Dr Naeem Ullah

Dr Naeem Ullah

แชร์

Passionate mathematician dedicated to exploring the beauty of numbers, logic, and patterns.

I share insights, educational content, and creative approaches to learning mathematics. 💡📊
✨ Inspiring minds to think critically and love math!

19/12/2025

پاکستان کا مستقبل: ذمہ داری کس کی؟

کوئی بھی قوم تب ترقی کرتی ہے جب اس کا ہر فرد محنت کرے اور اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ قوم کی مضبوطی کا انحصار صرف حکومتوں پر نہیں بلکہ عام انسان کے کردار پر ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں بغیر منصوبہ بندی آبادی میں اضافہ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ وسائل محدود ہیں، مگر آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں بے روزگاری، غربت اور تعلیمی پسماندگی میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ غیر ہنر مند افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم پہلے ہی سیاسی، مذہبی اور قبائلی بنیادوں پر تقسیم ہو چکے ہیں۔ ہم نے قوم بننے کے بجائے گروہوں کو ترجیح دی، جس کی وجہ سے برداشت، میرٹ اور اجتماعی سوچ کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ آج انسان کی قدر اس کی محنت اور صلاحیت کے بجائے اس کی شناخت سے کی جاتی ہے۔

اگر یہی روش برقرار رہی تو مستقبل میں یہ تقسیم مزید گہری ہو جائے گی اور معاشرتی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم منصوبہ بندی، تعلیم، ہنر مندی اور ذاتی ذمہ داری کو اپنی ترجیح بنائیں۔

پاکستان کا مستقبل تب ہی روشن ہوگا جب ہر فرد کام کرے، سیکھے اور قوم بننے کا شعور پیدا کرے۔

#پاکستان

#آبادی
#تعلیم

14/10/2025

"Education is not just about learning facts, but about unlocking the power within you to change the world."

13/10/2025

پڑھنے کیلئے پاس اتنے پیسے نہیں تھے اس لئے زمین فروخت کرکے پڑھا، فارن سے پی ایچ ڈی کرلی۔
واپس کابل آیا، سوچ رہا تھا اتنا سارا پڑھ لیا ہے اب تو صدر کے بعد سب سے بڑی کرسی مجھے ملے گی!
کافی عرصہ نوکری کیلئے دفتروں کی خاک چھانی، نوکری نہیں ملی۔ کچھ تو کرنا تھا اس لئے ایک کار سروس سٹیشن کھولا۔ رشتہ داروں نے خوب مذاق اڑایا مگر میں اپنے آپ کو اور گھر والوں کو تسلی دیتا رہا کہ سب بہتر ہو جائے گا۔
سروس سٹیشن بہت خستہ حال تھا۔ شیشوں کے بجائے پلاسٹک کا سہارا لیا، کابل کی یخ بستہ اور تیز و تند ہوائیں آئے روز پلاسٹک اڑا لے جاتے اور مجھے ہر روز نئے پلاسٹک خریدنے پڑتے۔
چچا زاد بھائیوں کو میرے نئے کام سے کافی راحت محسوس ہوتی تھی۔
آئے روز خوبصورت کاریں لاتے اور مجھ سے دھلاتے تھے اگرچہ میرے ساتھ اور بھی لوگ کام کرتے تھے مگر ان کی کاریں ہمیشہ میں خود صاف کرتا تھا۔
سخت سردی کا موسم تھا۔ کابل کی یخ بستہ ہوائیں جسم کے آرپار گزرتی تھی میں پلاسٹک والی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہا تھا۔ چچا زاد آئے گاڑی کھڑی کی اور صفائی کا کہا۔
میں نے دیکھا گاڑی اندر سے پوری طرح گوبر، گھاس سے بھری پڑی ہے۔
خدا جانے مگر میرا گمان یہ تھا کہ یہ انھوں نےخود ہی جان بوجھ کے گندی کی ہے تاکہ میں صاف کروں اور وہ دیکھ کر سکون پائے!
میرے ساتھ کام کرنے والے گاڑی کی طرف لپکے، میں نے انھیں منع کیا، مطلب یہ تھا کہ اب چچا زاد بھائی ہے وہ تو صرف اس لئے آیا ہے کہ مجھے صفائی کرتے ہوئے دیکھے۔ میں نے بھائی کو بٹھایا اور ان کیلئے چاہے کا آرڈر دیا۔
اور خود گاڑی کی واش کرنے لگا۔
کام بہت سخت تھا، میری آنکھیں بھر آئیں مگر کام کرتا رہا اور ان کی گندی گاڑی صاف کی۔

چچا زاد بھائی چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے باہر آئے اور کہا اچھی طرح صاف کرنا! اگر سچ پوچھے تو بہت ہی کھٹن حالت تھی مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ بھائی کے امیدوں پر پانی پھیروں۔

*کچھ دنوں بعد*

کار اچھی طرح دھوئی، کار کا مالک کافی مضطرب تھا. میں نے سوچا شاید گاڑی اچھی طرح صاف نہیں ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا بھائی کیا بات ہے اپ اتنے پریشان کیوں؟ انھوں نے کہا میں طالب علم ہوں اور میرا امتحان ہے۔
عجیب بات یہ تھی کہ وہ معاشیات کا طالب علم تھا اور دوسری طرف میں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی
میں نے پوچھا کس مضمون کا پرچہ ہے؟
انھوں نے کہا “اکاؤنٹنگ"
میں نے کہا تم سامنے اس روم میں جاؤ میں آتا ہوں۔
میں نے انھیں چھ ماہ کا سبق پندرہ منٹ میں سمجھا دیا!
کہا یہ گاڑی آپ نے دھوئی ہے؟
میں نے کہا ہاں جی! زندگی ہے کام تو کرنا ہے نا!
میں نے انھیں اپنی پڑھائی کے بارے میں بتایا
وہ حیران تھا!
اب وہ ضد کرنے لگا کہ آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا، ہماری یونیورسٹی کے وی سی میرے دوست ہیں۔
میں ان سے بات کرتا ہوں وہ آپ کو ضرور نوکری دے گا۔
میں ان کے ساتھ چلنے لگا تو انھوں نے میرے میلے کچلے کپڑے دیکھ کر استفسار کیا کوئی اور کپڑے نہیں ہے آپ کے پاس؟
میں نے کہا نہیں، مجھے پتہ ہے نوکری کسی نے دینی نہیں یہ تو بس آپ ضد کر رہے ہیں اس لئے تمہارے ساتھ جانے لگا ہوں۔
گیلے کپڑے زیب تن کئے ہوئے میں وی سی آفس کے ایک کونے میں کھڑا ہوگیا۔ آفس میں قیمتی فرنیچر رکھا ہوا تھا مگر میرا دل نہیں کر رہا تھا کہ اس پر پر بیٹھوں۔
وی سی مجھے مستری سمجھا، میں نے ایک کپڑا لیا صوفے پر رکھا اور بیٹھ گیا۔
طالب علم نے میری کہانی انھیں سنائی۔ انھوں نے تمسخرانہ نظروں سے مجھے گھورا۔
جان چھڑانے کی خاطر انھوں نے کہا تم ڈیمو کیلئے تیاری کرو ہم تمہیں کال کریں گے۔
میں نے کہا میں ابھی بھی ڈیمو کیلئے تیار ہوں!
انھیں میرا یہ انداز اچھا نہیں لگا مگر پھر بھی انھوں نے فون اُٹھایا، سب ٹیچرز کو اس کلاس روم میں بلاؤ کہو ڈیمو ہے!
انھوں نے مجھے ایک مارکر پکڑایا میں نے دو مارکر اور مانگے۔
کلاس پوری طرح بھری تھی۔ میں نے سلام کیا۔ میرے کپڑے دیکھ کر تمام طلبہ مسکرا رہے تھے۔ حکم ہوا آپ ڈیمو شروع کریں۔
میں نے کہا کس موضوع پر لیکچر دوں؟
کہا آپ کی مرضی!
میں نے معاشیات کے دس موضوعات بورڈ پر لکھے۔
میری خوبصورت لکھائی بورڈ پر کافی بھلی دکھائی دے رہی تھی،۔
#مندرہ
میں نے کہا اس میں کون سے موضوع پر بات کروں؟
انھوں نے کہا دوسرے نمبر والا ٹاپک،
میں نے اس موضوع کو مزید کلاسیفائی کیا۔ پھر ان کی طرف دیکھ کر کہا اب ان میں کونسا موضوع ٹھیک رہے گا؟
پورا بورڈ بھر دیا. دو ساتھ جوڑے ہوئے بورڈ بھر گئے۔
اچانک تالیاں بجنے لگییں۔ میں نے مڑ کے پیچھے دیکھا پوری کلاس کھڑی تھی اور تالیاں بجا رہی تھی اور ان کے سامنے میں، میلے کپڑوں میں کھڑا تھا۔
وی سی نے کہا! ہاں بھائی بتاؤ کتنی تنخواہ لو گے؟
اور مجھے نوکری مل گئی
میں نے مشین کی طرح کام کیا۔ ماہ کے آخر میں مجھے یونیورسٹی بیسٹ ٹیچر کے ایوارڈ کے ساتھ اچھی خاصی تنخوا ملی۔ سب سے زیادہ تنخواہ اس یونیورسٹی میں پچاس ہزار افغانی تھی، پر مجھے ایک لاکھ بیس ہزار پر رکھ لیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ یونیورسٹی، فنانس منسٹری ، بین الاقوامی کانفرنسوں اور دنیا میں کئی یونیورسٹیوں میں کام کرنے کے مواقع ملے۔ میری سروس سٹیشن کے ایک سال کنٹریکٹ ابھی ختم نہیں ہوا تھا اور میں نے تیس ممالک دیکھ لیے۔ میں آج بھی اپنے چچا زادوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا ہوں
وہ بھی میرا بہت احترام کرتے ہیں اور نام کے ساتھ “صاحب” ضرور کہتے ہیں۔
*میں خدا سے خوش ہوں۔*💯👉
*زندگی کے سامنے کبھی ہتھیار مت ڈالیں۔ زندگی کے میدان میں اتار چڑھاو آتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیشہ آنے والے کل کیلئے پرامید رہیں۔ کبھی کوئی کام کرتے ہوئے شرماتے نہیں".*

* زندگی میں کوئی کام چھوٹا اور بڑا نہیں ہوتا، البتہ کام کے طریقے چھوٹے اور بڑے ضرور ہوتے ہیں۔

11/10/2025

“AI will never replace humans, but the person who knows how to use AI effectively will replace the one who doesn’t.”

14/09/2025

سوال برائے محکمۂ تعلیم

کیا چار سے پانچ سال میں مکمل ہونے والی BS یا MS کی ڈگری، یا پھر PhD جیسی اعلیٰ تعلیم، ایک مکمل سند (سرٹیفیکیٹ) کے طور پر کافی نہیں ہے؟ نئی پالیسی کے تحت ہر سبجیکٹ اسپیشلسٹ کے لیے علیحدہ ’’ٹیچنگ سرٹیفیکیٹ‘‘ لازم قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص برسوں کی محنت سے اپنی ڈگریاں مکمل کر چکا ہے، کیا وہ ڈگری اس کے تدریسی حق کی ضمانت نہیں بنتی؟

اس پالیسی کے ذریعے پہلے سے تعلیم یافتہ افراد کو ایک بار پھر اضافی مرحلوں اور غیر ضروری بوجھ میں ڈالا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف طلبہ و طالبات کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے بلکہ یہ تاثر بھی دیتا ہے کہ تعلیم اور تدریس کو ایک کاروبار بنا دیا گیا ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے آج کل گاڑیوں کے لائسنس اکثر پیسوں کے عوض حاصل کر لیے جاتے ہیں، اسی طرح مستقبل میں یہ تدریسی لائسنس بھی محض پیسے کے ذریعے حاصل ہونے لگیں گے۔ اگر اعلیٰ ڈگریاں ہی کسی کے تدریسی معیار کی ضمانت تسلیم نہ کی جائیں تو پھر ان طویل تعلیمی مراحل کا مقصد ہی کیا رہ جاتا ہے؟

29/04/2025

وہ آئس کریم بیچنے کے لیے اسکول کے قریب گیا تھا،
لیکن اسے معلوم ہوا کہ طلبہ کے پاس ریاضی کا کوئی اُستاد نہیں ہے۔
اس نے آئس کریم بیچنا چھوڑ دیا اور طلبہ کو پڑھانا شروع کر دیا،
کیونکہ اس کے پاس ریاضی میں بیچلر کی ڈگری تھی اور وہ بے روزگار تھا۔
ایک تصویر، ہزار معانی کے برابر!
اور نظام تعلیم پر اٹھتے کئی سوال
واقعی ایک شاندار انسان۔ ♥️

24/04/2025

سندھ طاس معاہدہ اُس وقت تک ختم یا معطل نہیں کیا جا سکتا جب تک دونوں ملک اس پر متفق نہ ہوں، صرف ایک ملک کی رضامندی کافی نہیں ہے۔

29/03/2025

بچوں کی خودمختاری اور مہارت کی اہمیت: پوزیشن سے زیادہ ہنر سیکھنے پر توجہ دیں

ہمارے معاشرے میں تعلیمی میدان میں کامیابی کو عام طور پر پوزیشنز (First, Second, Third Position) حاصل کرنے سے جوڑا جاتا ہے۔ والدین اور اساتذہ بچوں کو بہترین نمبروں کے حصول کے لیے ترغیب دیتے ہیں، اور جب بچہ کسی اعلیٰ پوزیشن پر آتا ہے تو اسے بڑے فخر سے منایا جاتا ہے۔ لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا صرف اچھے نمبر اور پوزیشن ہی کامیابی کی ضمانت ہیں؟

پوزیشن ضروری، لیکن کافی نہیں

یقیناً اچھے نمبر اور پوزیشن حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن یہ کسی بچے کی مستقبل کی زندگی کے لیے مکمل تیاری نہیں ہے۔ حقیقی دنیا میں کامیابی کے لیے صرف تعلیمی قابلیت کافی نہیں ہوتی، بلکہ عملی مہارتیں، خود مختاری، اور تخلیقی صلاحیتیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر بچہ تعلیمی لحاظ سے ایوریج بھی ہو، لیکن اس کے پاس کوئی ہنر ہو، تو وہ زندگی میں زیادہ کامیاب ہوسکتا ہے۔

خود مختاری کیوں ضروری ہے؟

✔ مستقبل کی تیاری: دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور جاب مارکیٹ میں صرف ڈگریاں کافی نہیں ہوتیں۔ وہی بچے کامیاب ہوتے ہیں جو خود کچھ نیا سیکھنے اور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
✔ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت: اگر بچے کو خود فیصلہ سازی کی عادت ڈال دی جائے، تو وہ زندگی کے چیلنجز کا سامنا زیادہ بہتر طریقے سے کرسکتا ہے۔
✔ ذاتی اور مالی آزادی: ایک ایسا بچہ جو کوئی عملی ہنر جانتا ہو، وہ کسی بھی مشکل وقت میں خود کمائی کرکے اپنی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔

بچوں کو ہنر سکھانے کی اہمیت

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو پوزیشنز کی دوڑ میں شامل کرنے کے بجائے انہیں کوئی عملی ہنر سکھائیں۔ جیسے:
✅ ڈیجیٹل مہارتیں: گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ، پروگرامنگ
✅ تکنیکی ہنر: الیکٹریکل ورک، کارپینٹری، مکینکس
✅ کاروباری صلاحیتیں: سیلز، مارکیٹنگ، آن لائن بزنس
✅ کمیونیکیشن اور سوشل اسکلز: پبلک اسپیکنگ، نیٹ ورکنگ، تحریری صلاحیتیں

نتیجہ

اگر بچے کو صرف پوزیشن کی دوڑ میں لگایا جائے اور اسے کوئی ہنر نہ سکھایا جائے تو وہ مستقبل میں مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو تخلیقی اور عملی مہارتوں کی طرف راغب کریں تاکہ وہ خودمختار بن سکیں۔ ایک ہنرمند بچہ، چاہے تعلیمی لحاظ سے ایوریج بھی ہو، زندگی میں زیادہ کامیاب ہوسکتا ہے بہ نسبت اس کے جو صرف نمبروں اور پوزیشنز پر فوکس کرتا ہے۔

05/02/2025

پاکستان کی حکومت اور عوام مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اپنی غیر متزلزل محبت اور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔م اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ خون کے آخری قطرے تک کھڑے رہنے کا عزم رکھتے ہیں۔
شمیری عوام دہائیوں سے اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔اکستان کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ان کے حق خودارادیت کی بھرپور وکالت کرتا ہے۔
للہ تعالیٰ کشمیری عوام کو کامیابی عطا فرمائے اور ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے۔

17/01/2025

🌙 Jumma Mubarak from Naeem Ullah Academy! 🌙

On this blessed day, let’s unite in prayer, reflect on our actions, and spread love and kindness. Jumma reminds us to strengthen our faith and seek Allah's mercy. At Naeem Ullah Academy, we nurture knowledge and values that inspire growth and success.

May Allah’s blessings shine upon you and your loved ones. Stay motivated, stay blessed!

ต้องการให้ธุรกิจของคุณ โรงเรียน ขึ้นเป็นอันดับหนึ่ง โรงเรียน ใน Bangkok?

คลิกที่นี่เพื่อเป็นสมาชิก?

ที่ตั้ง

ที่อยู่

Bangkok