12/02/2021
! Take 5 minutes to read the article
Here's a great opportunity to step back into the digital currency. The first opportunity was given to Pakistanis in the form of bitcoin in 2009 but the majority of Pakistanis did not accept it as a deception and fraud. At that time bitcoin started its mining by distributing bitcoin to people for free.
When the bitcoin first introduced its value in the market in July 2010, the price of a bitcoin was only 8 0.08, but today the price of the same bitcoin is 30 33,055, which means the equivalent of Rs. There is no competitor to the currency and now to counter this currency, the PhD holders of Stanford University have introduced a digital currency called Pi Network. At present, this network is also available to the public for free. Mining offers
You are not asked to make any investments of any kind, nor are you required to view any advertisements, etc., nor are you required to form your own team. * This is the world's first digital currency whose mining only Can be done through a mobile application *
The way it works is that you have to * open the app once in 24 hours and press the green button and then there is nothing to do * nor does this app require constant internet just start mining The Internet is needed for 10 seconds, even after 24 hours
To join this network, go to the play store and search for pi network
After installing the app, when you open it, you will see two options, one is to open an account using Facebook and the other is to open an account using phone number.
It will be safer if you open an account with a phone number. Then enter the password you want to keep but the password should be such that it includes everything like
Your name will then be asked to keep the name correct and original because later you will have to show your ID card / passport when you want to claim Pie Quinn. So enter the real name so you don't have to worry about it later
Then enter the username you want to keep. It can be in addition to the real name
And then enter the Referral Code at the end * Without it you will not be able to open an account. Which is to give
Nabeel01093064
Join and work patiently The network will launch its first price in April in the market which is rumored to have * initial price around ڈالر 5 and after that it will also stop its free mining. Will. *
But until then you can earn about 600 to 800 paise without investing a single rupee, without seeing fake ads and without wasting time.
So now think about how much money you can make if a penny costs 5 5 and if you only have 500 pennies, based on patience alone.
500 x 5 = 2500: That's 25 2500
All this you can achieve with patience in just 4 months without any fraud or ponzi scheme
No money investment, no fake ad fraud, no team building fraud
This is the only mining that comes from the energy of your mobile.
* Pi is a new digital currency developed by Stanford PhDs, with over 10 million members worldwide. To claim your Pi, follow this link https://minepi.com/ and use my username (Nabeel01093064) as your invitation code. * K
! 5 منٹ لگا کر تحریر ضرور پڑھیں
آپ کو ڈیجیٹل کرنسی میں اپنے قدم جمانے کا ایک شاندار موقع دوبارہ مل رہا ہے۔ پہلا موقع پاکستانیوں کو 2009 میں بٹ کوائن کی صورت میں ملا تھا لیکن پاکستان کی اکثریت نے اِسے دھوکہ اور فراڈ سمجھ کر اسے قبول نہیں کیا تھا اُس وقت بٹ کوائن نے لوگوں کو مفت میں بٹ کوائن بانٹ کر اپنی مائننگ شروع کروائی تھی
جب جولائی 2010 میں بٹ کوائن نے اپنی پہلی قیمت مارکیٹ میں متعارف کروائی تو ایک بٹ کوائن کی قیمت صرف 0.08 ڈالر تھی لیکن آج اُسی بٹ کوائن کی قیمت33055 ڈالر ہے مطلب کہ پاکستانی 41 لاکھ روپے کے برابر یعنی صرف 10 سال کے عرصے میں اس کرنسی کا کوئی مدمقابل نہیں رہا ہے اور اب اس کرنسی کو ٹکر دینے کیلئے Stanford University کے PhD ہولڈرز نے ایک ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروائی ہے جسے پائی نیٹ ورک (Pi Network) کا نام دیا گیا ہے اس وقت یہ نیٹ ورک بھی لوگوں کو مفت میں مائننگ کی آفر دے رہا ہے
آپ کو کسی بھی قسم کی کوئی انویسٹمنٹ کرنے کیلئے نہیں کہا جاتا ہے نہ ہی آپ نے کوئی اشتھار وغیرہ دیکھنے ہیں اور نہ ہی آپ سے یہ شرط رکھی جاتی کہ اپنے نیچےٹیم بنائیں۔* یہ دنیا کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کی مائننگ صرف ایک موبائل اپلیکیشن کے ذریعے کی جاسکتی ہے*
اس کے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کو *24 گھنٹے میں ایک بار اپلیکیشن کو کھول کر گرین بٹن کو دبانا ہے اور پھر کچھ نہیں کرنا ہے *اور نہ ہی اس ایپ کو مسلسل انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے بس مائننگ سٹارٹ کرتے ہوئے 10 سیکنڈ کیلئے انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی 24 گھنٹے بعد
اس نیٹ ورک کو جوائن کرنے کیلئے play store میں جاکر pi network سرچ کریں
ایپ کو انسٹال کرنے کے بعد جب اُسے کھولیں گے تو آپ کو دو آپشن نظر آئیں گے ایک Facebook کی مدد سے اکاؤنٹ کھولیں اور دوسرا فون نمبر کی مدد سے اکاؤنٹ کھولیں
آپ اکاؤنٹ فون نمبر کی مدد سے کھولیں گے تو زیادہ محفوظ رہے گا۔ اس کے بعد پاسورڈ درج کریں جو آپ رکھنا چاہتے ہیں لیکن پاسورڈ اس طرح کا ہونا چاہیے جس میں سب کچھ شامل ہو جیسے کہ
اِس کے بعد آپ کا نام پوچھے جائے گا نام درست اور اصل رکھیں کیونکہ بعد میں جب آپ نے پائی کوئن کلیم کرنے ہیں تو آپ کو اپنا شناختی کارڈ/پاسپورٹ دکھانا پڑے گا۔ اس لیے اصل نام درج کریں تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو
اِس کے بعد Username درج کریں جو آپ رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ اصل نام کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے
اور پھر سب سے آخر پر Referral Code درج کریں *اس کے بغیر آپ اکاؤنٹ نہیں کھول سکیں گے۔ جو یہ دینا ہے
Nabeel01093064
جوائن کریں اور صبر سے کام لیں یہ نیٹ ورک اپریل میں اپنی پہلی قیمت مارکیٹ میں لانچ کرے گا جو کہ سننے میں آرہا ہے کہ *اس کی ابتدائی قیمت 5 ڈالر کے آس پاس ہوگی اور اُس کے بعد یہ اپنی فری مائننگ بھی بند کردے گا۔*
لیکن اُس وقت تک آپ تقریباَ 600 سے 800 پائی حاصل کرسکتے ہیں بغیر ایک روپے کی انویسٹمنٹ کے، بغیر جعلی اشتھارات دیکھے اور بغیر ٹائم ضائع کیے۔
تو اب ذرا سوچیں کہ اگر ایک پائی کی قیمت 5 ڈالر لگائی گئی اور اگر آپ کے پاس صرف 500 پائی ہوں تو تو آپ کتنا سرمایہ حاصل کرسکتے ہیں صرف صبر کی بنیاد پر
500 x 5 = 2500 : یعنی کہ 2500 ڈالر
یہ سب کچھ آپ حاصل کر سکتے ہیں صبر کے ساتھ صرف 4 ماہ میں وہ بھی بغیر کسی فراڈ یا پونزی سکیم کے
نہ پیسوں کی انویسٹمنٹ، نہ جعلی اشتہار دیکھنے کا دھوکہ، اور نہ ہی اپنے نیچے ٹیم بنانے کا فراڈ
یہ صرف و صرف مائننگ ہے جو آپ کی موبائل کی انرجی سے ہوتی ہے.
*Pi is a new digital currency developed by Stanford PhDs, with over 10 million members worldwide. To claim your Pi, follow this link https://minepi.com/ and use my username (Nabeel01093064) as your invitation code.*
Pi Network
Pi is a new digital currency being developed by a group of Stanford PhDs. For a limited time, you can join the beta to earn Pi and help grow the network.
01/02/2021
Pi is a new digital currency developed by Stanford PhDs, with over 10 million members worldwide. To claim your Pi, follow this link https://minepi.com/Nabeel01093064 and use my username (Nabeel01093064) as your invitation code.
اسلام علیکم!
دوستو آپ نے بٹ کوائن Bit Cion کے بارے میں تو سنا ہی ہو گا بٹ کوائن 2007 میں لانچ کیا گیا تھااور اس وقت اسکی قیمت زیرو تھی اور بلکل فری دیا جاتا تھا 2010 میں جا کر اس کا ریٹ بڑھنا شروع ہوا اور آج ایک بٹ کوائن کی قیمت پاکستانی 53 لاکھ روپےہے بالکل اسی طرح ایک اور کرنسی پائ نیٹ ورک (Pi network)کے نام سے متعارف کروائ گئ ہے جو کہ بٹ کوائن کی طرح بالکل فری ہے ابھی اور روز کی بنیاد پر اس کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے آپ گوگل سے اس کی قیمت چیک کر سکتے ہیں یہ بات ٹھیک ہے کہ فلحال اسکی قیمت کم ہے لیکن جس حساب سے اس کا ریٹ بڑھ رہاہے یہ کچھ ہی عرصے میں بہت اچھا ریٹ لے لے گی اور یہ کام بہت آسان اور بالکل فری ہے بس کرنا یہ ہے کہ پلےسٹور سے (Pi network) انسٹال کرنا ہے ( پلےسٹور سے Pi network انسٹال کرنے کیلئے اس ایپ کی تصویر کا نمونہ آپ لوگوں کی آسانی کیلئے ساتھ جوڑ رہا ہوں) اسکے بعد اسکو فیس بک کے ساتھ لاگ ان کردینا ہے لاگ ان ہونے کےبعد 01093064)( invitation code) کوڈ لگانا ہے جسکے بعد آپکی مائننگ شروع ہو جائےگی اور آپ کو کوائن ملنا شروع ہو جائیں گے بعد میں آپ نیٹ بند بھی کر دیں تو آپکی مائننگ ہوتی رہے گی چاہے آپ کا موبائل ہی بند ہو مائننگ ہوتی رہے گی پھر 24گھنٹے کے بعد صرف ایک بار ایپ کو کھول کر مائننگ دوبارہ شروع کرنی پڑے گی کیونکہ 24 گھنٹے بعد مائننگ بند ہو جاتی ہے دن میں صرف ایک بار ایپ کھولنی پڑے گی پھر آپ اپنے نیچےجتنے زیادہ ممبر بنائیں گے اتنی زیادہ سپیڈ سے آپکو کوائن ملیں گے یہ کام ابھی بالکل فری ہے جتنا جلدی ہو سکے آپ یہ کام شروع کرلیں
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
Invitation code
Nabeel01093064
Pi Network
Pi is a new digital currency being developed by a group of Stanford PhDs. For a limited time, you can join the beta to earn Pi and help grow the network.
14/05/2020
Visit to Like my Page-https://www.facebook.com/366768770090344?referrer=whatsapp
La-italio Pelle Casa
La-italio Pelle Casa lavish and comforts your life with prestigious Italian articles.
25/06/2018
یہ پڑھ کہ شاید آپ چکرا جائیں گے ,
" پاکستان میں پھیلتا ایڈز اور فتنہ قادیانیت "
یہ تحریر پڑھ کر میری آنکھیں پھٹی رہ گئیں. آپ اسے پڑھیں اور جنگل میں آگ کی طرح پھیلا دیں.
*سنسنی خیز انکشافات کے ساتھ٭
یہ جولائی 2007ء کی بات ہے۔ لاہور کا ایک خوبرو نوجوان شہزاد ملک کے ایک مشہور و معروف قومی اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اخبار کے ورق الٹتے ہوئے اچانک اس کی نظر کلاسیفائیڈ اشتہارات پر پڑی۔ پھر ان میں سے ایک اشتہار پر اس کی نگاہیں گڑ کر رہ گئیں:"دوستیاں کیجئے۔۔۔۔کامیاب بنیے" اشتہار میں بتایا گیا تھا کہ ہر نوجوان دیے گئے رابطہ نمبروں پر کال کر کے نئے دوست تلاش کر سکتا ہے۔جو لڑکے بھی ہوسکتے ہیں اور لڑکیاں بھی۔۔۔۔۔ یہ نئے تعلقات اس کی زندگی میں نئی جان ڈال دیں گے۔
شہزاد ان دنوں ویسے بھی فارغ تھا۔اس کی زندگی بے مزہ گزر رہی تھی۔ایسے اشتہارات اس نے پہلے بھی دیکھے تھے مگر اب اس نے پہلی بار انہیں آزمانے کا ارادہ کیا۔اس نے اشتہار میں دیے گئے نمبروں پر رابطہ کیا۔اس رابطے کے نتیجے میں اسے کئی لڑکوں اور لڑکیوں کا تعارف کرایا گیا۔ ان کے فون نمبرز دیے گئے۔ شہزاد نے ان میں سے ایک لڑکی"روحی"کو دوستی کے لیے منتخب کیا اور اس کے نمبر پر کال کی۔دونوں میں ہیلو ہائے ہوئی۔ پھر باقاعدہ ملاقات کے لیے جگہ کا تعین ہوا۔لڑکی نے خود بتایا کہ وہ لاہور کے فلاں جوس سینٹر میں مل سکتی ہے۔
شہزاد وہاں پہنچ گیا۔ اس طرح روحی سے اس کی پہلی ملاقات ہوئی۔اس ملاقات نے اسے ایک نئی دنیا کی سیر کرائی۔ عیش و عیاشی کی دنیا ، رنگ رلیوں کی دنیا ، جہاں شرم و حیا نامی کوئی شے نہیں ہوتی۔روحی اس دنیا میں داخلے کا دروازہ تھی۔ آگے لڑکیوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ شہزاد کی دوستیاں بڑھتی چلی گئیں۔ اسے ہوش تب آیا جب اسے جسم میں شدید توڑ پھوڑ کا احساس ہوا۔ اس نے ڈاکٹروں سے معائنہ کروایا تو پتا چلا کہ وہ ایڈز کا مریض بن چکا ہے۔ شہزاد کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اپنا علاج کراتا۔ تب انہیں گروہ کے سرکردہ افراد نے علاج کی پیش کش کی مگر شرط یہ تھی کہ وہ ان کے گروہ کے لیے کام کرے۔ شہزاد کو موت سامنے نظر آرہی تھی۔ وہ ہر خطرناک سے خطرناک اور ناجائز سے ناجائز کام کے لیے تیار ہوگیا۔ ویسے بھی حلال و حرام کا فرق تو وہ کب کا بھول چکا تھا۔ گروہ کے منتظمین خود سات پردوں میں تھے۔ وہ شہزاد کو اپنی لڑکیوں کے ذریعے مختلف کام بتاتے تھے۔ یہ کام عجیب و غریب تھے۔ شہزاد ایک پڑھا لکھا اور ذہین نوجوان تھا۔جلد ہی وہ گروہ کے کاموں کو خاصی حد تک سمجھ گیا۔ گروہ کے منصوبے آہستہ آہستہ اس پر عیاں ہونے لگے۔ یہ منصوبے بے حد خوفناک ہیں۔ یہ گروہ ملک میں ایڈز کا وائرس پھیلا رہا ہے۔ ہیپاٹائٹس سی کی بیماری کو فروغ دے رہا ہے۔ ہزاروں افراد اس کا نشانہ بن چکے ہیں۔ آزاد خیال نوجوان ، ہسپتالوں کے مریض اور جیلوں کے قیدی اس کا خاص ہدف ہیں۔ آزاد خیال نوجوانوں کو دوستی کے اشتہارات کے ذریعے پھنسایا جاتا ہے. یہ اشتہارات میڈیا میں مختلف عنوانات سے آرہے ہیں۔ ان کے ذریعے نوجوانوں کا تعلق جن لڑکیوں سے ہوتا ہے وہ ایڈز اور دوسری مہلک بیماری میں مبتلا ہیں.۔ ان سراپا بیمار عورتوں کو مختلف این جی اوز سے اکٹھا کیا گیا ہے۔ ان عورتوں کی بیماری اس درجے کی تھی کہ ان کے ساتھ اختلاط سے بھی انسان ایڈز میں مبتلا ہو سکتا ہے، مگر گروہ کے لوگ اس پر اکتفا نہیں کرتے ۔ان کا انتظام اتنا پختہ تھا کہ لڑکی سے پہلی ملاقات کے وقت نوجوان جو مشروب (جوس، کولڈ ڈرنک یا شراب) پیتا تھا، اس میں پہلے سے خطرناک جراثیم ملا دیے جاتے ہیں ۔ ایڈز کی کئی مریضائیں معقول علاج ، بہتر معاوضے اور عیش و عشرت کی چند گھڑیوں کے عوض اس گروہ کے لیے یہ کام کرتی ہیں ، جبکہ بہت سی عورتیں مجبور ہو کر یہ کام کر رہی ہیں کیونکہ ان کے بچے اس گروہ کے قبضے میں تھے۔ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ احکام کی تعمیل کرتی رہیں، ایڈز پھیلاتی رہیں تو ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر ان کا مستقبل شاندار بنا دیا جائے گا۔
ان بے فکرے نوجوانوں کے علاوہ ہسپتالوں ، پاگل خانوں اور جیل خانوں کے مریض ان کا دوسرا ہدف ہے۔ یہ گروہ پاکستان کے طول و عرض میں ایسی لاکھوں سرنجیں پھیلا رہا ہے جو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کے خون سے آلودہ ہوتی ہیں۔ کئی بڑے ہسپتالوں میں اس گروہ کے ایجنٹ موجود ہیں۔ وہاں آنے والی سرنجوں میں یہ ایڈز اور ہیپا ٹائٹس زدہ سرنجیں ایک مخصوص تناسب سے ملی ہوتی تھیں۔ اتنی سرنجوں کو آلودہ کرنے کے لیے گروہ نے پاگل خانوں میں سرگرم اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاگل افراد کو اپنا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ ان کو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا کرنے کے بعد ان کا خون بڑی مقدار میں نکالتے رہنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
گروہ کا تیسرا ہدف جیل کے قیدی ہیں۔ ان میں سے کم مدت کی سزا پانے والے حد درجے منفی اور لادینی ذہنیت رکھنے والے قیدیوں کو خاص تجزیے کے بعد منتخب کرکے علاج کے بہانے ایڈز زدہ کر دیا جاتا ہے۔ جب یہ قیدی رہا ہوئے تو بیماری کے باعث ان کا کوئی مستقبل نہ ہوتا ۔یہ گروہ ان سے رابطہ کر کے انہیں اپنا رضاکار بنا لیتا ہے۔ یہ قیدی ویسے ہی تخریبی ذہن کے ہوتے ہیں ۔ اپنی محرومیوں کا دنیا سے بدلہ لینے کےلیے وہ ایڈز پھیلانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔انہیں کانوں کان یہ معلوم نہ ہوتا کہ انہیں ایڈز میں مبتلا کرنے والے "مہربان" یہی ہیں۔
گروہ کا ایک خاص کام دوسرے لوگوں کی اسناد کو اپنے کارکنوں کے لیے استعمال کرنا ہے. اس مقصد کے لیے اخبارات میں تبدیلی نام اور ولدیت کے اشتہارات شائع کردیے جاتے۔ گروہ کے کسی کارکن کو کسی ملازمت کے لیے جو مطلوبہ سند درکار ہوتی ، اس کا انتظام اس طرح ہوتا تھا کہ پہلے کمپیوٹر پر اپنے کارکن کی ولدیت سے ملتے جلتے نام والی ولدیت سرچ کی جاتی۔مثلاً: ظفر ولد جمیل کو کہیں بھرتی کرانا ہوتا تو نیٹ سے جمیل نام کی ولدیت رکھنے والے افراد کی فہرست حاصل کر لی جاتی۔پھر ظفر کا تبدیلئ نام کا اشتہار شائع کرا کے تبدیل کردیا جاتا۔اس طریقے سے گروہ کے ان گنت افراد کو ڈپلی کیٹ اسناد دلوا کر پولیس ، خفیہ ایجنسیوں اور فوج میں بھرتی کیا جا رہا ہے۔جیل خانوں ، ہسپتالوں اور پاگل خانوں میں بھی ان کی خاصی تعداد پہنچا دی گئی ہے۔
گروہ کی آمدن کے کئی ذرائع ہیں۔ شہزاد کو اتنا معلوم ہوسکا کہ بڑی گرانٹ اسے باہر سے ملتی ہے۔ دیگر ذرائع خفیہ ہیں۔ البتہ ایک ذریعہ آمدن بہت واضع ہے وہ ایڈز اور دوسرے مہلک امراض کی ادویہ کی تجارت کا۔ ایک طرف تو خود یہ گروہ ان امراض کو پھیلا رہا ہے اور دوسری طرف ان کی ادویات منہ مانگے داموں فروخت کر کے بے تحاشہ دولت کما رہا ہے.
ایک مدت تک شہزاد بھی اپنا دین و ایمان بھول کر اس گروہ کے لیے کام کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے قابل اعتماد کارکنوں میں شامل ہو گیا۔ تب ایک دن گروہ کے سرکردہ افراد نے اسے طلب کیا اور حیرت انگیز حد تک پرکشش مراعات کی پیش کش کی مگر ساتھ ہی ایک غیر متوقع مطالبہ بھی کیا۔
"تم قادیانی بن جاؤ۔ مرزا غلام احد قادیانی کو آخری نبی مان لو "شہزاد ہکا بکا رہ گیا۔ آج اسے معلوم ہوا کہ یہ گروہ قادیانی ہے۔ اس نے سوچنے کی مہلت طلب کی اور اس کے بعد مزید کھوج میں لگ گیا۔ اس جستجو میں گروہ کی ایک پرانی کارکن"روبینہ"نے اس کی مدد کی۔ روبینہ نے جو انکشافات کیے وہ شہزاد کےلیے کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ اس نے بتایا:"بلاشبہ یہ قادیانی گروہ ہے مگر اکیلا نہیں۔ یہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔ یہ کام ایک وسیع جنگ کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ اسے ہم حیاتیاتی جنگ کہتے ہیں" اور یہ کامیاب حملہ پہلے افریقہ میں کیا جا چکا ہے اور آج وہاں ایڈز کے مریضوں سے ہسپتال بھرے پڑے ہیں.
قارئین ! شہزاد کی یہ سچی کہانی پڑھ کر میں لرز گیا ہوں۔ میں اس پر یقین نہ کرتا شاید آپ بھی اسے سچ ماننے میں متذبذب ہوں۔ کیونکہ یہ بات حلق سے اُترنا واقعی مشکل ہے کہ آیا کوئی گروہ بلا تفریق لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کو اس طرح خفیہ انداز میں قتل کرنا کیوں چاہے گا؟امریکا کی جنگ تو مجاہدین سے ہے۔ قادیانیوں کی لڑائی تو علماء اور ختمِ نبوت والوں سے ہے۔ انہیں عوام کے اس قتلِ عام سے کیا حاصل ہوگا؟شہزاد کی کہانی میں اس کا جواب نہیں ملتا، مگر اس کا جواب خود یورپی میڈیا پر آنے والی رپورٹوں سے مل سکتا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق اس وقت یورپ اور امریکا میں انسانی آبادی تیزی سے نمٹنے کا خطرہ واضح طور پر محسوس ہو رہا ہے۔ وہاں کے"فری سیکس"معاشرے میں اب کوئی عورت ماں بننا چاہتی ہے نہ کوئی مرد باپ۔ تقریباً ہر فرد کا یہ ذہن بن چکا ہے جب جنسی تسکین کے لیے آزاد راستے موجود ہیں تو شادی کا بندھن اور بچوں کا جھنجھٹ سر کیوں لیا جائے؟ اس بظاہر پُر فریب خیال کے پیچھے اجتماعی خود کشی کا طوفان چلا آرہا ہے۔ جس قوم کے اکثر لوگ بچے پیدا نہ کرنا چاہتے ہوں۔ وہاں شرح پیدائش کیوں کم نہ ہوگی؟چنانچہ وہاں اب آبادی تیزی سے نمٹنے لگی ہے۔سابق امریکی صدارتی اُمیدوار پیٹرک جے بچا چن نے واضح طور پر لکھا ہے:"2050ء تک یورپ سے دس کروڑ افراد صرف اس لیے کم ہوجائیں گے کہ متبادل نئی نسل پیدا نہیں ہوگی۔"اس نے لکھا ہے:"2050ء تک جرمنی کی آبادی8 کروڑ سے گھٹ کر 5 کروڑ 90 لاکھ رہ جائے گی۔ اٹلی کی آبادی 5کروڑ سے کم ہو کر صرف 4 کروڑ رہ جائے گی۔ اسپین کی آبادی میں 25 فیصد کمی ہو جائے گی۔"
یہ وہ صورتِ حال ہے جس سے گھبرا کر مغربی دنیا کی حکومتیں عوام کی افزائش نسل کی ترغیبات دینے پر مجبور ہو گئی ہیں مگر کتے بلیوں کی طرح آزادانہ جنسی ملاپ کے عادی گورے اب کسی بھی قیمت پر یہ آزادی کھونا نہیں چاہتے۔ کوئی بڑے سے بڑا انعام انہیں بچے پالنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں بنا سکتا۔ یہ بات درجہ یقین کو پہنچ گئی ہے کہ اس صورتِ حال کا تدارک نہ ہونے کے باعث 50، 60 سال بعد دنیا میں عیسائی اقلیت میں رہ جائیں گے اور کرۂ ارض پر 60 سے 65 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہوگی جو اپنی نسل مسلسل بڑھا رہے ہیں۔ خود یورپی ممالک میں کئی بڑے بڑے شہروں میں مسلم آبادی 50 فیصد کے لگ بھگ آجائے گی۔ اس صورتِ حال میں مغربی طاقتوں نے اپنے ہاں افزائش نسل سے زیادہ توجہ مسلم دنیا کی نسل کشی پر دینا شروع کر دی ہے۔ پاکستان کو اس مقصد کے لیے پہلا ہدف اس لیے بنایا گیا ہے کہ یہ مسلم دنیا میں آبادی کے لحاظ سے تین بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ پھر یہاں کی آبادی اپنی اسلام پسندی ، علماء و مدارس کی کثرت اور جہادی پس منظر کی وجہ سے پہلے ہی مغرب کا خاص ہدف ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مغرب کے مددگار قادیانیوں کا مضبوط نیٹ ورک ہے۔ چنانچہ یہودی لابی اس مقصد کے لیے متحرک ہوگئی ہے۔ اس کے لیے پاکستان کے قادیانی اس کے شریک کاربن گئے ہیں۔ شہزاد جیسے ہزاروں لڑکے اور روحی جیسی ہزاروں لڑکیاں ان کے چنگل میں ہیں۔ اپنے ایڈز زدہ جسموں کےساتھ وہ طوعاً و کرہاً ان کے لیےکام کر رہے ہیں۔
شہزاد کے بیان کے مطابق قادیانی گروہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کے اس تعاون کو پاکستان کے سیکیورٹی اہداف کے خلاف بھی استعمال کر رہا ہے۔ جراثیم زدہ لڑکیوں کا نیٹ ورک ملٹری فورسز اور دوسرے خفیہ اداروں کے محب وطن افراد تک پھیلانے کی کوششیں پوری سرگرمی سے جاری ہیں۔جن کا نوٹس لینا ضروری ہے۔
مجھے یہ حساس ترین معلومات دیتے ہوئے شہزاد نے واضح طور پر آگاہ کیا کہ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ قادیانیوں نے اسے مرزا پر ایمان لانے کی پیشکش کر کے اس کی سوئی ہوئی ایمانی غیرت کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ شہزاد نے ان کی پیش کش ان کے منہ پردے ماری اور اس گروہ کی جڑوں کو کھود کر ان کا کچا چٹھا صحافی برادری تک پہنچا دیا۔ شہزاد اپنا کام کرچکا ، اب اس کاجو بھی انجام ہو وہ بھگتنے کے لیے تیار ہے۔ میں اپنا فرض سمجھتے ہوئے یہ حقائق آپ تک پہنچا رہا ہوں۔
ہم چیف جسٹس ، چیف آف آرمی اسٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے بطور خاص گزارش کرتے ہیں کہ اس بارے میں تحقیقات کرکے پاکستانیوں کی نسل کشی کے اس خوفناک منصوبے کو ناکام بنائیں۔ ورنہ مستقبل میں جہاں آبادی سے محروم یورپ و امریکا خودکشی کریں گے وہاں پاکستان بھی لق و دق صحرا بن کر اپنی پہچان سے محروم ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس برے وقت سے پہلے ہمیں سنبھلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ دوستو سے گزارش ہے کہ اخبارات اور چینلوں پر آنے والے دوستی کے اشتہارات پر نظر رکھیں اور ان کے خطرات سے اپنے متعلقہ احباب کو خبردار کریں۔
آپ اپنا فرض نبھائیں اور زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
02/06/2018
🍶 MILK: The Prophet sallalhu alaihi wasallam said that milk wipes away heat from th e heart just as the finger wipes away sweat from the brow. It strengthens the back, increases the brain, augments intelligence, renews vision and drives away forgetfulness.
🍯 HONEY: Considered to be the best remedy for diarrhoea when mixed in hot water. It is the food of foods, drink of drinks and drug of drugs. It is used for creating appetite, strengthening the stomach, eliminating phlegm as meat preservative, hair conditioner, eye salve and mouthwash. It is extremely beneficial in the morning in warm water and is also a Sunnah.
🍈 OLIVE OIL: Excellent treatment for skin and hair, delay old age, treats inflammation of the stomach.
🍄MUSHROOM: The Prophet sallalhu alaihi wasallam said that mushroom is a good cure for the eyes; it also serves as a form of birth control and arrests paralysis.
🍇GRAPES: The Prophet sallalhu alaihi wasallam was very fond of grapes; it purifies the blood, provides vigor and health, strengthens the kidneys and clears the bowels.
🍃DATES: The Prophet sallalhu alaihi wasallam said that a house without dates has no food, also to be eaten at the time of childbirth.
🌰FIGS: It is a fruit from paradise and a cure for piles.
🌾BARLEY: Good for fever in a soup form.
🏮POMEGRANATE: The Prophet sallalhu alaihi wasallam said it cleanse you of Shaytaan and evil aspirations for 40 days.
🍉MELON: Melon contains 1000 blessings and 1000 mercies, The Prophet sallalhu alaihi wasallam said, "None of your women who are pregnant and eat of water melon will fail to produce off spring who is good in countenances and good in character.
💧WATER: The Prophet sallahu alaihi wasallam said the best drink in this world and the next is Water, when you are thirsty drink it by sips and not gulps, gulping produces sickness of the liver.
Praise and blessings be upon the beloved Prophet Sallalhu Alaihi Wasallam who provided us with such knowledge.
May this information be beneficial to all of us... 'Aameen
Pls share✋✋
01/06/2018
"گاڈ فادر" ۔۔۔!!!
گاڈ فادر اٹلی کا باشندہ تھا۔ وہ دُنیا کا پہلا شخص تھا جس نے جرائم کو سائنسی بنیادیں فراہم کیں۔ وہ ریاست کے اندر ریاست اور انڈر ورلڈ جیسی معروفِ زمانہ اصطلاحوں کا بھی بانی تھا اس نے باقاعدہ ایسے ادارے قائم کیے جن میں مجرموں کو جرائم کی تربیت دی جاتی تھی دوسرے الفاظ میں جرائم کی دُنیا کی اکیڈیمیاں اور طالب علم اس نے ہی روشناس کروائے، اس نے مجرموں کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک بھی قائم کیا اس کے بارے میں مقولہ مشہور تھا کہ وہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے سے پہلے دُنیا کے ہر کونے میں موجود پایا جاتا ہے۔ اس نے اسلحہ، منشیات اور جعلی دستاویزات تیار کرنے کے لیے باقاعدہ لیبارٹریاں بنائیں اور ان لیبارٹریز کو جرائم کے نت نئے نئے طریقے ایجاد کرنے پر لگا دیا۔ اس سے قاتلانہ حملوں کے چار بین الاقوامی سکواڈ تشکیل دیئے ان سکواڈ میں ایسے سنگدل ، ظالم اور خوفناک لوگ بھرتی کیے جو لوگوں کو قتل کرنے کے بعد اُن کے خون سے مُنہ اور ہاتھ دھوتے تھے ۔ چنانچہ دُنیا میں ایک ایسا وقت بھی آن پہنچا جب دُنیا کے تمام بڑے بڑے حکمران گاڈ فادر کے نام سے کانپ جاتے تھے ، اُن کی سانسیں رُک جاتی تھیں۔ گاڈ فادر ایک خوف ، ایک کالی آندھی، ایک دہشت کی علامت اور انسانی رگوں میں اُتر جانے والا ایک ڈر بن گیا۔
گاڈ فادر کی شروعات بڑی دلچسپ اور قابلِ غور تھیں وہ ایک چھوٹا سا مجرم تھا۔ لیکن قدرت نے اُسے قیادت کی بے مثال اور لاتعداد صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا وہ گروپ اور ریکٹ بنانے کا ماہر تھا وہ ویژنری اور جدت پسند انسان تھا ۔وہ ہمیشہ دو تین عشرے آگے کی بات سوچتا تھا اس نے 1934 میں ایک دلچسپ منصوبہ بنایا اس نے چند یونیورسٹی پروفیسرز اور ریٹائرڈ سیاستدانوں کی خدمات حاصل کیں۔ پروفیسروں نے اٹلی کی تمام یونیورسٹیوں کا دورہ کیا اور گاڈ فادر کو تمام ذہین اور باصلاحیت نوجوان طالب علموں کی فہرستیں بنا دیں اور بزرگ سیاستدانوں نے اسے ان تمام لوگوں کے نام اور ایڈریس فراہم کر دیئے جو مستقبل قریب میں بڑے سیاستدان ثابت ہو سکتے تھے۔
گاڈ فادر نے ان تمام طالب علموں کو وظائف دیئے ان کو برطانیہ اور امریکہ کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں تعلیم دلوائی اور اس کے بعد انہیں اٹلی کے بڑے بڑے سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں بھرتی کروا دیا اس نے چھوٹے چھوٹے سیاستدانوں کی پشت پناہی کی اور اُنہیں سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل کروا دیا اس نے قانون دان جمع کیے اور ان میں سے بے شمار وکیلوں کو جج بنوا دیا اس نے اپنے ریکٹ کے لوگوں کو سفیر، مشیر اور وزیر بنوایا اس نے اپنے لوگوں کو صنعت کار، تاجر اور بروکر بنوایا۔ اس نے اپنے تمام لوگوں کو بینکار اور ماہر معاشیات دان بنوایا اس نے اپنے بہت سے لوگوں کو قانون دان اور قلمکار بنوایا۔ یہ تمام لوگ ابتدا میں اٹلی اور بعد ازاں پورے یورپ میں پھیل گئے اور اُنہوں نے آگے چل کر بے شمار ملکوں کی معیشت اور سیاست اپنے ہاتھ میں کر لی جبکہ اس کے بیٹے گاڈ فادر دوم نے اپنے باپ کے سلسلے کو امریکہ، لاطینی امریکہ اور مغربی یورپ تک پھیلا دیا اور اس نے آدھی دُنیا کو اپنے دائرہ کار میں شامل کر لیا۔
ایک وقت ایسا تھا جب گاڈ فادر کے حکم سے پورے یورپ کے قوانین بدل جاتے تھے اور وہ شحص حقیقت میں پوری دُنیا کا بے تاج بادشاہ تھا اور دُنیا میں جس شخص نے گاڈ فادر کے خلاف رپٹ تک درج کرنی ہوتی تھی وہ اُس کا ہی ہرکارہ ہوتا تھا۔ جس نے رپٹ پر دستخط کرنے ہوتے۔ جس نے مہر ثبت کرنی ہوتی ، جس نے گرفتاری کا حکم دینا ہوتا، جس نے چھاپہ مارنا ہوتا ، جس نے عدالت میں پیش کرنا ہوتا ، جس وکیل نے اس پر چارج شیٹ لگانی ہوتی ، جس سیاستدان نے اس کے خلاف قانون بنانا ہوتا اور جس وزیر، مشیر یا وزیرِ اعظم نے اس کے خلاف پریس ، کانفرنس کرنا ہوتی تھی وہ سب کے سب اس گاڈ فادر کے پے رول پر ہوتے تھے۔اور ان میں سے ہر شخص اپنی صبح کا آغاز گاڈ فادر کے قدموں کو ہاتھ لگا کر کرتا تھا چنانچہ وہ دُنیا کے اقتدار اور اختیار کی رگوں میں اُتر گیا تھا اور وہ دُنیا کا حقیقی بادشاہ گردانا جاتا تھا۔
1973 میں امریکہ نے گاڈ فادر کے اس سسٹم کو ’’اون‘‘ کر لیا اور اسے اپنی خارجہ پالیسی کا حصّہ بنا لیا۔ گاڈ فادر کا سسٹم امریکہ تک کیسے پہنچا اس کے لیے ہمیں ویتنام کی جنگ کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ 6 مارچ 1965 میں ویتنام کی سرزمین پر امریکہ کا پہلا فوجی کا نوائے اُترا یہ جنگ 8 برس جاری رہی ۔ اس اعصاب شکن لمبی جنگ میں امریکہ نے شدید مالی، سیاسی، سماجی اور فوجی نقصان اُٹھایا اور 29 مارچ 1973 کو امریکہ کا آخری فوجی پسپا ہو کر ویتنام سے نامراد لوٹا۔ امریکہ بظاہر یہ جنگ ہار گیا مگر اس جنگ نے اُسے گاڈ فادر بنا دیا۔ امریکہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ اسلحے، فوج اور ڈالروں کی بنیاد پر پوری دُنیا کو مفتوح کر کے حکومت نہیں کر سکتا لہذا اس نے اگر پوری دُنیا کی سپر پاور بننا ہے تو اسے گاڈ فادر کے فارمولے پر عمل کرنا ہوگا ۔اسے تیسری دُنیا میں یونیورسٹی کے اُستاد سے لے کر وزیرِ اعظم تک ہر عہدے پر اپنے لوگ بٹھانا ہوں گے اسے فوج، عدلیہ ، بیوروکریسی، پولیس ، صحافت اور سیاست سمیت دُنیا کا ہر بڑا شعبہ اپنے ہاتھ میں لینا ہو گا امریکہ نے فیصلہ کیا اور اس پر عمل درآمد شروع کر دیا اس نے تیسری دُنیا کے اچھے طالب علم اُٹھائے انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے وظیفے دیئے انہیں امریکہ اور یورپ کی بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم دلوائی اور اس کے بعد انہیں اپنے اپنے ملکوں کے با اثر اور حساس عہدوں پر بٹھا دیا۔ امریکہ نے نوجوان بیوروکریٹس کو تکنیکی مہارتوں کے نام پر اپنے ملک میں کورسز کروائے ان کی برین واشنگ کی اور اُن کے ملکوں میں کلیدی عہدوں پر براجمان کرا دیا۔ اس نے افسروں کو اپنی عسکری اکیڈیمیوں میں ٹریننگ دی اور امریکی ذہن دے کر اُن کے ملکوں میں واپس بھیج دیا اس نے ماہر قانون دانوں کو امریکی فلسفے کی ٹریننگ دی اور جج بنوا دیا۔اب تو امریکہ تربیت اور جدیدیت کے نام پر تیسری دُنیا کے ممتاز ملکی اسکالرز کے ذہنوں میں امریکی ازم ڈال دیا ہے جو کہ انتہائی خطرناک کھیل ہے۔ اس نے ٹیکس کے شعبے میں اپنے بندے بٹھا دیئے ۔ انڈسٹری اور بزنس میں اپنے لوگ متعارف کروائے سیاست میں اپنے حامیوں میں پہلی صف میں لا کھڑا کیا اور یوں امریکہ صرف تین عشروں میں پوری تیسری دُنیا اور آدھی سے زیادہ دوسری دُنیا کا گاڈ فادر بن گیا۔
وہ اب دُنیا کا حقیقی بادشاہ ہے اس نے نیویارک اور واشنگٹن میں وزرائے اعظم کی فیکٹری لگائی اور اس میں دھڑا دھڑ وزیرِ اعظم تیار کرکے تیسری دُنیا میں ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیئے ۔یہ تمام کے تمام وزرائے اعظم، چہرے مہرے حرکات و سکنات اور زبان و بیان اور وضع قطع کے اعتبار سے مقامی لوگوں جیسے ہوتے ہیں لیکن یہ اندر سے پورے امریکی ہوتے ہیں اور یہ مقامی لوگوں میں رہ کر امریکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں امریکہ تیسری دُنیا کو وافر مقدار میں وزرائے خزانہ، وزرائے تجارت اور جدید ٹیکس اور قرضہ جات کے مشیر بھی مہیا کرتا ہے۔ اس لیے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ جو نئی حکومت آئی تو کونسا وزیرِ خزانہ ہو گا۔ کون وزیر خارجہ ہو گا اور وزیر دفاع کے لیے کس کا انتخاب کیا جائے گا۔ امریکہ اکانومی کو بہتر کرنے کے گُر سکھانے کے بہانے مقامی تاجروں، صنعت کاروں، ریئل اسٹیٹ نائیکونز کو بھی اپنے ہاتھوں لے لیتا ہے اور ان لوگوں کے ذریعے سے تیسری دُنیا کی معیشت سے کھیلتا رہتا ہے اسی فارمولے کے تحت اس نے تیسری دُنیا کے تمام حکمرانوں اور بادشاہوں نے اربوں کھربوں اپنے بینکوں یا اپنے زیرِ اثر یورپی ملکوں میں منتقل کروا دیئے ہیں اور اُن کو اب حقیقی معنوں میں کٹھ پُتلی بنا لیا ہے اُن کا دل ، دماغ اور زبان امریکہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
امریکہ تیسری دُنیا کے میڈیا کو بھی اپنے ہاتھ کا کھلونا بنا لیتا ہے اس کے ذریعے سے تیسری دُنیا کی ثقافت بدل دی جاتی ہے وہ تیسری دُنیا کے 100 سے زائد ممالک کا بجٹ بھی واشنگٹن میں تیار کرتا ہے وہ سات سمندر پار بیٹھا تیسری دُنیا والوں کے لیے اشیائے ضروریہ چینی، گھی، دالوں، کپڑوں، پٹرول تک کے نرخ طے کرتا ہے. حقیقت میں وہ اس وقت پوری تیسری دُنیا کا گاڈ فادر حکمران ہے۔!!
Copie
31/05/2018
تنخواہ( پیسوں )
کو مہینے کی آخری تاریخ تک بچانے کا نسخہ
(عربی سے ترجمہ شدہ)
یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ہے ، یہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تها ، اس کی تنخواہ صرف چار ہزار ریال تهی ، شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اس کے اخراجات اس کی تنخواہ سے کہیں زیادہ تهے ، مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی تنخواہ ختم ہو جاتی اور اسے قرض لینا پڑتا ، یوں وہ آہستہ آہستہ قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جارہا تها اور اس کا یقین بنتا جا رہا تها کہ اب اس کی زندگی اسی حال میں ہی گزرے گی - باوجودیکہ اس کی بیوی اس کے مادی حالت کا خیال کرتی ، لیکن قرضوں کے بوجھ میں تو سانس لینا بهی دشوار ہوتا ہے -
ایک دن وہ اپنے دوستوں کی مجلس میں گیا ، وہاں اس دن ایک ایسا دوست بهی موجود تها جو صاحب رائے آدمی تها اور اس نوجوان کا کہنا تها کہ میں اپنے اس دوست کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکهتا تها -
کہنے لگا : میں نے اسے باتوں باتوں میں اپنی کہانی کہہ سنائی اور اپنی مالی مشکلات اس کے سامنے رکهیں ، اس نے میری بات سنی اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم اپنی تنخواہ میں سے کچه حصہ صدقہ کے لیے مختص کرو - اس سعودی نوجوان نے حیرت سے کہا : جناب ، مجهے گهر کے خرچے پورے کرنے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آپ صدقہ نکالنے کا کہہ رہے ہیں ؟
خیر میں نے گهر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی کہنے لگی : تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ ہوسکتا ہے اللہ جل شانہ تم پر رزق کے دروازے کهول دے -
کہتا ہے : میں نے ماہانہ 4 ہزار ریال میں سے 30 ریال صدقہ کے لیے مختص کرنے کا ارادہ کیا اور مہینے کے آخر میں اسے ادا کرنا شروع کردیا -
سبحان اللہ ! قسم کها کر کہتا ہوں ، میری تو حالت ہی بدل گئی ، کہاں میں ہر وقت مالی ٹینشنوں میں اور سوچوں میں رہتا تها اور کہاں اب میری زندگی گویا پهول ہو گئی تهی ، ہلکی پهلکی آسان ، قرضوں کے باوجود میں خود کو آزاد محسوس کرتا تها ، ایک ایسا ذہنی سکون تها کہ کیا بتاوں !
پهر چند ماہ بعد میں نے اپنی زندگی کو سیٹ کرنا شروع کیا ، اپنی تنخواہ کو حصوں میں تقسیم کیا ، اور یوں ایسی برکت ہوئی جیسے پہلے کبهی نہی ہوئی تهی - میں حساب لگالیا اور مجهے اندازہ ہوگیا کہ کتنی مدت میں اِنشاءاللہ قرضوں کے بوجھ سے میری جان چهوٹ جائی گی -
پهر اللہ جل شانہ نے ایک اور راستہ کهولا اور میں نے اپنے ایک عزیز کے ساتھ اس کے پراپرٹی ڈیلنگ کے کام میں حصہ لینا شروع کیا ، میں اسے گاہک لاکر دیتا اور اس پر مجهے مناسب پرافٹ حاصل ہوتا -
الحمدللہ ! میں جب بهی کسی گاہک کے پاس جاتا وہ مجهے کسی دوسرے تک راہنمائی ضرور کرتا -
میں یہاں پر بهی وہی عمل دوہراتا کہ مجهے جب بهی پرافٹ ملتا میں اس میں سے اللہ کے لیے صدقہ ضرور نکالتا -
اللہ کی قسم ! صدقہ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا ، سوائے اس کے جس نے اسے آزمایا ہو -
صدقہ کرو ، اور صبر سے چلو ، اللہ کا فضل سے خیر و برکتیں اپنی آنکهوں برستے دیکهو گے -
نوٹ :
1. جب آپ کسی مسلمان کو تنخواہ میں سے صدقہ کے لیے رقم مختص کرنے کا کہیں گے اور وہ اس پر عمل کرے گا تو آپ کو بهی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا صدقہ کرنے والے کو ملے گا ، اور صدقہ دینے والے کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی -
سوچیے !!!
آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے اور آپ کے سبب آپ کے پیچهے کوئی صدقہ کر رہا ہوگا !
2. ایسے ہی اگر آپ نے یہ رسالہ (میسج) آگے نشرکیا اور کسی نے صدقہ دینے کا معمول بنا لیا تو آپ کے لیے بهی صدقہ دینے والے کے مثل اجر ہے-
(جیسے میں نے اس میسج کو پڑھ کر صدقہ کرنے کا معمول بنایا ، اور قسم کها کر کہتا ہوں ، سب سے زیادہ فرق میری ذہنی حالت پر پڑا ، ایک ایسا اطمینان محسوس ہوتا ہے کہ جس کا جواب نہیں - مترجم)
میرے عزیز!!!
اگرچہ آپ طالب علم ہیں ، اور آپ کو لگابندها وظیفہ ملتا ہے تب بهی آپ تهوڑا بہت جتنا ہوجائے کچھ رقم صدقہ کے لیے ضرور مختص کریں -
اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجھ لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں جاتا ہے تو یقینا دینے والے کو لذت لینے والے سے کہیں زیادہ ہو گی -
کیا آپ صدقہ کے فوائد معلوم ہیں ؟
خاص طور پر 17، 18، 19 کو توجہ سے پڑهیے گا -
سن لیں !
صدقہ دینے والے بهی اور جو اس کا سبب بنتے ہیں وہ بهی!!!
1. صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے -
2. صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کهانا کهلانا ہے -
3. صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا ، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا -
4. صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹهنڈا کرتا ہے ، اور قبر کی گرمی میں ٹهنڈک کا سامان ہے -
5. میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے ، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑهاتا رہتا ہے -
6. صدقہ مصفی ہے ، نفس کی پاکی کا ذریعہ ، اور نیکیوں کو بڑهاتا ہے -
7. صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سرور اور تازگی کا سبب ہے -
8. صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے ، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا -
9. صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سیئات کا کفارہ ہے -
10. صدقہ خوشخبری ہے حسن خاتمہ کی، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے-
11. صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے ، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہو -
12. صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے -
13. خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے ، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کی مخلوق محبت کرتی ہے -
14. صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے -
15. صدقہ دعاوں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے -
16. صدقہ بلاء (مصیبت) کو دور کرتا ہے اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے -
17. صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے ،کامیابی اور وسعت رزق کا سبب ہے -
18. صدقہ علاج بهی ہے ، دواء بهی اور شفاء بهی -
19. صدقہ آگ سے جلنے ، غرق ہونے، چوری اور بری موت کو روکتا ہے -
20. صدقہ کا اجرملتا ہے ، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں نا ہو -