29/12/2020
*STEM COMPETITION*
♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️
page is created only for funny cartoonish content
29/12/2020
*STEM COMPETITION*
♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️
کرونا ویکسین کے فوائد ' اثرات اور شکوک و شبہات
آج جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو میرے جسم میں ویکسین لگے چوبیس گھنٹے ہو چکے ہیں جس کے بارے میں طرح طرح کی سازشی تھیوریاں، ابہام، غیر منطقی اور سنی سنائی باتیں عام گردش کر رہی ہیں - لیکن خدا بھلا کرے ان ہزاروں لوگوں کا جو ویکسین لگوا کر اپنی تصویریں سوشل میڈیا پر لگا رہے ہیں تا کہ کسی ایک بھی جان کو ان وسوسوں اور سازشی نظریوں سے بچا یا جا سکے جو بذات خود کرونا سے بھی زیادہ مہلک اور پولیو سے بھی زیادہ اپاہج کرنے والے ہیں ———-آج میری اس تحریر کا مقصد کرونا ویکسین کے بارے میں عام زبان میں وہ سب معلومات لکھنا ہے جو کسی ڈاکٹر یا سائنسدان کے علاوہ عام عوام کیلئے سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے -اپنی اس تحریر میں میں کوشش کرونگا کہ اس تمام جھوٹے پروپیگنڈے کا سائنسی اور منطقی جواب لکھوں جس کی وجہ سے میرے دیس میں آج بھی بچے پولیو سے اپاہج ہو جاتے ہیں اورکرونا کی وجہ سے سانس لیتے پھیپھڑے سکڑ جاتے ہیں - تحریر طویل ہے لیکن سازشی نظریے بھی بہت گھمبیر ہیں - مجھے یقین ہے پوری تحریر پڑھنے کے بعد کوئی بھی منطقی ذہن ابہام کا شکار نہیں رہے گا - جس علم کو مجھے سیکھنے میں پندرہ سال لگے آپ کو کم سے کم پندرہ منٹ تو لگانے پڑینگے - چلیے - آیے میرے ساتھ - زندگی پھیلاتے ہیں -
#ویکسین کیا ہوتی ہے ؟
ویکسین کو سمجھنے کیلئے آپ کو پہلے وائرس کو سمجھنا ہوگا - کرونا وائرس کے جسم کے دو بڑے حصے ہیں - ایک بیرونی خ*ل جس کو "سپایک پروٹین " کہتے ہیں ' جس کے ذریعے یہ جسم کے خلیوں سے جڑتا ہے اور دوسرا اس خ*ل کے اندر موجود وہ ذرہ ہے جو خلیے میں داخل ہو کر انفیکشن پھیلاتا ہے- اس تحریر میں ہم اس کو "خطرناک ذرہ" بلائینگے - "سپایک پروٹین" کا خ*ل خلیوں سے جڑ جاتا ہے اور ایسا راستہ بناتا ہے کہ اس خ*ل کے اندر موجود "خطرناک ذرہ" خلیوں میں داخل ہوجاۓ - قدرت نے انسانی جسم کو یہ صلاحیت دے رکھی ہے کہ وہ اس پروٹین خ*ل کو ڈیٹکٹ کر لیتا ہے اور الارم بجادیتا ہے جسکی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام ایکٹو ہوجاتا ہے اور اس نظام کے وہ خلیے جن کو " سفید خلیے " کہتے ہیں جو جسم کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں وہ اینٹی باڈی بنا کر اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں -- لیکن بدقسمتی سے جب تک اینٹی باڈی وافر مقدار میں بن پاتی ہے وہ خطرناک ذرہ جو خ*ل کے اندر تھا وہ خلیوں میں داخل ہو کر تباہی پھیلانا شروع کر دیتا ہے - اب اگر انسان اس تباہی سے بچ کر صحتیاب ہوجاے تو وہ اینٹی باڈی لمبے عرصے تک خون میں موجود رہتی ہیں اور ہمیں مستقبل کے انفیکشن سے بچاتی ہیں - اور اسی کو " پلازمہ " کہتے ہیں - - جی ! صحیح سمجھے - یہ ووہی پلازمہ ہے جس کو اپنے بیمار مریض کی جان بچانے کیلئے ہم لاکھوں روپوں میں ان لوگوں سے خریدنے پر رضامند ہوجاتے ہیں جو کرونا سے صحت مند ہو چکے ہیں ------ یہ پڑھ کر ذہن میں خیال آتا ہے کہ کاش ایسا کوئی طریقہ ہوتا کہ جسم میں وہ خطرناک ذرہ نہ داخل ہوتا جو نقصان پہنچاتا ہے بس "پروٹین والا خ*ل ہی داخل ہوتا جس کو بھانپ کر جسم اینٹی باڈی بنانے والا الارم بجا دیتا' اور جسم میں اینٹی باڈی پیدا ہوجاتی جو مستقبل میں بھی ہمیں پلازما کی طرح انفیکشن سے بچاتی رہتیں---- کیا ایسا کوئی طریقہ ہے ؟
جی ہاں - اسی طریقے کو "ویکسین" کہتے ہیں - گویا جنگ سے قبل فوجیوں کی جنگی مشق کروائی جاتی ہے- دشمن کا نقلی پتلا رکھا جاتا ہے لیکن بندوق میں گولیاں اصلی ہوتی ہیں جو اس پتلے پر پریکٹس کرتی ہیں - جب کبھی بعد میں اصل دشمن حملہ آور ہو تو بندوقیں اس مشق کی وجہ سے لوڈڈ رہتی ہیں - ---اسی طرح ویکسین میں بھی وائرس کے ہی ایک حصے کو پروسیس کر کہ اس طرح چھنی کیا جاتا ہے کہ وہ "خطرناک ذرہ " یعنی اصل دشمن شامل نہیں ہوتا - بس وہ پروٹین والا خ*ل یعنی دشمن کا پتلا ہی جسم کے میدان جنگ میں داخل کیا جاتا ہے جس کو دیکھتے ہی جسم "اینٹی باڈی " کی گولیاں بندوق میں لوڈکرنے کی مشق کرنے لگتا ہے - اور جب کبھی بعد میں اصل دشمن یعنی کرونا وائرس حملہ کرتا ہے تو جسم کی فوج تیار رہتی ہے اور یہ حملہ ناکام ہوجاتا ہے -
اس پروٹین والے "خ*ل" کو بنانے کے مختلف طریقے ہیں - کبھی بنے بنایے"پروٹین خ*ل " کو بغیر خطرناک ذرے کے جسم میں داخل کردیا جاتا ہے جو کہ عام طریقہ ہے اور کبھی اس پروٹین بنانے والے خ*ل کے اجزاء یعنی ایم آر این اے (mRNA ) کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے - تحریر میں ہم اس کو " مفید ذرہ " کہیں گے - یہ مفید ذرہ یعنی "ایم آر این اے (mRNA )" خلیے میں داخل ہو کر وہ خ*ل والی پروٹین بناتا ہے جس کو ڈیٹیکٹ کر کے جسم اینٹی باڈی پیداکرتا ہے- --آپ سب نے ڈائٹ (شوگر فری ) مٹھائی تو کھائی ہوگی جو شوگر کے مریض استعمال کرتے ہیں - اس مٹھائی میں چینی کو پروسیس کر کہ اس طرح کے اجزا ڈالے جاتے ہیں کہ کھانے کے بعد میٹھا تو محسوس ہوتا ہے لیکن جسم شوگر کے نقصان سے محفوظ رہتا ہے - اسی طرح ویکیسن بھی وائرس کے ہی حصے " ایم آر این اے (mRNA ) کو پروسیس کر کہ اس طرح سے بنائی جاتی ہے کہ جسم میں جاتے ہی جسم میں اینٹی باڈی تو پیدا ہوجاتی ہے لیکن جسم وائرس کے نقصان سے محفوظ رہتا ہے -
لیجیے - کلاس ختم ہوئی - اب تک آپ مرے ساتھ ہیں ؟ اب آتے ہیں سازشی تھیوریوں کی طرف - اوپر بتائی گیی پروسیسنگ کو ذہن میں رکھیے - میں نہ صرف ہر سازشی تھیوری کا منطقی جواب دونگا بلکہ آپ کو کچھ میڈیکل بھی پڑھانے کی کوشش کرونگا -
١. پہلی سازشی تھیوری : کرونا وائرس کی ویکسین میں ایسا ذرہ ڈالا گیا ہے جو جسم میں ڈی این اے میں داخل ہوگا اور اس کو اس طرح سے بدل دیگا کہ ہمارا ڈی این اے کسی جانور کا ڈی این اے بن جائیگا اور ہمیں مذھب اور محرم نامحرم رشتوں کی پہچان نہیں رہیگی ؟
خلیے میں کسی چیز کو بدلنے کیلئے اس تک رسائی لازمی ہوتی ہے - ایک مثال سے سمجھاتا ہوں - ہر ایر پورٹ پر ایک کنٹرول ٹاور ہوتا ہے جو رن وے پر اترنے والی اور اڑنے والی ہر پرواز کو کنٹرول کرتا ہے - لیکن کوئی بھی مسافر حتی کہ ائر پورٹ کا بھی کوئی غیر متعلقہ بندہ اس کنٹرول ٹاور میں داخل نہیں ہوپاتا پھر بھی مسافر کا سارا کام رن وے اور ایر پورٹ پر جاری رہتا ہے - - اسی طرح ہمارے خلیے کے درمیان میں ایک سخت جھلی والا نیوکلیس (بیضہ) ہوتا ہے جس کے اندر ڈی این اے موجود ہوتا ہے جو ہمارے جسم میں موجود ہر چیز کا مرکزی کنٹرول سینٹر ہوتا ہے - قدرت نے اس کے گرد ایسی جھلی بنائی ہے کہ خلیے کے اپنے اجزا بھی اکثر اس جھلی کو کراس نہیں کرسکتے - اسی طرح کورونا ویکسین میں پروٹین بنانے والا مفید "ذرہ "ایم آر این اے " (جس کا میں نے دوسرے پیرا گراف میں ذکر کیا ) شامل ہے وہ بھی خلیے کے اندر کی اس جھلی کو کراس کرکہ ڈی این اے تک رسائی نہیں حاصل کرسکتا - خلیے میں نیوکلیس کے باہر ہی ایک حصے جس کو " رائبو سوم " کہتے ہیں ' میں ہی اینٹی باڈی کی پروڈکشن ہوجاتی ہے - اس لیے یہ بات کہ کرونا ویکسین "ڈی این اے" میں جا کر فِٹ ہو جائے گی جھوٹ اور جہالت کا مرکب ہے - اگر ایسا ہوتا تو تمیز اور تھذیب تو بعد میں جاتی پہلے جان چلی جاتی کیوں کہ ڈی این اے انسان کے جسم میں موجود ہر چیز کا مرکزی یونٹ ہے۔ اس میں معمولی تبدیلی کرنے سے بھی کئی دفعہ کینسر اور مہلک جینیاتی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں جو زندگی کے ساتھ مطابقت رکھ ہی نہیں سکتی۔ - آج اگر دنیا میں اب تک ایک کروڑ کے قریب افراد ویکسین لگوا چکے ہیں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اتنی جانوں کو یوں ختم کرنے کی سازش چل رہی ہوتی اورآپ اور میں مزے سے یہ تحریر پڑھ رہے ہوتے اور ہیومن رائٹس کی تنظیمیں ستو پی کر سو رہی ہوتیں - - آپ میں سے بہت سے لوگوں نے " ہیپا ٹائٹس - بی اور فلو " کی ویکسین لگوائی ہوگی - کیا کبھی ان کی وجہ سےمحرم نہ محرم کا فرق ختم ہوا ؟ یا ماں باپ کے نہ فرمان ہویے ؟ اللہ نہ کرے اگر ایسا ہوا ہے تو یہ آپ کی اپنی ذلالت ہے ویکسین کا قصور نہیں - ----- بتانا یہ مقصود ہے کہ محرم رشتوں کا تقدس، مذہب کی طرف میلان وغیرہ طبعی عوامل سے زیادہ شعوری رویے ہیں، یعنی کسی کا ڈی این اے تبدیل کر بھی دیں تو آپ اس انسان کو مارنے کا بندوبست تو کر سکتے ہیں لیکن اس میں یوں مخصوص شعوری تبدیلیاں برپا نہیں کر سکتے - اور یہاں ڈی این اے تبدیلی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں - سو یہ نافرمانی کا چورن نہ بیچیں -
٢. دوسری سازشی تھیوری : اس ویکسین کے اجزا میں سور کا گوشت یا انسانی فیٹس کی چربی شامل ہے ؟
ایسی ہی تھیوری پولیو کے قطروں کے بارے میں آئ اور نہ جانے کتنی ٹانگیں سوکھا کر گئی - اس ویکسین میں "پولی ایتھیلن گلایکول" کی ایک کوٹنگ شامل ہے جو اس کے "مفید ذرے " یعنی "ایم ار این اے" (mRNA ) کو بحفاظت انسانی خون سے انسانی خلیوں میں پہنچانے کا کام کرتی ہے - خدا کیلئے گوگل کرلیں - کہ "پولی ایتھیلن گلایکول" کیا ہوتا ہے - یہ محض ایک کیمکل ہوتا ہے اور اس جیسے اجزاء ہماری بہت سی روز مراه کی ادویات کا عام جز ہیں اور سب سے عام دوائی جس میں ایسے جز استعمال ہوتے ہیں "انسولین " ہے تا کہ انسولین کا کام کرنے کا دورانیہ بڑھ سکے اور وہ اپنے ٹارگٹ پر پہنچنے سے پہلے جسم کے اندر کیمکلز سے تباہ نہ ہوجاۓ - -- یہ محض ایسے ہے جیسے سردی میں آپ جیکٹ پہن کر کہی جاتے ہیں تا کہ منزل مقصود پر پہنچتے پہنچتے سردی سے جم نہ جائیں اور خیریت سے گھر پہنچ جائیں - اسی طرح لیب میں تیار کردہ اس مفید ذرے mRNA کے گرد ایک قدرتی اجزاء سے مماثل خ*ل چڑھایا جاتا ہے تا کہ یہ جسم کی سردی گرمی سے متاثر نہ ہو اورمتعلقہ خلیوں میں پہنچ کر اپنا کام کر سکے۔- جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں کہ ویکسین میں وائرس کا ہی حصہ (ایم آر این اے جسے ہم نے "مفید ذرہ " کہا ) ڈالا جاتا ہے جو اینٹی باڈی بناتا ہے - اور اس وائرس کا نام "کرونا" ہے "سور یا بندر یا فیٹس " نہیں -- سو ویکسین میں " بندر سور " کی چربی شامل ہونا یا ان کا "ڈی این اے " شامل ہونا انتہائی مضحکہ خیز بات ہے-
٣. تیسری سازشی تھیوری : عموماً ویکسین بننے میں کئی سال لگ جایا کرتے ہیں، یہ ویکسین اتنی جلدی کیسے بن گئی ؟ الہ دین کا چراغ ؟
یہ بات حقیقت ہے کہ آج تک ایک سال سے کم کے عرصے میں کبھی ویکسین نہی بنی تھی - لیکن کیا آج تک کبھی پورا کا پورا کمپیوٹر بھی ایک چھوٹے سے موبائل فون میں سمایا تھا ؟ آج تک کبھی ایسا ہوا تھا کہ امریکا میں بیٹھ کر ایک ویڈیو کال پر اپنوں سے بات کی جاسکے ؟ بتانا یہ مقصود ہے کہ انسان مسلسل ارتقاء کی منزلوں کا مسافر رہا ہے - ہر صدی پچھلی صدی سے زیادہ ترقی یافتہ اور ہر دھائی گزشتہ دہائی سے زیادہ تیز اور جدید ثابت ہوئی ہے - ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے - 1920 میں" سپانش فلو " کی عالمی وباء آئ تو انسان نے "فلو ویکسین " بنا لی - اسی طرح یہ ترقی ویکسین ٹیکنالوجی میں بھی ہوئی ہے - ایم آر این اے ویکسین پر ریسرچ 1995 سے چل رہی ہے - 2005 میں اس میں بہت تیزی آئ - ماضی میں "فلو ، ریبیز اور زیکا" وائرس جیسے انفیکشن میں بھی اس طرز کی ویکسین کا جانوروں پر کامیاب تجربہ بھی کیا گیا - اب جب کرونا کی عالمی وباء نے آٹھ کروڑ سے زیادہ لوگوں کو گھٹنوں کے بل کرڈالا تو انسان کی ضرورت نے پھر اس ٹیکنالوجی کو دوام بخشا ---۔ اسی سال جنوری میں چینی سائنسدانوں نے وائرس کا ڈی این اے کوڈ دریافت کر کے آدھا کام پہلے ہی کر دیا تھا- بجائے اصل وائرس استعمال میں لانے کے (جو کہ پرانا طریقہ تھا ) سائنسدانوں نے وائرس کا یہی کوڈ پڑھ کر اس کے کچھ اجزاء یعنی وائرس کا مفید ذرہ "mRNA مصنوعی طور پر لیب میں بنا ڈالا- اور پھر یہی جانوروں پر ٹیسٹ کر کے اس کی سیفٹی بارے تسلی کر کے تین مراحل (١. سیفٹی ٢. افادیت اور ٣. ڈوزینگ ) سے گزر کرانسانوں کے لیے منظورکیا گیا۔ اس لئے اس کا ایک سال میں بن جانا ہر گز اس امر کی توجیح نہیں ہوسکتی کہ یہ کوئی سازش ہے - اگر ایسا ہے تو اس وقت اپ کے ہاتھ میں موجود موبائل فون سب سے بڑی سازش ہے -
٤.چوتھا سازشی نظریہ : کرونا ویکسین کے ذریعے چپ جسم میں داخل کر کے ہمارے ذہن کو کنٹرول کیا جائیگا کیوں کہ "ڈاکٹر " بل گیٹس نے ایسا کہا ہے -
ویکسین پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کی اپنی کیمپین کی وجہ سے بل گیٹس ہمیشہ سازشی نظریوں کا سامنا کرتا آرہا ہے - جس طرح عربی خبریں سن کر ایک پاکستانی کو یہ نہیں سمجھ آسکتی کہ آج جدہ میں یا شارجہ میں کیا ہوا تھا اسی طرح "انگریزی زبان سمجھے بغیر اور سائنسی زبان جانے بغیر ہمیں مائیکرو چپ والی "کوانٹم ڈاٹس تھیوری " والی بات کہاں سمجھ آئیگی جس پر بل گیٹس بچوں کی صحت عامہ کیلئے پیسے ڈونیٹ کر رہا ہے - جہاں ہم "مائکرو چپ " سنتے ہیں وہاں ہم طوفان برپا کر دیتے ہیں - میں حیران ہوں کہ یہی لوگ جب ہارٹ اٹیک ہوتا ہے تو اینجیو گرافی کروا کر جسم میں "میٹل سٹینٹ " کیسے ڈلوا لیتے ہیں یا دل میں "دھاتی پیس میکر " پر آمادہ کیسے ہوجاتے ہیں - جس "کوانٹم ڈاٹ " پروجیکٹ کو لوگ "دماغ میں چپ " لگوانا سمجھتے ہیں اس کے بارے میں بتا تا چلوں کہ میسیچوسٹ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT ) میں ایک تحقیق ہورہی ہے جس میں ایک ایسی چپ جس میں ہر مریض کا مکمل میڈیکل ریکارڈ اور ہر بچے کی بچپن سے لے کر اب تک کی ویکسین کا شیڈول لوڈ کیا جائیگا اور اس کو جلد میں اسی طرح لگایا جائیگا جس طرح ہمارے ہاں خواتین " حمل سے روکنے کیلئے پروجسٹرون ہارمون کا ڈیپو" جلد میں لگواتی ہیں - اس سے یہ فائدہ ہی[اگا کہ وہ بچہ یا مریض کسی بھی ہسپتال میں جائیگا تو اس کا میڈیکل ریکارڈ بس انگلی سکینکرتے ہی اس ہسپتال کے سامنے آجائیگا جس سے اس کے علاج میں بہت مدد ملے گی - اس ٹیکنالوجی کے قابل استعمال ہونے میں ابھی بہت سال لگ جائینگے اور میری دعا ہے کہ الله کرے جلد از جلد یہ ٹیکنالوجی عام ہو تا کہ پاکستان کے کشمور سے لیکر افریقہ کہ کیمرون تک تمام ترقی پزیر اور غریب ملکوں کے بچوں کا میڈکل ریکارڈ ایک جگہ محفوظ ہوسکے اور کوئی بچہ کسی ویکسین سے کبھی بھی محروم رہ کر بیساکھیوں کا محتاج نہ ہوسکے - یہ ہے اس "مائکرو کواٹنم" والی تھیوری کی تفصیل جو اپنی پیدائش سے پہلے ہی بہت سے "دانشوروں " اور "سازش سازوں " کیلئے "ہتھیار" بنی ہوئی ہے اور اس کا شکار ہورہی فقط انسانیت ---ایک اور وجہ بھی ہے - ہمیں بل گیٹس فاونڈیشن کی سخاوت محض اس لئے سخاوت نہیں لگ رہی کیوں کہ پولیو اور کرونا ویکسین پر ٢٠ ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم خرچ کرنے والا یہ بل گیٹس "ایدھی صاحب " کی طرح مسلمان یا پاکستانی نہیں بلکہ ایک امریکی عیسائی گورا ہے جس نے محض ویکسین پر ہی نہیں بلکہ دنیا میں لائبریریوں ' کالجوں، یونیورسٹیوں اور غریب طلبا کیلئے سکالر شپ جیسے پروجیکٹس پر بھی بے تحاشہ کام کیا ہے - وہ کہتے ہیں نہ علم والا " ع" نہ ہو تو "شعور" بھی شور سنائی دیتا ہے - بل گیٹس اور ویکسین کیمپین کے معاملے میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے - ہماری ذاتی معلومات اور دماغ پر کنٹرول کرنے کیلئے اگر چپ لگانی ہوتی تو آپ کے موبائل میں اس وقت موجود سم کارڈ کافی تھا
٥. پانچواں سازشی نظریہ - یہ سب یہودیوں کا کاروبار ہے - ویکسین بیچنے اور پیسے کمانے کا شوشہ ہے ؟
میں یہ بات ضرور مان لیتا اگر بس ایک ملک ہی یہ ویکسین بنا کر پوری دنیا کو بیچ رہا ہوتا - لیکن یہاں تو امریکا کا عیسائی ملک ہو یا اسرائیل کا یہودی ملک؛ کومیونسٹ روس ہو یا ایتھیسٹ چائنا ہو' سب ویکسین فراہم کر رہے ہیں - کیا سب کاروبار کر رہے ہیں ؟ وہ بھی اپنے ہی لوگوں سے؟ باقی اس دنیا میں ہر چیزکی قیمت ہوتی ہے - 2010 اور 2012 میں پاکستان میں جب ڈینگی کی وباء آئ تھی تو کیا آپ نے مچھر مار سپرے اور "موسپیٹل لوشن "مفت دیے تھے ؟ - ابھی جب کرونا آیا ہوا ہے تو کیا ہمارے ہاں ماسک ' صابن ' ہینڈ سینی ٹا ایزر خیرات میں ملتے ہیں ؟ ہم نے تو پلازما جیسی چیز جو عطیہ ہونی چاہیےتھی دو د لاکھ میں بکتے دیکھی ہے صاحب - یہ ہوتا ہے کاروبار - یہ سب ہے تو پھر آپ کیوں امید رکھ کر بد گمانی کا شکار ہیں کہ ویکسین بنانے والی کمپنیاں ان تحقیقوں کی قیمت نہیں لینگی جن پر انہوں نے کروڑوں ڈالر لگادیے ؟ باقی اگر ویکسین بنانا ہی کاروبار ہوتا تو بل گیٹس فاونڈیشن ہر سال پولیو ویکسین کی مفت فراہمی کیلئے کروڑوں ڈالر پاکستان پر نہ خرچتی - سو یہ کمرشل سازشی نظریہ بھی غیر معقول ہے -
٦. کیا کرونا ویکسین کے سائیڈ ایفکٹ ہیں ؟
جی - اب کیا نہ ایک اچھا منطقی سوال - پیناڈول سے لیکر آگمنٹن تک ہر دوائی کے سائیڈ ایفکٹ ہوتے ہیں - لیکن انتہائی معمولی سائیڈ ایفکٹ ہونے اور انتہائی غیر معمولی افادیت ہونے کی وجہ سے وہ استعمال ہوتی ہے - اسی طرح کرونا ویکسین میں بھی کبھی کبھی سر درد، جسم میں ایک دن تک درد، ٹیکے والی جگہ درد یا الرجی جیسے سائیڈ ایفکٹ ممکن ہیں لیکن کرونا ویکسین سے کرونا انفیکشن نہیں ہوسکتا کیوں کہ اس ویکسین میں وائرس کا صرف پروٹین خ*ل بنانے والے مفید ذرہ ہے ' بیماری پھیلانے والا وہ خطرناک ذرہ نہیں (جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے )- جس طرح روزانہ کام پر جاتے ہویے سڑک پر حادثوں کا خطرہ اور روزانہ روٹی پکاتے ہویے گیس کے چولہے پھٹنے کا رسک ہمیشہ ہوتا ہے اسی طرح کرونا ویکسین سے بھی ان معمولی اثرات کا خطرہ ہوتا ہے - تو کیا ہم سڑک پر نکلنا بند کر دیتے ہیں یا روٹیاں ہمیشہ تندور والی ماسی سے ہی لگواتے ہیں ؟ اس کا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں -
٧. کرونا میں موت کی شرح سو میں سے دو فیصد ہے - تو اتنی کم شرح ہونے وکی وجہ سے ہم کیوں پریشان ہوں ؟
میں سوال کا جواب دینے کی بجاے سوال پر سوال کرونگا - اگر آپ کو پتا ہو کہ محلے کے سو لوگوں میں دو لوگوں نے مرنا ہے اور وہ دو لوگ الله نہ کرے آپ کے ماں باپ ہوں تو کیا آپ کا جواب یہی ہوگا کہ شرح اموات بس دو فیصد ہے تو ڈاکٹروں نے شور کیوں مچا رکھا ہے ؟ یاد رکھیے - دنیا میں آٹھ ارب لوگ ہیں - جن کا دو فیصد سولہ کروڑ بنتا ہے - کیا اتنی بڑی تعداد میں انسانیت کی موت جو کہ سادی ویکسین سے بچائی جاسکتی ہے ' ہمیں قابل قبول ہوگی ؟ اس کے بعد بھی اگر آپ یہ شرح قبول کرنا چاہتے ہیں اور ویکسین نہی لگوانا چاہتے تو آپ کو اختیار حاصل ہے -کوئی زور زبردستی نہیں - جواب آپ پر چھوڑتا ہوں -
٩. کیا ماسک لگانا ویکسین لگانے کا متبادل ہوسکتا ہے ؟
اگر ذہن میں یہ سوال ابھرا ہے تو خوبصورت سوال ہے- ماسک کالونی کے چوکیدار کی طرح ہے اور ویکسین اپنے گھر کا بیرونی دروازے پر چٹخی لگانے کے مترادف ہے - اگر چوکیدارکالونی میں پہرا دے رہا ہو تو کیا اپ رات کو گھر کے دروازے کھول کر سوتے ہیں ؟ اسی طرح ماسک وائرس کی جسم میں انٹری کو روکنے کا موثر طریقہ ہے لیکن پھر بھی اگر کسی طرح وائرس کا چور اندر داخل ہوجاۓ تو ویکسین سے بننے والے اینٹی باڈی کی "چٹخی" جسم کو اس چورکے حملے سے بچا لیتی ہے -
٨. آخری سازشی نظریہ : ڈاکٹر وقاص نواز کو بل گیٹس نے ہزروں ڈالر دیے ہیں ؟ ورنہ یہ کیوں ہم پر وقت برباد کرتا؟
اگر آپ ایسا سوچ رہے ہیں تو اس میں آپ کا قصور نہیں - ہم دراصل اس معاشرے اور دور سے تعلق رکھتے ہیں جہاں کوئی مفت میں اپنا بخار بھی کسی کو نہی دیتا - ایسے میں کسی بھی ایسی تحریر پر ایسے خیالات ہونا غیر فطری نہیں - اس پر میں بس اتنا لکھ سکتا ہوں کہ میری اس تحریر اور اس سے پہلے لکھی گئیں تمام تحریروں میں کسی ایک لفظ سے بھی اگر میری ذات کا کوئی فائدہ جڑاہو تو الله مجھ سے راضی نہ ہو - اور اگر ایسا نہی ہے تو میری ایسی ہی کوئی تحریر میری نجات کا ذریعہ بن جاۓ- اس پیج پر جو لوگ مجھے ذاتی حیثیت میں جانتے ہیں وہ بخوبی اگاہ ہونگے کہ ان سب تحریروں کا اصل مقصد کیا ہے - اس تحریر کو پڑھ کر کوئی سوال رہ جائے تو کومنٹ میں لکھیے - میں جواب دینے کی کوشش کرونگا -
میری یہ تحریر ان سب شہید ڈاکٹروں کے نام ہے جنہوں نے اس جنگ میں اپنی سانسیں کھو دیں- میری یہ تحریر ہر اس انسان کیلئے لکھی گئی ہے جو اپنے ماں باپ سے محبت کرتا ہے - اپنے بچوں سے محبت کرتا ہے - - انسانیت سے محبت کرتا ہے - - اس کو پڑھیے - اس کو پڑھایے- اس کو پھیلایے- تا کہ ان سازشی نظریات اور جھوٹے شوشوں کی حوصلہ شکنی کی جاسکے جو ہماری آنے والی نسلوں کو اپاہج بنا رہی ہیں اور ہمارے بزرگوں کے دم گھونٹ رہی ہیں۔
تحریر ڈاکٹر وقاص نواز
Nadra attestation process changed
(1) نادرا نے سابق اور آئندہ کے کونسلر اور چیئرمینوں کے پاس موجود تصدیق کا اختیار ختم کردیا۔
(2) ﻧﺌﮯ ﺷﻨﺎﺧﺘﯽ ﮐﺎﺭﮈ یا ﺏ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﺮﺗﮫ ﺳﺮﭨﯿﻔﮑﯿﭧ ﮐﯽﺷﺮﻁ ﺧﺘﻢ
میٹرک کی سند، پاسپورٹ یا ڈومیسائل پہ کارڈ بن جائے گا والد والدہ کے کارڈ کے ساتھ تاریخ پیدائش لکھ کر دیں ب فارم بن جائیگا۔
(3) ﻓﺎﺭﻡ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ گزیٹڈ افسر کے پاس نہیں جانا ہوگا
کارڈ ہولڈر والد یا بھائ یا فیملی ممبر ازخود فارم تصدیق کر سکے گا۔
(4) ﻣﯿﭩﺮﮎ ﮐﯽﺳﻨﺪ ،ﭘﺎﺳﭙﻮﺭﭦ، ﮈﻭﯿﺴﺎﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ
ﺷﻨﺎﺧﺘﯽ ﮐﺎﺭﮈ کا ﮨﻮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ہے۔
(5) ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﮐﺎﺭﮈ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﻧﺎﻣﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ
شوہر کے کارڈ پر بیوی کا نیا کارڈ بنے گا صرف 20 کا اسٹامپ پیپر لگانا ہوگا۔
(6) ﻓﺎﭨﺎ ﮐﮯ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺷﻨﺎﺧﺘﯽ ﮐﺎﺭﮈ ﺑﻨﻮﺍ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ۔
( 7) ﻧﺎﺩﺭﺍ ﺣﮑﺎﻡ ﻧﮯ ﻧﯿﺎ ﺷﻨﺎﺧﺘﯽ ﮐﺎﺭﮈ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻧﺌﯽ ﭘﺎﻟﯿﺴﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﺩﯼ ﺟﺲ ﭘﺮ ابھی ﺳﮯ ﻋﻤﻠﺪﺭﺁﻣﺪ ﮐﯿﺎ جائیگا۔
کارڈ گم ہونے پہ ایف ائ آر کی ضرورت نہیں اسٹامپ پیپر بیان حلفی گمشدگی دے کے نیا کارڈ پرنٹ مل جائیگا۔
کارڈ وصولی کے لیئے اصل ٹوکن کے ساتھ خود دفتر جانا ہوگا اگر کوئی رشتہ دار جائے تو اتھارٹی لیٹر اس سے لے کے جائے اور کارڈ مل جائیگا۔
نام تبدیلی کیلئے اخبارات میں اشتہار نہیں دینا ہو گا نئے کارڈ کے لیئے نادرا *افسر انٹرویو کرے گا اور کمنٹس دے گا۔*
25/12/2020
24/12/2020
👆👆👆
*کہی بھیک مانگتے بچے دیکھیں تو 1121پر فوری کال ☎️📞 کر کے اطلاع دیں۔حکومت کی مدد کریں*
چائلڈ پروٹیکشن بیورو پاکستان
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
19/12/2020
Parents Beware!
EID MUBARAK
5-5×5+5=?
نوکری نہیں کاروبار تلاش کریں .
جس طرح ایک عورت کے تعلیم حاصل کر لینے سے پورے خاندان کو فائدے ملتے ہیں
بلکل اسی طرح ایک آدمی کے کاروبار کرن ے سے
اس کا پورا خاندان خوشحال ہو جاتا ہے..
نوکر پیشہ آدمی کی اولاد جب بھی اپنی پروفیشنل لائف شروع کرتی ہے تو وہ صفر سے سٹارٹ لیتے ہیں
یعنی والد کی تنخواہ بیس ہزار ہے تو بیٹا دس ہزار سے شروع کرے گا
یا اس سے بھی کم..
لیکن کاروباری حضرات کی اولاد وہاں سے شروع کرتے ہیں
جہاں سے ان کے والدین ان کے لیے چھوڑ کر جاتے ہیں
لکھ پتی کا بیٹا لاکھوں کے کاروبار سے شروع کرے گا
اور کروڑ پتی کا بیٹا کروڑوں سے سٹارٹ لے گا..
ان کو صفر سے نہیں شروع کرنا پڑتا..
تو دوستو اپنا نہیں تو
اپنے بچوں کا بھلا ہی سوچ لیجئے
نوکری میں ترقی کرنے کی ایک حد ہوتی ہے لیکن کاروبار میں ترقی کرنے کی کوئی حد نہیں ہوتی..
اگر آپ چاہیں تو آپ اپنے کاروبار کو پوری دنیا تو کیا پوری کائنات تک پھیلا سکتے ہیں..
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﺳﮯﺑﯿﺮﻭﺯﮔﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﻣﺎﺋﻨﺲ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮨﻢﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯﮨﭽﮑﭽﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔
ﮨﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﮭﮯﺑﭩﮭﺎﺋﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﺮﺍﻣﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻣﯿﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔۔
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﻧﺎﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺎﻡﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻧﺎ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ "ﻟﻮﮒ"ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔
ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ؟
ﺗﻮ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎﺟﮭﻮﭨﺎ ﻭﻗﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩﺳﺎﺧﺘﮧ ﺑﮭﺮﻡ ﻗﺎﺋﻢﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻢ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺷﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﻨﮕﺪﺳﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺑﻦﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ۔۔
ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﻧﮩﯿﮟ،
ﺗﻮ ﺍﺑﮭﯽﺍﭨﮭﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭘﮑﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺴﮯﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ،
ﭼﺎﮨﮯ ﺳﯿﮑﻨﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ،
ﮐﻮﺋﯽﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﺑﻨﺎﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﻔﺘﮯ ﻣﯿﮟﺍﺱ ﺭﻗﻢ ﮐﻮ ﺩُﮔﻨﺎ ﮐﯿﺠﺌﮯ۔۔
ﯾﮧ ﺑﺎﻟﮑﻞﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔۔
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﻏﯿﺮﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ
ﺍﻥ"ﻟﻮﮔﻮﮞ" ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺮﺽﻟﯿﮑﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺠﺌﮯ
ﺟﻨﮑﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﭘﮑﯽﻧﺎﮎ ﮐﭩﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﯾﺸﮧ ﮨﮯ۔۔
ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽﻣﻤﮑﻦ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺑﺴﻠﺴﮧ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮨﺠﺮﺕﮐﺮﮐﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺁﭘﮑﺎﮐﻮﺋﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻗﻒ ﮐﺎﺭﻧﮧﺑﺴﺘﺎﮨﻮ۔۔
نوکری آپ کو دوسرے لوگوں کا تابعدار بناتی ہے
جبکہ کاروبار میں آپ باس ہوتے ہیں
اور دوسرے لوگ آپ کے تابعدار ہوتے ہیں..
میرے دوستو جتنی پابندی سے آپ نوکری کے دوران کام کر تے ہو اتنی محنت سے اگر آپ کوئی کاروبار کرو تو یقیناً آپ کچھ ہی عرصے میں کئی لوگوں کو نوکری دینے والے بن جاؤ گے
بعض لوگ نوکریاں کرتے ہین اور بعض لوگ نوکریاں Generate کرتے ہیں
فیصلہ آپ نے کرنا ہے آپ نے کیا کرنا ہے
میں نے آج تک کسی نوکر پیشہ کو ارب پتی نہیں دیکھا
دنیا میں جتنے بھی ارب پتی ہیں وہ سب کاروباری ہیں..
میں نے خود نوکری کی ہے ایک ہاتھ آگے اور ایک پیچھے رہتا تھا جب سے کاروبار ی ہوا ہوں تمام کمی پوری ہو گئی ۔۔
دنیا میں سب سے بھاری چیز خالی جیب ہوتی ہے چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔
اسلئے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے ۔۔
کچھ نہ کچھ کرتے رہو ۔۔
محنت میں عظمت ہے۔۔
اگر آپ نے اپنے اپنی زندگی کا کوئی مقصد نہیں بنایا تو پھر آپ کسی اور کے مقصد کے لیے کام کریں گے۔۔
اگر آپ بچت تو بہت کرتے ہیں لیکن پیسے کو کسی کاروبار میں نہیں لگاتے تو آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے۔۔
پہلے زمانے کے بڑے اپنے بچوں کو سکھاتے تھے بیٹا کوئی ہنر سیکھ لو
کوئی فن سیکھ لو
زندگی میں کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔
پھر دور آیا تعلیم کا
پڑھائی کرلو
نوکری مل جائے گی۔۔
لیکن اب دور ہے کاروبار کا
کیونکہ نوکری اور ہنر آپ کو تب تک پیسہ کما کر دیتے ہیں جب تک آپ جسمانی طور پر ٹھیک ہوتے ہیں
لیکن کاروبار ایک ایسی چیز ہے جو آپ کو تب تک پیسہ کما کر دیتا ہے
جب تک آپ چاہیں۔۔
جی ہاں جب تک آپ چاہیں۔۔
ایک آدمی کو ایک مچھلی دے دو تو اس کے ایک دن کے کھانے کا بندوست ہو جائے گا۔۔
اور اگر اس کو مچھلی پکڑنا سکھا دو تو اس کی ساری زندگی کے کھانے کا بندوبست ہو جائے گا۔۔
انویسٹمنٹ وہاں کیجئے
جو کاروبار وجود بھی رکھتا ہو۔
پھر بھی اچھی طرح سے دیکھ بھال کر کیجئے۔ روایتی کاروبار سے ہٹ کر ہوائی کاروبار کی جانب ہرگز متوجہ نہ ہوا جائے۔
سُہانے خواب دِکھانے والے یہاں بہت،
لیکن زمینی حقائق مدِّ نظر نہ رکھنے والے پھر روتے پچھتاتے دیکھے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سارے ٹاپرز لوگ ان لوگوں کی کمپنیوں میں کام کرتے ہیں جو ان پڑھ یا پھر فیلیرز ہوتے ہیں۔۔
ہم اپنے تجربات سے اتنا کچھ نہیں سیکھ سکتے
جتنا کہ ان تجربات کی جانچ پڑتال سے سیکھا جا سکتا ہے۔۔
سپنے دیکھنے والوں کےلئے رات چھوٹی پڑ جاتی ہے
جبکہ ہم اپنے تجربات سے اتنا کچھ نہیں سیکھ سکتے
جتنا کہ ان تجربات کی جانچ پڑتال سے سیکھا جا سکتا ہے..
عمل کرنے والوں کےلئے دن چھوٹے پڑجاتے ہیں۔۔copied