Knowledge Float

Knowledge Float Community for People interested in Islamic Studies, History, Facts, Quran & Motivation of Life..! Producer Education

14/07/2026

‏اور وہی ذات ہے جس نے یہ زمین پھیلائی، اُس میں پہاڑ اور دریا بنائے، اور اُس میں ہر قسم کے پھلوں کے دو دو جوڑے پیدا کئے۔
وہ دن کو رات کی چادر اُڑھادیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان ساری باتوں میں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کریں۔

سورۃ الرعد، ۳

14/07/2026

ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام! ایک ایسے نوجوان کے قریب سے گزرے جو باغ میں پانی لگا رہا تھا۔ اُس نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائیے کہ اللّہ ربّ العزت اپنے عشق کا ایک ذرّہ مجھے عنائیت فرما دے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک ذرّہ تو بہت ہے تم اس کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اُس نے کہا کہ، صرف نصف ذرّہ ہی عطا فرما دے۔ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پروردِ گارِ عالم سے دعا مانگی:
یا اللّہ! " اسے اپنے عشق کا نصف ذرّہ مرحمت فرما دے۔
یہ دعا مانگنے کے بعد آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔کچھ عرصہ بعد پھر اسی راستہ سے آپ علیہ السلام کا گزر ہُوا اور اُس جوان کے بارے میں دریافت کِیا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ تو دیوانہ ہو گیا ہے اور پہاڑوں پر چلا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پروردِ گارِ عالم سے دعا مانگی:
یا اللّہ! " اُس جوان سے میرا سامنا کر دے۔ "
پھر آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ جوان پہاڑ کی ایک چوٹی پر کھڑا ہو کر آسمان کی طرف دیکھے جا رہا ہے۔ آپ علیہ السلام نے اُسے سلام کِیا لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔ آپ علیہ السلام نے اُس سے فرمایا کہ تم مجھے نہیں جانتے میں عیسیٰ ( علیہ السلام ) ہوں۔ اللّہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی کہ
" اے عیسیٰ ( علیہ السلام ) ! جس کے دل میں میری محبت کا نصف ذرّہ بھی موجود ہو وہ کس طرح انسانوں کی بات سن سکتا ہے۔ مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی، اگر اسے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے بھی کر دیا جائے تو اسے احساس تک نہ ہو گا-
(مکاشفتہ القلوب باب 10 صفحہ 84)
سبحان اللّہ
جب اتنی سی سطح پر انسان کا یہ حال ہے، تو میرے پیارے نبی محمد صل اللہ علیہ و سلم جو معراج کا نوری سفر کر کے اپنے رب کے سامنے رو برو اپنے رب سے باتیں کرتے رہے ۔ اور موسی علیہ السلام اپنے رب کی ایک تجلی نہ سہہ سکے-
کیا مقام ہے ذات محمدیﷺ کا اپنے رب کی تجلیوں کو باقاعدہ سہتے ہوئے واپس تشریف بھی لائے اور پورے ہوش و ہواس میں ایک نارمل زندگی گزارتے ہوئے اپنے نبوت کے منصب کو پورا کرتے ہوئے اپنے ربَ حقیقی سے جا مِلے۔ بےشک اللّہ تعالیٰ نے نامِ محمد ﷺ کو بہت بڑا مقام عطا کیا ہے ۔۔۔

14/07/2026

‏یہ وہ لوگ ہیں جو اِیمان لائے ہیں، اور جن کے دِل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو کہ صرف اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دِلوں کو اِطمینان نصیب ہوتا ہے۔

سورۃ الرعد، ۲۸

14/07/2026

‏اور یہ جو تم سود دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہوکر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ہے،اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، تو جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں
وہ ہیں جو (اپنے مال کو) کئی گنا بڑھالیتے ہیں۔

﴿سورۃ الروم، ۳۹﴾

14/07/2026

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ (16)

ترجمۂ کنز الایمان

قریب ہے کہ ہم اس کی سؤر کی سی تھوتھنی پر داغ لگادیں گے۔

القران: القلم

خدا اپنے محبوب کے بارے اتنا possessive ہے، کہ محبوب کی شان بارے بات کرنے والے اور اسکے حماعتی تک کو بھی معافی نہیں، "سور" ،اس کی اصل میں خطا، تک کے الفاظ فرمائیے۔۔
خدا باری تعالی ہمیں ہدایت و محبت رسول عطا فرمائے اور ایسے بدقسمت لوگوں کی صحبت سے بھی بچائے۔۔

14/07/2026

مسجدِ نَبوی کی اِبتدائی تَزئین و آرائش:

مسجدِ نبوی میں سب سے پہلے اعلیٰ فرش حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ڈالے، اس سے پہلے صرف بجری تھی۔ اس کی عالیشان عمارت سب سے پہلے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بنائی۔

اس میں سب سے پہلے قندیلیں حضرت تمیم داری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے روشن کیں۔

عہدِ فاروقی میں رمضان کی تراویح کے موقعہ پر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے چراغاں کیا اور حضرت علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو نور ِقبر کی دعا دی۔

حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بیتُ المقدس میں کِبْرِیَّتِ اَحمر کی روشنی کی جس کی روشنی بارہ مربع میل میں ہوتی تھی اور اسے چاندی سونے سے آراستہ فرمایا۔

(روح البیان، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۳۹۹-۴۰۰، ملخصاً)

06/07/2026

امام شامل رحمہ اللہ (1797ء–1871ء) تاریخِ اسلام کے ان عظیم اور نڈر مجاہدین میں سے ہیں جن کا نام سرفروشی، شجاعت اور اعلیٰ اخلاقی کردار کا دوسرا نام ہے۔ انہوں نے داغستان اور چیچنیا کے پہاڑی علاقوں میں روسی سلطنت کے بڑھتے ہوئے قدموں کو تقریباً 25 سال تک روکے رکھا۔
وہ نقشبندی صوفی سلسلے کے ایک جلیل القدر عالم اور روحانی رہنما تھے، وہ 1834ء میں قفقاز کے تیسرے امام منتخب ہوئے اور بکھرے ہوئے قبائل کو متحد کر کے ایک مضبوط اسلامی ریاست (امارت) قائم کی۔
1859ء میں طویل محاصرے، وسائل کی شدید کمی اور ساتھیوں کی شہادت کے بعد، انہوں نے گنیب (Gunib) کے مقام پر روسی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے۔
ان کی بہادری کا روسیوں کے دلوں پر ایسا رعب تھا کہ زارِ روس نے ان کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک نہیں کیا، بلکہ انہیں سینٹ پیٹرزبرگ میں عزت و احترام سے رکھا اور ایک شاہی مہمان کا درجہ دیا۔
زندگی کے آخری حصے میں انہیں روس کی طرف سے حج پر جانے کی اجازت ملی، 1871ء میں ان کا انتقال سعودی عرب میں ہوا اور انہیں مدینہ منورہ کے مقدس قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

"جیو نیوز اور مسلسل مذہبی بد احتیاطی"غلطی یا کوئی ایجنڈا؟ آج ہم بات کریں گے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، ی...
28/06/2026

"جیو نیوز اور مسلسل مذہبی بد احتیاطی"
غلطی یا کوئی ایجنڈا؟
آج ہم بات کریں گے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی پیمرا کے اس اہم فیصلے کی، جو 27 جون 2026 کو جیو نیوز کے خلاف جاری کیا گیا۔ یہ فیصلہ محرم الحرام کی خصوصی نشریات "سفرِ عشق" میں مذہبی شخصیات کی بصری نمائندگی کے حوالے سے سامنے آیا۔
یہ صرف ایک چینل یا ایک پروگرام کا معاملہ نہیں، بلکہ پاکستان کے تمام الیکٹرانک میڈیا کے لیے ایک اہم قانونی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ پیغام ہے۔
پیمرا نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا کہ نشر کیا گیا مواد مذہبی حساسیت کے تناظر میں سنگین ضابطہ جاتی خدشات پیدا کرتا ہے۔ حکم نامے کے مطابق اس قسم کی نشریات مذہبی جذبات کو مجروح کر سکتی ہیں، مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہیں، ذمہ دارانہ صحافت کے تقاضوں سے متصادم ہو سکتی ہیں اور عوامی امن و امان کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ میڈیا کی آزادی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن مذہبی حساسیت، عوامی جذبات اور قانون کی پاسداری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
اس کے بعد پیمرا نے ادارتی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ اِن ہاؤس مانیٹرنگ کمیٹی اور ایڈیٹوریل ٹیم کو اس پروگرام کے نشر ہونے سے پہلے زیادہ احتیاط، جانچ اور نگرانی کرنی چاہیے تھی۔ دوسرے لفظوں میں، مذہبی موضوعات پر کوئی بھی پروگرام نشر کرنے سے پہلے مکمل ادارتی جائزہ لینا ہر میڈیا ادارے کی ذمہ داری ہے۔
پیمرا نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف اخلاقی نوعیت کا نہیں بلکہ متعدد قوانین اور ضابطوں سے متعلق بھی ہے۔ حکم نامے میں پیمرا آرڈیننس 2002، پیمرا رولز 2009، ٹیلی وژن براڈکاسٹ ریگولیشنز 2012، اور الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مذکورہ نشریات ان ضابطوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔
اسی بنیاد پر پیمرا نے حکم دیا کہ جیو نیوز کا لائسنس پندرہ دن کے لیے فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے۔
صرف یہی نہیں، بلکہ تمام کیبل آپریٹرز، سیٹلائٹ آپریٹرز اور ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارمز کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اس حکم پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں۔
مزید برآں، معاملہ کونسل آف کمپلینٹس کے سپرد کیا گیا تاکہ اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے اور اگر ضرورت ہو تو مزید قانونی کارروائی یا سفارشات بھی پیش کی جا سکیں۔
پیمرا نے جیو نیوز کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ اس واقعے کی مکمل اِنٹرنل انکوائری کرے، ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرے، مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے مؤثر پریوینٹو میژرز تیار کرے اور اپنی رپورٹ کونسل آف کمپلینٹس کے سامنے پیش کرے۔
اسی کے ساتھ پیمرا کے تمام علاقائی دفاتر کو بھی ہدایت جاری کی گئی کہ وہ اس حکم پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
حکم نامے میں ایک اور اہم نکتہ بھی شامل ہے۔ پیمرا نے واضح کیا کہ یہ کارروائی حتمی نہیں ہے، اور اگر قانون کے مطابق ضرورت محسوس ہوئی تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
یہاں ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ پہلا موقع ہے جب جیو نیوز کو مذہبی یا ضابطہ جاتی تنازع کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب ہے: نہیں۔
ماضی میں بھی جیو نیٹ ورک کی بعض نشریات مذہبی موضوعات کے حوالے سے عوامی اور ضابطہ جاتی تنقید کا باعث بنتی رہی ہیں۔
مثال کے طور پر 2014 میں ایک مارننگ شو میں شادی کی تقریب کے دوران نعت کی پیشکش پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا، جس کے بعد پیمرا نے کارروائی کی، جرمانہ عائد کیا اور بعد میں چینل کی جانب سے معذرت بھی کی گئی۔
اسی طرح مختلف اوقات میں بعض مذہبی پروگراموں کے اندازِ پیشکش پر بھی مختلف مذہبی حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔
البتہ 2026 کے "سفرِ عشق" کیس میں معاملہ اس حد تک سنگین سمجھا گیا کہ پیمرا نے پندرہ روزہ معطلی کا حکم جاری کیا اور مزید تحقیقات کے لیے معاملہ کونسل آف کمپلینٹس کو بھی بھیج دیا۔
یہاں ایک اور سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
کیا یہ محض ایک ادارتی غلطی تھی، یا اس کے پیچھے کوئی مسلسل ادارتی رجحان موجود ہے؟
اس سوال کا حتمی جواب قیاس آرائیوں سے نہیں بلکہ شواہد، تحقیقات اور متعلقہ اداروں کی رپورٹوں کی بنیاد پر ہی دیا جا سکتا ہے۔
البتہ اگر ایک ہی نوعیت کے مذہبی حساس معاملات بار بار سامنے آئیں تو عوام کے ذہن میں چند سوالات ضرور پیدا ہوتے ہیں۔
کیا ادارتی نگرانی میں مسلسل کمزوری موجود ہے؟
کیا متعلقہ ادارہ اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق حاصل کر رہا ہے؟
اور کیا پیمرا کی ہدایات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جا رہا ہے؟
یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات حقائق، شواہد اور ذمہ دار اداروں کی تحقیقات ہی فراہم کر سکتی ہیں۔
اس پورے واقعے سے ایک اہم سبق سامنے آتا ہے کہ مذہبی موضوعات، خصوصاً انبیائے کرام علیہم السلام اور دیگر مقدس شخصیات سے متعلق مواد کی تیاری اور نشریات میں انتہائی احتیاط، علمی رہنمائی اور مضبوط ادارتی نگرانی ناگزیر ہے۔ محض نیک نیتی کافی نہیں، بلکہ قانون، ضابطہ اخلاق اور عوامی مذہبی حساسیت کا مکمل احترام بھی ضروری ہے۔
ہم تمام میڈیا اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مذہبی پروگراموں کی تیاری اور نشریات میں قانون، اخلاق، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور عوامی جذبات کا مکمل احترام کریں، تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے اور معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رہے۔
اختتام سے پہلے میں آپ سے ایک سوال چھوڑنا چاہتا ہوں۔
کیا پاکستان کا میڈیا مذہبی معاملات میں اپنی ادارتی ذمہ داریوں کا معیار مزید بہتر بنانے کا محتاج ہے؟
اپنی رائے ضرور دیجیے، کیونکہ ذمہ دار میڈیا صرف قانون سے نہیں، بلکہ باشعور ناظرین کی آراء سے بھی مضبوط ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے، ذمہ داری کے ساتھ سننے اور دین کے احترام کے ساتھ اظہار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


,

فرانس سے جیو نیوز تکزیادہ دور نہیں بس ایک سو بیس سال پیچھے لیکر جانا چاہتا ہوں آپکو تاکہ آپکو اقبال کے شعر کی سمجھ آ جاے...
28/06/2026

فرانس سے جیو نیوز تک
زیادہ دور نہیں بس ایک سو بیس سال پیچھے لیکر جانا چاہتا ہوں آپکو تاکہ آپکو اقبال کے شعر کی سمجھ آ جاے
تھے وہ آبا تمہارے ہی تم مگر کیا ہو؟
ہاتھ پر دھرے ہاتھ منتظر فردا ہو 😢
سلطان عبدالحمید ثانی نے فرانس کی جانب سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخانہ ڈرامے شائع کرنے کی خبرداری پر فوری سفارتی اقدامات کیے یہ واقعہ سلطان کے دور 1876ء سے 1909ء کا ایک تاریخی واقعہ ہے جو ان کے شدید حب رسول ﷺ اور غیرت کی علامت بن گیا
ایک حکومتی عہدیدار نے سلطان کو اطلاع دی کہ فرانس کے ایک تھیٹر میں ایک ڈرامہ پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں نعوذباللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار ادا کیا جائے گا اس ڈرامے میں گستاخانہ خاکے اور توہین آمیز بیانات شامل تھے جو مسلم امت کے دل کو زخمی کرنے والے تھے یہ خبر سنتے ہی سلطان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا جسم کانپ اٹھا اور وہ شدید بے چینی میں پڑ گئے انہوں نے فوراً اپنے مشیروں اور وزراء کو بلایا
سلطان نے خطاب کیا اگر وہ میرے بارے میں بکواس کرتے تو مجھے کوئی غم نہیں ہوتا لیکن اگر وہ میرے دین اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی کریں تو میں جیتے جی مر جاؤں گا میں تلوار اٹھاؤں گا یہاں تک کہ اپنی جان ان پر فدا کر دوں گا چاہے میری گردن کٹ جائے یا میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تاکہ کل بروز قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے شرمندگی نہ ہو انہوں نے جنگ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس ظالم سے لڑیں گے اور انہیں برباد کر دیں گے اسی اثناء میں فرانسیسی سفیر کو دربار میں طلب کرنے کے احکامات جاری کر دیے سلطان نے خود اپنے زبانی لکھوائے سرکلر میں لکھا فرانسیسیوں کی اسلام کے خلاف کارروائیاں حد سے تجاوز کر چکی ہیں اب ہم خلافت کا پرچم بلند کرنے جا رہے ہیں اور فرانسیسیوں سے ایک حتمی جنگ کرنے جا رہے ہیں یہ حکم ہے خلیفۃ وجہ الارض جلالت الملک عبدالحمید خان کا
فرانسیسی سفیر کو روایتی فاخر لباس میں دربار میں طلب کیا گیا سلطان نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر تم نے اس ڈرامے کو روکا نہ تو میں تمہاری دنیا تباہ کر دوں گا پھر ڈرامے کے اشتہار والا فرانسیسی اخبار سفیر کی طرف اچھال دیا سفیر پر شدید دباؤ پڑ گیا اس کے بعد فرانس کی حکومت کو فوری پیغام بھیج دیا گیا کہ اگر یورپ کو اپنی آنکھوں سے جلتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تو ڈرامہ فوری روک دو عثمانی فوج جہازوں پر بندرگاہوں پر اور چھاؤنیوں سے لشکر کشی کر چکی تھی
اس دھمکی جنگ کے اعلان اور فوج کی تیاری نے فرانس کو خوفزدہ کر دیا فرانسیسی حکومت نے ڈرامہ فوری روک دیا اور اس تھیٹر کو ہمیشہ کیلئے بند کر دیا یہ واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ سلطان عبدالحمید کی غیرت اور قیادت نے امت مسلمہ کے لیے ایک طاقتور سفارتی دباؤ کا مظہر بن کر فرانس کو روکا یہ ایک ایسا اقدام تھا جو مغربی طاقتوں کو بھی سمجھا چکا کہ عثمانی خلافت کی اہمیت اور اس کے حکمران کی غیرت کتنی گہری ہے
یہ واقعہ آج بھی امت مسلمہ کے لیے حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال ہے کہ ایک حکمران اگر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرے تو دنیا کو ہلا سکتا ہے نوٹ یہ واقعہ تاریخی دستاویزات اور عثمانی دور کی داستانوں پر مبنی ہے لیکن بعض تفصیلات مختلف روایات میں الگ الگ بیان ہوتی ہیں
فرانس بار بار جو گستاخانہ خاکے شائع کرتا ہے اس کی وجہ بھی یہ ہی ہے وہ للکارتا ہے کہ سلطان حمید ثانی کے بعد ہے کوئی ممسلمان غیرت مند حکمران جو مجھے روک سکے؟؟؟
امت مسلمہ کی جانب سے صرف خاموشی 😢😢😢
جیو نیوز کی نشریات پندرہ دن کے لیے بند اور معاملہ ختم
سوچیں پندرہ دن نشریات بند ہونے کے بدلے امریکہ و یورپ نے جیو نیوز کو کن انعامات و کرامات سے نوازا ہو گا؟؟؟؟
اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ سب انجانے میں ہوا تو وہ کوئی بہت بڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے
میرے جیسا ایک عام بندہ جب سوشل میڈیا کے لیے ویڈیو بناتا ہے تو اس کے اغراض و مقاصد ذہن میں بہت واضح ہوتے ہیں
ویڈیو بنانا پھر ایڈٹ کرنا اسکو کانٹینٹ کو دیکھنا کہ اسکا مقصد کیا ہے
تو جیو نیوز جیسا ادارہ یہ سب انجانے میں کر جاے خدا کی قسم یہ جھوٹ ہے میں اس جھوٹ کو ماننے کو تیار نہیں ہو سکتا

22/06/2026

حضرت امام حسین، انکے ساتھی اور کربلا

Address

Riyadh

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Knowledge Float posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Knowledge Float:

Shortcuts

Share

Category