05/06/2026
*ایک باپ کی آنکھوں میں آنسو؟*
*الشیخ عبد السلام العمري والمدني حفظه الله*
آج میں آپ سے اس باپ کی زبان میں بات کر رہا ہوں، جس کی گود میں کھیلنے والی گڑیا آج بڑی ہو گئی ہے۔ وہ بیٹی جو کبھی اس کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتی تھی، آج اپنی زندگی کی ایک نئی بستی بسانے جا رہی ہے۔
لیکن جب میں اپنے معاشرے کو دیکھتا ہوں تو دل ایک انجانے خوف سے کانپ اٹھتا ہے۔
ہماری بیٹیاں رحمت بن کر گھروں میں آتی ہیں۔ ہم انہیں محبت سے پالتے ہیں، دعاؤں سے سنوارتے ہیں، شہزادیوں کی طرح رکھتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان کی قدر کرنے والے مرد بھی تیار کررہے ہیں؟
ہم اپنی بیٹیوں کو عزت کے ساتھ رخصت کرتے ہیں، مگر کیا ہر گھر انہیں عزت دیتا ہے؟ کتنی بیٹیاں خاموشی سے درد سہتی ہیں۔ کتنی عورتیں ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ مسکراتی ہیں۔ وہ گھر بچانے کے لیے خود کو مٹاتی رہتی ہیں۔ وہ سب کو سمجھتی ہیں، سب کو معاف کرتی ہیں، سب کے لیے جیتی ہیں، مگر جب وہ اندر سے ٹوٹتی ہیں تو کوئی ان کا سہارا نہیں ہوتا۔
میرا سوال صرف مردوں سے نہیں، پورے معاشرے کے ضمیر سے ہے۔
کیا ہم نے بیٹیوں کو صرف یہ سکھایا ہے کہ ہر حال میں برداشت کرو؟ کیا ہم نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ ان کا بھی دل ہے، ان کی بھی عزت ہے، ان کی بھی پہچان ہے، اور ان کا بھی حق ہے کہ وہ سکون کے ساتھ زندگی گزاریں؟
آج بہت سے مرد چاہتے ہیں کہ بیوی ان کا خیال رکھے، احترام کرے، وفادار رہے، دکھ سہے، گھر سنبھالے، رشتے نبھائے۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ عورت بھی انسان ہے۔ اسے بھی محبت چاہیے۔ اسے بھی عزت چاہیے۔ اسے بھی سکون چاہیے۔ اسے بھی یہ احساس چاہیے کہ زندگی کے اس سفر میں وہ تنہا نہیں ہے۔
عورت دولت کی بھوکی نہیں ہوتی۔ اسے بڑے گھر، اونچے عہدے، یا میٹھے لفظوں سے زیادہ ایک محفوظ دل چاہیے۔ وہ ایک پناہ چاہتی ہے۔ ایسا کندھا جہاں وہ خوف کے بغیر رو سکے۔ ایسا گھر جہاں اس کی عزت محفوظ رہے۔ ایسا مرد جو اسے تکلیف دینے سے پہلے اللہ سے ڈرے۔
مگر افسوس! آج ہم نے گھروں کو خوبصورت بنا لیا، مگر دلوں کو ویران چھوڑ دیا۔ جب مرد ذمہ داری بھول جاتا ہے، جب رحم کی جگہ انا آ جاتی ہے، جب محبت کی جگہ جبر آجاتا ہے، تو صرف ایک عورت نہیں ٹوٹتی، پورا گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ پھر اولاد بھی زخمی ہوتی ہے، رشتے بھی کمزور ہوتے ہیں، اور معاشرہ بھی اپنی بنیاد کھو دیتا ہے۔ یہ صرف عورت کا مسئلہ نہیں۔ یہ ایک درد ہے۔ یہ بے بسی ہے۔ یہ خاموش سوال ہے۔ یہ ہماری نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔
اے بزرگو!
اپنے بیٹوں کو صرف کمانا نہ سکھاؤ، نبھانا بھی سکھاؤ۔
انہیں صرف مرد بننا نہ سکھاؤ، انسان بننا بھی سکھاؤ۔
انہیں بتاؤ کہ عورت کمزور نہیں، امانت ہے۔ بیوی خادمہ نہیں، شریکِ حیات ہے۔ گھر جبر سے نہیں، رحم، عدل اور محبت سے چلتا ہے۔
اے مردو!
یاد رکھو، شوہر بننا آسان ہے۔ باپ بننا آسان ہے۔
گھر کا سربراہ بننا آسان ہے، لیکن اخلاق، صبر، ضبط نبھانا مشکل ہے۔
اور اللہ کے نزدیک عزت اسی کی ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے۔
اپنی بیویوں، بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ ان کے آنسو معمولی نہیں ہیں۔ ان کی آہیں خالی نہیں جاتیں۔ جس گھر میں عورت کی عزت محفوظ ہو، وہاں برکت اترتی ہے۔ اور جس گھر میں عورت ٹوٹتی ہو، وہاں دیواریں تو کھڑی رہتی ہیں، مگر گھر ختم ہو جاتا ہے۔
اللہ ہمارے گھروں کو سکون کا گہوارہ بنائے۔
آمین۔
05/06/2026
25/05/2026
08/05/2026
20/04/2026
06/04/2026