17/03/2024
آج بمورخہ 2024-03-17 کو انصاف ٹیچرز ایسوسی ایشن یونین کونسل واڑی کا ایک اہم میٹنگ زیر صدارت صدر صدام حسین صاحب منعقد ہوا جس میں مہمان خصوصی ضلع آرگنائزر امجد احمد صاحب اور تحصیل آرگنائزر طارق عزیز نے شرکت کی ۔یونین کونسل واڑی کے تمام انصاف ٹیچر ایسوسی ایشن کی ممبرز نے اتفاقی رائے سے نئی کا بینہ تشکیل دی۔ نیا کابینہ میں مختلف امیدواروں کے عہدے درجہ ذیل ہیں۔
(1) President. Atta Ullah sb
(2) Senior v president. Faqir Zada sb
Senior v president 1. Wisal sb
Senior V president 2. Mushtaq sb
(3) General secretary. Asif Anwar sb.
(4) Deputy General secretary. Sajjad sb
(5) Additional de General secretary. Tahir sb
(6) Finance. Mehboob Alam sb
(7) Joint secretary finance. Ibrahim sb
(8) Chief Organiser . Maqsood sb
(9) Media coordinator.
Shahid Khan sb
18/09/2021
.
کسی ملک کی معاشی ترقی کے لئے موثر بنکنگ کے نظام کا ہونا لازمی ہے. ملک میں پیسے کی رفتار جاری رکھنا، گروتھ پراسیس کو تیز کرنا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا، قومی اور بین الاقوامی سطح پر کاروبار کی دیکھ بھال کرنا، قیمتوں کو کنٹرول کرنا وغیرہ سب ایسے عوامل ہیں جن میں بنکنگ سسٹم کا بنیادی کردار ہے.
نیشنل بنک آف پاکستان جس کی بنیاد آج سے تقریباً 72 سال پہلے 1949 میں رکھا گیا تھا آج ملک بھر میں اس کے قریب 1450 سے زیادہ برانچز ہیں. حبیب بنک لمیٹڈ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے بعد یہ بنک تیسرا پرانا بینک ہے. اس بینک نے آغاز سے لے کر ابھی تک لوگوں کا خوب خدمت کیا ہے. جس پر ہم اسے سراہتے ہیں. ابتداء میں چونکہ پرائیویٹ بنکوں کی کمی تھی اس لیے نیشنل بنک آف پاکستان کے عملے پر کام کا بہت بوجھ ہوتا تھا. عوام کو بھی جب بینک میں کوئی کام ہوتا تو اس میں نہایت دقت سے گزرنا پڑتا تھا. مجھے یاد ہے کہ بل داخل کرنے یا تنخواہ کے حصولی کے دنوں میں بینک کے سامنے کتنے لمبے قطاریں ہوتی تھی. لیکن عوام یہ سب اس لیے برداشت کرتے تھے کیونکہ ان کے پاس دوسرا کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا. ان دنوں میں بنک کا عملہ افسر شاہی ہوا کرتا تھا وہ جیسے چاہتے اپنے پسند وناپسند کے بنیاد پر عوام سے پیش آتے.
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں دوسرے اداروں نے ترقی کی وہیں بنکنگ سسٹم میں بھی جدت اگیی ہے. بہت سے پرائیویٹ بنک بنے جس نے عوام اور بنک عملے کا کام آسان کردیا. زیادہ تر عوام نے پرائیویٹ بنکوں میں اکاؤنٹس کھولواییے جس سے نیشنل بنک پر رش بھی کم ہوگیا. لیکن چند محکموں کے ملازمیں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنا اکاونٹس نیشنل بنک میں رکھے. علاوہ ازیں چند حکومتی قرضے، نوکری کے لئے اپلایی،سکالرشپ وغیرہ ایسے امور ہے جو صرف نیشنل بنک آف پاکستان سے تعلق رکھتا ہے. اب سوال یہ ہے کہ کیا نیشنل بنک آف پاکستان کے عملے کا وہی پرانہ طرز عمل ہے یا اس میں تھوڑی بہت تبدیلی اچکی ہے؟
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نیشنل بنک کے عملے کا وہی پرانہ طرز عمل ہے. آپ آج قصداً کسی پرائیویٹ بنک کا وزٹ کریں اس کے عملے سے ملے اور پھر نیشنل بنک آف پاکستان کا وزٹ کریں، آپ لوگوں کو واضح فرق محسوس ہوگا. پرائیویٹ بنکوں کا عملہ نہایت خوش اخلاق، پر تعاون، اور دوستانہ ماحول میں کسٹمرز سے پیش آتے ہیں جبکہ دوسری طرف سرکاری بنک کا عملہ ہے جو بے جا ٹال مٹول سے کام لیتا ہے. یہ لوگ اپنے اپ کو نوکر شاہی سمجھتے ہیں. یہ صرف ایک بنک کا مسئلہ نہیں سارے پاکستان میں پرائیویٹ بنکوں اور سرکاری بنکوں میں ایک واضح فرق پایا جاتا ہے.
مجھے یاد ہے. جب میں یونیورسٹی آف پشاور میں پڑھتا تھا تو میرا ایچ ای سی نیڈ بیس سکالرشپ منظور ہوا تھا. جب میں نے وہ چیک یونیورسٹی کے نیشنل بنک میں جمع کرانا چاہا تو پہلے انہوں نے چیک لینے میں کافی وقت لیا. ایک ہفتے تک مختلف دستخطوں کے بہانے چیک نہیں لیے پھر جب چیک لے لیا تو پراسیس کرنے میں مہینہ لیا. مجھے ان دنوں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید یہ پیسے یہ لوگ مجھے اپنے جیب سے دے رہے ہیں. اسی طرح میرے ایک دوست کے والد صاحب کے پنشن کا لیگل مسئلہ ہے اور وہ پچھلے کیی مہینوں سے نیشنل بنک آف پاکستان واڑی روزانہ آتا جاتا ہے. اور شام کو بے مراد گھر لوٹ جاتا ہے.
حکومت نے ملک کے بہترین مفاد میں ھنڈی سسٹم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تا کہ ملک میں زر مبادلہ ایک مخصوص چینل پر اسکے اور اس کا ڈایریکٹ مثبت اثر ملکی معیشت پر پڑے. لیکن جب یہ اوورسیز ہمارے بھائی پیسے بیجھتے ہے تو بنک والے یہاں ان کے رشتہ داروں کو پیسے کی حصولی کے لیے نہایت کٹن لمحات سے گزار دیتے ہیں جو نہایت مایوس کن ہے. ایک دوست نے بتایا کہ ایک آدمی کو باہر سے پیسے آیے تھے اور نیشل بنک والے ان سے ایسے سوالات پوچھتے تھے جیسے وہ مجرم ہو اور بنک والے انٹیلیجنس اداروں کے اہلکار.
نوٹ.. ہم مانتے ہیں کہ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کا کوئی مقابلہ نہیں ہے. پھر بھی کسٹمرز سٹیسپیکشن کسی بھی بنک کا بنیادی موٹو ہوتا ہے. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حبیب بنک لمیٹڈ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے بعد تیسرا پرانا بنک ہونے کے ناطے نیشنل بنک آف پاکستان کی کارکردگی باقی بنکوں سے اعلی ہوتی. لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے. نیشنل بنک جیسے ادارے سے لوگوں کا اعتماد اٹھنا ایک اچھی شگون نہیں ہے. یہ ملک تب اٹھے گی جب اس کے سرکاری ادارے پروفیشنلزم دکھا کر کام کرے. لہذا سرکاری اداروں کو بالعموم اور نیشنل بنک کو بالخصوص اپنے سسٹم کو ٹھیک کرنے پر کام کرنا ہوگا. خاص کر اس کے عملے کو ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم عوام کے خادم ہے نہ کہ افسر شاہی. حکومت کو بھی چاہیے کہ پرائیویٹ بنکوں کی طرح نیشنل بنک آف پاکستان میں بھی کارکردگی کی بنیاد پر بنک عملے کی ترقی وغیرہ کے لئے جامع پروگرام بنایا جایے.
شکریہ.
تحریر. صدام حسین آرزو
22/08/2021
اج بمورخہ 22۔08۔2021 انصاف ٹیچر ایسوسی ایشن یونین کونسل واڑی کا ایک اہم میٹنگ گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر2 واڑی میں زیر صدارت صدام حسین صدر انصاف ٹیچر ایسوسی ایشن واڑی منعقد ہوا ۔ اجلاس میں کثیر تعداد میں اساتذہ نے شرکت کی. جس میں اساتذہ کرام کے جملہ مسائل، اساتذہ کی ذمہ داریوں، اور آیندہ کے لایحہ عمل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میٹنگ میں اے ڈی او میاں حضرت لقمان صاحب اور طارق عزیز جنرل سکریٹری انصاف ٹیچر ایسوسی ایشن تحصیل واڑی نے بھی شرکت کی ۔