28/06/2023
Some time its a formality to say Eid Mubrik
All In One
knowledge, Trends, Information, learning, Education, tutorials, and how every thing works
28/06/2023
Some time its a formality to say Eid Mubrik
20/11/2022
15/03/2022
Writing on a currency note in your pocket
"Hamil will pay Haza on demand"
This means that your government is obliged to pay gold equivalent to this note at your request.
If today the total population of Pakistan returns the notes to the State Bank and starts taking gold, then only 20% of the notes will be usable. The price of the remaining 80% notes is Rs. 13 per kg. Because the rest of the notes have no gold at all, their value is the same as the rubbish.
After World War II, Europeans burned currency notes instead of wood. Because the price of wood was higher than the currency.
The concept of inflation, called inflation, is only a hundred years old.
The price of a hen was two dirhams in the time of Pharaoh which remained only two dirhams till the end of 19th century. If we consider, even today its value is only two dirhams. Mean zero percent inflation.
In the last 100 years alone, the value of paper money has fallen several hundred times.
Inflation is actually a tax that the rich and the poor pay equally without any discrimination.
The biggest cause of poverty and misery today is paper currency and the interest paid on it.
When we borrow from the IMF, the dollars don't actually flow to us. In the United States, only a computer transaction takes place in a bank account. Dollars are not transferred to this account either.
To date, only 3% of the world's dollars have been printed. The remaining 97% of dollars are stored only on computer hard disks.
The IMF charter states that no country can issue gold and silver coins. If it does, the IMF or the World Bank will not lend to such a country.
Many heads of state in the world, including the United States, have been killed for trying to issue their own currency or gold and silver coins.
The government of this country cannot impose without the permission of the Minister of Finance and the Secretary of Finance.
The first condition for lending by the IMF is privatization and then lending. Ever wonder why this is so.
All petrol exporting countries, including Saudi Arabia and Iran, are bound to sell petrol only in dollars and not in the currency of the country selling or buying.
Never in human history have so many people been fooled. This is the biggest fraud in human history.
02/03/2022
زندگی دیکھ تیرے دِیدہ تٙمسخُر کی قسم
ہم تجھے چُھوڑ دیں گے ایسے تماشہ نہ بنا
25/02/2022
سعودی عرب میں پانچویں جماعت کے بچوں کو عربی زبان کے پرچے میں اپنی ماں پر ایک جملہ لکھنے کو کہا گیا.. ایک بچے نے لکھا "امّی ماتت ومات معھا کل شئی"
اس جملے کا ترجمہ ہے
"میری ماں مرگئی اور اس کے ساتھ سب کچھ مر گیا".
*ماں*😭😭😭
ناقابل یقین پی آئی اے🇵🇰🌈
‘مالٹا کا رقبہ صرف 315 مربع کلومیٹر اور آبادی چار لاکھ 29 ہزار ہے
یوں یہ یورپ کے مختصر لیکن خوبصورت ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے‘
یہ ملک یورپ میں ہونے کے باوجود پاکستان کے ساتھ ایک دلچسپ رشتے میں بندھاہوا ہے‘ یہ رشتہ آپ کو بھی حیران کر دے گا‘
مالٹا نے 1971ء میں اپنی ائیر لائین بنانے کا فیصلہ کیا‘ البرٹ میزی کو منصوبے کا چیئرمین بنایا گیا‘ میزی نے سول ایوی ایشن اور ائیر لائین تشکیل دینی تھی‘ انٹرنیشنل ٹینڈر ہوا۔
ہماری پی آئی اے ایشیا کی سب سے بڑی اور کامیاب ائیر لائین تھی‘ پی آئی اے نے ٹینڈر بھر دیا‘
مالٹا کو یورپ‘ مشرق بعید اور امریکا کی کمپنیوں کی طرف سے بھی کاغذات موصول ہوئے تھے
*بورڈ نے پڑتال کی امریکا یورپ اور مشرق بعید کے ٹینڈرز مسترد کیے اور پی آئی اے کو سلیکٹ کر لیا‘*
پی آئی اے نے مالٹا کے ساتھ ائیر لائین پارٹنر شپ کی اور صرف ایک سال میں ائیر مالٹا کے نام سے یورپ میں ایک شاندار ائیر لائین کھڑی کر دی‘
*ائیر مالٹا 31مارچ 1973ء کو بنی اور پی آئی اے نے یکم اپریل 1974ء کو اس کا پہلا طیارہ ٹیک آف کرا دیا۔*
پاکستانی ماہرین نے اس ایک برس میں مالٹا کی سول ایوی ایشن بنائی‘ ائیرپورٹس کو یورپین look دی اور ائیر لائین کو بھی آپریشنل کر دیا
آج ائیر مالٹا یورپ کی کامیاب اور منافع بخش ائیر لائینز میں شامل ہے یہ یورپ افریقہ اور امریکا کو بھی cover کرتی ہے اور اس کی فلائیٹس مشرق بعید بھی جاتی ہیں‘
*ائیر مالٹا کو 43 برس ہو چکے ہیں‘ مالٹا کے لوگوں نے ان 43 برسوں میں پی آئی اے کا احسان یاد رکھا‘*
مالٹا دنیا کا واحد ملک ہے جس نے پی آئی اے کو اپنے تعلیمی سیلیبس میں شامل کر رکھا ہے
*یہ لوگ آج بھی ساتویں جماعت کے بچوں کو پی آئی اے کی مہربانی پڑھاتے ہیں اور مالٹا کے بچے پی آئی اے پر مضمون لکھ کر آٹھویں جماعت میں جاتے ہیں، یہ اس زمانے کی بات ہے جب پی آئی اے نے پوری دنیا کو حیران کردیا تھا ہماری قومی ائیر لائین نے اس گولڈن دور میں بے شمار کمالات کیے اس نے ائیر مالٹا کی طرح سنگا پور ائیر لائین بنائی‘ کوریا کو سول ایوی ایشن اور ائیر لائین بنانے میں مدد دی‘ ملائشین ائیر لائین بنائی اور ایمریٹس کی بنیاد رکھی‘ اور اسطرح یہ مختلف ائیر لائنز کی ماں کہلاتی ھے لیکن یہ بات آج کے زمانے میں شیخی محسوس ہوتی ہے کہ ہم نے ایمریٹس کو کرائے پر جہاز بھی دیے تھے اور پائلٹ اور ائیر ہوسٹس بھی‘ ہم نے دنیا کی پانچ بڑی ائیر لائینز کے عملے کو ٹریننگ بھی دی تھی‘ آپ کو یہ بات بھی عجیب لگے گی کراچی کبھی ایشیا کا دروازہ ہوتا تھا ایشیا کے 80 فیصد مسافر کراچی سے ہو کر یورپ‘ افریقہ اور امریکا جاتے تھے اور یورپ‘ افریقہ اور امریکا کے مسافر بھی ایشیا میں داخل ہونے سے پہلے کراچی میں اترتے تھے اور پھر جمہوریت بہترین انتقام بن کر اپنے ہی اداروں کو ڈسنے لگی ۔۔
19/01/2022
فلسطین کے ایک سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نیا جوتا ملے گا۔ ٹیسٹ ہوا سب نے یکساں نمبر حاصل کیے اب ایک جوڑا سب کو دینا نا ممکن تھا اس لیے استانی نے کہا کہ چلیں قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا بھی نام نکل آیا اس کو یہ نیا جوتا دیں گے اور قرعہ اندازی کے لیے سب کو کاغذ پر اپنا نام لکھنے اور ڈبے میں ڈالنے کو کہا گیا۔
استانی نے ڈبے میں موجود کاغذ کے ٹکڑوں کو مکس کیا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجاۓ اور پھر سب کے سامنے ایک ٹکڑا اٹھایا جونہی کھلا تو اس پر لکھا تھا وفا عبد الکریم سب نے تالیاں بجائیں وہ اشکبار آنکھوں سے اٹھی اور اپنا انعام وصول کیا۔ کیونکہ وہ پھٹے پرانے کپڑوں اور جوتے سے تنگ آچکی تھی۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور ماں لاچار تھی اس لیے جوتوں کا یہ انعام اس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔
جب استانی گھر گئی تو روتی ہوئی یہ کہانی اپنے شوہر کو سنائی جس پر شوہر نے خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی بیوی کے رونے کی وجہ دریافت کی تو استانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ مجھے رونا وفا عبد الکریم کے جوتوں سے زیادہ دیگر بچوں کے احساس اور اپنی بے حسی پر آتا ہے۔ جب میں نے ڈبے میں موجود دیگر کاغذ کے ٹکڑوں کو چیک کیا تو سب نے ایک ہی نام لکھ دیا تھا “وفا عبد الکریم” ان بچوں کو وفا عبد الکریم کے چہرے پر موجود لاچاری کا درد اور کرب محسوس ہوتا تھا لیکن ہمیں نہیں ہوا جس کا مجھے افسوس ہے۔
میرے ایک استاد بتایا کرتے تھے کہ بچوں کے اندر احساس پیدا کرنا اور عملاً سخاوت کا درس دینا سب سے بہترین تربیت ہے۔ ہمارے کئی اسلاف کے بارے میں کتابوں میں موجود ہے کہ وہ خیرات، صدقات اور زکوة اپنے ہاتھوں سے نہیں دیتے بلکہ بچوں کو دے کر ان سے تقسیم کرواتے تھے جب پوچھا گیا تو یہی وجہ بتائی کہ اس سے بچوں کے اندر بچپن سے انفاق کی صفت اور غریبوں و لاچاروں کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
Copied