Tajweed ul Qur'aan

  • Home
  • Tajweed ul Qur'aan

Tajweed ul Qur'aan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tajweed ul Qur'aan, Education, .

خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے
یہ علم سیکھنے والا شخص دوسرے تمام علوم سیکھنے والے لوگوں سے افضل ہوتا ہے
قرآنِ مجید کا علم سیکھنے والوں کے لیے زمین و آسمان کی ہر چیز استغفارکرتی ہے۔

16/06/2026
16/06/2026
16/06/2026

وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ
تباہی ہے ہر اس شخص کے لئے جو لوگوں کے عیب تلاش کرتا ہے، طعنے دیتا ہے، مذاق اڑاتا ہے، اور اپنی زبان، اپنے اشاروں یا اپنی تحقیر آمیز مسکراہٹ سے دوسروں کے دل زخمی کرتا ہے۔
عجیب بات ہے ۔۔۔۔۔۔
قرآن نے یہاں کسی قاتل، ڈاکو یا جنگ چھیڑنے والے سے گفتگو شروع نہیں کی، بلکہ اُس شخص سے شروع کی ہے جو لوگوں کی عزتوں پر حملہ کرتا ہے۔
کیونکہ بعض اوقات زخم تلوار نہیں دیتی، ایک جملہ دیتا ہے ۔
اور بعض دل خون سے نہیں، تحقیر سے مر جاتے ہیں۔

الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهُ
وہ جو مال جمع کرتا رہتا ہے اور پھر اسے بار بار گنتا رہتا ہے۔
قرآن صرف مال رکھنے کی مذمت نہیں کر رہا، بلکہ اُس ذہن کی نشاندہی کر رہا ہے جس کی زندگی کا محور صرف مال بن جائے۔

جس کی صبح حساب سے شروع ہو اور رات گنتی پر ختم ہو۔
جس نے خزانے جمع کیے ہوں مگر انسان کھو دیے ہوں۔

*يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ*

وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
آج بھی کتنے لوگ یہی سمجھتے ہیں۔
کوئی اپنی جائیداد پر نازاں ہے، کوئی اپنے کاروبار پر، کوئی اپنے عہدے پر، کوئی اپنی شہرت پر۔

مگر قبرستان کی خاموش مٹی کے نیچے سب کی کہانی ایک جیسی ہے۔
وہاں نہ اکاؤنٹس کام آتے ہیں، نہ تعلقات، نہ اختیارات۔

*كَلَّا* ۔۔۔۔۔۔۔۔

ہرگز نہیں !
قرآن کا یہ ایک لفظ انسان کے سارے غرور کو توڑ دیتا ہے۔
نہ مال ہمیشہ رہتا ہے، نہ طاقت، نہ جوانی، نہ شہرت۔
باقی رہتا ہے تو صرف عمل۔

لَيُنۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ
وہ ضرور '' حُطَمَہ '' میں پھینک دیا جائے گا۔
اور تم جانتے ہو حُطَمَہ کیا ہے؟

نَارُ اللّٰهِ الْمُوقَدَةُ
وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔

الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ
جو صرف جسموں کو نہیں، دلوں تک جا پہنچے گی۔
کیونکہ جرم بھی دل کا تھا۔
تکبر دل میں تھا۔
حقارت دل میں تھی۔
لوگوں کو چھوٹا سمجھنے کا مرض دل میں تھا۔
اور عدل کا تقاضا ہے کہ سزا بھی وہیں پہنچے جہاں بیماری پیدا ہوئی تھی۔
پھر غور کیجئے ۔۔۔۔
'' حُطَمَہ '' کا مطلب ہے، توڑ کر ریزہ ریزہ کر دینے والی چیز۔
جس نے دنیا میں دوسروں کے دل توڑے تھے، آخرت میں وہ خود ٹوٹنے والی آگ کے حوالے کر دیا جائے گا۔
إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ ، فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ
وہ آگ ان پر بند کر دی جائے گی، لمبے لمبے ستونوں میں جکڑ کر۔
کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
کوئی سفارش نہیں ہوگی۔
کوئی دولت دروازہ نہیں کھول سکے گی۔
کوئی طاقت زنجیر نہیں توڑ سکے گی۔
سورہ الہمزہ ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کی عظمت اس کے مال میں نہیں، اس کے اخلاق میں ہے۔
لوگوں کی عزتیں محفوظ رکھو۔
عیب تلاش کرنے کے بجائے خوبیاں تلاش کرو۔
مال کو ہاتھ میں رکھو، دل میں نہیں۔
کیونکہ قیامت کے دن اللہ یہ نہیں پوچھے گا کہ تمہارے پاس کتنا مال تھا ۔۔۔۔
بلکہ یہ ضرور دیکھے گا کہ تمہاری زبان سے کتنے دل زخمی ہوئے، اور کتنے دل محفوظ رہے۔

16/06/2026

"وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا" (البقرہ: 83)
"اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔"

`اس آیت سے اخذ ھونے والے چند فوائد و نکات`

1. `تذکروا العشرة:`
تعلقات اور دوستی کو یاد رکھو۔

2. `راعوا المشاعر:`
لوگوں کے جذبات کا خیال رکھو۔

3. `اجبروا الخواطر:`
دلجوئی کرو اور حوصلہ بڑھاؤ۔

4. `انتقوا کلماتکم:`
اپنی باتوں کو احتیاط سے منتخب کرو۔

5. `لا تؤلموا أحداً:`
کسی کو تکلیف نہ دو۔

6. `تلطفوا أفعالکم:`
اپنے اعمال کو نرم رکھو۔

7. `عیشوا أنقياء أصفياء:`
پاک صاف اور خالص زندگی گزارو۔

یہی انبیاء کا طریقہ اور صالحین کا اخلاق تھا۔

العبد/ عبدالرحمن السعیدي

16/06/2026

اسْتعنَا بِرَبِّنَا وَرَبِّ كُلِّ شَيْءٍ، وَتَوَكَّلْنَا عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ
وَاسْتَدْفَعْنَا الشَّرَّ بِلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
حَسْبُنَا الرَّبُّ مِنَ الْعِبَادِ
حَسْبُنَا الْخَالِقُ مِنَ الْمَخْلُوقِ
حَسْبُنَا الرَّازِقُ مِنَ الْمَرْزُوقِ
حَسْبُنَا الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ
وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ
حَسْبِنا اللَّـهُ لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلاَةً ََتْطَهِّرُنَا بِهَا مِنْ جَمِيعِ السَّيِّئاتِ وَتَرْفَعُنَا بِهَا عِنْدَكَ أَعْلَى الدَّرَجَاتِ وَتُبَلِّغُنَا بِهَا أَقْصَى الْغَايَاتِ مِنْ جَمِيعِ الْخَيْرَاتِ فِي الْحَيَاةِ وَبَعْدَ الْمَمَاتِ.

16/06/2026

کچھ خواہشیں ہمارے نفس کا الٰہ بن جاتی ہیں اس کو حاصل کرنے کی شدت ہمیں رب کے راستے سے کب بھٹکا دیتی ہیں ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا
ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان آنے والی ہمارے نفس کی خواہش ہمیں ہماری زمہ داریوں کو بھلا دیتی ہیں

انسان کے لئے سب سے مشکل کام اپنے نفس کے الٰہ کو پہچاننا ہے
ضد، انا، دنیاوی محبت ہمارے دل سے رب کی رضا کو نکال دیتی ہے یہ خواہشات انسان کے دل کو کھا جاتی ہیں انسان کے دماغ کو سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہنے دیتی
جب اللہ سبحان و تعالی کہتا ہے: لِکَیْلَا تَأْسَوْا عَلَیٰ مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمْ"
تم اس چیز پر غم نہ کرو جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر اترائو جو اس نے تمہیں دیا ہے۔
اس آیت کا مقصد انسان کو دنیاوی نقصان پر حد سے زیادہ افسوس کرنے اور کسی نعمت کے ملنے پر تکبر و غرور میں مبتلا ہونے سے بچانا ہے تم اس چیز پر غم نہ کرو جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر اترائو جو اس نے تمہیں دیا ہے۔
جو چلا گیا اسے رب نے دور کیا جو ہے اسے رب نے عطا کیا
تم اپنی خواہشات کو الٰہ ہونے سے بچاؤ
اللہ کے حکم کے خلاف جانا بھی شرک ہے بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tajweed ul Qur'aan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your school to be the top-listed School/college?

Share