راہِ ہدایت

راہِ ہدایت Everything is gonna be okay �! Stay humble �! Treat people with kindness �!

دولت کمانا اور اسے برقرار رکھنا دو بالکل مختلف صلاحیتیں ہیں۔امیر ہونے کے لیے انسان کو محنت، ہمت اور مناسب رسک لینے کی ضر...
19/08/2026

دولت کمانا اور اسے برقرار رکھنا دو بالکل مختلف صلاحیتیں ہیں۔
امیر ہونے کے لیے انسان کو محنت، ہمت اور مناسب رسک لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نئے مواقع تلاش کرنا، فیصلے کرنا اور ناکامی کے خوف کے باوجود آگے بڑھنا دولت بنانے میں مدد دیتا ہے۔
لیکن امیر رہنے کے لیے صرف پیسہ کمانا کافی نہیں۔ اس کے لیے عاجزی، سمجھ داری، نظم و ضبط اور مستقبل کا احساس ضروری ہے۔ انسان کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ آج کی دولت، مقام اور کامیابی ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ حالات بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔
اس لیے دولت ملنے کے بعد غرور کے بجائے شکر، فضول خرچی کے بجائے احتیاط، اور خود پسندی کے بجائے عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔
اصل امیری صرف زیادہ پیسہ رکھنا نہیں، بلکہ اس پیسے کے ساتھ عاجزی، خوفِ خدا اور سمجھ داری کو برقرار رکھنا ہے۔

اس میں انسان کے مال و دولت اور خرچ کرنے کے انداز کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے:"کھا لیا تو فنا"جو مال صرف اپن...
19/08/2026

اس میں انسان کے مال و دولت اور خرچ کرنے کے انداز کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے:
"کھا لیا تو فنا"
جو مال صرف اپنی ذات کی خواہشات اور کھانے پینے میں خرچ کر دیا، وہ ختم ہو گیا۔ اس کا فائدہ عارضی ہے۔
"کھلا دیا تو بقا"
جو رزق دوسروں کو کھلانے اور مہمان نوازی میں خرچ کیا، اس کی یاد، محبت اور اجر باقی رہتا ہے۔
"نفس کو دیا تو قضا"
اگر مال صرف نفس کی خواہشات، عیش و عشرت اور فضول خرچی میں لگا دیا تو انسان اپنی اصل منزل اور آخرت کو بھول سکتا ہے۔
"رب کو دیا تو ادا"
اور جو مال اللہ کی رضا کے لیے صدقہ، خیرات، زکوٰۃ اور نیکی کے کاموں میں خرچ کیا، وہ حقیقت میں ضائع نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے ہاں اجر بن کر محفوظ ہو جاتا ہے۔
خلاصہ:
انسان کے پاس مال عارضی ہے، لیکن وہ مال جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، آخرت کے لیے سرمایہ بن جاتا ہے۔ اصل کامیابی مال جمع کرنے میں نہیں بلکہ اسے صحیح جگہ خرچ کرنے میں ہے۔

اس دعا میں اولاد کی طرف سے والدین کے لیے محبت، شکرگزاری، خیرخواہی اور اللہ سے عاجزی کے ساتھ دعا کا خوبصورت اظہار ہے۔اس ک...
18/08/2026

اس دعا میں اولاد کی طرف سے والدین کے لیے محبت، شکرگزاری، خیرخواہی اور اللہ سے عاجزی کے ساتھ دعا کا خوبصورت اظہار ہے۔
اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے والدین کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت طلب کرے، ان کی زندگی میں برکت، صحت، عافیت اور خوشیاں مانگے، ان کی مشکلات اور پریشانیاں دور ہونے کی دعا کرے۔ والدین اگر حیات ہیں تو ان کی حفاظت، آسانی اور اللہ کی رضا کی دعا کی جائے، اور اگر وہ وفات پا چکے ہیں تو ان کے لیے مغفرت، قبر کی روشنی، سکون اور راحت مانگی جائے۔
والدین ہماری زندگی میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ انہوں نے ہماری پرورش، تربیت اور راحت کے لیے اپنی بہت سی خواہشات قربان کیں۔ اس لیے ان کے لیے دعا کرنا صرف محبت کا اظہار نہیں بلکہ ان کے احسانات کو یاد کرنے کا بھی ایک خوبصورت طریقہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے زندہ والدین کو صحت و عافیت، خوشی اور لمبی نیک زندگی عطا فرمائے، اور جو والدین اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کی مغفرت فرما کر ان کی قبروں کو نور و سکون سے بھر دے۔ آمین یا رب العالمین۔

والدین اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی بہت بڑی نعمت ہیں۔ ان کی خدمت، اطاعت اور دلجوئی انسان کے لیے دنیا میں بھی سکون او...
18/08/2026

والدین اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی بہت بڑی نعمت ہیں۔ ان کی خدمت، اطاعت اور دلجوئی انسان کے لیے دنیا میں بھی سکون اور آخرت میں بھی اجر و ثواب کا ذریعہ بنتی ہے۔ والدین اپنی اولاد کی پرورش، تعلیم، حفاظت اور خوشی کے لیے بے شمار قربانیاں دیتے ہیں، اس لیے ان کے بڑھاپے میں ان کا سہارا بننا ہماری ذمہ داری ہے۔
والدین کی خدمت صرف مالی مدد تک محدود نہیں، بلکہ ان سے نرمی سے بات کرنا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، ان کے آرام کا سبب بننا اور ان کے لیے دعا کرنا بھی خدمت ہے۔ جس شخص کو والدین کی خدمت کا موقع مل جائے، اسے اسے بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ سعادت سمجھنا چاہیے۔

اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو وقتاً فوقتاً اپنے ضمیر کا احتساب ضرور کرنا چاہیے۔ دنیا کی عدالت میں انسان اپنے حق میں ...
17/08/2026

اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو وقتاً فوقتاً اپنے ضمیر کا احتساب ضرور کرنا چاہیے۔ دنیا کی عدالت میں انسان اپنے حق میں دلائل دے سکتا ہے، دوسروں کو قائل کر سکتا ہے یا اپنی غلطیوں پر پردہ ڈال سکتا ہے، لیکن ضمیر کی عدالت میں انسان خود اپنے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
ضمیر ہمیں بتاتا ہے کہ کہاں ہم نے کسی کے ساتھ ناانصافی کی، کہاں کسی کا دل دکھایا، کہاں حق چھپایا اور کہاں اپنے مفاد کے لیے غلط راستہ اختیار کیا۔ اس عدالت کا فیصلہ عموماً اس لیے سچا ہوتا ہے کہ وہاں نہ جھوٹ کی گنجائش ہوتی ہے، نہ دکھاوے کی اور نہ دوسروں کو دھوکا دینے کی۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیاں تلاش کرنے سے پہلے اپنے اندر جھانکیں، اپنی اصلاح کریں اور اپنے ضمیر کو مطمئن رکھیں۔ کیونکہ حقیقی سکون تب ملتا ہے جب انسان لوگوں کی نظروں میں نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی نظر میں بھی سرخرو ہو۔

اس قول میں انسان کی لالچ، ضرورت اور خواہشات کی بے انتہا وسعت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دنیا کی دوسری مخلوقات اپنی فطری ضر...
17/08/2026

اس قول میں انسان کی لالچ، ضرورت اور خواہشات کی بے انتہا وسعت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دنیا کی دوسری مخلوقات اپنی فطری ضرورت کے مطابق رزق حاصل کرتی ہیں؛ انہیں جتنا چاہیے، اتنا مل جائے تو وہ مطمئن ہو جاتی ہیں۔ مگر انسان کی خواہش صرف پیٹ بھرنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ دولت، آسائش، مقام اور زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔
انسان کا مسئلہ یہ نہیں کہ اسے رزق نہیں ملتا، بلکہ اکثر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ قناعت کم اور خواہش زیادہ ہوتی ہے۔ ایک ضرورت پوری ہوتی ہے تو دوسری خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ آج جو چیز نعمت لگتی ہے، کل وہ معمول بن جاتی ہے اور انسان مزید کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔
اس بات کا اصل سبق یہ ہے کہ پیسہ کمانا برا نہیں، لیکن پیسے کا غلام بن جانا نقصان دہ ہے۔ حلال رزق کمائیں، محنت کریں، اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کریں، مگر ساتھ قناعت، شکر اور آخرت کو نہ بھولیں۔ کیونکہ حقیقی امیری زیادہ مال رکھنے میں نہیں، بلکہ دل کے مطمئن ہونے میں ہے۔

Address

IKK Camp
Jeddah
22230

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Saturday 9am - 5pm
Sunday 9am - 5pm

Telephone

+966591631786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when راہِ ہدایت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to راہِ ہدایت:

Shortcuts

Share

Category