کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
محترمہ پروین شاکر
Luqman Saddiqee
آپ جو ہیں جیسے ہیں اگر میرے ساتھ اچھے ہیں تو آپ کا مخلص ورنہ آپ کا خیر خواہ
آزمائش قسط نمبر 03
سن خوشخبری ہے چار ہزار ڈالر سیلری ہے تجھے جاب مل گئی، شکریہ انس تم جانتے نہیں تم نے مجھے جینے کی وجہ دے دی اچھا اب اتنا بھی خوش نا ہو میں آتا ہوں تو ڈنر ساتھ کرتے ہیں سیلیبریٹ کرتے ہیں اس موقع کو.....
ریسیور رکھ کر کرشن بیڈ روم کی طرف چل دیا ابھی تکیہ پر سر رکھ کر موبائل سکرین آن کی تھی بمشکل چار پوسٹیں سکرول کی ہوں گی کہ سامنے سے ایک تصویر گزری پرینکا ہاں پرینکا کو کیسے کرشن بھول سکتا تھا کرشن تصویر دیکھ کر حیران ہو رہا تھا پرینکا نے اپنے بیٹے کی تصویر لگائی ہوئی تھی اس کا بیٹا تین سال کا ہو چکا تھا، کرشن کی آنکھ لگی اور خواب میں وہی تمام منظر فلم کی طرح چلنے لگے....
پرینکا کرشن کے تایا کی بیٹی تھی گاؤں میں دونوں کا بچپن ساتھ گزرا سکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی پتا ہی نہیں چلا کیسے وقت گزر گیا دونوں اچھے دوست تھے، یہ دوستی کب محبت میں بدل گئی علم تک نا ہوا....
لہلہاتے کھیتوں میں دسمبر کی دھند چھائی ہوئی تھی منھ سویرے ٹیوب ویل پر کرشن آیا ہوا تھا اسے معلوم تھا پرینکا پانی بھرنے آئے گی، پرینکا کو دور سے دیکھ کر کرشن نے کہا ہائے آج کا دن بن گیا واؤ نائس امیزنگ
پرینکا ہنسنے لگی میرے مجنوں کبھی تو انسان بن جایا کرو کل یونیورسٹی میں بھی ایسے گھور رہے تھے یہ تو شکر ہے پروفیسر نے نہیں دیکھا ورنہ دونوں کو باہر نکال پھینکتے مگر پرینکا کب تک ہم ایسے چھپ کر ملتے رہیں گے...
تو کس نے چھپ کر ملنے کا کہا ہے تایا اور تائی کو بھیجو نا ہمارے گھر رشتہ لے کر آئیں..
ہاں میں کل ہی مام ڈیڈ کو بھیجتا ہوں
کرشن نے گھر آ کر بتایا تو ڈیڈ نے کہا بیٹا تمہاری تائی کا بھائی مجھے اپنا دشمن سمجھتا ہے یہ نا ممکن ہے تمہاری تائی کبھی رشتہ نہیں ہونے دے گی تم اپنی خالہ کی بیٹی سے شادی کر لو نا... نہیں پیتا جی اگر شادی کرو گا تو صرف پرینکا سے کروں گا......
اگلے دن صبح سویرے کرشن کے پیتا جی اور ماں پرینکا کے گھر پہنچ گئے رسمی گفتگو کے بعد کرشن کے پیتا جی نے پرینکا کی بات کی تو کرشن کی تائی نے قیامت ڈھا دی پرینکا کے پیتا جی کہتے رہے تم اپنی بیٹی سے تو پوچھ مگر اس نے ایک نا سنی....
پرینکا کی ماں نے پرینکا کا یونیورسٹی جانا بند کر دیا کرشن اور پرینکا جن کی روزانہ ملاقات ہو جاتی تھی اس سے بھی جاتے رہے.....
بڑی مشکل سے پرینکا نے ایک سیل فون چھپا کر رکھا تھا کرشن سے دن میں ایک آدھ بار میسج پر بات ہو جاتی دونوں نے جب دیکھا گھر والوں کی مرضی سے شادی نا ممکن ہے دونوں نے کورٹ میرج کرنے کا فیصلہ کیا..
صبح ساڑھے پانچ بجے گھر سے بھاگنے کا پروگرام طے ہوا.... ابھی صبح کی سفیدی پھوٹ رہی تھی مندر سے گھنٹیوں کی آواز آ رہی تھی پرینکا نے چادر لی ضرورت کا سامان اٹھایا اور دروازہ کی طرف بڑھنے لگی اس دوران ماں باپ بہن بھائیوں کی اسے سوچ آئی مگر پرینکا پر تو محبت کا بھوت سوار تھا وہ تمام جزبات کو پیروں تلے روند کر دروازہ سے باہر نکل گئی دونوں نے کورٹ میرج کر لی جیسے ہی پرینکا کے گھر پتا چلا ایک قیامت کا سما تھا پرینکا کے بھائیوں نے اپنے تایا تائی اور کرشن کے بھائیوں کو مار دیا پورے گاؤں میں ماتم کا سما تھا پولیس پرینکا کے بھائیوں کو ڈھونڈ رہی تھی جب کرشن کو پتا چلا تو اس پر سکتہ طاری ہو گئی وہ اپنی ماں اپنے باپ کو آگ دینے بھی نا جا سکا...........
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
64130