کے استاد تھے- ايک دن خليفہ ھشام بن عبد الملک نے امام (ع) کو اپني ايک فوجي محفل ميں شرکت کي دعوت دي جب امام(ع) وہاں پہنچے وہاں فوجي افسران سے محفل مذين تھي کچھ فوجي افسران تيرکمانوں کو ہاتھوں ميں لئے ايک مخصوص نشانے پر اپنا اپنا نشانہ سادتے تھے، چھٹے امام حضرت جعفر صادق عليہ السلام اس واقعے کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہيں :”جب ہم دربار ميں پہنچے تو ھشام نے احترام کيا اور کہا آپ نذديک تشريف لائيں اور تير اندازي کريں ميرے والد گرامي نے فرمايا ميں بوڈھا ہو چکا ہوں لہٰذا مجھے رہنے دے، ھشام نے قسم کھائي ميں آپ سے ہاتھ اٹھانے والا نہيں ہوں- ميرے والد بذرگوار (ع) نے مجبور ہو کر کمان پکڑي اور نشانہ ليا تير عين نشانہ کے وسط ميں جاکر لگا آپ (ع) نے پھر تير ليا اور نشانہ پر جاکر تير مارا جو پہلے تير کو دو ٹکڑے کرديئے اور اصل نشانہ پر جا لگا آپ تير چلاتے رہے يہاں تک کہ 9 تير ہوگئے ھشام کہنے لگا بس کريں اے ابو جعفر آپ تمام لوگوں سے تير اندازي ميں ماہر ہيں”-
آخر ميں امام محمد باقر (ع) کي جابر بن جعفي کو کئے وصيت کا مختصر حصہ آپ قارئين محترم کے نذر کرنے کي سعادت حاصل کرتے ہوئے اميد کرتا ہوں امام کے اقوال ہمارے لئے مشعل راہ اور نمونہ عمل قرار دے-
1. ميں تمہيں پانچ چيزوں کے متعلق وصيت کترا ہوں:
2. اگر تم پر ستم ہو تو تم ستم نہ کرنا-
3. اگرتمہارے ساتھ خيانت ہو تم خائن نہ بنو –
4. اگر تم کو جھٹلايا گيا تو تم غضبناک نہ ہو-
5. اگر تمہاري تعريف ہوئي تو خوشحال نہ ہو اگر تمہاري مذمت ہوئي تو شکوہ مت کرو-تمہارے متعلق لوگ جو کہتے ہيں اس پر غور کرو-پس اگر واقعاً ويسے ہي ہو جيسا لوگ خيال کرتے ہيں -تو اس صورت ميں اگر تم حق بات سے غضبناک ہوئے تو ياد رکھو خدا کي نظر سے گرگئے- اور خدا کي نظر سے گرنا لوگوں کہ نظر ميں گرنےسے کہيں بڑي مصيبت ہے- ليکن اگر تم نے اپنے کولوگوں کے کہنے کے برخلاف پايا تو اس صورت ميں تم نے بغير کسي زحمت کے ثواب حاصل کيا-
يقين جا نو! تم ميرے دوستوں ميں صرف اسي صورت ميں ہو سکتے ہو کہ اگر تمام شہر کے لوگ تم کو برا کہيں اور تم غمغين نہ ہو، اور سب کے سب کہيں تم نيک ہو تو شادمان نہ ہو، اور لوگوں کے برائي کرنے پر خوف زدہ مت ہو، اس لئے کہ وہ جو کچھ کہيں گے اس سے تم کو کوئي نقصان نہ پہنچے گا ، اور اگر لوگ تمہاري تعريف کريں جبکہ تم قرآن کي مخالفت کر رہے ہو بھر کس چيز نے تم کو فريفتہ کر رکھا ہے؟ بندہ مومن ہميشہ نفس سے جہاد ميں مشغول رہتا ہے تا کہ خواہشات پر غالب ہو جائے اور اس امر کيلئے اہتمام کرتا ہے
حضرت امام محمد باقر 411ھ ميں خليفہ ھشام بن عبد الملک کے حکم پر زہر دے کر شہيد کردئےگئے- آپ (ع) 57 سال تک وحي الہٰي کي ترجماني کرتے رہے- آپ کے بعد آٹھويں معصوم اور چھٹے امام حضرت جعفر صادق (ع) آپکے جانشيني پر فائز ہوئے اور آپ (ع) کے قائم کردہ اسلامي مرکز علم کو وسعت عطا کرکے اسلام ناب محمدي (ص) کي توضيع و تفسير بيان فرمائي۔
(خداوند ہميں ان علوم کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کي توفيق عطا فرمائے،آمين)
بشکریہ: تبیان
03/12/2019
Aslamalikum Wa Ya Ali. a/s madad
Most important knowledge of Islamic month mahy
Safar 1441 Hajri-November/ December 2019
Like-share-comments
Like our page
Talab-dua
Majid Ali Baloch & Familiy
03/11/2019
Aslamalikum Wa Ya Ali. a/s madad
Most important knowledge of Islamic month mahy
Safar 1441 Hajri-October/ Novmebr 2019
Like-share-comments
Like our page
Talab-dua
Majid Ali Baloch & Familiy
10/10/2019
Aslamalikum Wa Ya Ali. a/s madad
Most important knowledge of Islamic month mahy
Safar 1441 Hajri & September /October 2019
Like-share-comments
Like our page
Talab-dua
Majid Ali Baloch & Familiy
31/08/2019
Aslamalikum
wa Ya Ali a.s madad
most important Knowledge of Mahi Muharam-ul-Haram1441 hajwari and September 2019
Like + Comment + shier
Talab dua
Majid Ali Baloch
Syed Nisar Ahmed Shah
Syed Waqar Ali Shah