07/01/2026
آج کل ایک لفظ بہت اِن ہے:
" اورا"
کہا جاتا ہے جس کا اورا مضبوط ہو، اس کے کام سنور جاتے ہیں، بات میں وزن آ جاتا ہے، عزت خود چل کر آتی ہے، راستے بنتے چلے جاتے ہیں۔
غرض دنیا میں ہر طرح سے کامیابی قدم چومتی ہے
اور جس کا اورا کمزور ہو، وہ بندہ درست بھی ہو تو غلط سمجھا جاتا ہے، نیت صاف ہو پھر بھی شک اس کے حصے میں آتا ہے، ہر کام میں رکاوٹ، ہر موڑ پر دیوار۔
جتنا مرضی لاحق فائق ہو کامیاب نہیں ہو سکتا
اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کہ جادو نظر بد حسد ارادے کی کمزوری وغیرہ وغیرہ
یہ بات سننے میں بڑی پرکشش لگتی ہے، اس لیے لوگ اورا مضبوط کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کر رہے۔
کوئی عجیب و غریب ایکسرسائز بتا رہا ہے، کوئی سانسوں کی مشقیں، کوئی آنکھیں بند کر کے خیالی دائرے بنانے کو کہتا ہے، اور اب تو جدید حلیے میں “بابے” بھی آ گئے ہیں جو مہنگی سروسز بیچ رہے ہیں:
آؤ، ایک دفعہ اورا ٹھیک کروا لو، زندگی بدل جائے گی۔
شرعی حیثیت ایک الگ بحث ہے، مگر ذرا حقیقت پر غور کریں۔
آپ ایک دفعہ اورا “ٹھیک” کروا بھی لیں، تو کچھ دن بعد وہ پھر کسی نہ کسی وجہ سے “خراب” ہو جائے گا۔
بھئی جادو کرنے والے نظر بد لگانے والے تو اپ کے ساتھ ساتھ ہی ہیں نا وہ پھر کر دیں گے کچھ نہ کچھ
پھر دوبارہ جانا پڑے گا، پھر پیسے، پھر وعدے، پھر وقتی تسلی۔
بالکل وہی پرانا سائیکل جو نسلوں سے بابوں، تعویذوں اور عاملوں کے گرد گھومتا آ رہا ہے، بس نام بدل گئے ہیں، پیکج اپڈیٹ ہو گیا ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں دو نوروں کی خوشخبری دی تھی،
لیکن ہم نے یا تو انہیں بھلا دیا
یا اپنی سستی کو مصروفیت کا نام دے دیا۔
ہم کہتے ہیں وقت نہیں ہے۔
ہم کہتے ہیں روٹین بہت مصروف ہے۔
اورا انرجی بوسٹ کرنے والی ایکسرسائزز پر ہم گھنٹہ گھنٹہ لگا سکتے ہیں،
مگر قرآن پڑھنے کے لیے دس منٹ بھی مشکل لگتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“قرآن پڑھو، یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا،
خاص طور پر سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران۔
یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے بادل یا سایہ،
یا پرندوں کے دو غول، اور اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔”
ایک اور حدیث میں فرمایا:
“سورۃ البقرہ پڑھا کرو، اس کا پڑھنا برکت ہے،
اس کو چھوڑ دینا حسرت ہے،
اور باطل قوتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔”
اب ذرا سادہ زبان میں سمجھیں۔
جسے آج لوگ “اورا” کہتے ہیں،
قرآن اسے نور، سکینت، وقار اور حفاظت کہتا ہے۔
سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران: دل کے اندر خوف کو کم کرتی ہیں
سوچ کو سیدھا کرتی ہیں
غلط اثرات، حسد، نظر اور منفی دباؤ کے خلاف ڈھال بنتی ہیں
انسان کے رویے میں ٹھہراؤ اور بات میں وزن پیدا کرتی ہیں
جب اندر نور آتا ہے تو باہر کی فریکوئنسی خود ٹھیک ہو جاتی ہے۔
لوگ بلاوجہ آپ سے الجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
فیصلے آسان ہوتے ہیں۔
اور راستے وہاں سے کھلتے ہیں جہاں آپ نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔
یہ معجزات کرتی ہیں زندگی میں بس تھامنے کی دیر ہے
یہ مسلسل نور ہے۔
وہ نور جو خراب نہیں ہوتا،
جو بار بار “ریچارج” کروانے کے لیے کسی کے پاس لے کر نہیں جانا پڑتا۔
اب سوال یہ ہے کہ
اگر روزانہ مکمل سورۃ البقرہ اور آل عمران پڑھنا مشکل لگے تو کیا کریں؟
حل بالکل سادہ ہے۔
آپ ان دونوں سورتوں کو 7 دن یا 10 دن میں تقسیم کر لیں۔
روزانہ ایک معقول حصہ، جتنا سکون سے پڑھ سکیں۔
نیت یہ ہو کہ میں نور جمع کر رہی ہوں،
اور اگر بالکل ہی مصروف دن ہو تو کم از کم: سورۃ البقرہ کی آیت الکرسی اور آخری دو آیات
اور سورۃ آل عمران کا ابتدائی حصہ یا آخری رکوع
یہ بھی مستقل مزاجی سے پڑھنا بہت بڑا فرق ڈال دیتا ہے۔
اب سب سے اہم بات ۔۔۔۔بچوں کی۔
اگر آپ کے بچے ناظرہ قرآن پڑھ سکتے ہیں،
تو بچپن سے ہی ان میں یہ عادت ڈالیں کہ
روزانہ سورۃ البقرہ یا آل عمران کے چند صفحات پڑھیں۔
ایک ربع، آدھا پارہ، جتنی ان کی عمر اور توجہ اجازت دے۔
یہ بچے: کم عمری میں ہی ذہنی مضبوطی سیکھتے ہیں
ان کا دل جلدی بہکنے والا نہیں ہوتا
ان کی آنکھ درست ہونا شروع ہو جاتی ہے
وہ حق اور باطل میں فرق پہچاننا سیکھتے ہیں
یہی اصل “اورا ڈیولپمنٹ” ہے۔
جو دنیا میں بھی کام آتی ہے
اور آخرت میں بھی سرخرو کرتی ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہے ہم وقتی چمک کے پیچھے دوڑنا چاہتے ہیں یا مستقل نور کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔قرآن کے نور کا کوئی نعم البدل نہیں۔نہ کوئی ایکسرسائز، نہ کوئی سروس،
نہ کوئی پرانا بابا نہ جدید بابا۔
بس قرآن،اور اس کے ساتھ جڑی مستقل مزاجی۔