PPSC preparation with Abaid ullah khan

PPSC preparation with Abaid ullah khan

Share

‏اگر زندگی کبھی روشنیوں کا تحفہ دے تو انہیں مت بھولنا جنہوں نے کبھی آپکے اندھیرے بانٹے تھے۔

11/10/2025

Developing Metal-Organic Framework.... # # # # Have large empty spaces.. And used for absorbance of gases.. # water #

10/10/2025

Venzuela.. Opposition leader # #

07/10/2025

Why some clouds are white and some are Black.. # # # # #

06/10/2025

کتاب Why Nations Fail کے مصنفین Daron Acemoglu اور James Robinson لکھتے ہیں کہ قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب ان کے ادارے عوام کی خدمت کے بجائے چند طاقتور طبقوں کے مفاد میں کام کرنے لگتے ہیں۔ ایسے اداروں کو وہ Extractive Institutions کہتے ہیں یعنی وہ نظام جو عوام سے طاقت، دولت اور حقوق چھین کر ایک محدود طبقے کو سونپ دیتا ہے۔ اگر اس پیمانے سے ہم پاکستان کو دیکھیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہمارا ملک ایک استحصالی ڈھانچے میں قید ہے جس کے اصل مالک عوام نہیں بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے اور ان کے سیاسی ٹھیکیدار شریف اور زرداری خاندان ہیں جو ہمیشہ اس نظام کے تحفظ کے ضامن بنتے رہے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ دراصل اقتدار کے اسی سوداگر طبقے کی کہانی ہے۔ یہ لوگ باری باری تخت پر بیٹھتے ہیں ، ان کے اثاثے بڑھتے جاتے ہیں ، دنیا بھر کے بینک اکاؤنٹس بھرتے ہیں مگر عوام کی زندگی کبھی نہیں بدلتی کیونکہ ان کا مقصد اصلاح نہیں بلکہ اقتدار کا تسلسل ہے۔ یہی وہ vicious circle ہے جس کا ذکر Why Nations Fail میں کیا گیا ہے کہ طاقتور ادارے اور ان کے حلیف سیاستدان نظام کو اس طرح ڈھال دیتے ہیں کہ کوئی نیا شخص، کوئی نیا نظریہ اس میں فٹ نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان جیسے رہنما اس نظام کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں کیونکہ وہ عوامی شمولیت، میرٹ اور انصاف کی بات کرتے ہیں۔ وہ ایسے inclusive institutions کی بات کرتے ہیں جہاں طاقت عوام کے ہاتھ میں ہو نہ کہ چند جرنیلوں یا سرمایہ داروں کے ہاتھ میں پورا نظام ہو۔

عمران خان اس نظام کو اسی لیے قبول نہیں کہ وہ اس گندے کھیل کا حصہ نہیں بنتا۔ وہ نہ کمیشن کھاتا ہے، نہ کرپٹ طبقات کے ساتھ سودے کرتا ہے اور نہ کسی فون کال پر اپنی پالیسی بدلتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور پرانے سیاسی گروہ جانتے ہیں کہ اگر عمران خان کی خواہش کی طرزِ حکمرانی آ گئی اور قانون کی بالادستی ، نظام انصاف اور عوامی شراکت داری کی راہ کھل گئی تو ان کی بادشاہت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس لیے یہ سب ایک شخص کے خلاف ایک ہی صف میں کھڑے ہیں جو دراصل عوام کی خودمختاری کی علامت بن چکا ہے۔ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ اتحاد عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے خلاف ہے کیونکہ عمران خان عوامی شعور کی آواز بن چکا ہے اور وہی عوامی مفادات کا ضامن بن کر ان کے سامنے کھڑا ہے۔

عمران خان کی تحریک نے گراؤنڈ پہ ہلچل تو پیدا کی لیکن سوشل میڈیا وہ محاذ ہے جس کے ذریعے عمران خان نے اس نظام کو ننگا کیا اور یہی سوشل میڈیا سوالات اٹھاکر ایک قومی ڈائیلاگ کی راہ ہموار کرتے ہوئے عوامی رائے عامہ بدل رہا ہے۔
اس کا سہرا سوشل میڈیا کی ان آوازوں کو جاتا ہے جو ظلم، سنسرشپ اور دھونس کے باوجود سچ بول رہی ہیں۔ آج ٹویٹر، انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب پر جو نوجوان حق کے لیے بول رہے ہیں وہ دراصل پاکستان کے inclusive future کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو پروپیگنڈا نہیں مانتا، جو سوال پوچھتا ہے، جو جانتا ہے کہ قومیں تبھی اٹھتی ہیں جب عوام بیدار ہوں۔ اس لیے سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی ذمہ داری بڑھ چکی ہے کیونکہ وہ مزاحمت کا تسلسل ہیں، وہ قوم کی آواز ہیں، وہ سچ کے قافلے کے علمبردار ہیں۔

کتاب Why Nations Fail کہتی ہے کہ کوئی قوم اس وقت زندہ ہوتی ہے جب وہ اپنے حقِ حکمرانی کے لیے کھڑی ہو۔ پاکستان کے عوام خصوصاً نوجوان آج اسی موڑ پر کھڑے ہیں۔ یہ جدوجہد صرف عمران خان کی نہیں بلکہ ہر اس پاکستانی کی ہے جو چاہتا ہے کہ اس کا ووٹ، اس کا حق اور اس کی آواز مقدس سمجھی جائے۔ یاد رکھیں تاریخ ان قوموں کو امر کرتی ہے جو ظلم کے سامنے خاموش نہیں رہتیں۔

ہم سب پہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس شعور کی جنگ کو جاری رکھیں کیونکہ جب تک سوال اٹھتے رہیں گے ، ناانصافی کے خلاف آواز بلند ہوتی رہے گی اور مسلط ٹولے کے قبضے کو للکارا جاتا رہے گا ، اس نظام کے خلاف مزاحمت زندہ رہے گی ۔ قوم کا لیڈر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر بھی کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوا لہذا ہمیں اس جدوجہد میں اس کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کرنا ہے کیونکہ یہ اس کی نہیں ہماری جنگ ہے۔ وہ تو ہمارے اور آنے والی نسلوں کےلیے قربانیاں دے رہا ہے۔

Copied... # # #

02/10/2025
02/10/2025

Pasport # #

Want your school to be the top-listed School/college?

Telephone

Website