05/12/2026
Quran Reading Program
Welcome to Dr. Aqeela Zahoor’s Quran Program Network
We are pleased to announce that registrations are now open for new Quran reading classes. All students from our previous batches have successfully completed their Quran learning, Alhamdulillah.
We are now enrolling new children and families for upcoming classes. The program is open to all members of the family — including children, mothers, and fathers.
Our aim is to help you connect with the Book of Allah, strengthen your faith, and bring barakah into your home through consistent Quran learning. Teaching and learning the Quran is among the greatest forms of guidance and sadaqah for both this life and the Hereafter.
This program is completely free of cost, Alhamdulillah. No fees are required or enforced. However, if anyone wishes to contribute voluntarily, they may do so according to their own ability and willingness.We would also appreciate it if you could inform us how many family members would like to join.
Allah says in the Quran:
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
“And We have certainly made the Qur’an easy for remembrance, so is there anyone who will remember?”— Surah Al-Qamar
📩 To register, please send a private message to the group admin for direct enrollment of your children and family members. JazakAllah Khair
Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi wa Barakatuh
Administration Team
Dr. Aqeela Zahoor’s Quran Reading Program
04/11/2026
سورۃ النبأ کلاس کا اعلان
استاذہ ڈاکٹر عقیلہ ظہور کے زیرِ اہتمام خواتین کے لیے قرآنِ مجید کو پڑھنے، سمجھنے اور عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے ایک خصوصی سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔اس بابرکت سفر کا آغاز سورۃ النبأ سےکیاجا رہا ہے، جو قرآنِ مجید کے آخری پارے کی پہلی سورت ہے۔
اس کلاس میں سورۃ النبأ کی تلاوت، ترجمہ اور فہمِ قرآن کے ساتھ اس کے پیغام، آخرت کی یاد دہانی، اور زندگی کے اہم اسباق پر غور کیا جائے گا۔
یہ خواتین کے لیے مخصوص کلاس ہے، جسے ڈاکٹر عقیلہ خود لیڈ کریں گی، لہٰذا صرف بہنیں ہی اس گروپ کو جوائن کریں۔
🌿 آئیے قرآن کو صرف پڑھنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا خوبصورت سفر شروع کریں۔
https://chat.whatsapp.com/GTf1L3bYurc5yLrSaEvnwQ?mode=gi_t
09/01/2023
کو ن ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ۔۔۔
سورۃ الحدید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
من ذا الذی یقرض اللہ قرضاً حسناً فیضٰعفہُ لہ و لہُ اجر کریم۔ کون ہے جواللہ کو قرض دے اچھا قرض ، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اس کے لیے بہترین اجر ہے۔" اس آیت میں قرض حسن 'یعنی اللہ کو اچھے طریقے سے قرض دینے سے مراد اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا ہے۔اس کو قرض اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ جیسے قرض کی ادائیگی اور واپسی ضروری ہوتی ہے اسی طرح اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کااجروثواب اور بدلہ ضرور ملتا ہے۔اچھے طریقے سے ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کو راضی کرنے کے لیے دیا جائے ،دکھاوا یا واپسی کی امید رکھنا مقصود نہ ہو۔اور اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہو ئے اس بات سے نہیں ڈرنا چاہیے کہ مال میں کمی ہوجائےگی اور ہم تنگی یا محتاجی میں مبتلا ہوجائیں گے۔تنگی یا وسعت پیدا کرنا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔بخاری شریف کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : " تم دوسروں پر خرچ کرتے رہو میں تم پر خرچ کرتا رہوں گا۔"واقعی کتنا نفع بخش سودا ہے،کہ اگر انسان اللہ کی رضا کے لیے اس کی دی گئی نعمت کو خلق خدا پر خوشی خوشی لٹاتا رہے اور بدلے میں مخلوق کی بجائے اپنے خالق سے ہی اجر کی امید رکھے تو اس کو اجر تو ملے گا ہی ساتھ ہی اس کے مال و دولت میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا ۔
عہد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دل کھول کر اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرتے تھے۔اورانھیں نہ مال میں کمی کا ڈر ہوتا تھا نہ آئندہ کے گذارے کی فکر ہوتی تھی۔
یہی وجہ تھی کہ جب سورہ الحدید کی مذکورہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابو الدحداح انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ، کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض مانگتے ہیں؟
آپؐ نے فرمایا ،ہاں۔وہ کہنے لگے کہ اپنا مبارک ہاتھ مجھے پکڑا دیجیے (تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر ایک وعدہ کروں )نبی اکرم ﷺ نے اپناہاتھ بڑھادیا انہوں نے عہد کے طور پر آپﷺ کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا :یا رسول اللہﷺ میں نے اپنا باغ اپنے اللہ کو قرض دے دیا۔ان کے باغوں میں کھجوروں کے چھ سو درخت تھے ،اور اسی باغ میں ان کے بیوی بچے رہا کرتے تھے ۔ پھر وہاں سے اُٹھ کر اپنے باغ میں گئے اور اپنی بیوی کو آواز دی کہ چلو اس باغ سے نکل چلو میں نے یہ باغ اپنے پروردگار کو قرض دے دیا ہے۔(سبحان اللہ )کیسا پختہ یقین اور ایمانِ کامل موجود تھا ہمارے صحابہ اکرام کے دلوں میں کہ آیت کا مفہوم سنتے ہی اپنی قیمتی متاع اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے فوراَ تیار ہوگئے۔اور صرف صحابی ہی نہیں ان کی بیوی بھی اس نیکی میں ان کے ساتھ بآسانی شریک ہوگئیں،نہ تو شکوہ کیا نہ ہی اس بات کی فکر کہ اب ہمارا کیا ہوگا؟
ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد کے مختلف موقعوں پر بھی جس طرح صحابہ کرام نے جانوں کے ساتھ ساتھ مالوں کی قربانیاں پیش کیں وہ ہم مسلمانوں کے لیے ایک درس عظیم ہے
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے مال و دولت کی فراوانی ہوناضروری نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان کو اپنا مال اچھے کاموں میں خرچ کرتے رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کو ہمارے مال و دولت کی کوئی ضرورت نہیں وہ تو ہمارے اخلاص اور نیت کو دیکھتا ہے کہ ہم کتنی خالص نیت کے ساتھ اس کے حکم پر عمل کر رہے ہیں؟ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں سے اس بات کا تقاضہ کیا ہے کہ وہ اپنی جان سے بھی زیادہ قیمتی چیز اس کی راہ میں صدقہ کر کے مجبور ،یتیم ،بے سہارا مسلمانوں کی مدد کریں، اس نیت کے ساتھ کہ اس کا اجر ہمیں اللہ دینے والا ہے ،لیکن اپنے پروردگار کے اس تقاضے کو ،اس اعلان کو ہم مسلمان ابھی تک سمجھ ہی نہیں پائے ہیں،سمجھتے بھی کیسے ۔۔۔۔ابھی نہ تو ہماری مال و دولت سے ر غبت کم ہوئی ہے ،نہ ہی بینک بیلنس ہماری خواہشات کے مطابق پُر ہوئے ہیں،اور نہ دنیا کی لذتوں سےہم پوری طرح لطف اٹھا سکے ہیں۔ پھر اگر ایسے میں اپنےمال ودولت کا تھوڑا سا حصہ قرض حسن کے طور پر دے دیا جائے تو پتہ نہیں اس کی بھر پائی کے لیے کتنے دن اپنی خواہشات کو دبانا پڑے۔ آج امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ انفاق فی سبیل اللہ کے فرض سے غافل ہے ۔ بعض حضرات ضرورت مندوں کی مدد کے لیے تیار تو رہتے ہیں لیکن ساتھ ہی انھیں اپنی نمائش بھی مقصود ہوتی ہے۔اگر کسی حاجت مند کی تھوڑی سی مالی مدد کردی تو اس موقع پر تصاویر کھنچوانا اور اسے اخبارات کی زینت بنانا بھی یہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو ایسی نمائش کرنے والوں سے کوئی غرض نہیں۔وہ تو چاہتا ہے کہ اگر ہم دائیں ہاتھ سے کچھ دیں تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوسکے۔یقیناً انسان کو خلوص دل سے معمو لی سا صدقہ کرنے پر جو خوشی حاصل ہوسکتی ہے ،وہ سب کو دکھاکر نہیں ہوسکتی۔ روزانہ ہماراواسطہ ایسے کئی افراد سے ہوتا ہے جو ہماری ایک توجہ کے مستحق ہوتے ہیں،چاہے وہ ہمارے گھروں میں کام کرنے والی ملازمہ ہو ،سبزی فروش ہو،ٹھیلوں پر ضرورت کا چھوٹا موٹا سامان بیچنے والے افرادہو ں یا گلیوں میں صدائیں لگانے والے فقیر ہوں۔ان تمام کی بھی وہی ضرورتیں ہوتی ہیں جو ہماری ہوتی ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس ضرورتوں کو پورا کرنے کے وسائل ہوتے ہیں اور انھیں وہ میسر نہیں ہوپاتے۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کو مدنظر رکھ کر اِن جیسے کسی ایک مستحق کے لیے قرض حسن کے طور پر اپنے مال و دولت کا کچھ حصہ صرف کردیں تو اس سےہمارے مال میں کوئی کمی واقع نہیں ہونے والی بلکہ اللہ رب العزت اِس میں اضافہ ہی فرمائے گا۔
تو کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے؟
قارئین کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ کے پروجیکٹ کے لیے آپ ڈاکٹر عقیلہ ظہور کو قرض مستحق افراد کے لئے دے دیں کیونکہ ہم کو بیس سے پچیس ہزار ڈالر کا انتظام کر نا ہے ۔ ہم چھ مہینے کے لئیے اللہ کے لئے اللہ کی کے لوگوں کی ناگفتہ بہ حالات کے پیش نظر قرضہ حسنہ کی درخواست کرتے ہیں ۔ آپکو شائد معلوم نہیں ہے کہ جو لوگ ہمارے پروجیکٹ کے لئے قرضہ حسنہ دیتے ہیں انکو ہم نے ہمیشہ وعدہ سے پہلے ہی دے دیتے ہیں ۔ کیونکہ ہمارے پاس ایسے لوگ ہیں جو قرض ہمارے پروجیکٹس کو دینا پسند کرتے ہیں ۔اور آج ہم کو یہ اناؤنس کرنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے پاس مستحق لوگوں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو گیا ہے جو کہ عام طور پر ایسا رش دیکھنے میں نہیں ملتا ۔ ڈاکٹر عقیلہ ظہور کے نام سے کون واقف نہیں ہے اور ہم اپنے پروجیکٹ کے لئے بہت ہی کم مواقع ایسے میسر ائے ہیں کہ آپ سب لوگوں سے درخواست کی ہو۔ کیونکہ اللہ کی داغنے سے یہ کام ہم خود ہی انجام دے رہے ہیں ۔ مگر اس ٹائم ہم وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوے کام سے درخواست کر رہے ہیں جو کہ اپنے مال کو اللہ کے کانوں کے لیے اللہ کے قرض دینے کے اخوال مند ہوں ہم سے رابطہ کریں ۔ اور ہم آپکو قرض کی انشاءاللہ واپسی کے لئے چھ ماہ کی مدت مانگی ہے مگر ہم پیسے آپکو جلد دے دیں گے چھ ماہ کی مدت مانگنے کا مقصد سیف ٹرانزیکشن کرنا ہے مگر اندھیر سویر کا پتہ نہیں اسلئے چھ ماہ کا پیریڈ کا کہہ رہی ہوں مگر میں آپکا جلد از جلد دینیکی کوشش کرونگی ۔ کیونکہ ہمارے پاکستان کے حالات کے مدنظر لوگوں کی بڑھتی ہوئی درخواستوں کے پیش نظر یہ قدم اٹھا رہے ہیں ۔
ہم کو اللہ کے نام پر اللہ کے بندوں کی ناگفتہ بہ حالات کے مدنظر قرض چاہیے ۔ اگر ہو سکے تو اپنے اردگرد کے لوگوں سے بھی پوچھ لیں کہ وہ اللہ کے کاموں کے لئے قرض حسنہ دیں اللہ آپکو بہت اجر عظیم دے گا کیا کہ یہ اللہ کو قرض دینے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں جن نعمتوں سے نوازا ہے اُن میں سے ایک مال و دولت بھی ہے۔اور دیگر نعمتوں کی طرح مال و دولت جیسی نعمت پر بھی اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔اس نعمت پر شکر ادا کرنے کی صورت یہی ہے کہ اسے اُسی طرح خرچ کیا جائے جس طرح خرچ کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :"ائے ایمان والو!جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے وہ دن آنے سے پہلے(اللہ کے راستے میں) خرچ کرلو جس دن نہ کوئی سودا ہوگا نہ کوئی دوستی کام آئے گی ،اور نہ کوئی سفارش ہوسکے گی۔"(سورہ البقرہ:254 ) آپکے ہم تہ دل سے مشکور ہونگے اگر آپ اس کارخیر میں ہماری مدد کریں ۔ کیونکہ اللہ آپ کو خود اسکا اجر عظیم دے گا ۔
جزاکم اللہ احسن الجزاء فی الدنیا والا خرہ ربنا اتنا فی الدنیا حسنتہ و فی الا خرہ حسنتہ وقنا عزاب النار۔۔۔
اگر آپ میں سے کوئی بھی مال دار اس کارخیر میں ہمارے پروجیکٹس کو قرضہ دینا چاہتا ہے تو وہ ڈاکٹر عقیلہ کی ایڈمن ڈاکٹر سٹیسی رابطہ کریں ۔ ہماری دعا ہے کہ یارب !ہمارے دین و دنیا کو بہترفرما. یا پروردگار! اپنےلامحدود خزانوں سے رزق حلال، صحت، سکون وآفیت، خوشیاں اور کامیابیاں عطافرما دے .آمین یارب العالمین۔
والسلام علیکم و رحمة الله و برکاة
——ڈاکٹر عقیلہ ظہور