M Shakeel Ahmad Zafar

M Shakeel Ahmad Zafar

Share

Motivational Speaker

06/11/2024

ماہنامہ "القاسم"میں طبع شدہ راقم الحروف کا مضمون " کرسی پرنماز پڑھنے کا ایک بنیادی اصول"
ملاحظہ کیجیے!!
شکیل أحمد ظفر
#
#

06/11/2024
27/10/2024

نتیجۂ فکر
(ایک مسکراتی تحریر)
شکیل أحمد ظفر
یہ سقراط ہیں،صبح سویرے اٹھنا انہیں پسند نہیں ہے۔
ماں کا خواب ہے کہ بیٹا بڑا ہو کر انجیئر بنے،وہ چاہتی ہیں کہ بیٹا علی الصباح بیدار ہو،محنت کرے مگر وہ سقراط تھے،اپنی ضد اور سستی پر اَڑے ہوئے تھے۔
ماں ان کی معلمہ کے پاس جاتی ہیں اور التجا کرتی ہیں کہ آپ سقراط کو صبح اٹھنے کے فوائد سے آگاہی دیں!
معلمہ نے ہامی بھری اور سقراط کو سامنے بٹھایا، کہا کہ میں آپ کو ایک خوب صورت واقعہ سناؤں گی اور آپ مجھے بتائیں گے کہ آپ نے اس واقعہ سے کیا سبق حاصل کیا؟
ٹھیک ہے؟ معلمہ نے اپنی طرف سے پوری جدو جہد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
جی بہتر! سقراط نے جواب میں یقین دلاتے ہوئے کہا۔

دیکھیں! سقراط دو چڑیاں ہیں،ایک،صبح جلدی جاگتی ہے،وہ خود بھی حشرات الارض کھاتی ہے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی کِھلاتی ہے اور دوسری چڑیا،دن گئے تک سوتی رہتی ہے اور جب وہ جاگتی ہے تو اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں ملتا۔۔۔
معلمہ نے منطقی انداز میں اسے سمجھانے کی بھر پور کوشش کی اور پوچھا کہ:
بتائیے کہ آپ نے اس بات سے کیا نتیجہ اخذ کیا ہے؟
سُقراط نے نتیجہ نکال کر معملہ کی اس پر مغز نصیحت کا سارا لطف ہی ہوا میں اڑادیا،
بولا کہ اس کا مطلب ہے کہ "جو حشرات الارض صبح جلدی اٹھتے ہیں،وہ چڑیا کے حملے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
(ایک عربی تحریر کا سلیس ترجمہ)
#
#
#

19/10/2024

نامِ "اللہ" کی فضلیت،اہمیت اور خُصوصیت

( مولانا) شکیل أحمد ظفر

اس ذات کریمی کو جس نے ہمیں عدم سے وجود بخشا اور ہماری ہر طرح سے نگہبانی کی،جس نے ہمارے لیے اپنی بیش بہا نعمتوں کے دریا بہادہیے اور حیوانات و حشرات اور شجر س حجر کو ہمارے لیے مُسخر کردیا،زمین و آسمان بل کہ کائنات کی ہر چیز کو ہماری خدمت اور راحت رسانی کے لیے مامور کردیا،جو ہماری زندگی و موت اور ما بعد الموت کی تمام کیفیات و حالات کے بارے میں مختارِ کل ہے اور جو ہماری حاجت روائی کرتی ہے اور جو ہماری بھنور میں پھنسی کشتی کو پار لگاتی ہے،اس ذات کو ہر اس نام کے ساتھ پکارا اور یاد کیا جاسکتا ہے جو نام اس کے شایانِ شان ہو۔
شرط صرف یہ ہے کہ وہ نام،اس ذات کریمی کی الوہیت و ربوبیت،عظمت و تقدیس اور کمالات و صفات کے مخالف نہ ہو،
فقہائے کرام نے بھی اس کی تصریح کی ہے جو نام بھی مندرجہ بالا اصول پر پورا اترتا ہے،اس نام سے پکارنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
اس ذات کریمی نے خود بھی ارشاد فرمایا ہے کہ:
آپ کہہ دیجیے کہ آپ اس ذات کریمی کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر،جس نام سے بھی پکارنا چاہو،پکار سکتے ہو،اس کے بہت سے اچھے نام ہیں یا پھر تمام خوب صورت اور بہترین نام اسی کے ہیں۔
(پارہ نمبر 16 سورہ بنی اسرائیل،آیت 109)
اس آیت کریمہ سے دو باتیں بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ معلوم ہورہی ہیں:۔
۱: اس ذات کریمی کو ہر اس نام سے پکار سکتے ہیں جو اس کی شان و شوکت کا احاطہ کرتا ہو،خواہ کسی بھی زبان میں،کسی بھی الفاظ کے ساتھ ہو،
۲: اس ذات کریمی کے سبہی نام ہی پیارے اور بہترین ہیں۔لفظی و معنوی ہر اعتبار و لحاظ سے جامع ہیں۔
خلاق عالم کے جتنے بھی نام ہیں،وہ سب کے سب آپ کی قدرت و طاقت،علم و حکمت،نصرت و حفاظت،محبت و ہدایت،جود و سخا اور رحمت و مغفرت پر دلالت کرتے ہیں،
اب جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آپ کے نام کتنے ہیں اور کون سے ہیں؟ اس کا جواب ہمیں حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی حدیث سے ملتا ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا:
حق تعالیٰ کے "اسمائے حسنیٰ" کی تعداد نوے (90) ہے،جو شخص ایمان و یقین کے ساتھ اور اس کی رضا کے حصول کے لیے ان ناموں کو یاد کرلے یا ان کے ذریعے دعا کرے،یا ان کے ساتھ اپنے پروردگار کو یاد کرے،یا ان کے معانی و مفاہیم سمجھ کر عمل کرے تو وہ جنت کا حق دار بن جائے گا۔
محدثین حضرات نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے اس ارشاد سے حق تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کی تکثیر مقصود ہے،تحدید نہیں۔
تکثیر و تحدید کا مطلب ہے کہ حق تعالیٰ کے اسمائے حسنی صرف یہ ہی نہیں ہیں بل ان کے علاوہ بھی کئی ایک آپ کے نام ہیں۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ ننانوے کا جو عدد اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے،اس کا مقصد ہے کہ حدیث مبارک میں ذکر کردہ ان ناموں کو یاد کرنے والا جنت میں جائے گا۔اس فضیلت کا تعلق خُصوصیت کے ساتھ انہی ناموں کے ساتھ ہے۔
(تفصیل کے لیے مشکوة المصابیح کی شرح مظاہر حق جدید دیکھی جاسکتی ہے۔)

یہ بات کسی بھی اہلِ علم اور اہلِ اسلام سے مخفی نہیں ہے کہ ان تمام ناموں میں سے صرف لفظ "اللہ" اسم ذات ہے اور باقی تمام نام صفاتی ہیں۔
پارہ نمبر 28 سورة الحشر کی آیات 22 تا 24 سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اسم ذاتی ہے اور دیگر اسمائے حسنیٰ صفاتی ہیں۔
ذرا ملاحظہ کیجیے ان آیات میں سے ہر آیت میں لفظ "اللہ" اسم ذاتی ہے اور پھر باقی اسمائے صفاتی کا ذکر ملتا ہے۔
عربی گرائمر کی رو سے بھی پتا چلتا ہے کہ ان آیات میں لفظ اللہ کو موصوف قرار دیا گیا ہے اور باقی ناموں کو صفت بنایا گیا ہے۔
لفظ "اللہ" خلاق عالم کے ساتھ ہی خاص ہے،کسی دوسرے شخص کو اس مبارک نام کے ساتھ موسوم نہیں کیا جاسکتا۔
پارہ نمبر 16 سورہ مریم کی آیت 36 کا مفہوم ہے کہ:
بے شک اللہ ہی میرا اور تمہارا رب ہے،تم اسی کی ہی عبادت کرو! یہی تو درست راہ ہے۔
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہورہا ہے کہ لفظ اللہ،خلاق عالم کے سوا کسی اور پر نہیں بولا جاسکتا ہے،ورنہ تو بہ صورت دیگر لازم آئے گا کہ کوئی اور بھی انسانیت کا رب ہے۔
دیکھی! جس طرح خلاق عالم کی ذات بلند و بالا ہے،اس کا کوئی شریک و ثانی نہیں ہے،اسی طرح اسمِ اللہ بھی بلند و بالا ہے،اس میں بھی کوئی دوسرا شریک و ثانی نہیں ہے۔
یہی تو وجہ ہے کہ اس عظیم الشان نام کا نہ تثنیہ آتا ہے اور نہ جمع،یہ مفرد ہی استعمال ہوتا ہے اور مفرد ہی ذات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ لفظِ "اللہ" قرآن مجید میں تقریبا دو ہزار نو سو چالیس (2940) مرتبہ آیا ہے۔
جمہور علمائے کرام نے تو لفظ "اللہ" ہی کو اسم اعظم قرار دیا ہے۔
علم و فضل کی یگانہ روزگار ہستی شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ:
یہ بھی تو نامِ اللہ" کا کمال ہے کہ اس کے لیے ہمیں کسی لقب کے لگانے کی ضرورت نہیں پیش آتی،اس کے بر عکس دنیا کا کوئی بھی معزز انسان ہو یا کوئی بھی پروٹوکول شخصیت ہو،اس سے ہم بغیر کسی احترام والے لفظ کے مخاطب نہیں کر سکتے۔
مثال کے طور پر صدر،وزیر اعظم،وفاقی و صوبائی وزیر،ایم این اے ایم پی اے،ڈی سی،ڈی پی او، آئی جی،استاذ،مہتمم،پرنسپل وغیرہ ہر ایک کے ساتھ ہمیں محترم،مکرم،عزتِ مآب،قابل قدر، صاحب وغیرہ کے سابقے و لاحقے کا اضافہ کرنا پڑتا ہے۔
مگر "اللہ" ایک ایسا واحد مبارک و مقدس و مطہر و شیریں نام ہے کہ ہم مصائب وآلام میں گھر کر بھی صرف "اللہ" پکاریں تو ہمیں عجیب ہی لطف و سرور ملتا ہے۔

یہ لفظِ "اللہ" تو ایسا نام ہے جو غفلت میں بھی لیا جائے تو خیر و برکت سے خالی نہیں۔
اگر کوئی عظمت و تقدس کے ساتھ اس نام کا ورد کرے تو اس کا حسین مقدر قابلِ رشک ہے۔
جب تک یہ دنیا میں اس نام کی صدائے بازگشت گونجتی رہے گی،تب تک یہ دنیا آباد رہے گی مگر جب کوئی زبان بھی اس نام کا ذکر والی باقی نہیں رہے گی،تب بساطِ عالم کو لپیٹ دیا جائے گا،آسمان کی قندیلیں بھجھادی جائیں گی،نہروں،دریاؤں اور سمندروں کا پانی خشک ہو جائے گا اور نظامِ عالم تہس نہس ہو جائے گا۔)مشکوٰة شریف)
جو اس نام پاک کی تعظیم و تکریم کے واقف ہیں،ان کا کہنا ہے کہ:
حق تعالیٰ کا یہ نام اتنا عظیم الشان ہے کہ ہم ہزار بار بھی مشک و عنبر سے اپنی زبان دھولیں اور پھر یہ نام پاک اپنی زبان پر لائیں تو تب بھی اس کے تقدس کا حق ادا نہیں کرسکتے لیکن یہ تو اس شان کریمی کے کرم کا صدقہ ہے کہ اس نے اپنا یہ مقدس نام ہماری زبانوں پر جاری کردیا۔
اب جو اس نام کا صبح و شام،اپنی وسعت کے مطابق اس کا وِرد کرتا رہے گا،اس کا دل بھی پاک رہے گا،روح بھی پاک رہے گی اور جسم کا ایک ایک انگ بھی پاک رہے گا،
اس کی دنیا بھی اچھی ہوگی اور آخرت میں وہ مزے کرے گا۔۔۔
#
#
#

19/10/2024

روزنامہ "اساس"کے خصوصی ایڈیشن میں طبع زاد ہمارا مضمون
"لفظِ اللہ کی فضلیت اور خُصوصیات"
اس مضمون میں مربی و محسن،شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم رحمۃ اللہ علیہ کا بیان فرمودہ علمی نکتہ،بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
پڑھیے! لفظِ "اللہ" کو وردِ زبان بنائیے!
شکیل أحمد ظفر
منتظم: عثمان بن عفان ایجوکیشنل کمپلیکس چٹی پلی
#
ملتان روڈ وہاڑی
#

#

15/10/2024

نظامِ ربانی یا نظامِ انسانی؟

شکیل احمد ظفر

(منتظم: عثمان بن عفان ایجوکیشنل کمپلیکس وہاڑی)

یہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او ہے،اس نے ابھی حال ہی میں ایک رپورٹ پیش کی ہے کہ شراب نوشی،کم مقدار میں بھی انسانی صحت کے لیے مُضر ہے۔
رپورٹ میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ "شراب کے استعمال سے دنیا میں ہر سال26 لاکھ افراد لقمہ اجل بنتے ہیں۔
شراب نوشی کم از کم سات قسم کے کینسر کا باعث بنتی ہے،جس میں آنتوں اور چھاتی کا کینسر بھی شامل ہے۔
کنیڈا کی وکٹوریہ یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر ٹم اسٹاک بھی عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
"شراب نوشی بنیادی طور پر خطرناک چیز ہے،جیسے ہی آپ اسے استعمال کرنا شروع کرتے ہیں،اس کے اثرات سامنے آنے لگتے ہیں۔" (BBC نیوز اردو)

معزز قارئین! عالمی ادارہ صحت کی شراب نوشی کے متعلق ہوش ربا رپورٹ آج سامنے آئی ہے مگر قرآن کریم نے آج سے 1443ھ سال قبل 3 ہجری میں ہی شراب کی حرمت کا حکم دیا تھا اور اس کے خوف ناک نتائج سے (اثْمُهما اکبر من نفْعِهِما کی تفسیر دیکھ لی جائے) سے بھی دنیا کو آگاہ کردیا تھا۔

قرآن کریم نے سودی نظامِ معیشت کو بھی حرام قرار دیا تھا(أحلَّ اللّٰهُ البَیعَ وَ حَرَّمَ الرِّبَوا) اور اس کے نقصانات کے بارے میں بھی پہلے بتادیا تھا،
اس کے باوجود بھی دنیا کے ایک بڑے طبقے نے سودی نظام کو رائج کرنے میں عافیت سمجھی اور اسے اپنی معاشی ترقی کا
راز سمجھ کر قبول کیا مگر آج ماہرینِ معشیت یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ "سود نے انسانی معیشت کو نقصان سے دو چار کیا ہے"۔
ہماری معاشی مشکلات و اقتصادی بحران کا سب سے بڑا سبب سودی نظام ہے۔
ان دونوں باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ سودی نظام اور شراب نوشی کی بیماری سے نجات،پوری نسلِ انسانی کی ضرورت ہے۔
معزز قارئین!
ہم مسلمان یہ کہنے میں بجا ہیں کہ تمام اسلامی احکامات و تعلیمات، دنیائے انسانیت کے لیے سر تا پا خیر و بھلائی اور نفع و سکون کا سب ہیں،
اس کی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام،منشورِ حیات ہے اور یہ منشور اس عظیم و مہربان پرودگار کی طرف سے دیا گیا ہے جو کائنات کے ذرے ذرے اور ہر انس و جن کو پیدا کرنے والا اور اس کا پالنہار ہے۔
یہ یاد رہے کہ اسلام کی صورت میں موجود یہ "نظامِ ربانی" ہی تمام انسانیت کے لیے دنیا و آخرت میں فلاح و بہبود کا ضامن ہے۔
نظامِ ربانی کے مقابل میں کوئی بھی نظامِ انسانی دنیا کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں رکھ سکتا۔
اب دنیا یہ فیصلہ کرلے کہ وہ کون سا نظام اختیار کرنا چاہتی ہے؟ نظامِ ربانی یا نظامِ انسانی؟
#
#
#

14/10/2024

*نبئ رحمت کے دنیائے انسانیت پر چھ بڑے احسانات اور آپ کے چھ بنیادی حقوق*

(مولانا) شکیل أحمد ظفر

مسلم امہ کے ایک ایک فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے سب سے محسن اور سب سے بڑے مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے حُقوق پورے جوش و جذبے کے ساتھ ادا کرے۔
آخر ایک امتی اپنے اس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے حقوق کی ادائی کے لیے کیوں نہ جد و جہد کرے جو نبی ان کے لیے اپنی جان سے بڑھ کر ہم درد و خیرخواہ تھا۔
جس نبی کے احسانات،ان کے ہر نام لیوا پر ابرِکرم کی طرح برستے ہیں،جس نبی کی روشن تعلیمات نہ ہوتیں تو ہم میں سے ہر ایک جانوروں سے بھی زیادہ بد تر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا،
جس نبی کی مبارک ہدایات نہ میسر ہوتیں تو کوئی بھی زندگی کا لطف حاصل کرسکتا اور نہ ہی جنت کے حسین نظارے کرسکنے کا نصیبہ رکھتا!!

اس نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے ساری دنیائے انسانیت پر چھ بڑے احسانات کیے ہیں،جو نوع انسانی کے ہر فرد کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ میں اس نبی کا باغی کیوں بن کر رہوں؟
میں اس نبی کے بتائے ہوئے طریقوں پر خود کو کیوں گامزن نہ کروں؟
میں اس نبی کی سنتوں کو اپنے لیے حرزِ جان کیوں نہ بنالوں؟
آئیے!! ملاحظہ کیجئے!! کہ وہ احسانات کیا ہیں؟
*1* *:* حُضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے دنیا کو "وحدتِ رَب" کا تصور دیا یعنی کہ انھیں کئی خود ساختہ خداؤں کے چُنگل سے نکال کر ایک ہی خدا کے حضور ماتھا ٹیکنے کا درس دیا۔
دنیا کو باور کرایا کہ شرک و بت پرستی ایک ایسا خطرناک مرض ہے جو انسان کو انسانیت کا مقصد بھی بھلا دیتا ہے اور اسے انسانیت کی شان بھی بھلا دیتا ہے۔
توحید ایک ایسا نظام ہے جو ہر انسان کو دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی کا راز مہیا کرتا ہے۔
2: حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے مختلف فرقوں اور رنگ و نسل،قوم و قبیلہ اور مال و دولت کے تباہ کن تعصب کی آگ میں جھلستی انسانیت کو " *وحدتِ اب"* کا پیغام دیا،
اس کا مطلب ہے کہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے دنیا کو وحدت انسانی کا مفہوم سمجھایا۔
(وحدتِ اب: تمہارا باپ ایک ہے اور تم سب اس کی اولاد ہو۔)
3: ایک دوسرے سے حسد و بغض اور دشمنی و عداوت کا اظہار کرتی دنیا کو "احترام انسانیت" کا درس دیا۔
حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے اس دنیا کو بتایا کہ علو و برتری کے خود سے وضع کردہ تصورات سے بالاتر ہوکر ایک انسان کو دوسرے کا محض اس لیے بھی احترام کرنا چاہیے کہ وہ ایک انسان ہے۔
سوچیے کہ ساڑھے چودہ صدیاں قبل کے خود پسندی،مفاد پرستی اور اقربا پروری کے اس دورِ جاہلیت میں احترامِ انسانیت کا درس،اپنے وجود میں کتنی اہمیت رکھتا ہے۔
4: حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے مایوسی و نا امیدی کے ماحول میں گری ہوئی دنیا کو احساس کمتری سے نکالا اور اس سے ایک نئے عزم و ہمت اور استقامت و استقلال اور اخلاص و لِلّٰھیت کے ساتھ زندگی گزانے کا حوصلہ دیا اور ان کے لیے زندگی کی روشن شاہراؤں کا تعین کیا کہ دنیا فلاح و بہبود پر مبنی ان خُطوط پر چل کر دنیا میں اپنی قسمت سنوار سکتی ہے اور آخرت میں اپنے پروردگار کی جنت کا حق دار بن سکتی ہے۔
5: دین و دنیا کی تقسیم کا شکار دنیا کو وحدت کا شعور فراہم کیا کہ دنیا اگر اپنا قبلہ درست کرلے اور اپنے ذہن کو وسعت دے لے تو اس کی ساری زندگی عبادت میں گزر سکتی ہے اور اس کے لیے روئے زمین کا ایک ایک چپہ،عبادت گاہ بن سکتا ہے۔
حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے اس کا عملی نمونہ خود بھی پیش کیا اور آپ کی تیار کردہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت نے بھی پیش کیا کہ ان کا تمام وقت "عبادتِ الٰہی"میں ہی صرف ہوتا تھا۔
6: حُضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے اپنے مقصد حیات سے بے خبر دنیا کو اصل مقصدِ حیات سے باخبر کیا اور اسے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے اصولوں اور طریقوں سے بھی آگاہ کیا۔

اب ہمیں معلوم ہوا کہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ہمارے کتنے بڑے محسن ہیں بل کہ ہمارے سب سے بڑے محسن ہیں،
استاذ مکرم شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ:
احسان مندوں کے لیے یہ ضابطہ ہے کہ شُکرُ المنعمِ واجبٌ،
عربی کی اس عبارت کا مطلب ہے کہ احسان کرنے والے کا شکریہ ادا کرنا واجب و ضروری ہے۔
شکریہ ادا کرنے کا سب سے بہتر طریقہ اپنے محسن کے وہ حقوق پورے کرنا ہوتا ہے،جو اس پر عائد ہوتے ہیں۔
اب ہمیں یہ جاننا ہے کہ ہمارے نبی حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے ہم پر حقوق کیا ہیں۔
اس کے جواب میں سیرت نگاروں، علما اور محدثین نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے چھ بنیادی حقوق بتائے ہیں۔:
1: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر ایمان لانا اور انھیں اللہ کا آخری پیغمبر و رسول ماننا، کیوں کہ قرآن کریم کی ایک سو کے قریب آیات اور 210 احادیث مبارکہ سے اس عقیدہ ختم نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔
2: حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ کی اتباع کرنا،آپ کی اطاعت و فرماں برداری کا فریضہ سر انجام دینا،
3: حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے اپنی جان،مال،متاع،اولاد اور ہر چیز اور ہر ایک بشر سے بڑھ کر محبت کرنا اور اس کا عملی مظاہرہ کرنا،
4: حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے جُڑی ہوئی ہر چیز کا ادب واحترام بجا لانا،
5: حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر کثرت سے دور شریف پڑھنا کیوں کہ اس سے ایک تو اللہ کا حکم پورا ہوتا ہے،دوسرا فرشتوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے،تیسرا ایک مرتبہ درود شریف پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں،دس درجے بڑھتے ہیں اور دس گناہ معاف ہوتے ہیں۔
چوتھا اسے غم ختم ہوتے ہیں،ٹینش اور ڈپریشن جیسے مہلک مسائل سے نجات ملتی ہیں،
پانچواں حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی کل روزِ محشر شفاعت نصیب ہوگی،
چھٹا حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ کی جنت میں قربت حسین مقدر کا حصہ بنے گی۔
6: حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی مدد و نصرت،حمایت و اعانت کرنا بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا حق ہے۔
یاد رکھیں! کہ جو بھی اس محسن و غم خوار نبی کے حقوق کو ادا کرتا ہوا راہی دار بقا ہوگیا،قبر بھی اس کے لیے باغیچۂ جنت ثابت ہوگی اور میدان حشر میں حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے دست عنایت سے جام کوثر پینے کا بھی لا زوال اعزاز پائے گا۔۔۔۔۔

07/10/2024

*آٹھ عظیم استاذ*

کل دنیا بھر میں "عالمی یومِ تکریمِ اساتذہ 5 اکتوبر" بڑے اہتمام کے ساتھ منایا گیا۔

اساتذہ کرام کے خوبیوں کا تذکرہ کرنا اور ان کا احترام بجا لانا از حد ضروری ہے،کیوں کہ
استاذ،معاشرے کا ایک ناگُزیر حصہ ہے۔ایک اچھا استاذ ہی قوم،ملک اور معاشرے کا معمار ہوتا ہے۔
معاشرے میں اچھائی کو پروان چڑھانے اور برائی کی روک تھام کے لیے استاذ کا مثبت کردار ناقابل فراموش ہے۔
دنیا میں ہر کام یاب شخص کی کام یابی کا سہرا استاذ کے سر پر جاتا ہے۔
جن دینی،علمی،سماجی اور رفاہی شخصیات نے اپنے اپنے میدان میں کام یابی و کام رانی کے جھنڈے گاڑے ہیں،وہ،وہ نصیبے ور لوگ ہیں جنہیں مُربی والدین اور محنتی و لائق اساتذہ کی مجلسیں نصیب آئی ہیں۔

ہمیں بھی قدرت نے ایسے ہی اساتذہ عطا کیے جو علم و فضل،اخلاص و لِلّٰھِیت،ہم دردی و خیر خواہی،محنت و مشقت، شجاعت و بسالت اور جود و سخا کے مُرقَّع تھے مگر ہم ہی کھوٹے سکے رہے کہ ان کی ثمر آور صحبت سے خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکے۔
جن اساتذہ کرام نے ہم پر شب و روز محنت کی اور اب وہ دارِ فانی سے دارِ ابدی کی طرف رحلت کرگئے ہیں،ان کا ایمان افروز ذکرِ خیر،سکون دل اور نشاطِ روح کا سبب ہے۔
ہمارے ان مرحوم اساتذہ کی تعداد آٹھ کے عدد پر مشتمل ہے۔

*1* : مربی و محسن،مخلص و مشفق،اکابر و اسلاف کی نسبتوں کے امین، *شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم رحمۃ* *اللہ علیہ*
بانی و منتظم: جامعہ خالد بن ولید وہاڑی،

*2:* مجسمۂ صداقت و ثقاہت،امام الصرف و النحو،متعدد معروف و مستند علمائے کرام کے استاذ *مولانا* *محمد امین بہلوی رحمہ اللہ*
سابق استاذ الحدیث: جامعہ خالد بن ولید وہاڑی و جامعہ عمر بن خطاب ملتان،

*3* : نہایت ہی دل کش آواز و خوب صورت انداز کے مالک،استاذ مکرم،استاذ القراء *قاری محمد* *اقبال صاحب* رحمۃ اللہ علیہ
بانی و منتظم: مدرسہ گلشن رسول امیر معاویہ ٹبہ سلطان پور،
*4:* استاذ العلما،جمال و جلال کے پیکر حضرت *مولانا حفیظ اللہ* *صاحب* رحمۃ اللہ علیہ،
سابق استاذ الحدیث: جامعہ خالد بن ولید وہاڑی و مہتمم مدرسہ عشرہ مبشرہ بالجنة
لودھراں،
*5* : مُصنف کتبِ کثیرہ،حق و سچ کی مضبوط و توانا آواز،قلم و قرطاس کے ماتھے کا جھومر *حضرت مولانا بشیر احمد حصاروی* *صاحب* رحمۃ اللہ علیہ
شاگردِ رشید: حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ

*6* : مُناظرِ اسلام،راسخ فی العلم،ماہر طبیب *حضرت مولانا* *محمد یوسف رحمانی* *صاحب* رحمۃ اللہ علیہ
*7* *:* مُناظر اسلام،باریک بین و نکتہ دان *حضرت مولانا اسماعیل* *محمدی صاحب* رحمۃ اللہ علیہ،

*8* : مُناظرِ اسلام،محیر العقول حافظہ کے مالک *حضرت مولانا عبد* *الغفار ذھبی صاحب* رحمہ اللہ

نور الله مرقدهم وأسكنهم فسيح جناته...
ہمارے یہ سب کہنہ مشق اساتذہ کرام تو دنیا سے چل بسے مگر ہمارے لیے اپنے عزم و استقلال،جفاکشی و مردانگی اور تقویٰ و طہارت کے روشن خطوط چھوڑ گئے،ایسے روشن خطوط کہ جن پر گامزن رہنے والا کبھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھتا بل کہ وہ دنیا میں بھی کام یاب رہے گا اور آخرت میں بھی سرفراز رہے گا۔
*✍️: شکیل أحمد ظفر*
*منتظم: عثمان بن عفان ایجوکیشنل کمپلیکس چٹی پلی ملتان روڈ وہاڑی*

22/08/2024

الحمدللہ!
ہماری آج کی تحریر بہ عنوان " امت مسلمہ کے دو بوڑھے مگر جواں دل شیر" پر حضرت سید سلمان گیلانی صاحب مدظلہ العالی کی طرف سے شاباشی ملی ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں ان چند سطروں پر بہت سے اکابر حقہ اور مشائخ کرام کی طرف مخلصانہ دعاؤں کا قیمتی ہدیہ ملا ہے۔
بلا شبہ بڑوں کا ظرف بھی بڑا ہوتا ہے۔
جزاکم اللہ خیرا
شکیل أحمد ظفر

22/08/2024

*امت مسلمہ کے دو بوڑھے مگر جواں دل شیر*

✍️: *شکیل أحمد ظفر*
*منتظم: عثمان بن عفان* *ایجوکیشنل کمپلیکس وہاڑی*

سپریم کورٹ کے ختم نبوت پر ایک متنازعہ فیصلے نے ملک کے طول و عرض میں ایک ہیجانی کیفیت بپا کر رکھی تھی۔
اسلامیانِ پاکستان مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر فتنہ قادیاں کی بیخ کنی کے لیے میدانِ عمل میں موجود رہے۔
ان سب کا کردار اپنی اپنی جگہ پر لائق تحسین بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی مگر
شان کریمی خوب تر جزا عطا کرے کہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کو جن کے دل اپنی پیرانہ سالی میں بھی ہر مظلوم مسلمان اور ہر دینی مسئلے کے ساتھ دھڑکتے رہتے ہیں۔
یہ بوڑھے شیر ہر دینی محاذ پر پوری جرأت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور سینہ تان کر کھڑے ہوتے ہیں۔ان دونوں کے تقوی و اخلاص اور علم و فضل پر پورے عالمِ اسلام کو ناز ہے۔
آج سپریم کورٹ میں ختمِ نبوت کے معاملے پر جو انہوں نے متفقہ مؤقف اپنایا ہے اور ایمانی جذبے سے سرشار ہوکر چیف جسٹس سے مُدلل مکالمہ کیا ہے،وہ اللہ کے انہی پر اسرار بندوں کا ہی خاصہ ہے۔

اللہ ہی جانتے ہیں کہ ان دونوں پاک باز شخصیات کا اپنے مالک حقیقی سے کیسا روحانی تعلق استوار اور کیسا مبارک رشتہ قائم ہے کہ وہ مالک کسی بھی محاذ پر ان کی کمر لگنے ہی نہیں دیتا۔یہ جس مشن کو لے کر شانہ بشانہ چلتے ہیں،ایسے لگتا ہے کہ وہ مشن اپنی کام یابی کے لیے انہی اولوالعزم ہستیوں کا منتظر تھا۔

اللہ رے کیا ان کی شانِ رعنائی ہے کہ ان کی عزت و تکریم اور مقام و مرتبے میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ان کی ہر کہی پوری ہورہی ہے،فارسی کا یہ محاورہ ان پر ہر طرح سے صادق آتا ہے کہ

قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید

آج چیف جسٹس کا قائد جمعیت کے لیے یہ کہنا کہ "آپ کے آنے کا شکریہ اور آپ کو یہاں دیکھ کر خوشی ہورہی ہے،آپ پورے کیس میں ہمارے ساتھ رہیں!
چیف کا شیخ الاسلام کے لیے یہ جملہ کہ "آپ ہمارے استاذ ہیں،ہم آپ کی عزت کرتے ہیں،آپ شریعت اپلیٹ بینچ کا بھی حصہ رہے ہیں۔"
حقیقت میں علمائے اہل سنت والجماعت (دیوبند) کے علمی وفکری کارناموں کا بر ملا اعتراف ہے۔
اے رشک ملائک بزرگوں!
ہمارے اسلاف بجا طور پر آپ فخر کرتے ہیں اور ہم اصاغر آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کو اعزاز سمجھتے ہیں۔
سبحان اللہ! ان کا یہ پڑھاپا،ان ہزاروں نوجوانوں سے صدہا درجے بہتر ہے جن کی قیمتی جوانی شراب و کباب،حسن و جمال اور بے رحم مال و دولت کے نذر ہورہی ہے۔

17/08/2024

مصور نے کمالِ فن کاری اور مسجد اقصی کے ساتھ کمالِ محبت کا مظاہرہ کیا ہے۔
اللہ جزائے خیر دے انہوں نے "قبة الصخرۃ" کے چاند کو آسمانی چاند میں ایسا مزج کرکے دیکھایا کہ مزہ آگیا۔

ایک مہربان دوست نے مصور کی جدو جہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ کوشش اچھی ہے مگر آسمانی چاند بڑا ہے۔
اس پر کاتبِ حروف نے عرض کیا ہے کہ:
آزادی،انصاف اور استحکام کا چاند بڑا ہی نظر آئے گا کیوں کہ اس نے "اہلِ غزہ"کی آزادی کی کرنیں پوری دنیا میں پھیلانے کا کام پوری تن دہی سے کرنا ہے۔

شکیل أحمد ظفر

14/08/2024

خدا کرے یہ سبز ہلالی پرچم بلند ہی رہے اور اپنے لوگوں کے لیے ہمیشہ امن و سلامتی اور خوش حالی و شادمانی کا پیامبر بنا رہے۔
خدا کرے کہ نہ خم ہو سرِ وقار وطن
اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو،
اس حسین پرچم پر آج 77 واں یومِ آزادی سایۂ فگن ہوچکا ہے۔
پاکستانی قوم آج آزادی کی نعمت پر خوشی سے نہال ہے مگر یاد رکھیں! یہ نعمت ہمیں اللہ کریم نے دی ہے۔اس نعمت کی خوشی کا اظہار بھی اللہ کریم کی منشا کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔
اللہ کریم کے حضور دستِ دعا بھی دراز کرنےچاہیں کہ
الہا! جس طرح تو نے اپنے فضل وکرم سے ہمیں زمینی آزادی دی ہے،اسی طرح ہمیں دینی، فکری،نظریاتی اور معاشی آزادی بھی عطا کردے۔
اس آزادی سے بھی سرفراز کردے جس میں
کسی بھی ہم وطن کے لیے حیات جرم نہ ہو اور زندگی وبال نہ ہو
شکیل أحمد ظفر
منتظم: عثمان بن عفان ایجوکیشنل کمپلیکس چٹی پلی ملتان روڈ وہاڑی
/ #
#
#

Want your school to be the top-listed School/college in Vehari?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Tibbah Sultan Por
Vehari
61010