24/03/2026
Marajal bahrain online Quran Academy
*(خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ)*
ترجمہ:تم میں سےبہتروہ ھے جو قرآن سیکھے اورسکھائے
(الحدیث)
السلام علیکم۔۔۔۔۔
امیدھےآپ خیریت سےھوں گے
قرآن مجید کی تعلیم ھر گھر میں چھوٹے بڑے کی اھم ضرورت ھے
وہ تمام احباب جو اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک قرآن کریم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔
یا جنہیں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول گیا ہے۔
یا صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔
یا اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔
ایسے تمام افراد کے لیئے سنہری موقعہ۔
خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہوں
اب گھر بیٹھے آن لائن بذریعہ
واٹس ایپ Whatsap
زوم Zoom
سکاٸپ Skyp
ایمو Imo
ہم سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کریں اور اپنی دنیاء و آخرت کو سنواریں۔
_*کیا آپ اُن لوگوں میں شامل ہوناچاہتے ہیں جن کو پیارے نبیﷺ نے بہترین لوگ کہا*_
_*تو آیے قرآن کا دامن تھامیے اور ان لوگوں میں شامل ہو جاٸیے*_
*اپنے گھر بیٹھے ھی تعلیم حاصل کریں*
❶بچوں کیلۓ ابتداٸ قاعدہ تجوید کے ساتھ
❷ناظرة القرآن تجوید کے ساتھ
❸حفظ القرآن تجوید کے ساتھ
❹تلفظ کی درستگی تجوید کے ساتھ
❺عمر کی کوٸ قید نہیں
❻ہفتہ کے اندر 5 دن کلاسسز
❼کلاس کا دورانیہ 30
Maraj Al Bahrain Quran Academy
Contact Whatsapp
0331 8885581
23/02/2026
یہ جو قبرِ انور ہے، یہ کوئی عام مقام نہیں۔ یہ اس ہستی کا مزارِ اقدس ہے جو جگر گوشۂ رسول ﷺ ہیں؛ وہ گھرانہ جس کے دروازے پر حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی اجازت لے کر حاضر ہوتے تھے۔ یہاں حاضری نصیب ہو تو روح کی کیفیت بدل جاتی ہے، دل پر ایک نورانی سکون اترتا ہے۔
یہ اس نور کی قبر ہے جو خود بھی نور ہیں، جن کے شوہر بھی نور ہیں اور جن کی اولاد بھی نور ہے۔ ممدوحِ کائنات ﷺ کی نگاہِ ناز میں جن کا مقام بے مثال ہے؛ جو تسکینِ ذاتِ مصطفیٰ، راحتِ جانِ مجتبیٰ، جگرگوشۂ رسالت، شبیہِ وجہِ مصطفیٰ اور نسلِ نبوت کی شان ہیں۔
وہ شہزادیِ کونین، اُمُّ السّادات، مخدومۂ کائنات، دُخترِ مصطفیٰ، بانوئے مرتضیٰ، سردارِ خواتینِ جہاں و جِناں، سیدہ، طیّبہ، طاہرہ، زاکیہ، راضیہ، مرضیہ، عابدہ، زاہدہ، محدّثہ، مبارکہ، ذکیہ، عذراء، سیّدةُ النساء، خیرُ النساء، خاتونِ جنت، اُمُّ الحسنین…
فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“فاطمہ کا نام اس لیے رکھا گیا کہ اللہ نے اسے اور اس سے محبت کرنے والوں کو آگ سے جدا فرما دیا ہے۔”
(کنز العمال)
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“فاطمہ نے اپنی پاکدامنی کی حفاظت کی، پس اللہ نے اس کی اولاد کو آگ پر حرام فرما دیا۔”
(مستدرک حاکم)
اور فرمایا:
“جب میں جنت کی خوشبو سونگھنا چاہتا ہوں تو فاطمہ کی خوشبو سونگھ لیتا ہوں۔”
(معجم کبیر، مستدرک حاکم)
نیز ارشاد فرمایا:
“فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے، جو اسے ناگوار وہ مجھے ناگوار، جو اسے پسند وہ مجھے پسند۔ قیامت کے دن میرے نسب، سبب اور ازدواجی رشتوں کے سوا تمام نسب منقطع ہو جائیں گے۔”
(مستدرک حاکم)
اور آپ ﷺ نے انہیں تمام جہانوں کی عورتوں اور جنتی عورتوں کی سردار قرار دیا۔
سیدہ پاک رضی اللہ عنہا ہم شکلِ مصطفیٰ، تصویرِ مصطفیٰ، جگر گوشۂ مصطفیٰ اور راحتِ جانِ مصطفیٰ تھیں۔ آپ کے فضائل و کمالات، تقویٰ و پرہیزگاری کی مثالیں بے شمار ہیں۔ آپ کی شان یہ کہ وہ خوش تو رب خوش، وہ ناراض تو رب ناراض۔
حضور ﷺ جب تشریف لاتے تو ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے، ہاتھ تھام کر بوسہ دیتے اور اپنی جگہ بٹھاتے۔ اور جب حضور ﷺ ان کے گھر تشریف لے جاتے تو سیدہ پاک رضی اللہ عنہا بھی تعظیماً کھڑی ہوتیں، دستِ مبارک کو بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ بٹھاتیں۔
(سنن ابوداؤد)
یہ مقام محض ایک مزار نہیں، یہ محبت، وفا، طہارت اور نور کی علامت ہے۔ جو دل یہاں جھکتا ہے وہ دراصل محبتِ رسول ﷺ میں جھکتا ہے، اور جس دل میں سیدہ کائنات کی محبت بس جائے، اس کے لیے یہ محبت نجات کا وسیلہ بن جاتی ہے۔
اللہ ہمیں سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سچی محبت، ان کی سیرت پر چلنے کی توفیق اور اہلِ بیتِ اطہار کی وفاداری نصیب فرمائے۔ آمین۔
23/02/2026
اسلام و علیکم Maraj Al Bahrain قرآن اکیڈمی میں خوش آمدید
گھر بیٹھے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کیجیے
آپ باآسانی آن لائن تجوید کے ساتھ قرآن کریم ناظرہ، قاعدہ، حفظ، قرأت،
، اور عام زندگی سے متعلق مسائل پڑھنے، سیکھنے اور سمجھنے کی سعادت حاصل کرسکتے ہیں
وقت اور عمر کی کوئی قید نہیں
ہمارے پاس میل اور فی میل قابل اور تجربہ کار اساتذہ موجود ہیں۔۔۔
اور الحمدللہ ہر عمر کے بچے اور بچیاں دین اسلام کی تعلیم سے روشناس ہو
04/02/2026
یہ حلیمہ سعدیہ کا مدفن ہے—وہ عظیم خاتون جو رسولِ اللہ ﷺ کی رضاعی والدہ تھیں۔ رسولِ اللہ ﷺ نے بنو سعد میں ان کے ساتھ پانچ برس کی عمر تک قیام فرمایا۔ جب سیدہ حلیمہؓ مکہ مکرمہ آئیں تو نبیِ کریم ﷺ کی عمر صرف آٹھ دن تھی۔ ربیع کے اسی مہینے میں جب ان کی نظر آپ ﷺ پر پڑی تو بے اختیار کہہ اٹھیں کہ ان کی آنکھوں نے کبھی اتنا خوبصورت نومولود نہیں دیکھا۔
مکہ پہنچنے سے پہلے ان کے قبیلے میں ان کی سواری سب سے کمزور اور سست تھی، مگر جب انہوں نے رسولِ اللہ ﷺ کو اپنی گود میں لیا تو وہی سواری پورے قافلے سے آگے نکل گئی۔ لوگوں نے سبب پوچھا تو انہوں نے کہا:
“یہ ایک بابرکت بچہ ہے!”
ان کی سواری اتنا دودھ دینے لگی کہ سیدہ حلیمہؓ اپنی زندگی میں پہلی بار پیٹ بھر کر سونے لگیں۔ ان کے جانور طاقتور ہو گئے اور گھر برکتوں سے بھر گیا۔ قحط کے دنوں میں بھی، جب رسولِ اللہ ﷺ ان کے ساتھ ہوتے، تنگی کا نام نہ ہوتا۔ نبیِ کریم ﷺ جس چیز کو چھوتے، وہ شفا اور برکت کا ذریعہ بن جاتی۔
جب پانچ برس کی عمر میں وہ آپ ﷺ کو روتی ہوئی واپس لائیں تو ان کا دل ٹوٹ چکا تھا—کیونکہ محبت بے پناہ تھی۔ برسوں بعد وہ مدینہ منورہ آئیں اور اسلام قبول کیا۔ انہوں نے دنیا میں رسولِ اللہ ﷺ کو دودھ پلایا، اور اس کے بدلے میں آپ ﷺ نے انہیں جنت میں دودھ کی نہریں عطا فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری تمام ماؤں کو آخرت میں رسولِ اللہ ﷺ کے قرب میں جگہ عطا فرمائے—اس سب کے بدلے میں جو انہوں نے ہمارے بچپن میں ہمارے لیے کیا۔
لوگ کہتے ہیں کہ سیدہ حلیمہؓ رسولِ اللہ ﷺ کی پرورش کر رہی تھیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پہلی نظر ہی سے وہی تھے جو ہمیشہ ان کی کفالت اور خیال رکھتے رہے۔ ﷺ