DileBey-Muddaa دلِ بے مدعا

DileBey-Muddaa دلِ بے مدعا دلِ بے مدعا ہے اور میں ہوں...!!!

07/13/2025

Life is all about. Saying chill maar yaar and move on..🤠

07/13/2025

Chill

06/15/2025
05/24/2025

سیالکوٹ کے جس مکان میں فیض صاحب رہتے تھے اس کے سامنے ایک لڑکی رہتی تھی ۔ فیض اس کے عشق میں بھی مبتلا تھے ، لیکن ایک دن کالج سے جب واپس گئے تو وہ لڑکی وہاں نہیں تھی۔ آغا ناصر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بہت سال بعد جب فیض ، مشہور ہو گئے اور واپس اپنے شہر آئے تو وہ لڑکی بھی کہیں سے آئی ہوئی تھی ،اس کا شوہر بھی فیض سے ملنے کا مشتاق تھا ۔ ،فیض کہتے ہیں کہ میں ان سے ملا، تو لڑکی مجھ سے کہتی ہے 'مرا شوہر کتنا خوبصورت ہے' ۔اس موقع پر یہ نظم لکھی گئی تھی۔
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا

جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے

کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے
جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے

تجھ پہ برسا ہے اسی بام سے مہتاب کا نور
جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے

تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے
اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے

زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا
سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے

جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے
اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں

نا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب
بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے

آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

دستِ تعویذ چومنے والے ہم ہیں زنجیر چومنے والے یہ حقیقت پسند تھوڑی ہے تیری تصویر چومنے والے تیرے خط کو شفا سمجھتے ہیں تیر...
05/21/2025

دستِ تعویذ چومنے والے
ہم ہیں زنجیر چومنے والے
یہ حقیقت پسند تھوڑی ہے
تیری تصویر چومنے والے
تیرے خط کو شفا سمجھتے ہیں
تیری تحریر چومنے والے
صرف باتیں ہی کر سکا رانجھا
لے گئے ہیر چومنے والے !!

• بائیں کھڑکی میں خواب، تصورات، خواہشات جبکہ دائیں کھڑکی میں یادیں اور سالوں کی تھکاوٹ, 🖤
05/21/2025

• بائیں کھڑکی میں خواب، تصورات، خواہشات جبکہ دائیں کھڑکی میں یادیں اور سالوں کی تھکاوٹ, 🖤

Address

Srinagar
University Heights, OH
190006

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DileBey-Muddaa دلِ بے مدعا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to DileBey-Muddaa دلِ بے مدعا:

Shortcuts

Share