انسانی تاریخ کی سب سے سنسنی خیز تحقیق جسے پڑھ کر ہم ہر بیماری سے بچ سکتے ہیں..
مصر کے ڈاکٹر عماد فہمی جو کہ ایک ماہر غذائیات (Nuitritionist) اور موٹاپے کے معالج Bariatric consultant ہیں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ بتایا کہ انسانی صحت کا راز قرآن کی تین آیات میں پنہاں ہے:
1۔ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۰ۚ (الاعراف آیت 31) ترجمہ: کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔
اس کی تشریح میں ڈاکٹر فہمی کہتے ہیں کہ اکثر ڈاکٹر نشاستہ (carbohydrates) اور چکنائی ( fats) سے منع کرتے ہیں حالانکہ یہ دونوں چیزیں انسانی صحت کے لئے بنیادی ( اہمیت کی حامل ہیں۔
اصل چیز جس سے منع کیا جانا چاہئے، وہ حد سے تجاوز ہے.
2۔ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ (الانبياء آیت 30) ترجمہ: اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔ پیاس لگے یا نہ لگے پانی ضرور پیجئے۔ طبی معیار کے مطابق ہر شخص اپنے وزن کے ہر ایک کلو پر 30 ملی گرام پانی پیئے۔ مثلاً اگر کسی کا 70 کلو وزن ہو تو وہ 70 × 30 یعنی 2100 ملی گرام یعنی 2 لیٹر اور 100 گرام (تقریباً) 8 گلاس پانی روزانہ پیئے۔
یہ جگر، گردوں اور دل کی اچھی کاکردگی کے لئے بہت ضروری ہے۔
3) وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا۱۰ۙ وَّجَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا۱۱ (النباء آیت 10-11) ترجمہ: اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا۔
ڈاکٹر فہمی کہتے ہیں کہ رات کو جلدی سویا جائے اور صبح جلدی اٹھا جائے۔ یہ سب سے بہترین نسخہ ہے جو آپ کو نہ موٹا کرے گا اور نہ بیمار کرے گا۔۔۔
اسلامی طرز پہ زندگی گزارتے ہوئے اپنے جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھے۔
Mafaad-E-Aamaa
when i see the brightness of my deeds in the eyes of my clients....... i feel satisfaction �
.وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا۔ وہ (خوب) جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اور جو آسمان سے نیچے آئے اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے، اور جہاں کہیں تم ہو وه تمہارے ساتھ ہے اور جو تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے".
یہ1928ء کا سال تھا، جب ڈاکٹر الیگزنڈر فلیمنگ مختلف بیکٹیریا (جرثوموں) پر تحقیقات کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے غور کیا کہ اُن کی ایک تحقیقاتی ڈش (پیٹری ڈش) میں پھپھوندی (فنگس) لگ گئی ہے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ پھپھوندی کے اردگرد بیکٹیریا مرگئے تھے۔ مزید تحقیق کرنے پر پتا چلا کہ پھپھوندی سے نکلنے والے ایک مادے نے بیکٹیریا کی نشوونما روک دی تھی۔
اُنہوں نے اس کمپاؤنڈ کا نام پینسلین ( Penecillin) رکھا۔ اور یہی پینسلین دنیا میں پہلی اینٹی بائیوٹک کےطور پر متعارف ہوئی۔ اور پھر اُس کے بعد مستقل تحقیق اور تجربات کے نتیجے میں نت نئی اینٹی بائیوٹکس کی دریافت و تعارف کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوگیا، جو تاحال جاری و ساری ہے۔
اینٹی بائیوٹکس، جدید طب کا ایک قیمتی تحفہ اور انسانیت کے لیے گویا بیش بہا نعمت ہیں۔ جن سے مہلک جراثیمی انفیکشنز میں مبتلا مریضوں کا کام یاب علاج ممکن ہوسکا اور بلا مبالغہ ان کے استعمال کے نتیجے میں کروڑوں زندگیاں بچائی جاسکیں۔ ایک اندازے کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے درست اور بروقت استعمال کی وجہ سے انسانی زندگی میں مجموعی طور پر 23 برس کا اضافہ ہوا ہے۔
تاہم، ان اینٹی بائیوٹکس کی غیر معمولی افادیت کے باوجود ان کا غیرمناسب اور غیرضروری استعمال نہ صرف ان کی اِسی افادیت کو کم کر رہا ہے بلکہ اینٹی بائیوٹک ریزیسٹینس جیسے عالمی مسئلے کو جنم دے رہا ہے۔
یعنی اگر اینٹی بائیوٹکس کو بغیر کسی وجہ کے استعمال کیا جائے، تو آپ کے جسم میں موجود خطرناک بیکٹیریا کی ان کے خلاف مدافعت بڑھ سکتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ادویہ اُس وقت کام نہیں کریں گی، جب اِن کی اشد ضرورت ہوگی۔
عالمی ادارۂ صحت نے اینٹی بائیوٹک ریزیسٹینس کو دنیا میں صحت کے تحفّظ اور بہتری کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ اور ہم اِس مضمون میں اینٹی بائیوٹکس کے مؤثر اور محفوظ استعمال ہی سے متعلق کچھ بنیادی باتوں پر روشنی ڈالیں گے۔
اینٹی بائیوٹکس کی اقسام اور اُن کا دائرۂ کار (اسپیکٹرم):
یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہر اینٹی بائیوٹک مخصوص جراثیم ہی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کچھ اینٹی بائیوٹکس کا دائرۂ کار وسیع ہوتا ہے، جن کو وسیع الاثر (Broad Spectrum) کہا جاتا ہے اور وہ کئی قسم کے جراثیم کے خلاف موثر ہیں۔ جب کہ کچھ کا دائرۂ کار محدود ہوتا ہے، جو محدود الاثر ( Narrow Spectrum ) کہلاتی ہیں۔ اورصرف چند مخصوص جراثیم ہی پر ہی اثر کرتی ہیں۔
عموماً ڈاکٹر، مریض کی علامات، انفیکشن کی قسم اور ممکنہ جراثیم دیکھتے ہوئے یا ترجیحی طور پر جرثومی حسّاسیت (Culture and sensitivity کی رپورٹ کی مطابقت سے مناسب اینٹی بائیوٹک تجویز کرتے ہیں۔ تواینٹی بائیوٹکس کے صحیح استعمال کے کچھ اصول ہیں۔
مناسب تشخیص پر مبنی استعمال:
اینٹی بائیوٹکس صرف ثابت شدہ بیکٹیریل انفیکشن پر اثر کرتی ہیں، وائرل اور فنگل انفیکشنز (Viral and fungal infections) میں یہ بے اثر ہیں۔ عام نزلہ، زکام اور کھانسی وغیرہ کی عموماً وجہ الرجی اور وائرل انفیکشنز ہوتے ہیں۔ خصوصاً اگر یہ بخار وغیرہ کے بغیر ہوں۔ لیکن بعض وائرل انفیکشنز جیسے کورونا، خسرہ، ممز (کن پیھڑ)، چکن گونیا یا ڈینگی وغیرہ میں تیز بخار بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح منہ اور جِلد کے چھالے اور جِلدی داد وغیرہ اکثر فنگل انفیکشنز کی وجہ سے ہوتے ہیں-
خون کے کچھ سادہ ٹیسٹ مثلاً CBC اس طرح کی بیماریوں کی تشخیص میں نہایت مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ وائرل انفیکشنز میں سردی، انفلوئنزا، کروپ، سانس کی نالی کی سوزش، چھاتی میں سردی (کھانسی) اور زیادہ تر گلے کی خراش شامل ہیں۔
یہ عموماً بیکٹیریل انفیکشن کی بہ نسبت زیادہ متعّدی ہوتے ہیں۔ اگر خاندان میں ایک سے زیادہ فرد کو ایک ہی بیماری ہو تو یہ امکانی طور پر وائرل انفیکشن ہے۔ جو عموماً چار سے پانچ دِنوں میں ٹھیک ہوجاتا ہے، لیکن پوری طرح صحت یاب ہونےمیں تین ہفتے تک کی طویل مدت لگ سکتی ہے۔
دیکھا گیا ہے، اس قسم کی معمولی علامات ظاہر ہوتے ہی لوگ بےدریغ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال ازخود شروع کردیتے ہیں، جو ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے۔
حالاں کہ اِن حالات میں اینٹی بائیوٹک لینا سودمند ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں چند عام طور پر کی جانے والی غلطیوں میں: ہر بخار میں اینٹی بایوٹک شروع کردینا۔ ہر قسم کی کھانسی میں اینٹی بایوٹک تجویز کرنا۔ کسی اور کی دوا خود استعمال کرنا وغیرہ شامل ہیں۔
صحیح خوراک، وقفہ اور دورانیہ:
کسی بھی اینٹی بایوٹک کی مقدار یا خوراک مریض کی عُمر، وزن، گُردوں اور جگر کی صحت کو مدنظر رکھ کر طے کی جاتی ہے۔ اسی طرح کسی بھی مجوّزہ اینٹی بائیوٹک کا دورانیہ بھی اس کی کیمیائی ہیئت اور ساخت کے علاوہ مرض کی شدت کو مدِنظر رکھ کر طے کیا جاتا ہے، جس کے متعلق آپ کا ڈاکٹر آپ کو ہدایات دیتا ہے۔
خیال رہے کہ دوا کی مطلوبہ خوراک سے کم مقدار یا دورانیہ اینٹی بائیوٹکس کی اثرپذیری کو بُری طرح متاثر کرتا ہے۔ اپنے ڈاکٹر کے بتائے ہوئے مکمل دورانیے میں دوا لینا انتہائی اہم ہے۔ علامات بہتر ہونے پر بھی دوا جاری رکھیں، ورنہ انفیکشن دوبارہ ہو سکتا ہے یا اینٹی بائیوٹک ریزیسٹینس پیدا ہو سکتی ہے۔
دوخوراکوں کے درمیان وقفہ:
ہراینٹی بائیوٹک کی ہر دوخوراکوں کے درمیان ایک مخصوص وقفہ ہوتا ہے (جیسے 8، 12 یا 24 گھنٹے)۔ اس وقفے پرعمل کرنا خون میں دوا کی مسلسل مؤثر مقدار برقرار رکھنے کے لیےضروری ہے۔ وقفے میں غیرضروری تعطل اینٹی بائیوٹکس کے مطلوبہ نتائج کے حصول میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
دوا دینے کا ترجیحی راستہ:
زیادہ تر اینٹی بائیوٹکس منہ کے ذریعے (گولیاں/ کیپسول) دی جاتی ہیں۔ شدید انفیکشن میں انجیکشن کے ذریعے یا عضلاتی راستے ( I/V or I/M) سے دی جاتی ہیں، تاکہ فوری اثر ہوسکے۔ کسی بھی کی مرض دوا لینے کا بہترین ذریعہ یا طریقہ (رُوٹ) آپ کا ڈاکٹرہی طے کرے گا۔
ذخیرہ کرنے کے طریقے:
اینٹی بائیوٹکس کو عام طور پر کمرے کے معمول کے درجۂ حرارت پر، سورج کی روشنی اور نمی سے دُور رکھیں۔ کچھ اینٹی بائیوٹکس کو فریج میں رکھنے کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں ہمیشہ دوا بنانے والی کمپنی کی دی گئی ہدایات پرعمل کریں۔
کھانے کے ساتھ تعلق:
ایک عام تاثر یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹکس ہمیشہ کھانے کے بعد لی جائیں، جو درست نہیں۔ کچھ اینٹی بائیوٹکس خالی پیٹ لی جاتی ہیں (کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے یا دو گھنٹے بعد) تاکہ ان کے خون میں جذب ہونے کا عمل بہتر طریقے پر ہو، مثلاً، ایزیتھرومائسین۔ کچھ اینٹی بائیوٹکس کھانےکےساتھ لی جاتی ہیں تاکہ پیٹ پران کے مضراثرات کو کم کیا جاسکے۔ مثلاً، اموکسی کلیو کلاویولانک ایسڈ اور کلنڈامائسین وغیرہ۔
اینٹی بائیوٹکس کو دودھ اور دہی کے ساتھ لینا، بعض اینٹی بائیوٹکس کے معدے سے جذب ہونے کا عمل متاثر کرسکتا ہے۔ مثلاً ،ڈوکسی سائیکلین کو۔
تیاری کا طریقہ (بطورِ خاص سسپنشن)
یہ ایک نہایت اہم عمل ہے، جس سے آگہی بہت ضروری ہے۔ بچّوں کے لیے اینٹی بائیوٹک سسپنشن (پاؤڈر سے تیار ہونے والا محلول) تیار کرتے وقت بوتل یا اُس کے ڈبّے پر لکھی ہدایات کا سختی سے خیال رکھیں۔
ذیابطیس میں پاؤں بچائیں
ہمیشہ صاف پانی (عام طور پر ابلے ہوئے ٹھنڈے پانی) کااستعمال کریں۔ بوتل پر دیئے گئے نشان تک پانی ڈالیں اور اچھی طرح ہلائیں تاکہ پاؤڈر مکمل گھل جائے۔ بعض ادویہ کو پانی میں حل کرنے کے لیے زور زور سے ہلانا دوا کا ذائقہ خراب کردیتا ہے، جس سے بچّوں کے لیے دوا ایک بد ذائقہ اور نا پسندیدہ محلول بن جاتی ہے اور وہ دوا پینے میں پس و پیش کرتے ہیں۔ چناں چہ دوا کے پاؤڈر کو پانی میں حل کرنے کے لیے تحمّل سے کام لیں تاکہ بچّے کے لیے دوا کی قبولیت برقرار رکھی جا سکے۔
تیار شدہ سسپنشن کو عام طور پر فریج میں رکھا جاتا ہے۔ تیار شدہ دوا کو مخصوص مدّت (7سے 14 دن) میں استعمال کریں، خواہ اُس کی حتمی معیاد بوتل پر کچھ بھی لکھی ہو۔
احتیاطی تدابیر:
کبھی بھی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس استعمال نہ کریں۔ مائع دوا کی ہر خوراک سے قبل بوتل ہلانا ضروری ہے۔ دوسروں کے لیے تجویز کردہ اینٹی بائیوٹک ہرگز استعمال نہ کریں۔
ڈاکٹر کو اپنی تمام الرجیز اور دیگر بیماریوں کے بارے میں ضرور بتائیں۔ اگر اینٹی بائیوٹک لینے کے بعد کوئی مضر اثر (جیسے خارش، سُوجن، سانس لینے میں دشواری) محسوس ہو، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اینٹی بائیوٹکس سے بچاؤ کا آزمودہ نسخہ :
حفظانِ صحت کے لیے اینٹی بائیوٹکس کے بےجا استعمال سے اجتناب، آج کے دَور کی اہم ضرورت ہے۔ اگر روزمرّہ زندگی میں صفائی، احتیاط اور بیماریوں سے بچاؤ کے اصول اپنا لیے جائیں تو اکثر انفیکشنز کو ہونے سے پہلے ہی روکا جاسکتا ہے۔ اِس طرح نہ صرف صحت بہتر رہتی ہے بلکہ اینٹی بائیوٹکس کے بار بار استعمال کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔
انفیکشنز سے بچاؤ کی تدابیر:
اینٹی بائیوٹکس کے استعمال سے بچنا ہے تو سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ انفیکشن سے بچاؤ کے طریقوں پر توجّہ دی جائے اور اُن پر عمل بھی کیا جائے۔ اِن تدابیر میں سرفہرست مندرجہ ذیل ہیں:
ہاتھوں کی صفائی: ہاتھ دن میں کئی بار اچھی طرح دھوئیں، خاص طور پر کھانے سے پہلے، باتھ روم کے استعمال کے بعد اور کہیں باہر سے گھر آنے پر۔ اس طرح جراثیم پھیلنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔
منہ کی صفائی: دن میں کم از کم دو بار صُبح اور رات سونے سے پہلے برش کریں۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی انفیکشن اور دیگر منہ کی بیماریوں سے بچاتی ہے۔
ویکسی نیشن: بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے تجویز کردہ تمام ویکسینز وقت پر لگوانا ضروری ہے، کیوں کہ ویکسینز مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی مضبوط اور محفوظ راہ ہیں۔
ماسک کا استعمال: دھول، دھواں اور فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں۔ یہ عمل سانس کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرتا ہے۔
متوازن غذا اور ورزش: صحت بخش غذا کھائیں اور باقاعدگی سے ورزش کریں۔ اس سے قوتِ مدافعت مضبوط رہتی ہے اور جسم بیماریوں کا مقابلہ بہتر طور پر کر سکتا ہے۔
پانی کا زیادہ استعمال: دن بھر میں مناسب مقدار میں پانی پینا جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے اور بیماریوں کے خلاف قدرتی دفاعی نظام بہتر کرتا ہے۔
صاف ستھرا، معیاری کھانا پینا: کھانے پینے میں حفظانِ صحت کا خاص خیال رکھیں اور باسی یا آلودہ چیزوں کے استعمال سے پرہیز کریں۔ جس قدر ممکن ہو، گھر کا تازہ اور محفوظ کھانا استعمال کریں، کیوں کہ باہر تیار ہونے والے کھانوں میں صفائی کا معیار ہمیشہ یقینی نہیں ہوتا۔
یاد رکھیں، اینٹی بائیوٹکس قیمتی ادویہ ہیں، جن کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمّے داری ہے۔ آپ اِنہیں ڈاکٹر کے مشورے، مقررہ خوراک، وقفے اور دورانیے میں استعمال کرکے نہ صرف اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ان ادویہ کی افادیت برقرار رکھ سکتے ہیں۔
Copied
05/12/2025
عموما پاکستان میں بتایا جاتا ہے کہ باقی ممالک کی نسبت سعودی عربیہ کے پیسے میں برکت ہوتی ہے
اپ کو پتہ ہے اس برکت کے پیچھے راز کیا ہے؟؟؟
باہر ممالک سے ائے لوگوں میں اکثریت جب یہاں ا جاتی ہے تو ان کی زندگی بدل جاتی ہے اگر میں بات کروں پاکستان کی تو پاکستان میں وہ تمام تر نوجوان یا کسی بھی عمر کے لوگ جب یہاں محنت اور مشقت کے لیے اتے ہیں تو ان کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی اتی ہے اور یہ تبدیلی ان کے لائف سٹائل اور 24 گھنٹے کی زندگی گزارنے کے طور طریقے میں اتی ہے،
پاکستان سے یہاں ائے ہوئے اکثریت نماز کے بڑے پابند ہوتے ہیں یہاں لوگ عموما فجر کے اذان سے پہلے یا فجر کی اذان کے ساتھ ہی اٹھتے ہیں اپ کو یہاں کے مساجد میں ہمارے ،
،پاکستان کے نسبت یہاں نمازی زیادہ ملیں گے فجر کے وقت تو جب اپ کے دن کا اغاز ہی نماز فجر سے ہو جائے تو
اٹومیٹکلی کامیابی کیے دروازے کھل جاتی ہے۔۔۔۔۔۔پاکستان کے اکثر لوگ یہاں نماز کی بڑی پابندی کرتے ہیں یا اس مٹی کی اپنی تاثیر ہے کہ انہیں اس پر مجبور کر دیتی ہے یا کام کی وجہ سے لوگوں کے اندر پیدا ہونے والے اس ڈسپلن کی وجہ سے لیکن عموما یہاں کے تمام مزدور ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ بروقت نماز پڑھے پانچ وقت کی نماز کی پابندی اور بہت سارے لوگ قران مجید کی تلاوت بھی پابندی کے ساتھ کرتے ہیں ہر بندہ صبح بہت جلدی اٹھتا ہے اور اکثریت کی بات کروں تو وہ رات کو بھی بہت جلدی ہی سو جاتے ہیں تو یہ جو برکت ہے وہ کسی کرنسی میں نہیں ہوتی یہ برکت نہ کسی ملک کے کسی خاص پیسے میں ہوتی ہے یہ برکت اصل میں اس ڈسپلن کے اندر ہے اس محنت اس لائف سٹائل کے اندر ہیں جو ایک پروڈکٹیو لائف سٹائل ہے یہاں ہر بندے کی زندگی ایک خاص مقصد کے لیے ایک خاص شکل میں تبدیل ہو جاتی ہے ہر بندہ صبح جلدی اٹھتا ہے اور شام کو جلدی سو جاتا ہے پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرتا ہے اور روزانہ کی بنیاد اپنے کام میں مشغول ہوتا ہے محنت مزدوری کر لیتا ہے اسی لیے ان کے رزق میں بھی برکت ہوتی ہے میں بات اکثریت کی کر رہا ہوں اب بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو یہاں پہ بھی اس طرح کی لائف سٹائل نہیں گزارتے وہ یہاں سعودی عربیہ میں بھی ایسی زندگی گزارتے ہیں جیسے پاکستان میں ا اکثر لوگ گزارتے ہیں تو ان کی زندگی یہاں سعودی عربیہ کے سرزمین پہ بھی ایسے ہی خوار گزر رہی ہوتی ہے بس میں سوچ یہ رہا تھا کہ اگر ہم اس طرح کی لائف سٹائل اپنے گاؤں میں اپنے ملک میں شروع کریں تو یقینا ہماری زندگی میں بہت بڑی تبدیلی ا سکتی ہے بھلے ہمارے پاس روزگار ہو یا نہ ہو لیکن ہمیں صبح فجر کے ٹائم اٹھنا اور عشاء کے بعد جلدی سو جانا دن میں پانچ وقت کی نماز کی پابندی اور رزق کی تلاش میں کچھ نہ کچھ محنت کرنا تو انشاءاللہ ہماری زندگی گاؤں میں ہوتے ہی بہتر ہو جائے گی۔۔۔۔
24/10/2025
*سعودی عرب۔ پچاس سال بعد کفالت نظام ختم ۔ لاکھوں تارکین وطن مزدوروں کو آزادی اور نئے حقوق*
*ایک تاریخی اقدام کے طور پر سعودی عرب نے اپنے پچاس سال پرانے کفالت نظام کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جو تارکین وطن مزدوروں کی رہائش اور ملازمت کو ان کے آجر سے جوڑتا تھا۔ جون 2025 میں اعلان کی گئی اس اصلاح کا اثر تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ غیر ملکی مزدوروں پر پڑے گا۔ زیادہ تر مزدور جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو طویل عرصے سے ملازمت کی تبدیلی پر پابندیوں اور محدود مزدور حقوق کا سامنا کر رہے تھے۔*
*کفالت نظام کیا تھا اور یہ کیسے شروع ہوا۔*
کفالت نظام عربی لفظ کفالت سے ماخوذ ہے۔ یہ کوئی قدیم روایت نہیں بلکہ ایک جدید قانونی ڈھانچہ ہے جو خلیجی ممالک میں انیس سو پچاس کی دہائی میں سامنے آیا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جو خلیجی تعاون کونسل کے ممالک میں رائج تھا جن میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔ اس نظام کے تحت تارکین وطن مزدوروں کی قانونی حیثیت براہ راست ان کے آجر یعنی کفیل سے منسلک تھی۔ جس سے آجر کو مزدور پر غیر معمولی کنٹرول حاصل ہو جاتا تھا۔ مزدور اپنی ملازمت تبدیل نہیں کر سکتا تھا۔ ملک نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ حتیٰ کہ قانونی تحفظ تک بھی رسائی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے نتیجے میں مزدوروں کو استحصال اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ وہ اپنے آجر کی اجازت کے بغیر متبادل روزگار یا قانونی تحفظ حاصل نہیں کر سکتے تھے۔
یہ نظام اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ مزدوروں کی قانونی اور انتظامی ذمہ داری مقامی افراد یا کمپنیوں کے سپرد کی جا سکے۔ جس میں ویزا اور رہائشی امور شامل تھے۔ اس طرح ریاستی بیوروکریسی پر بوجھ نہیں پڑتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ نظام سخت تنقید کا نشانہ بنا۔ کیونکہ اس میں مزدور کی قانونی حیثیت کو براہ راست آجر سے جوڑ دیا گیا تھا۔ جس سے طاقت کا شدید عدم توازن پیدا ہوا۔ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے جبری مشقت اور غلامی جیسی صورتحال قرار دیا۔
*اصلاحات۔ کیا بدلا۔*
سعودی عرب کی حالیہ مزدور اصلاحات نے کفالت نظام کی جگہ معاہداتی ملازمت کے ماڈل کو دے دی ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق نئے نظام کے تحت غیر ملکی مزدور اب اپنے موجودہ آجر کی اجازت کے بغیر ملازمت تبدیل کر سکتے ہیں۔ ملک چھوڑنے کے لیے انہیں کسی ایگزٹ ویزا کی ضرورت نہیں۔ اور وہ قانونی تحفظ حاصل کر سکتے ہیں جو پہلے ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔
یہ اصلاح سعودی عرب کے وژن 2030 منصوبے کا حصہ ہے۔ جس کا مقصد معیشت کو جدید بنانا اور غیر ملکی مزدوروں کے حقوق اور بہبود کو بہتر بنانا ہے۔ حکومت نے اس اصلاح کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد اور نگرانی ضروری ہے تاکہ مزدوروں کی زندگی میں حقیقی بہتری آ سکے۔
*کفالت نظام کے تحت مزدوروں کی صورتحال۔*
سعودی عرب کا کفالت نظام لاکھوں تارکین وطن مزدوروں کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈال چکا ہے۔
کل غیر ملکی مزدور۔ تقریباً ایک کروڑ چونتیس لاکھ تارکین وطن مزدور سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ جو ملک کی آبادی کا تقریباً بیالیس فیصد ہیں۔
اہم ممالک۔ سب سے زیادہ مزدور بنگلہ دیش اور بھارت سے آتے ہیں۔ دو ہزار تئیس میں چار لاکھ اٹھانوے ہزار بنگلہ دیشی اور چار لاکھ چھبیس ہزار نو سو اکاون دیگر پڑوسی ممالک کے شہری روزگار کے لیے سعودی عرب گئے۔
گھریلو ملازمین۔ تقریباً چالیس لاکھ افراد گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جن میں تمام غیر ملکی ہیں۔
روزگار کے شعبے۔ تارکین وطن مزدور تعمیرات گھریلو خدمات ہوٹلوں اور زراعت جیسے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ جہاں وہ کفالت نظام کے تحت سخت پابندیوں میں رہتے تھے۔
*نئے کفالت اصلاحات کا اثر۔*
سعودی عرب میں کفالت نظام کے خاتمے سے تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ تارکین وطن مزدوروں کی زندگی بدلنے جا رہی ہے۔ نئے نظام کے تحت مزدور اب اپنے کفیل کی اجازت کے بغیر ملازمت بدل سکتے ہیں۔ ایگزٹ ویزا کے بغیر ملک چھوڑ سکتے ہیں۔ اور قانونی تحفظ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی استحصال میں کمی لائے گی۔ کام کے حالات بہتر کرے گی۔ اور مزدوروں کو زیادہ خودمختاری اور عزت دے گی۔ اس کے ذریعے ملازمین کو منصفانہ شرائط پر گفت و شنید کا موقع ملے گا۔ معیشت میں ان کی شمولیت بڑھے گی۔ اور یہ خلیجی خطے میں مزدور حقوق کے لیے ایک تاریخی قدم ثابت ہو گا۔
تم سے نفرت کی بنیاد یہی ہے کہ تمیں میرے شعور سے مسٸلہ ہے اور مجھے جہالت سے ......!!!
12/09/2025
HPV (Human Papilloma virus) is a common sexually transmitted infection that can cause cancers and ge***al warts. The HPV vaccine is highly effective in preventing infections and related diseases. It's safe, and widespread vaccination can significantly reduce HPV-related cancers.
Key Points
- *Vaccine Protects*: Against HPV types causing cancers and ge***al warts.
- *Target Group*: Mainly girls aged 9-14 years, before sexual activity.
- *Safety*: Generally safe with local reactions as common side effects.
- *Impact*: Can reduce cervical cancer incidence by up to 90% worldwide.
https://www.cdc.gov/vaccines/vpd/hpv/hcp/recommendations.html
13/06/2025
""ڈاکٹر صاحب، بچے کے لیے کوئی اچھا سا شربت لکھ دیں"
بچوں کے امراض کا ماہر ڈاکٹر جسے عام زبان میں جسے چاٸلڈ اسپیشلسٹ کہا جاتا ہے ، اسکی پیشہ ورانہ زندگی کا سب سے چیلنجنگ لمحہ کبھی یہ نہیں ہوتا کہ جب اس پر کسی بیمار بچے کی جان بچانے والی فیصلہ سازی کی ذمہ داری ہو۔ وہ اپنی تربیت اور تجربے سے جانتا ہے کب اور کیا کرنا ہے۔
سب سے مشکل وقت وہ ہوتا ہے جب بچے کے والدین کہتے ہیں،
"ڈاکٹر صاحب، بچے کے لیے کوئی اچھا سا شربت لکھ دیں، بس دوائی دے دیں!"
ایسا "اچھا شربت" وہ اپنی زندگی میں کبھی تجویز نہیں کرپاتا، کیونکہ وہ دوا صرف تب دیتا ہے جب واقعی ضرورت ہو۔ مثال کے طور پر، اگر بچہ وائرل ڈائریا کا شکار ہے تو وہ سمجھائے گا کہ ڈائریا روکنے والی دوائی نہیں دینی چاہیے بلکہ سستہ سا نمکول پلائیں، اور اینٹی بایوٹک کی ضرورت نہیں۔ اگر وائرل بخار ہو تو بس پیراسیٹامول کافی ہے۔
بعض اوقات والدین کو اسکی یہ بات پسند نہیں آتی اور وہ بے چینی کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر اسے اس بات کی فکر نہیں کہ وہ اسکی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ سوچ کر پریشان ہوتا ہے کہ کچھ والدین صرف ڈاکٹر بدلنے کا شوق رکھتے ہیں، وہ بچوں کو طاقتور اینٹی بایوٹکس کھلاتے رہتے ہیں، اور اسکی نصیحت ان پر اثر نہیں کرتی۔
یہ والدین اپنی مرضی کے کسی دوسرے ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں جو اپنی مرضی کی فیس لیتا ہے اور ماں باپ کی خواہش کے مطابق کئی دوائیوں کی بوتلیں لکھ دیتا ہے: طاقتور اینٹی بایوٹک، اینٹی ہسٹامین، اور کچھ توانائی بڑھانے والی دوائیں۔ والدین خوش، ڈاکٹر خوش، دوا خانہ والا خوش، اور بچہ؟ بچہ بے بس۔
ایسا بھی نہیں کہ سب ڈاکٹر ایسے ہیں، بلکہ زیادہ تر ڈاکٹر ایمانداری سے کام کرتے ہیں۔
پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز اکثر والدین کے دباؤ کو برداشت نہیں کر پاتے اور انہیں مطمئن کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ دوائیں تجویز کرتے ہیں۔ شاید انہیں خوف ہوتا ہے کہ والدین کہیں یہ نہ سوچیں کہ اگر پیناڈول ہی لکھنا تھا تو اتنی بڑی فیس کیوں لی گئی؟
یہ خوش آئند بات ہے کہ ایک ماہر ڈاکٹر نے بچے کی صحت کو سمجھتے ہوئے کہا کہ بس آرام کی ضرورت ہے، کوئی خاص دوا نہیں چاہیے۔ ڈاکٹر کا اصل کام بیماری کی درست تشخیص اور صحیح وقت پر علاج کرنا ہے، والدین کی ہر خواہش پوری کرنا نہیں۔
طاقت، دولت، شہرت یا دوسروں کی رائے کی خاطر کبھی بھی ایک اچھا ڈاکٹر اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ اپنے بچے کے لیے بہترین ڈاکٹر کا انتخاب آپ کا حق ہے، لیکن اس دوران بچے کو غیر ضروری دوائیوں سے بچانا بھی ضروری ہے۔
25/04/2025
:
1. زخم کو فوراً دھونا:
متاثرہ جگہ کو فوراً صابن اور صاف پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھوئیں۔ یہ وائرس کو باہر نکالنے میں مدد دیتا ہے۔
2. الکحل یا آیوڈین لگانا:
زخم صاف کرنے کے بعد اس پر الکحل، ڈیٹول یا آیوڈین لگائیں تاکہ جراثیم ختم ہوں۔
3. فوری طور پر قریبی اسپتال جائیں:
ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور بتائیں کہ کتے نے کاٹا ہے، چاہے زخم معمولی ہی کیوں نہ ہو۔
ویکسین کا طریقہ کار:
ریبیز کے خلاف ویکسین لگوانا نہایت ضروری ہے۔ عام طور پر درج ذیل شیڈول ہوتا ہے:
Day 0: پہلی ویکسین (کتے کے کاٹنے کے دن)
Day 3: دوسری ویکسین
Day 7: تیسری ویکسین
Day 14: چوتھی ویکسین
Day 28: پانچویں ویکسین
اگر کتے کا کاٹا بہت گہرا ہو یا چہرے، گردن یا ہاتھ جیسے حساس حصے پر ہو تو Rabies Immunoglobulin بھی لگائی جاتی ہے (صرف ایک بار، Day 0 پر)۔
اہم ہدایات:
علاج میں ہرگز تاخیر نہ کریں۔
دیسی ٹوٹکوں پر انحصار نہ کریں۔
ویکسین کا کورس مکمل کریں، چاہے زخم ٹھیک بھی ہو جائے۔..
20/04/2025
شریف لڑکیاں اور سہیلیوں کا اثر
کچھ لڑکیاں گھر کے ماحول سے نہایت مہذب، باحیا اور سادہ طبیعت لے کر کالج یا یونیورسٹی آتی ہیں۔ ان کی تربیت اس انداز سے ہوتی ہے کہ وہ ہر کام کرنے سے پہلے سوچتی ہیں، بڑوں کا ادب کرتی ہیں، پردے کا خیال رکھتی ہیں، اور کسی غلط کام کے قریب بھی نہیں جاتیں۔ ان کے دل میں اللہ کا خوف اور ماں باپ کی عزت کا خیال ہوتا ہے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ نرمی اور شرافت ہی ان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔
کالج میں جب ان کی ملاقات کچھ شوخ، بے پرواہ، اور آزاد خیال لڑکیوں سے ہوتی ہے تو وہ ان کے رویے سے متاثر ہونے لگتی ہیں۔ وہ لڑکیاں باتوں باتوں میں انہیں یہ باور کرانے لگتی ہیں کہ ’’تم بہت بورنگ ہو، تمہیں خود کو بدلنا ہوگا، یہ زمانہ آگے نکل چکا ہے، اب ایسے شریف بن کر کوئی کچھ حاصل نہیں کرتا۔‘‘
شروع میں وہ شریف لڑکی ان باتوں پر دھیان نہیں دیتی، لیکن تنہائی، دوسروں کی توجہ کی خواہش، اور خود کو اکیلا محسوس کرنے کا احساس آہستہ آہستہ اسے ان سہیلیوں کے قریب کر دیتا ہے۔ پھر وہ سہیلیاں اس کا حلیہ بدلتی ہیں — عبایا اُتروا کر جینز پہنا دیتی ہیں، ہاتھ میں کتاب کی جگہ فون پکڑا دیتی ہیں، اور پاکیزہ باتوں کی جگہ فیشن، لڑکے، سیلفیاں اور پارٹیوں کے قصے تھما دیتی ہیں۔
وہ لڑکی جو کبھی نماز کے لیے وقت نکالتی تھی، اب سیلفی لینے کے لیے آئینے کے سامنے وقت گزارنے لگتی ہے۔ جو کبھی ماں سے ہر بات شیئر کرتی تھی، اب چھپ چھپ کر سہیلیوں سے میسج کرتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ اب "کول" ہو گئی ہے، لیکن اصل میں وہ اپنی معصومیت اور عزت کا زیور گنوا چکی ہوتی ہے۔
ایسے میں اگر اسے وقت پر کوئی احساس دلا دے، کوئی نیک دوست، کوئی استاد یا ماں باپ اسے روک لیں، تو وہ سنبھل سکتی ہے۔ لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ وہ دھیرے دھیرے اتنی دور نکل جاتی ہے کہ واپسی کا راستہ ہی دھندلا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماں باپ کو صرف اپنی بیٹیوں کو اسکول یا کالج داخل کروانے پر اطمینان نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان کے دوستوں، ان کے ماحول، اور ان کے بدلتے رویوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ بیٹی کو صرف اچھے نمبروں کا نہیں، اچھے کردار کا تحفہ دینا چاہیے۔
اور بیٹیو! یاد رکھو، دنیا کچھ وقت کے لیے تمہیں تالیاں دے گی، لیکن جب وقت گزرے گا، تو تمہیں تمہارا ضمیر، تمہارا کردار اور تمہارا رب یاد آئے گا۔ اگر تم نے خود کو سنبھالا، تو تم ہزاروں کی روشنی بن سکتی ہو، لیکن اگر بہک گئیں، تو اپنا ہی چراغ بجھا بیٹھو گی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Website
Address
Karachi