The Taqwa Institute

The Taqwa Institute

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Taqwa Institute, Wah.

“Knock, And He'll open the door
Vanish, And He'll make you shine like the sun
Fall, And He'll raise you to the heavens
Become nothing, And He'll turn you into everything"

10/07/2026

Looking for a qualified online Quran teacher for your child?

At Taqwa Institute, we make Quran learning easy, interactive, and enjoyable.

✔ One-to-One Live Classes
✔ Qualified Teachers
✔ Flexible Timings
✔ Individual Attention
✔ Islamic Studies
✔ FREE Trial Class

🌍 Enrolling students worldwide!

📩 Message us now to reserve your child's free trial lesson.





02/07/2026

جس نے مسجد میں ایک یا دو آیتیں پڑھیں .....

عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا:

کیا تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نہیں جاتا کہ وہاں کتاب اللہ کی دو آیتیں پڑھ لے اور ان کی تعلیم حاصل کر لئے؟ یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے، تین آیتیں پڑھنا تین اونٹیوں سے بہتر ہے اور چار پڑھنا چار اونٹنیوں سے بہتر ہے اور جتنی آیتیں پڑھے گا، اتنے ہی اونٹوں سے بہتر ہے۔

صاحب قرآن کے والدین کا مقام ...

بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلا شبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

جس شخص نے قرآن پڑھا اور سیکھا اور اس پر عمل کیا، قیامت کے دن اس کے والدین کو نور کا ایک تاج پہنایا جائے گا، جس کی روشنی سورج کی روشنی کی طرح ہوگی اور اس کے والدین کو دو کپڑوں کے جوڑے پہنائے جائیں گے۔ وہ کہیں گے: ہمیں یہ جوڑے کس لیے پہنائے گئے ہیں؟ تو کہا جائے گا: تمہارے بیٹے کے قرآن پڑھنے اور عمل کرنے کی وجہ سے ۔

صاحب قرآن کی مثال رسی سے مضبوط بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے، اگر اس کی نگرانی کرے گا تو اس کو اپنے پاس محفوظ رکھے گا اور اگر اس کو کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔

02/07/2026

100 قتل کرنے والے کی کہانی۔

29/06/2026

Taqwa Institute presents reciation of Surah Al Baqarah 153-157.

29/06/2026

المتصدقين (صدقہ دینے والے) والمرابين (سود کا لین دین کرنے والے)
دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں: ایک جو دوسروں کے لیے نعمت اور اپنے وطن اور ملک کے لیے خیر کا ذریعہ ہے، جب کہ دوسرےایک آفت، ایک بڑی وبا اور ایک وسیع برائی ہے۔ یہ دونوں خیرات کرنے والے اور سود لینے والے ہیں۔

صدقہ کرنے والا وہ ہے جو بدلے میں کسی چیز کی توقع کیے بغیر مال دیتا ہے۔ بلکہ وہ محتاجوں، کمزوروں اور مسکینوں کو دیتے ہیں، صرف خدا سے اجر اور اس کی امید رکھتے ہیں۔
{ہم تمہیں صرف خدا کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، تم سے نہ اجر اور نہ شکر گزاری کے لیے۔} [الانسان: 9]۔

دوسری طرف سود لینے والا اس کے برعکس ہے۔ وہ کمزوروں اور ضرورت مندوں سے پیسے لیتے ہیں، ان کی کمزوری اور ضرورت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ ان سے بغیر کسی معاوضے کے، ناانصافی، لالچ اور جارحیت سے لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم کتاب میں ان گروہوں میں سے ہر ایک کی حالت اور ان کے انجام کو واضح کر دیا ہے۔ جو اپنے لیے سبق سیکھنا چاہتا ہے وہ نصیحت حاصل کرے اور جسے اللہ تعالیٰ نے نصیحت حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے وہ نصیحت حاصل کرے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {خدا سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے} [البقرۃ: 276]؛
سود خور کی طرف سے لیا گیا مال، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ، وہ رقم برکت سے خالی ہے، اور اس کا انجام اور نتیجہ قلت ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص سود کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ نہیں کرتا مگر اس کے کام کا انجام قلت ہو گا۔ (اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے)۔ جہاں تک صدقہ کرنے والا ہے تو اس کے صدقے کی برکت اسے دنیا و آخرت میں ترقی، بلندی، بھلائی اور برکت کی صورت میں ملتی ہے، خواہ اس نے جو صدقہ دیا وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ {جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگتی ہیں۔ ہر بال میں سو دانے ہیں۔ اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے (اپنا اجر) بڑھا دیتا ہے۔ اور اللہ ہی صدقہ کرنے والا ہے۔‘‘ (البقرہ 2:261) اگر کوئی صدقہ ایک کھجور کے برابر بھی ہو تو بھی اللہ تعالیٰ اس کی پرورش کرے گا .

اور ان کی حالت اور ان کی حالت کے بارے میں قرآن کریم کی واضح تصریحات میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {اے ایمان والو دوگنا اور کئی گنا سود نہ کھاؤ بلکہ اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (130) اس مبارک سیاق و سباق میں، اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ سود صدقہ کے مخالف ہے، اور سود لینے والے صدقہ دینے والوں کے مخالف ہیں۔ وہ سود خوروں کو جہنم کی آگ سے ڈراتا ہے، پھر اس جنت کا ذکر کرتا ہے جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کی چوڑائی کے برابر ہے اور جو نیک لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے ان کی خصوصیات میں سے یہ ذکر کیا ہے کہ وہ آسانی اور مشکل کے وقت گزارتے ہیں۔ یعنی وہ سخاوت، خیرات، خرچ کرنے اور آزاد خیالی کے لوگ ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے ہاں سود لینے والے کی سزا کا ذکر ہے اور صدقہ کرنے والوں کے اجر کا ذکر ہے۔

اور سود کھانے والے کے عذاب میں سے ایک وہ عذاب ہے جس کا ذکر اللہ نے اپنے اس فرمان میں کیا ہے: { سود کھانے والے [قیامت کے دن] کھڑے نہیں ہو ںگے مگر سوائے اس شخص کے جس کو شیطان نے دیوانہ بنا دیا ہو} (البقرۃ: 275)۔ مفسرین میں سے ایک سے زیادہ نے کہا: یہ سود لینے والے کی اس حالت کی وضاحت ہے جس دن وہ قبر سے اٹھے گا اور اس حالت میں اٹھے گا۔ مرگی کی حالت میں جسے شیطان پاگل پن میں مارتا ہے، تو وہ ان سود خوروں کے بوجھ سے دب جاتا ہے جس سے اس نے اپنا پیٹ اور پیٹ بھرا تھا، چنانچہ اس نے اس پر بوجھ ڈالا اور اسے اس بدحالی میں مبتلا کردیا۔ اس میں اور ان لوگوں میں کتنا بڑا فرق ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے‘‘۔ (اسے احمد نے روایت کیا ہے)۔ سود لینے والا اس طرح اٹھے گا جیسے کسی بدروح کے قبضے میں ہو، جب کہ صدقہ دینے والا بابرکت حالت میں اس کے صدقے کے سایہ دار ہو گا، یہاں تک کہ لوگوں میں فیصلہ ہو جائے۔

سود لینے والے کی سزاؤں میں سے وہ ہے جو صحیح البخاری میں مذکور ہے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل حدیث میں ایک خواب بیان کیا جو اس نے دیکھا تھا: ایک آدمی خون کی ندی میں تیر رہا ہے۔ جب تک اللہ نے چاہا تیرا پھر جب وہ باہر نکلنے کے لیے کنارے پر پہنچا تو کنارے پر ایک آدمی کھڑا تھا۔ جب وہ قریب آیا تو اس شخص نے اس پر پتھر پھینکا۔ وہ اسی حالت میں رہتا ہے، اپنی موت کے بعد یہ سزا بھگتتا ہے۔ اس منحوس حالت اور صدقہ دینے والے کی حالت میں کتنا بڑا فرق ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں بے پناہ اجر، کثرت اجر اور عظیم نعمتوں کا وعدہ کیا ہے۔

اور سود لینے والے یہودیوں سے مشابہت رکھتے ہیں جن کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس خصوصیت کے ساتھ کیا ہے جب فرمایا: {اور ان کا سود لینا، حالانکہ ان کو اس سے منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کے مال کو ناحق کھاتے ہیں} (النساء: 161)۔ وہ کافر مشرکین سے مشابہت رکھتے ہیں۔ جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے خطاب کیا تو آپ نے زمانہ جاہلیت میں رائج تمام سود کو ختم کر دیا اور فرمایا کہ "جاہلیت سے پہلے کے تمام سود کو ختم کر دیا گیا ہے۔" اسلام سود کو ختم کرنے اور اس کے خلاف تنبیہ کے لیے آیا ہے۔ جس کو اللہ اس سے حفاظت اور عافیت کی طرف رہنمائی کرتا ہے اللہ نے اسے یقیناً عافیت عطا فرمائی ہے۔ جو لوگ اس سے داغدار اور ناپاک ہو جاتے ہیں، ان کی حالت سود کے داغ میں یہودیوں اور مشرکوں کی سی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ اور تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم یقیناً ان لوگوں کے طریقے پر چلو گے جو تم سے پہلے گزرے ہیں، ہر دور تک پھیلے ہوئے اور ہاتھ بہ ہاتھ، چاہے وہ چھپکلی کے سوراخ میں ہی کیوں نہ جائیں۔ آپ بھی اس میں داخل ہوںگے۔

صدقہ کرنے والا وہ ہے جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے غریبوں اور مسکینوں کے لیے شفقت اور شفقت بھر دی ہو۔ جب اسے کسی ضرورت، کمزوری، تنگی یا غربت کا سامنا ہوتا ہے تو وہ دل کھول کر اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے، خدا کے وعدے، اس کے فیاض اجر اور اس کے عظیم اجر کا انتظار کرتا ہے۔ یہ سود خور کے برعکس ہے، جو جب لوگوں کو سخت ضرورت میں دیکھتا ہے، تو لالچ اور لالچ میں آکر انہیں اس شرط پر رقم کی پیشکش کرتا ہے کہ وہ اسے کئی گنا زیادہ واپس کردیں۔ یہ لالچ اور حرص قرض کے جاری رہنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے اور وہ غریبوں کی کمزوری اور ضرورت مندوں کی ضرورتوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اس کے دل سے رحم اور شفقت نکال دی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جیسا کہ مستند روایت ہے: "اللہ ان پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔" انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بدبخت وہ ہے جو رحمت سے محروم ہو۔

26/06/2026

بے نماز مرد اور عورت سے شادی نہ کیجیے

بے نماز عورت سے شادی نہیں کرنی چاہئے اس طرح بے نماز مرد سے بھی شادی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ کافر اور مسلمان کے درمیان فرق نماز ہے نماز دین کا ستون ہے۔ اسلام کی بنیاد نماز ہے۔ نماز کے بغیر انسان مسلمان نہیں جس نے نماز میں نہ پڑھی اس کے باقی اعمال کا کوئی اعتبار نہیں خواہ وہ ظاہرا کتنے ہی اچھے اعمال کرے کیونکہ قیامت کے دن سب سے پہلے سوال نماز کا ہو گا ۔ حدیث مبارکہ میں ہے:

أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ) کہ روز حشر سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا ۔

کتاب وسنت کے دلائل سے ثابت ہے کہ بے نماز خواہ مرد ہو یا عورت وہ کافر ہے۔

بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ وَالشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلَاةِ »

"آدمی اور کفر کے درمیان فرق صرف نماز ہے۔“

قرآن کریم میں ہے:

فَإِنْ تَابُوا وَ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَ آتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي

الدين - الآية ) (سورة التوبہ (11)

اگر وہ تو بہ کریں نماز قائم کریں زکوۃ دیں تو تمہارے بھائی ہیں اگر وہ نماز نہ پڑھیں تو ان سے تمہارا کوئی رشتہ نہیں ۔

شیخ صالح بن عثیمین باللہ کا فتوئی ہے کہ بے نماز کافر ہے۔
صحابہ کرام شیمان نام کا اسی بات پر اجماع تھا کہ بے نماز کافر ہے۔ عبداللہ بن حقیق دالنے کا قول ہے کہ صحابہ کرام اپنی نماز چھوڑنے والے کے علاوہ کسی کو کافر نہیں کہتے تھے۔
علاوہ ازیں قرآن کریم اور احادیث مصطفی صلی ا ہم میں بھی بے نماز کی بربادی و ہلاکت کے دلائل بکثرت موجود ہیں میں نے یہ چند دلائل صرف نماز کی اہمیت کے پیش نظر بیان کئے ہیں کیونکہ ہمارا معاشرہ اس فریضے کو بالکل اہمیت نہیں دیتا، بڑے بڑے گاؤں کی مسجدیں خالی رہتی ہیں اور بڑے بڑے محلوں میں چند افراد کے علاوہ پورے کے پورے گھرانے نماز نہیں پڑھتے جیسا کہ نماز ان پر فرض ہی نہیں ۔
لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے کیونکہ وہ اللہ جس نے ایک ایک قوم کو صرف ایک برائی کے بدلے تباہ و برباد کر دیا۔ بنی اسرائیل کو ہفتہ والے دن شکار سے منع کیا گیا لیکن وہ باز نہ آئے اس نافرمانی کے بدلہ میں اللہ نے ان کو بندر اور سور بنا دیا چنانچہ وہ تین دن تک زندہ رہے بالآ خر صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور قوم لوط اپنی لواطت کے سبب ہلاک کی گئی۔
اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ میں نے کتنی نمازیں چھوڑی ہیں اللہ سے توبہ کریں وہ پچھلے گناہ معاف کرنے والا ہے ، بندہ تو بہ کرے تو اللہ خوش ہوتاہے۔
تقوی انسٹیٹیوٹ

24/06/2026


The Taqwa Institute
سورہ التین کی تلاوت سنیں اور ایک خوبی اور ایک خامی ضرور نکالیں
Comment your answer۔

24/06/2026

ہمارے معاشرے کا شیرازہ ایک بار پھر بکھر گیا ہے۔ گزشتہ روز سرگودھا میں ایک معصوم لڑکی کے ساتھ پیش آنے والے ہولناک واقعے کی رپورٹس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے بعد عوامی سطح پر شدید مذمت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لیکن جہاں ایک طرف پورا معاشرہ اس وقت غم و غصے میں ڈوبا ہوا ہے، وہیں ہمیں خود سے ایک سوال پوچھنا ہوگا: نظام کی تبدیلی سے پہلے ہم کتنی بار بالکل اسی قسم کی (headlines) دوبارہ پڑھیں گے؟

24/06/2026

کیا آپ حضرت سارہ علیھا السلام کے بارے میں جانتے ہیں؟؟؟

وہ ابراہیم علیہ السلام کی پہلی بیوی تھیں اور وہ آپ کے چچا کی بیٹی تھیں حضرت سارہ علیہ السلام حسن سیرت اور حسن صورت دونوں سے مزین تھیں۔ وہ اپنے شوہر پر ایمان لائیں اور ہر حال میں آخری دم تک ان کا ساتھ دیا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی تو ان کے ساتھ حضرت سارہ علیہا السلام اور ان کے بھتیجے لوط علیہ السلام بھی موجود تھے.
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کنعان میں اباد ہوئے اور وہاں قحط پڑا تو ابراہیم علیہ السلام سارہ علیہ السلام کے ساتھ مصر تشریف لے گئے وہاں کا فرعون مصر کا فرمان رواں تھا.
فرعون نے سار علیہ السلام کو ابراہیم سے زبردستی چھین لیا اور اپنے محل میں لے گیا ۔ سارہ کے لیے یہ بہت بڑی مصیبت اور ازمائش کا وقت تھا فرعون بری نیت سے ان کی طرف بڑھا تو انہوں نے رو کر اللہ سے دعا مانگی کہ اے میرے رب مجھے اس ظالم سے بچا لے اللہ نے ان کی دعا قبول کر لی اور بادشاہ کو ایسی بیماری میں مبتلا کیا جس سے اپنے ہاتھ پاؤں ہلا نہیں سکتا تھا اور اسے ایسا محسوس ہوتاجیسے کوئی اس کا گلا گھونٹ رہا ہے وہ سمجھ گیا کہ یہ کوئی اللہ کی بہت ہی نیک خاتون ہے اب اس نے بڑی لجاجت کے ساتھ ان سے معافی چاہی اور درخواست کی کہ اس کی صحت کے لیے دعا کریں حضرت سارہ نے دعا کی کہ اللہ تعالی یہ اپنے کیے پہ پچھتا رہا ہے تو اللہ تعالی تو اس پر اپنی رحمت کر دے ان کی یہ دعا فورا قبول کی گئی اور بادشاہ اس وقت ٹھیک ہو گیا ٹھیک ہو کر اس نے ذرا سارہ علیہ السلام کی بہت عزت کی اور نہ صرف انہیں ابراہیم علیہ السلام کو واپس دیا بلکہ ہاجرہ نامی اپنی بیٹی کی شادی بھی یہ کہہ کر ابراہیم علیہ السلام سے کر دی کہ میری بیٹی کا اس گھر میں کنیز بن کر رہنا دوسرے گھر میں گھر میں ملکہ بن کے رہنے سے بہتر ہے اور اس کے ساتھ ہی بادشاہ نے بہت سی کنیزیں غلام مال مویشی اور تحائف بھی ابراہیم علیہ السلام اور سارہ علیہ السلام کے نذر کیے.

سارا علیہ السلام کو اللہ تعالی نے طویل زندگی عطا کی اور بیٹے کے نعمت سے نوازا ۔ ان کے سامنے اسحاق علیہ السلام جوان ہوئے ان کی شادی ہوئی ان کے بیٹے یعقوب علیہ السلام سارہ کے سامنے ہی پیدا ہوئے یوں انہوں نے اپنے پوتے سے بھی انکھیں ٹھنڈی کیں۔انکی زبان اللہ کے ذکر اور شکرسے ہر وقت تر رہتی اور بالاخر اس دنیا سے کوچ کر گئی اور ابراہیم علیہ السلام کی حیات ہی میں وفات پا گئی تھی

21/06/2026

شریک حیات کے انتخاب میں جذبات اور احساسات کا احترام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ والدین اور بزرگوں کا تجربہ اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن شادی جیسے اہم فیصلے میں نوجوانوں کی ذہنی ہم آہنگی، پسند اور جذباتی لگاؤ کو یکسر نظر انداز کرنا اکثر مسائل کا باعث بنتا ہے.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رشتہ کے انتخاب میں لڑکی اور لڑکے کے جذبات کا احترام کرنے کے قائل تھے اور خوبصورتی پر یقین رکھتے تھے۔ وہ عورت کے اس حق کو بھی تسلیم کرتے تھے کہ لڑکے کی طرح اسے بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ خاوند کی خوبصورتی کو دیکھے۔ آپ والدین کو اس بات سے منع کرتے تھے کہ وہ بچیوں کو بدصورت لوگوں کے ساتھ نکاح پر مجبور کریں اور فرماتے: ”جس طرح تم خوبصورت بیوی کے خواہش مند ہوتے ہو، اسی طرح بچیاں بھی پسند کرتی ہیں کہ ان کا شریکِ حیات خوبصورت ہو۔
“ایک عورت اپنے خاوند کو لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی جس کے بال پراگندہ تھے۔ وہ اس سے خلع کا مطالبہ کر رہی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کے شوہر کو حمام میں نہلاؤ، اس کے ناخن تراشو اور بال بھی کاٹ دو۔ اس نئی ہیئت میں شوہر کو جب بیوی نے دیکھا تو وہ اپنے مطالبے سے دستبردار ہو گئی۔ سیدنا عمر فاروق نے اس موقع پر شخصِ مذکور سے اور دیگر حاضرین سے فرمایا: ”ان بیویوں کے لیے اسی طرح بن ٹھن کے رہا کرو، اللہ کی قسم یہ بھی چاہتی ہیں کہ تم ان کے لیے خوبصورت بن کر رہو جس طرح تم چاہتے ہو کہ یہ زیب و زینت اختیار کریں۔“(عبقریۃ عمر، ص: 188)

Want your school to be the top-listed School/college in Wah?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Wah

Address

Wah