(( زندگی کی بقا کے بعد اسکے بنیادی جوہر مسرت و راحت پر اک نظر )))
صوفی مشتاق
فطرت کی سب سے خوبصورت تخلیق بلا شبہ زندگی ہی ہے۔۔۔کائنات کے جبر وقہر کی تہزیبی وسعتوں میں زمیں اسکا حسین ترین نوزائدہ بچہ ہے ۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری کائنات کے ازلی اسرار اور بے کراں لامنتہائی وسعتوں کا مقصد زمین کی تخلیق ہی تھا۔ اور اب ساری کائنات کے بکھرے وجود کا ہر حصہ اسے جھولے میں ڈالے اسکی دلداریاں ،لاڈ چاؤ پورے کر رہا ہے ۔فلک کا دست شفقت ، تاروں بھر ی اوڑھنی چاند کا بالا سورج کی حیات پرور تمازت ۔۔درخت پھول ۔پرندے گیت ابشاریں چشمے ، سمندر ۔بادل بارشین ،پہاڑ اور جنگل غرضیکہ حسن و فن کے تمام لطف و سرور زمیں کو سونپ دیئے ۔اس دھرتی کا سارا حسن اور سارے سنگھار جب عروج پر پہنچ گئے تو دھرتی کے ارتقائی سفر کی تخلیقی جوہر نے زندگی کو جنم دیا جسکا آغاز ایک تنہا زرہ (unicell) سے ہوا جس نے لاکھوں اربوں سالوں کے سفر کے بعد اس دھرتی پر زندگی نے لاکھوں زمینی ،فضائی،ابی روپ اختیار کئے ایک سے بڑھ کر ایک زندگی کا حسین ڈائنو سار سے لیکر دیو ہیکل وہیل مچھلی تک ۔ ہمنگ چڑیا سے لیکر تتلی تک ۔جب زمین حیات کی رنگا رنگی کی فطرت کے ساتھ یک جہتی مکمل ہوئی ۔ اربوں سالوں کے سفر زندگی کے خوب سے خوب تر روپ بدلتا ہوا بالا آخر آنسانی زندگی پر منتج ہوا ۔ اور حضرت انسان بلا شبہ فطرت کے ارتقائی سفر کا مکمل تر ،حسین ترین ۔ جوہر تخلیق کا حامل کامل وجود قرار پایا ۔ اور قدرت کے اس واحد وارث نے ایک طرف دھرتی کے حسن میں سائنس ادب اور آرٹ سے بے پایاں اضافہ کیا اور دوسری طرف فطرت سے ہی جدل شروع کر دیا جو مسلسل جاری ہے اور فطرت بقول اینجلز کے کبھی شکست قبول نہیں کرتی بلکہ بدلہ لینے پر تل جاتی ہے ۔انسانی زندگی کے۔عقل شعور اور فہم و ادراک نے اسے دھرتی پر تمام نباتاتی و حیواناتی زندگیوں کی حکمرانی کا تاج پہنا دیا اور دھرتی کا سارا حسن اور اثاثے اسکے قدموں میں نچھاور کر دیئے ،سورج کی تمازت سے لیکر جگنو کی ٹھنڈی چمک ۔جھومتی بل کھاتی کہکشاؤں سے لیکر درختوں کے سائے میں پگڈنڈیاں
بارشوں کی تال پر رقص کرتے پھولوں تک انسانی زندگی کی ناز برداریوں پر مختص ہیں۔ قدرت نے اپنے تخلیقی جوہر بھی حضرت انسان کو ودیعت کر دیئے .آج کا موضوع اس لحاظ سے تمام تر علمی وسعتوں میں بنیادی اہمیت کا حامل ۔اگر کائنات کے ارتقائی تخلیقی جوہر کا آخر زندگی ہے ۔ زندگی کے انواع اقسام کا مرکز انسانی وجود ہے ۔ اس انسانی وجود کی مرکزی حیثیت زندگی ہے اور زندگی کا سارا حسن اسکی خوشی مسرت ۔کی کیفیت کو حاصل ہے ۔ (( آج کے مضمون میں ہم اس راحت مسرت خوشی کی سائنس کے فقط ایک داخلہ پہلو کا تعارف کروائیں گے ۔)) جبکہ اسکے اور بھی خارجی اور داخلی عوامل کم اہمیت کے نہیں ۔یوں انسان بھی اس دھرتی کو خوب سے خوب تر بنانے کے فطری عمل کا سانجھے دار بن گیا ۔حضرت انسان کی زندگی سکھ ،سکون ، خوشی راحت کی محتاج ہے ۔افسوس کہ انسان نے فطرت سے جنگ چھیڑ کر اپنی حاکمیت کے تکبر کی سرشت نے حیوانوں بلکہ انسانوں کو بھی غلام بنا کر ازلی مسرت کھو دی ہے ۔اور آج کے انسان نے زمینی حسن ،ماحولیات ۔زمین پر حیات تک کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ جبکہ انسانی نسل کو بھی معدومیت کے خطرات سے دوچار کر دیا ہے
یوں تو ہر جاندار جبلتی طور اپنی زندگی کو پر مسرت طریقے سے گزارنے کے لئے ہر لمحہ کوشاں ہے۔حضرت انسان بھی۔ھم نے تو بلکہ زمین کی تمام حیات کو اپنی بقا کے تابع کر لیا ہے بلکہ بے جان مادے کو بھی اپنی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنا غلام بنا لیا ہے۔جس طرح قدرت کی تخلیق اعلی حضرت انسان فطرت کے وجود و حسن کے در پہ ہے ۔ایسے ہی ھمارے ہاتھوں کی بنائی ہوئی مشین ھماری زندگی کے حسن کو ختم کرتی جا رہی ہے۔ھماری بے بسی کا اب یہ عالم ہے کہ شبہ روز کی جان لیوہ مشقت کے باوجود صرف سانس چل رہی ہے اور ھم اجتماعی طور پر خود کشی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ آخر کیوں؟
جسطرح گلاب کی ٹہنی میں نشونما کا اور فنا کا بیک وقت جوہر موجود ہے جو اسے دلکش پھول بھی دیتا ہے اور اسے فنا بھی کرتا ہے۔اسی طرح ارتقا کےابتدائ مراحل میں ہی یہ دونوں جوہر انسانی سرشست کا لازمی حصہ بن گئے۔ اک طرف اسنے جنگلی حیات کے خلاف دھوکہ طاقت اور قبضہ کے ذریعے غلبہ حاصل کیا اور دوسری طرف باہمی تعاون و انحصار ۔ ایثار و محبت اور دوسروں کیلئے جزبہ قربانی کے ذریعے اپنی طاقت کو بڑھایا ۔تحفظ کو یقینی بنایا نیز اپنی مسرت اور بقا کی ضمانت بھی حاصل کی۔زمین پر فتح حاصل کرنے کے باوجود غلبے کی فطرت حتم نہیں ہوئ بلکہ انسانوں کے اک چالاک اور طاقتور گروہ نے دوسرے انسانوں کو غلام بنانے کے لئے اسی جوہر کا استعمال کرنا شروع کر دیا اسی غلبے کی جبلت نے قدرتی وسائل اور اشیائے تصرف پر قبضہ کرکے اپنی طاقت اور دولت کی ترقی کیلئے صارفیت یعنی خرچ کرنے کی رواجی تہزیب (consumerism) کا کلچر پیدا کر دیا ہے ۔ انسان خود بھی اک چیز بن کر رہ گیا ہے ۔جسمیں آج انسانیت دم توڑ رہی ہے۔
باہمی انحصار ۔اجتماعی وجود کی انفرادی وجود پر فوقیت۔ ecology and coextence۔۔ ایثار و قربانی۔اور beautifying فطرت کے بنیادی قانون ھیں ۔جو زرہ سے لیکر کائنات کی وسعتوں تک یکساں کار فرما ہیں۔انسانی تشکیل شدہ تہزیب کے consumer culture میں یہ نیکی و خیر۔اخوت و ایثار۔حسن و محبت کے جذبے ھماری سرشست سے تقریباً معدوم ھوتے جا رہے ہیں ۔جس سے ھم مسرت وخوشی۔امنگ ترنگ۔سرشاری و مستی ھنسی اور مسکراہٹ کی حیات افروز جذبات و کیفیات سے محرم ہوتے جارہے ہیں۔جو ھماری صحت زندگی اور بقا کی ضمانت ہیں۔
یاد رہے فطرت کبھی یکطرفہ شکست قبول نہیں کرتی۔اسی لئے اک طرف فطرت کے سر بستہ راز کھلتے جارہے ہیں اور دوسری طرف اسباب پیدا ہو رہے ہیں کہ انسان اس شکست و ریخت کے دور سے نکل کر فطرت سے ھم آہنگی کے بعدالوہی مسرتوں سے ھمکنار ہو کر محو رقص ہو جائے ۔اس نقطے کی وضاحت کے سائنسی علوم کی روشنی میں توجیہات کیا ہیں ۔یہی آج کی تحریر کا بنیادی مقصد ہے کہ ہم گم ہوتی ہوئی دائمی حیات افروز مسرت کی نشاندھی اور نشونما کی سائنسی حقیقت کیا ہے ۔۔اسکے ساتھ ہی ساتھ عارضی خوشی ،لذت پرستی جسکا پورا معاشرہ شکار ہو چکا ہے یا بذریعہ میڈیا صارفی معاشرہ کی نشونما کیلئے کر دیا گیا ہے ۔اسکے ہماری زندگیوں پر منفی زوال پرست اثرات کیا ہیں۔
ذندگی کا اگر بنیادی حا صل۔ مسرت اور خوشی ہے جو زندگی کی (thriving and flourishing) نشونما اور فروغ پزیر جبلت کی بنیاد ہے۔نفسیاتی سائنس کی لغت میں خوشی دو قسم کی ہے (hedonic and eudemonic happiness )
Hedonic happiness۔۔کو ہم آسانی کی خاطر عارضی۔ خوشی کا نام دے لیتے ہیں۔اس خوشی کی بنیاد consumerism۔یعنی صارفی معا شیت پر ہے۔جب بھی ہم کوئ چیز ، جائیداد،۔عہدہ ڈگری۔۔ طاقت یا intellectual property حاصل کرتے ہیں ۔جنکا حصول ہمیں فرط و انبساط ک کیفیات و احساسات دیتی ہیں ۔ اس کیفیت کا دورانیہ عارضی ہوتا ہے جسکے کے بعد یہ خوشی خود بخود ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔اور جلد ہی ہم اس خوشی کی کیفیت سے نکل جاتے ہیں ۔ اورہمارے ذہن میں محرومی کا خلا سا پیدا ہو جاتا ہے ۔جو اسی چیز کی مزید مقدار اور معیار کی طلب پیدا ہوتی ہے ۔ جو اک ہیجان و اضطراب پیدا کر دیتی ہے ۔اسی خلا کو پر کرنے کیلئے
نشے کی طرح ھم ا سے مزید حاصل کی پہلے سے ذیادہ مقدار کے طالب ہو جاتے ہیں۔ جیسے موٹر سائکل کار کی اور کار پھر بڑی اور مہنگی کار کی ۔مہنگی کار کاروں کے فلیٹ کی طلب پیدا کرتا ۔اور آگے پھر اور آگے ۔یہی عمل دیگر حصول ضروریات سے نکل کر حصول خودنمائی اور تعیش پرستی میں داخل ہو جاتا یعنی گھر ،عہدہ ۔افتدار ۔دولت ، ہم میں مقابلہ بازی ۔۔زر پرستی سے حاکمیت اور غلبہ کی ہوس سے ہوتا ہوا بے حسی و بے رحمی ۔۔غرور و تکبر ۔ظلم و جبر تک وسعت پذیر ہو جاتا ہے ۔اور یہ عمل اک ایسا vicious circle یعنی گھن چکر بن جاتا ہے۔جس کی دلدل میں پھنس کر اور گہرائی میں اترتے جاتے ہیں ۔یوں ہماری جسمانی اور روحانی ذات consume.خرچ ہونا شروع ہو جاتی ہے اور ہم انفرادی اور معاشرتی سطح پر فنا کے تکلیف زدہ سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں ۔جو ھماری جسمانی ،جذباتی اور نفسیاتی صحت کو تباہ و برباد کر دیتا ہے
۔
جبکہ حقیقی مسرت
( eudomonic happiness)
تو زندگی کیلئے(thriving and )(flourishingھوتی ہے یعنی ہمیں فروغ پزیر ہونے اور پھلنے پھولنے کا موقع دیتی ہے۔۔۔جبکہ hedonic happiness کی بنیاد خود غرضی خود پرستی ۔لالچ اور طمع پر منحصر ہونے کیوجہ سے یہ اسکی جبری ضرورت بن جاتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے باہر کے انسانوں کی زندگیوں سے ،ماحولیاتی تقاضوں سے ، فطرت کی ضرورتوں سے کوئی سروکار نا رکھے ۔سو اسکا زندگی کی ضمانت اسکی نشونما یا معاشرتی ترقی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ ہے،۔بلکہ الٹا انکے لئے مسائل پیدا کرتا ہے ۔ مثلاً planet ecology. (ماحولیاتی نظام )اور آنیوالی نسلوں کی تباہی کا باعث بنتا ہے ۔وسائل پر قبضہ عسرت بھوک بیماری کا سبب بنتا ہے ۔اقتدار اور حاکمیت کی خصلت نا انصافی ۔ظلم جبر ۔۔اسلحہ کی دوڑ اور جنگوں کی بنیاد بنتی ہے ۔اس عارضی خوشی hedonic pleasure حاصل کرنے کے لئے
پیدا ہونے والی ہوس کی بے چینی و اضطراب ہمارا کارٹیسول (cortisole) ہارمون بڑھا دیتا ہے جس سے ھمارے اندر inflammation ( سوزش)پیداہوتی ہے ۔جو دور حاضر کی بہت سی ذیابیطس،ارتھرائٹس۔دمہ،ڈپریشن۔دل کا عارضہ جیسی بیماریاں پیدا کرتی ہے اور قوت مدافعت کمزور کرتی ہے۔جسکی حقیقت سائنسی طور پر مسلم ہے (جسکی تفصیل علیحدہ مضمون کی متقاضی ہے) سو آپ اکثر دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ انگزائٹی ۔ڈیپریشن ۔بلڈ پریشر کے شکار رہتے ہیں یہی بظاہر کامیاب لوگوں میں خودکشی کا تناسب فنکاروں ۔درویشوں ۔قناعت پسندوں اور ہمدرد انسانوں کی مطمئن زندگی کے بر عکس بہت زیادہ ہوتا ہے
Eudemonic happiness.جسے ھم نام دیتے ہیں دائمی مسرت کا۔ جسکی بنیاد خیر برائے فطرت ،زندگی ۔ دھرتی ،کائنات ، حسن پرستی .پیار محبت ۔سچ انصاف ۔۔فنون لطیفہ ،اعلی مقاصد حیات ہے۔اس احسن طرز حیات سے ملی خوشی میں ہم کچھ مادی طور پرحاصل کرنے کے برعکس بعض اوقات ہم کچھ خرچ یا دان بھی کرتے ہیں۔مثلاً پیسہ ،وقت،طاقت، صلاحیت و ہنر ،وسائل علم و آگہی وغیرہ وغیرہ ۔۔اس سے (bliss,ecstasy,serenity )طمانیت، قلبی سکون،آسودگی،شکرگذاری ،فرحت و مسرت ،تفاخرو اعتماد تکمیل ذات جیسی ہمیں بے شمار حیات پرور احساسی کیفیات ملتی ہیں ۔ان کیفیات کا دورانیہ عارضی نہیں ہوتا۔بلکہ جب بھی آپ اس نیکی خیر اور ایثار کے واقع کو یاد کریں گے یا آپ انجانے میں خود بخود خیال پڑے گا۔۔اپ انہیں دائمی مسرتوں سے ہمکنار ہونگے جو انکے عمل کے وقت ملی تھیں
ان کیفیات سے ہماری بائیو کیمسڑی جو اثر لیتی ہے اس سی اچھی جسمانی اور روحانی صحت نصیب ہوتی ہے۔سماجی طور پر ھمدرد اور سچے دوست ملتے ہیں جو مالی آسودگی اور سماجی تسکین کا باعث بھی بنتے ہیں۔ قوت مدافعت (immune system )بڑھ جاتی ہے جو ہماری صحت کی ضامن ہر اور بیماریوں کے خلاف ڈھال کا کام کرتی ہے ۔ جس سے عمر لمبی ہوتی ہے۔ یہی وہ مسرت ہے جو ہمیں جینے کی لذتوں سے ہمکنار بھی کرتی ہیں ۔کچھ دے کر۔دان کرکے۔موجودہ لغت میں کچھ خرچ کر کے شوق و رضامندی سے روحانی خوشی یا دائمی مسرت حاصل کرنے کاشعوری وصف صرف حضرت انسان کا ہی مقدر ٹھہرا ہے۔ جبکہ جبکہ لاشعوری یا جبلتی طور پر پوری کائنات۔ درخت ،چرندپرند ۔بلکہ ژندہ اجسام کے سیل تک میں اسکا جوہر طور پر موجود ہوتا ہے ۔۔جسکے بے شمار ثبوت سائنس حاصل حاصل کر چکی ہے ۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم فیشن ۔پروپیگنڈہ ۔غیر محسوس ترغیبات ۔سٹیٹس سمبل کے غلط معیا ر اور کنزیومرازم کے جبری پیدا کئے کلچر کے زیر اثر عارضی خود نمائی ،لذت پرستی ۔اور آنا کی تسکین کی خاطر عارضی خوشی hedonic pleasure کے راستے پر چلتے ہیں ۔یا فطری اور سائنسی حقائق کی روشنی میں اپنی روحانی اور جسمانی زندگی کی صحت و مسرت کے ساتھ ساتھ انسانی معاشرے اور فطرت کے سہولت کار بنتے ہوئے دائمی مسرت eudomonic happiness کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں ۔یہ آپکے شعور ،علم،ارادے کی اور ہوس زر و صارفی نظام کے کلچر کی طاقت کے درمیان جنگ سے ۔کیا آپ یہ جنگ جیتنا چاہتے ہیں اپنی ذات ۔معاشرہ و مظاہر فطرت کی بقا کی خاطر تو آغاز کیجئے علم و شعور ،خود آگاہی ،اور حکمت عملیوں کے وسائل جمع کرکے یا خود پر نظام زر کے فروغ پزیر کلچر کے زیر اثر خود بخود راہ فنا پر چلتے جائیے ۔ مرضی آپکی ۔اختیار آپکا
Sufi thoughts
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sufi thoughts, Education, New York, NY.
قوت ۔صلاحیت ۔قابلیت ،جوش بن مول ملے
صوفی مشتاق
روزانہ اپنے متعین شدہ یا خود بخود بنے کاہلی ۔بے عملی ۔ارام پسندی کے کمفرٹ زون (دائرہ سکون ) سے باہر نکلنا ایک مشکل لیکن فائدہ مند راستہ ہے جو آپ کے نقطہ نظر کو وسعت دیتا ہے، آپ کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے، اور جیتنے والی ذہنیت کو فروغ دیتا ہے۔ اپنے مانوس معمولات سے باہر نکلنا اور خوف کا سامنا کرنا ذاتی ترقی اور تکمیل کو قابل بناتا ہے۔ روزانہ کے چھوٹے چھوٹے چیلنجوں یا مشکل کاموں کو معمول میں شامل کرکے، ناکامی کو فیڈ بیک کے طور پر تبدیل کرکے یعنی ناکامی سے شکست خوردہ کیفیت کا شکار ہونے کی بجائے اے مستقبل کے عمل کے لئے نا دہرانے کا عزم لئے ، سنگ میلوں کا جشن مناتے ہوئے، اور بار کو مسلسل بڑھاتے ہوئے، آپ اپنے جمود سے آزاد ہو کر اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ جس سے زندگی با مقصد اور با مراد بنا کر خود اور اپنے سے متعلق رشتوں کیلئے آسودگی ۔اور خوشگوار زندگی کا اہتمام کر سکتے ہیں
یہ مضمون ایسی عادات کو قائم کرنے کے لیے قابل عمل حکمت عملیوں کی کھوج کرے گا جو وقت کے ساتھ ساتھ پائیدار اعتماد، بااختیار بنانے اور نئی بلندیوں کو چھونے کے لیے مل جاتی ہیں۔ چاہے آپ کا مقصد اپنے کیریئر، تعلقات، یا فلاح و بہبود کو بہتر بنانا ہو، آپ کے روز مرہ معمول سے باہر بڑھتے ہوئے اقدامات شاندار کامیابی کے لیے طاقت اور لچک پیدا کرتے ہیں۔ سفر میں تکلیف کے ذریعے استقامت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن آپ کے کمفرٹ زون سے باہر لامحدود امکانات آپکے منتظر ہیں
1......( اپنے کمفرٹ زون (دائرہ سکون) سے باہر نکلنا کیوں اہم ہے۔)//////
اپنے کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھنا ذاتی ترقی اور تکمیل کے لیے اہم ہے۔ جب آپ مانوس معمولات کو چھوڑ کر نئے چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں، تو آپ اپنے نقطہ نظر کو وسعت دیتے ہیں، نئی مہارتیں سیکھتے ہیں، اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ اپنی حدود کو آگے بڑھانے سے آپ کو اپنی غیر استعمال شدہ صلاحیتوں اور پوشیدہ صلاحیتوں کا احساس کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ کمفرٹ زون ہمیشہ محفوظ محسوس ہوتا ہے،چاہے اس میں مشقت اور دباؤ کا عنصر بھی موجود ہو ۔ لیکن وہاں زیادہ دیر ٹھہرے رہنا جمود کا باعث بنتا ہے اور آپ کو ترقی اور نئے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے امکانات سے مسلسل روکتا ہے
روانہ ایک نیا کام ۔نئی سرگرمی ۔نیا مطالعہ ۔نیا راستہ .نئی روٹین .نیا تجربہ۔ یا بھلے گفتکو کا نیا موضوع شامل کرکے چھوٹی سے چھوٹی شروعات کریں۔اور خود نئے چیلنجز کی یہ ہلکی سی جنبش بھی مستقبل کیلئے آپکے عزم ،حوصلے اور کر گزرنے کی طاقت مہیا کریگی ۔
آپ کو معمول کے pattern ( نمونہ یا خاکہ ) کو یکسر توڑنے کا خیال مشکل لگ سکتا ہے۔ جب آپ رفتار بناتے ہیں تو چھوٹے سے چھوٹے ہدف سے شروع کرنا مستقبل کی تکلیف کو زیادہ قابل برداشت بناتا ہے۔ اور ایک بار جب آپ کو نشوونما کا ذائقہ مل جائے تو آپ مزید خود بخود اور کرنے کی خواہش کریں گے۔شرط فقط روانہ نئی سمت اک قدم اٹھانا ۔راستے کے پہاڑ سے ایک کنکر ہٹانا ۔ایک نیا لفظ سیکھنا ۔ایک لقمہ کم کرنا ۔اپنے سست پٹھوں پر معمولی بوجھ ڈالنا ۔مگر یہ اس معمولی سرگرمی کیلئے ضروری ہے کی باقاعدہ مستقل مزاجی سے روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے بھلے یہ آپ کو مضحکہ خیز ہی لگے ۔یہی استقلال آپکی طاقت ۔قوت ارادی ۔جوش و جزبہ کو انتہاؤں تک خود بخود غیر محسوس طریقے سے لے جائیگا ۔فقط آپ کو آج کے دن پر اور ان معمولی تبدیلیوں پر فوکس کرنا ہے ناکہ بڑے ہدف یا منزل پر دھیان دینے ۔ جو بیشک آپکے وقت اور توانائی کے معمولی حصہ پر موقوف ہو ۔مقدار کی بجائےفقط تسلسل کی اہمیت کو ازبر کر لیں
2...(اپنے نفسیاتی خوف سے پیدا ہونے والی مایوسی اور ہیجان کا سامنا کریں)
کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھنا لامحالہ خوف اور اضطراب کو جنم دیتا ہے۔چونکہ معمولات سے نپٹنا ہمارا دماغ سیکھ چکا ہے ۔مگر نئی سرگرمیوں کے نئے راستوں سے ناواقفیت کی بنیاد پر گھبراتا ہے ۔بھلے وہ معمولی نوعیت کی ہی کیوں نا ہوں ۔یہ ہمارے دماغ کی آٹومیشن یعنی خود کار نظام ہے جو ہمارے شعور سے ماورا ہے ۔ہمیں محسوس بھی نہیں ہونے دیتا اور نئے راستوں کی طرف بڑھتے پاؤں معمول کی راہوں کی طرف موڑ دیتا ہے ۔ یہ ان دکھا خوف ہم پر کافی دیر تک دباؤ بڑھاتا ہے۔ ہر خوف کے ساتھ جس کا آپ سامنا کرتے ہیں اور اسے قبول کرتے ہیں آپ کو احساس ہوگا کہ تکلیف عارضی اور قابل انتظام ہے۔ گہرے سانس لینے، خود کو حوصلہ بخشنے والی خود کلامی ۔نئی سرگرمیوں کی حمایت جیسی حکمت عملیوں سے خود کو لیس کریں۔ خوف کا سامنا کرنا ۔اس سے لڑنا اور پھر قابو پانا آپ کو سکھاتا ہے کہ آپ اپنے تصور سے کہیں زیادہ سنبھال سکتے ہیں۔ خوف ۔نا امیدی ۔مایوسی فقط ذہنی کیفیتیں ہی ہیں انکا ناقابل برداشت مادی وجود اکثر نہیں ہوتا ۔انکے خلاف حوصلہ ۔ہمت ۔استقلال بھی ہماری ذہنی کیفیات ہی ہیں ۔جو فقط جرات سے قبول کرتے ہیں ہمیں نئے جوش و جذبہ سے ہم کنار کر دیتی ہیں ۔اور انسان معجزے پیدا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے
3...(ناکامی کے خوف کو بھول کر اسے تجربے کا سبق قرار دیں )
نئی چیزوں کی کوشش کرتے وقت، ناکامی ناگزیر ہے. لیکن ناکامی سیکھنے کے لیے ہے، فیصلے کے لیے نہیں۔ ناکامی کو فیڈ بیک کے طور پر ری فریم کریں جو سکھاتا ہے کہ کیا کام مستقبل میں نہیں کرتا تاکہ آپ خود کو ایڈجسٹ کر سکیں ۔ اپنے آپ کو ناکامی کا لیبل لگانے کے بجائے، متجسس رہیں۔ تجزیہ کریں کہ کیا غلط ہوا اور آپ کس طرح بہتر کر سکتے ہیں۔ ناکامی لچک اور استقامت کی تربیت دیتی ہے۔ سب سے زیادہ کامیاب لوگ آگے بڑھنے میں ناکامیوں کو قبول کرتے ہیں اور ان سے سیکھتے بھی ہیں اور جوش جذبہ کو بڑھاتے بھی
4...(اپنے آپ کو ہمیشہ ہمدرد اور معاون لوگوں کے درمیان رکھیں )
کمفرٹ زون سے باہر نکل کر اپنے سفر کو دوسروں کے ساتھ بانٹ کر بااختیار بناتا ہے۔ اپنے آپ کو ایسے لوگوں میں گھیر لیں جو ہمت کو نمونہ بناتے ہیں، تعمیری آراء کا اشتراک کرتے ہیں، اور تبدیلی کی اپنی صلاحیت پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا امید افزا طرز عمل ۔ہمت اور حوصلہ افزائی آپ کو خود پر کم ہمتی کے شک یا پریشانی سے نجات بخشے گی ۔ اپنے اہداف اور پیش رفت کا ان لوگوں کے ساتھ اشتراک کریں جو آپ کو سنیں،۔اپکے ہمدرد ہوں اور آپکی ہمت اور کوشش کی تعریف کریں اور آپ خود کو انکے سامنے جوابدہ سمجھیں ۔ باہمی تعاون سے اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ مطلب اکیلے جدوجہد کی بجائے ہم خیال اور ہم مراد لوگوں کیساتھ گروپ بنا کر کر جدو جہد کرنا بہتر نتائج فراہم کرتا ہے اور مایوس ہونے سے بھی بچاتا ہے ۔جب آپ کم ہمتی یا مایوسی کا شکار ہوں آپکے گروپ کے اور ساتھی اسوقت ہمت اور جوش کا مظاہرہ کرتے ہوں جو آپ کو بھی حوصلے بخش دے گا
5..کروڑ پتی انسانوں عادات جنہوں نے مجھے ایک مرغوب کیا ..///////
کمفرٹ زون سے باہر نکلتے ہی ہماری اکثر بڑی متعین شدہ منزل پر خود بخود توجہ مرکوز ہو جاتی ہے اور ہم چھوٹ اہداف اور چھوٹی کامیابیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ جب آپ اپنی حدود کو آگے بڑھاتے ہیں تو چھوٹی چھوٹی جیتوں اور سنگ میلوں کو تسلیم کرنا اور منانا یاد رکھیں۔ غور کریں کہ کون سے نئے خیالات، احساسات اور صلاحیتیں ابھرتی ہیں۔ خود کی مسلسل تعریف کرتے رہیں کہ آپ کہاں تک آ چکے ہیں۔ اپنی حوصلہ افزائی کو بلند رکھنے کے لیے اپنی پیشرفت کو انعام دیں۔ معمولی فتوحات آپ کو خوشی اور سرشاری بخشتی ہیں ۔ وہ آپکی رفتار کو اور تیز کرتی ہیں ۔جو آپ کو اگلے درجے تک لے جاتی ہے۔ اور پھر اس سے اگلے درجے پر ۔اس عمل میں آپکی محنت ۔ریاضت خود بخود تھکان بوریت سے نکل کر سرشاری اور لطف کی کیفیت میں ڈھل جاتی ہے ۔کامیابی کی راہوں کے اسی موڑ پر جراتوں ۔ہمتوں کی قندیلیں روشن ہو جاتی ہیں اور منزلیں آپکے قدموں میں ڈھیر ہو جاتی ہیں ۔۔بیشک دنیا کے تیز ترین دوڑنے والے نوجوان نے بھی اپنا ہدف بچے کے پہلے لڑکھڑاتے قدم اٹھانے سے ہیں کیا تھا ۔۔وہ ہر مرحلے پر باہمت بھی رہا اور پرجوش بھی اپنے جسم کی اعلی ترین طاقت کو بڑھاتے ہوئے ۔اور ہم افسردہ ،مایوس اور ناکامی کا بوجھ اٹھائے زندگی کو گھسیٹتے چلے گئے ۔
6.... ( ٹھہرے ہوئے پانیوں کے برعکس رواں دواں متحرک دریاؤں کی ذہنی کیفیت کو اپنانا )/////////
آرام دہ حلقوں سے آگے بڑھنے کی عادت کو برقرار رکھنے کے لیے ترقی کی ذہنیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صلاحیتوں کو مستقل طور پر ترقی کے قابل دیکھنا ہے . کوشش کے ذریعے۔ ترقی کی ذہنیت کے ساتھ، آپ ناکامیوں کی مشق کے ذریعے بہتری کے مواقع سے تعبیر کرنا ہو گا ۔ آپ چیلنجوں کو سبق میں بدل دیتے ہیں۔ اس ذہنیت کو تیار کرنے میں ذہن سازی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کامیابی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ بڑھنے کے طریقے تلاش کرتے رہیں۔
7....وقت کے ساتھ مستحکم عادات کے مرکب اثرات/////
وقت کے ساتھ ڈرامائی طور پر آپ کے کمفرٹ زون کمپاؤنڈ کو مسلسل کھینچنے کے اثرات۔ سب سے پہلے، ترقی سست اور کم سے کم لگ سکتی ہے. لیکن جوں جوں روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے عمل جمع ہوتے ہیں، تیزی سے تبدیلی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ بینک اکاؤنٹ میں سود کی طرح، کوششوں کے باقاعدگی سے ڈپازٹس ایکسپینشنل ڈیویڈنڈ حاصل کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو اکثر یاد دلائیں کہ دیرپا تبدیلی آہستہ آہستہ سامنے آتی ہے۔ عمل پر بھروسہ کریں اور روزانہ سرمایہ کاری کریں
۔8...تنکے تنکے سے طوفانوں کا سامنا کرنیوالے گھونسلے بنا کر دیرپا اعتماد اور تکمیل کا راستہ/////////////
بالآخر، آپ کے جمود سے آزاد ہونے کی مستقل عادت گہری تکمیل کا باعث بنتی ہے۔ ہر چھوٹے جرأت مندانہ قدم کے ساتھ، آپ اپنی موافقت اور تکلیف کو سنبھالنے کی صلاحیت میں خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں۔ خوف اور حدود آہستہ آہستہ ختم ہو جاتے ہیں، ان کی جگہ ایک بااختیار ذہنیت نے لے لی ہے۔ جامد رہنا کم میں طے کرنا ہے۔ لیکن آگے بڑھانے سے وہ صلاحیتیں کھل جاتی ہیں جن کے بارے میں آپ کو کبھی معلوم نہیں تھا۔ ترقی لت بن جاتی ہے، زندگی کے سب سے اہم انعامات لاتی ہے۔
جب آپ ترقی کرتے ہیں تو بار کو مسلسل بڑھائیں۔جیسا کہ آپ اپنے افق کو بڑھاتے ہیں، بار کو مسلسل بڑھاتے ہوئے اطمینان سے بچیں۔ ہمیشہ اعلیٰ اہداف کا تعاقب کریں جن کے لیے کوشش اور ہمت کی نئی سطحوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب موجودہ چیلنجز معمول کے مطابق محسوس ہونے لگیں تو خوفناک اہداف طے کریں جو کبھی ناممکن نظر آتے تھے۔ آگے ہمیشہ بڑی بلندیاں ہوتی ہیں۔ ذاتی نشوونما کے لیے ناقابل تسخیر بھوک کے ساتھ، آپ اپنے منفرد راستے پر ہمیشہ سے بڑی صلاحیت کو کھولیں گے۔
9....زید کا سفر: اپنے کمفرٹ زون سے آزاد ہونے کا ایک مثالی کیس برائے پیروی /////////////////(
زید ایک روزانہ کے معمول کی روٹیاں میں پھنس گیا تھا جو اب اس کی ترقی اور تکمیل کی خدمت نہیں کرتا تھا۔ اس نے پانچ بجے سے نو بجے تک کا مستقل کام کیا جس سے اپنے ذاتی اخراجات اور بل ادا کرتا ۔ لیکن اسنے اس روٹین کو کبھی چیلنج نہیں کیا۔ ویک اینڈ پر، وہ بنیادی طور پر گھر میں ٹی وی دیکھتے رہتے تھے۔ زید گہرائی سے جانتا تھا کہ وہ زندگی سے مزید باہر نکلنا چاہتا ہے، لیکن اہم تبدیلی کے خیال نے بھی پریشانی کو جنم دیا ہوا تھا
چنانچہ، اس نے اپنی حدود کو آگے بڑھانے کے لیے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانا شروع کر دیے۔ زید نے اپنے آپ کو روزانہ ایک نئی سرگرمی شامل کرنے کا چیلنج دیا – چاہے وہ کسی اجنبی کے ساتھ بات چیت شروع کرنا ہو، شہر میں کسی نئی جگہ جانا ہو، یا آن لائن کورس کے لیے سائن اپ کرنا ہو۔ وقت گزرنے کے ساتھ، ان چھوٹے خود کو دھکے نے زید کے اعتماد اور رفتار کو بڑھایا
اس کے خوف کا سامنا پہلے تو بے چین تھا۔ عوامی تقریر ہمیشہ جانی کو خوفزدہ کرتی تھی۔ لیکن ایک مقامی Toastmasters گروپ میں شامل ہونے کے ذریعے، اس نے اس خوف کا مقابلہ کیا اور مشق کے ساتھ اس کی پریشانی کو کم ہوتے دیکھا۔ راستے میں فیڈ بیک کے طور پر ناکامی کا ازالہ کرنا بہت ضروری تھا۔ جب زید نے اپنی پہلی بڑی پیش کش کی تو اس نے تجزیہ کیا کہ کیا غلط ہوا اور اگلی بار بہتر تیاری کی۔
ایک معاون سرپرست کے ساتھ اہداف اور کمزوریوں کا اشتراک کرنے سے زید کی ترقی کو بھی تقویت ملی۔ اس کے سرپرست نے اس پر یقین کیا اور اس کورس کو برقرار رکھنے کے لئے احتساب فراہم کیا۔ اس نے اپنی پہلی ہاف میراتھن کو فتح کرنے جیسے سنگ میل کا جشن منایا، جس نے زید کو بلندی تک پہنچنے کی ترغیب دی۔
ایک سال کے اندر، زید کا کمفرٹ زون یکس مختلف نظر آیا۔ اس نے نئے سماجی حلقے بنائے تھے، کام پر پروموشن لیا تھا، اور اپنے شوق کی بنیاد پر سائیڈ بزنس شروع کیا تھا۔ زید نے جو ترقی کی ذہنیت کاشت کی ہے اس نے مسلسل حدود کو بڑھانے کے لیے اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اپنے کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھنے سے اعتماد اور کامیابی کھل گئی زید نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ سفر چیلنجز لے کر آیا، لیکن بتدریج آگے بڑھتے ہوئے، زید نے اپنے جمود سے باہر نکل کر تیزی سے ترقی حاصل کی۔ وہ بار کو بڑھا رہا ہے، آگے کے لامحدود امکان کے بارے میں مثبت خیالوں نے جنم لیا
اپنے کمفرٹ زون سے آگے بڑھنا اپنے نقطہ نظر کو وسعت دینے اور اپنی صلاحیتوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔
10....چھوٹے چھوٹے ازبر کرنے کے چند نقاط درج ذیل ہیں
============...=...==========
الف۔۔۔۔اپنی حدود کو آگے بڑھانے اور بتدریج رفتار بڑھانے کے لیے چھوٹے روزانہ چیلنجز شامل کرنا بہتر حکمت عملی ہے ۔بے بی سٹپ جسکے لئے موسوم ہے یعنی چھوٹے چھوٹے قدم
ب۔۔پریشانی سے بچنے کے بجائے سر اٹھانے والے خوف اور اضطراب کا مقابلہ کریں۔
پ۔۔۔عملی رفتار کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے ناکامیوں کو تعمیری فیڈ بیک کے طور پر دیکھیں، عمل چھوڑنے کی وجہ یا جواز کبھی نا بننے دیں ۔
پ۔۔۔۔اپنے آپ کو ایسے مددگار لوگوں سے گھیر لیں جو بہادری کی ترغیب دیتے ہیں اور آپ کو جوابدہ ٹھہراتے ہیں۔
ج۔۔۔۔ پیشرفت کی تعریف کرنے اور حوصلہ افزائی کرنے کے لیے آخری منزل کی بجائے معمولی سنگ میل کو تسلیم کریں۔ اور اسکی خوشی منائی
چ۔۔۔مشق کے ذریعے مسلسل بہتری پر توجہ مرکوز کرنے والی ترقی کی ذہنیت کو فروغ دیں۔
ح۔۔۔۔وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹی، مسلسل کوششوں کی مرکب طاقت پر بھروسہ کریں۔
خ۔۔۔۔۔تکلیف خود اعتمادی، بااختیار بنانے اور تکمیل ارادہ کا باعث بنتی ہے
اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا مستقل طور پر آپ کی زندگی کی رفتار کو بدل دیتا ہے۔ بتدریج خوف کا سامنا کر کے، ناکامی کو سیکھنے کے طور پر قبول کر کے، اور چھوٹی جیت کا جشن منا کر، آپ پہلے کی ناقابل تصور صلاحیت کو کھول دیتے ہیں۔ ان جرات مندانہ عادات کو جوڑنا تیزی سے ذاتی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ بار کو بڑھانے پر مرکوز ترقی کی ذہنیت کے ساتھ، آپ دیرپا اعتماد، خود کو اپنے لئے بااختیار بنانے اور ارادوں کیتکمیل کو فروغ دیتے ہیں۔ آگے بڑھنے کے لیے تکلیف کے ذریعے استقامت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن لامحدود امکانات آپکے منتظر ہوتے ہیں .
حیات افروز سچ
************
دوستو زندگی کے کسی بھی محاذ پر کبھی بھی اعلی اقدار اور بلند کردار پر کمپرومائز نہیں کرنا چائیے۔بلکہ پوری جانفشانی ۔۔اعلی ترین ہنر مندی اور عمدہ حکمت عملی سے زندگی کے ہر ہر زاویہ کے فرائض کو تن من دھن سے ادا کرنا چائیے ۔اس راہ عمل کے احساس تکمیل سے ہی ہمیں اطمینان ۔سرشاری اور طمانیت حاصل ہو تی ہے ۔جو انسان کو واقع انسان بناتی ہے ۔اور زندگی کے خوشنما رنگوں خوشبوؤں اور ذائقوں سے آشنا کرتی ہے
انسان کا خود سے اور معاشرہ سے وفاداری کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنے خوابوں کی تعبیر کے چراغوں میں کتنا لہو بھرتے ہیں ۔فطرت ریاضی میں بہت طاق ہے وہ بھی آپکا انعام طشتری میں لئے آپکی راہ میں کھڑی ہو جاتی ہے ۔منزلیں خود آپکی طرف تیز رو ہو جاتی ہیں ۔سفر منزلوں سے کہیں زیادہ اہمیت کے حامل دکھتے ہیں
صوفی مشتاق
گجر بج چکا ۔۔۔۔صوفی مشتاق
یہ تو سب ماننا پڑے گا یا تو ھم پتلیوں ایسے کمزور ہیں یا پھر نچانے والا ھم سے بہت طاقت ور ہے۔باتیں تو دونوں سچ ہیں۔
یا اسکے ہاتھوں ناچتے ناچتے مر جائیں ۔۔یا انکار کر کے مارے جائیں
کیا موت ہی مقدر ہے
نہیں بابا میں موت کا کبھی بھی سفیر نہیں رہا
میرے نزدیک زندگی ہر حالت میں موت پر ترجیح رکھتی ہے
پھر حل کیا ہے
آگیا نہ دماغ میں ابھی ہر کسی کی طرح
مسلئے کا ابھی حل لکھو ں گا
مگر میں کیا جانو ں حل
گھڑے گھڑائے حل بتانے اور
کسی مہم جوئی پر اکسانے کی عادت چھوڑ دی میں نے۔۔دنیا بھر میں مہنگائی ۔بے روزگاری
اور بھوک بڑھ رہی ہے ۔جس کے ردعمل میں جرائم اور انارکی لازم ہے ۔حکمران طاقتوں اور سامراج نے انسان پر سے مکمل ہاتھ اٹھا لیا ۔عوام کے مقابلے میں ریاست بہت طاقتور ہو چکی ہے ۔اور پرانے نظریے اور نظام کی کامیابی کی بنیاد ہی تبدیل ہو چکی ہے ۔
نیا زمانہ ہے نئی جدلیاتی قوتیں ۔سائینس کے نئے معجزے جنہوں نے بوسیدہ اساطیری علوم کی بینڈ بجا دی ہے ۔اور نئی معاشی طاقتیں
ایسے میں فطرت اپنے توازن کو برقرار رکھنے کی خاطر۔اپنے فیصلے آپ کرنےوالی ہے۔۔گجر بج چکا ہے
ھمار ے بھی سوچنے کی گھڑی آگئی ہے۔۔ابھی نہی تو کبھی نہیں ۔۔فیصلے کی گھڑی سر پہ کھڑی ہے ۔زندگی فنا یا بقا کے دوراہے پہ پہنچ چکی ہے۔۔.یہ وقت تقلید کا نہیں تخلیق کا ہے
سرمایہ داری نظام نے زمیں پر زندگی کی نمو ہی نہیں برباد کی بلکہ فطرت کو بھی برہم کر دیا ہے ۔ڈیجیٹل دور کی مصنوعی ذہانت نے فرد کو بھی بہت طاقت دی ہے بہت سی اجارہ داریوں کو بھی توڑا ہے ۔پیداواری قوتوں میں نمایاں تبدیلی ہو چکی ہے ۔اس معاشی اور سیاسی نئے تناظر میں نظریہ سازی کا وقت ہے ۔جمہوریت کا ڈھونگ بھی واضع ہو چکا ہے ۔سو انفرادی و اجتماعی بقا کیلئے تدبر کا وقت ہے ۔سو اپ سوچتے بھی جائیے ساتھ زندگی کا رقص بھی کرتے جائیے
بوسیدہ کتابیں بند کرو
افکار تازہ کی نمو کرو
اور زندگی بیتاتے جاؤ
مگر نئے راستے تلاشتے چلو
یہی اذن وقت ہے
جزبئہ محبت کی تدفین سے پہلے
(محبت کی طہارتیں (صوفی مشتاق
اگر سچے جذبوں سے محبت کو جیا جائے کسی بھی صورت تو محبت معجزے برپا کرتی ہے ۔اسکے پاس کبھی مکار عقل کو نہیں
آنےدیناچائیے.کہتےہیں انسان کے بنیادی جنیاتی ڈھانچے میں ساٹھ ہزار سال سے کوئی بنیادی تبدیلی نہی ائی ۔ مطلب صاف ظاہر ہے کہ ہم اج بھی وہی جبلتیں خصلتیں رکھتےہیں جو ساٹھ ہزار سال پہلے رکھتےتھے،۰اسوقت قبیلے کی زندگی انفرادی زندگی پر فوقیت رکھتی تھی اور انسان کا انسان سے محبت کا رشتہ تمام غرض و غائیت پر حاوی تھا ،چونکہ جنگلی حیات کی طاقت اور موسمی جبر کا مقابلہ کرنے کیلئے ۔انسانی یگانگت اور محبت کی اجتماعیت نے ہی انسانی بقا کی ضمانت دی ۔بیشک انسانی ذہانت کی مکاری فریب کاری اور بے رحمی بھی انسانی ہتھیار تھے، اج سرمایہ کی تہزیب نےسرمایہ داروں کے مقابلے پر صارف اور کارکن کو کمزور کرنے کیلئے انکے منفی جزباتی جبلتوں کو تو نئی تہزیب کا حصہ بنایا جیسے خود غرضی لالچ فریب مگر مثبت اوصاف کو پراگندہ کییا جیسےمحبت رحم ہمدردی ایثار وغیرہ ۔یہی وجہ ہےکہ انسان مادی ترقی کے باوجود نا اسودہ ہے ۔اسےروحانی اسودگی کیلئےاپنی جزبوں کی کھوئی ہوئی میراث کا احیا کرنا ہوگا ۔سرمایہ کی تہزیب و ثقافت سے !جسے میڈیا ریاستی طاقت اور نظام تعلیم کی سپورٹ بھی حاصل ہے اس کے خلاف اپنے مثبت طاقت کے حامل جزبوں کی بنیاد بھی ڈھونڈنی ہو گی ترویج بھی کرنا ہوگی اور انہیں اسوقت انفرادی سطح پر اسے جینا بھی ہوگا ۔اسی تناظر میں انسان کے بنیادی جوہر محبت کو سرمایہ کی مادی قدروں سے ازاد کرکے معاشرتی منشور کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا ۔اج جب بے غرض محبت ہمدردی ایثار کے وجود سے نئی نسل انکاری ہے ۔انسانی اعلی صفات کا وجود خطرہ میں ہے
محبت
مقدس جزبوں کی دیوی دنیا داری کی حبس میں سانس تک نہیں لے سکتی .جبکہ ہم میں دنیاداری کی مجبوریاں اور قباحتیں
سرایت کر چکی ہیں ۔سود و زیاں کی غلام عقل ہر دم اسی کی گھات میں بیٹھی رہتی ہے ۔اور ورغلاتی رہتی ہے ۔مگر افسوس عقل کے زیر اثر ایک لفظ ایک جنبش بھی اس باوری کیلئے زہر ہوتا ھہے ۔جوں ہی عقل کا سایہ اسپر پڑا یہ بھاگ جاتی ہے ۔اور عقل پھر اسکی جگہ فریب محبت کا بت بناتی ہے ۔جو جلد ٹوٹ جاتا ہے ۔ اس کے خنجر ٹکڑے روحوں کو لہو لہان کرتے ہیں ۔اور عقل کے اندھے الزام محبت کے نام دھرتے ہیں ۔
یاد رکھیں عقل کی مکاریوں سے اسے ہمیں ہر دم بچانا چائیے۔جب تک پورے وجود کی تمام حسیات ،،،تکلم میں۔نظر میں سماعت میں پوری سچائی سے شامل نا ہوں ۔فقط مروت یا عقل کے دباؤ کے تحت بات کرنے سے بھی پرہیز کرنا چائیے ۔۔۔جب تک آپ روح کی آبشار سے وضو کی طہارت نا حاصل کر لیں محبت دیوی کی پوجا بھی نہیں کرنی چائیے یہ رتی بھر کی کھوٹ یا زرا بھر کی کوتاہی معاف نہیں کرتی یہ بڑی زود حس ہے مکمل سچائی کے سوا ہلکی سی جنبش ۔ہلکی سی ملاوٹ ۔ہلکی سی عقل کی مکاری بھانپ لے تو یہ بولتی بھی نہی۔اعتراض اور احتجاج بھی نہیں کرتی بلکہ خاموشی کی چادر اوڑھ کر چپکے سے کسی اور نکل جاتی ہے ۔ بس پریم مورتی کی روح اندر سے کوچ کر جاتی ہے ۔باقی بچتا ہے سر پھوڑنے کو فقط پتھر،اوریوں انسانی دامن مہرووفا سے ہمیشہ کیلئے خالی ہو جاتا ہے۔وہ دنیا کی بھیڑ میں معاشرتی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے یوں سرمایہ کی فروانی ،عہدوں کی فصلیت ،شہرت کی بلندیاں اسکےروحانی خلا کو پر نہیں کر سکتی جس سے جیتے جی اندر سے کھوکھلا ہو کر ذہنی امراض کا شکار ہو جاتا ہے ۔اسکی روحانی ،سماجی ،اور جزباتی زندگی کی سب سے بڑی طاقت محبت کے چھن جانے کے بعد ۔یہی سرمایہ داری کی تہزیب کا سب سے بڑا روگ ہے ۔
06/09/2021
جزبئہ محبت کی تدفین سے پہلے
(محبت کی طہارتیں (صوفی مشتاق
اگر سچے جذبوں سے محبت کو جیا جائے کسی بھی صورت تو محبت معجزے برپا کرتی ہے ۔اسکے پاس کبھی مکار عقل کو نہیں
آنےدیناچائیے.کہتےہیں انسان کے بنیادی جنیاتی ڈھانچے میں ساٹھ ہزار سال سے کوئی بنیادی تبدیلی نہی ائی ۔ مطلب صاف ظاہر ہے کہ ہم اج بھی وہی جبلتیں خصلتیں رکھتےہیں جو ساٹھ ہزار سال پہلے رکھتےتھے،۰اسوقت قبیلے کی زندگی انفرادی زندگی پر فوقیت رکھتی تھی اور انسان کا انسان سے محبت کا رشتہ تمام غرض و غائیت پر حاوی تھا ،چونکہ جنگلی حیات کی طاقت اور موسمی جبر کا مقابلہ کرنے کیلئے ۔انسانی یگانگت اور محبت کی اجتماعیت نے ہی انسانی بقا کی ضمانت دی ۔بیشک انسانی ذہانت کی مکاری فریب کاری اور بے رحمی بھی انسانی ہتھیار تھے، اج سرمایہ کی تہزیب نےسرمایہ داروں کے مقابلے پر صارف اور کارکن کو کمزور کرنے کیلئے انکے منفی جزباتی جبلتوں کو تو نئی تہزیب کا حصہ بنایا جیسے خود غرضی لالچ فریب مگر مثبت اوصاف کو پراگندہ کییا جیسےمحبت رحم ہمدردی ایثار وغیرہ ۔یہی وجہ ہےکہ انسان مادی ترقی کے باوجود نا اسودہ ہے ۔اسےروحانی اسودگی کیلئےاپنی جزبوں کی کھوئی ہوئی میراث کا احیا کرنا ہوگا ۔سرمایہ کی تہزیب و ثقافت سے !جسے میڈیا ریاستی طاقت اور نظام تعلیم کی سپورٹ بھی حاصل ہے اس کے خلاف اپنے مثبت طاقت کے حامل جزبوں کی بنیاد بھی ڈھونڈنی ہو گی ترویج بھی کرنا ہوگی اور انہیں اسوقت انفرادی سطح پر اسے جینا بھی ہوگا ۔اسی تناظر میں انسان کے بنیادی جوہر محبت کو سرمایہ کی مادی قدروں سے ازاد کرکے معاشرتی منشور کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا ۔اج جب بے غرض محبت ہمدردی ایثار کے وجود سے نئی نسل انکاری ہے ۔انسانی اعلی صفات کا وجود خطرہ میں ہے
محبت
مقدس جزبوں کی دیوی دنیا داری کی حبس میں سانس تک نہیں لے سکتی .جبکہ ہم میں دنیاداری کی مجبوریاں اور قباحتیں
سرایت کر چکی ہیں ۔سود و زیاں کی غلام عقل ہر دم اسی کی گھات میں بیٹھی رہتی ہے ۔اور ورغلاتی رہتی ہے ۔مگر افسوس عقل کے زیر اثر ایک لفظ ایک جنبش بھی اس باوری کیلئے زہر ہوتا ھہے ۔جوں ہی عقل کا سایہ اسپر پڑا یہ بھاگ جاتی ہے ۔اور عقل پھر اسکی جگہ فریب محبت کا بت بناتی ہے ۔جو جلد ٹوٹ جاتا ہے ۔ اس کے خنجر ٹکڑے روحوں کو لہو لہان کرتے ہیں ۔اور عقل کے اندھے الزام محبت کے نام دھرتے ہیں ۔
یاد رکھیں عقل کی مکاریوں سے اسے ہمیں ہر دم بچانا چائیے۔جب تک پورے وجود کی تمام حسیات ،،،تکلم میں۔نظر میں سماعت میں پوری سچائی سے شامل نا ہوں ۔فقط مروت یا عقل کے دباؤ کے تحت بات کرنے سے بھی پرہیز کرنا چائیے ۔۔۔جب تک آپ روح کی آبشار سے وضو کی طہارت نا حاصل کر لیں محبت دیوی کی پوجا بھی نہیں کرنی چائیے یہ رتی بھر کی کھوٹ یا زرا بھر کی کوتاہی معاف نہیں کرتی یہ بڑی زود حس ہے مکمل سچائی کے سوا ہلکی سی جنبش ۔ہلکی سی ملاوٹ ۔ہلکی سی عقل کی مکاری بھانپ لے تو یہ بولتی بھی نہی۔اعتراض اور احتجاج بھی نہیں کرتی بلکہ خاموشی کی چادر اوڑھ کر چپکے سے کسی اور نکل جاتی ہے ۔ بس پریم مورتی کی روح اندر سے کوچ کر جاتی ہے ۔باقی بچتا ہے سر پھوڑنے کو فقط پتھر،اوریوں انسانی دامن مہرووفا سے ہمیشہ کیلئے خالی ہو جاتا ہے۔وہ دنیا کی بھیڑ میں معاشرتی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے یوں سرمایہ کی فروانی ،عہدوں کی فصلیت ،شہرت کی بلندیاں اسکےروحانی خلا کو پر نہیں کر سکتی جس سے جیتے جی اندر سے کھوکھلا ہو کر ذہنی امراض کا شکار ہو جاتا ہے ۔اسکی روحانی ،سماجی ،اور جزباتی زندگی کی سب سے بڑی طاقت محبت کے چھن جانے کے بعد ۔یہی سرمایہ داری کی تہزیب کا سب سے بڑا روگ ہے ۔
Image: Believe: Universal love | Words quotes, Wisdom, Words Found on Google from www.pinterest.com
Click here to claim your Sponsored Listing.