W M Shaheen

W M Shaheen Let's Change the ViewPoint. Everything has 360 angles to view it. So let's change your ViewPoint to observe the things differently.

Happy Independence Day. 14 August, 2026.May ALLAH give us the Awareness of true Freedom.
14/08/2026

Happy Independence Day.
14 August, 2026.
May ALLAH give us the Awareness of true Freedom.


14/08/2026

تمام اہل وطن اور سب پاکستانیوں کو یومِ‌آزادی مُبارک۔
ﷲ تعالیٰ ہمیں حقیقی آزادی کا شعور عطا فرمائے۔
پاکستان۔۔۔
ہمیشہ زندہ‌باد۔

‏" بشیرے کافی پلا دے "بشیرا بیس منٹ بعد کافی کا مگ سیڑھیاں چڑھ کر لاتا ھے تو چوہدری صاحب پوچھتے ہیں : ”بشیرے ! سات برس ہ...
24/06/2026

‏" بشیرے کافی پلا دے "
بشیرا بیس منٹ بعد کافی کا مگ سیڑھیاں چڑھ کر لاتا ھے تو چوہدری صاحب پوچھتے ہیں :
”بشیرے ! سات برس ہو گۓ۔ تم روز سیڑھیاں چڑھ کر کافی لاتے ہو ،حالانکہ تم لنگڑے بھی ہو مگر کافی کبھی چَھلکی نہیں ؟“
بشیر جھینپ کر کہتا ھے :
”سیڑھیاں چڑھتے ہوۓ میں ایک بڑا سارا گھونٹ بھر لیتا ہوں !“
چودہدری صاحب ناراض ہو کر کہتے ہیں :
”بشیرے ! تم کرپشن کرتے ہو؟؟؟“
بشیرا گبھرا کر نہیں : ”نہیں ،
چوہدری صاحب! سیڑھیاں چڑھنے کے بعد میں وہ گھونٹ واپس مگ میں ڈال دیتا ہوں۔“
🤣🤣🤣🤣🤣

‏آپریشن کے بعد دیہاتی رشتہ داروں کی ڈاکٹر صاحب سے گفتگو!آپریشن کامیاب ہو گیا، مریض خطرے سے باہر آ گیا، لیکن اب اصل امتحا...
21/06/2026

‏آپریشن کے بعد دیہاتی رشتہ داروں کی ڈاکٹر صاحب سے گفتگو!

آپریشن کامیاب ہو گیا، مریض خطرے سے باہر آ گیا، لیکن اب اصل امتحان ڈاکٹر صاحب کا تھا... کیونکہ سامنے دیہاتی رشتہ دار بیٹھے تھے! 😅
دیہاتی رشتہ دار:
"ڈاکٹر صاب، ہُن مریض نوں کھان لئی کی دیئے...؟"
ڈاکٹر:
"نرم غذا دیں۔"
دیہاتی رشتہ دار:
"نرم غذا...؟ مطلب روئی ورگی یا تکیے ورگی...؟"
ڈاکٹر:
"نہیں بھائی، دلیا، کھچڑی، ڈبل روٹی، بسکٹ، پھل اور جوس وغیرہ۔"
دیہاتی:
"پھل سارے دیئے یا صرف نرم والے...؟"
ڈاکٹر:
"کوئی بھی موسمی پھل دے دیں۔"
دیہاتی:
"فروٹر وی دے سکدے آں...؟"
ڈاکٹر:
"ہاں، دے دیں۔"
دیہاتی:
"پر اوہدی کھنگ نہ نکل پئے...؟"
ڈاکٹر:
"اچھا پھر نہ دیں!"
دیہاتی:
"نئیں نئیں، جے ضروری اے تے ضرور دیواں گے!"
کچھ دیر سوچ کر پھر پوچھا:
"پھل روٹی توں پہلاں دیئے یا روٹی دے نال...؟"
ڈاکٹر:
"او بھائی! ابھی روٹی نہیں دینی!"
دیہاتی:
"تے مریض کی کھاوے گا...؟"
ڈاکٹر:
"دلیا، کھچڑی، پھل، جوس..."
دیہاتی:
"گوشت کیہڑا دیئے...؟"
ڈاکٹر:
"ابھی کوئی گوشت نہیں!"
"چھوٹا وی نئیں...؟"
"نہیں!"
"وڈّا وی نئیں...؟"
"نہیں!"
"مرغی...؟"
"نہیں!"
"مچھلی...؟"
"نہیں!"
"بٹیر...؟"
"نہیں!"
"کبوتر...؟"
"نہیں!"
"تے فیر خرگوش...؟"
ڈاکٹر:
"بابا جی! کوئی پکی ہوئی چیز نہیں دینی!"
دیہاتی:
"اچھا دودھ پلا سکدے آں...؟"
ڈاکٹر:
"ہاں!"
"کچا یا ابال کے...؟"
"ابال کے!"
"گرم یا ٹھنڈا...؟"
"نیم گرم!"
"کِنّا نیم گرم...؟"
ابھی ڈاکٹر جواب سوچ ہی رہے تھے کہ ساتھ بیٹھا دوسرا دیہاتی رشتہ دار بولا:
"اوئے تُوں چپ کر! تُوں تے ڈاکٹر صاب نوں وی مریض بنا دینا اے!"
پھر بڑے اعتماد سے ڈاکٹر کی طرف مڑ کر کہنے لگا:
"ہاں جی ڈاکٹر صاحب...!
مریض نوں خوراک کیہڑی دیئے...؟؟" 🤣🤣🤣
ڈاکٹر صاحب نے خاموشی سے چھت کی طرف دیکھا اور دل میں کہا:
"یا اللہ! آپریشن تے میں کامیاب کر لیا اے...
ہُن ایہہ دیہاتی رشتہ دار میرے صبر دا آپریشن نہ کر دیون!" 😂

دنیا میں بہت سے رشتے ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے میلوں دور ہونے کے باوجود مضبوط اور زندہ رہتے ہیں۔ ان کے درمیان نہ روز...
21/06/2026

دنیا میں بہت سے رشتے ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے میلوں دور ہونے کے باوجود مضبوط اور زندہ رہتے ہیں۔ ان کے درمیان نہ روز ملاقات ہوتی ہے، نہ ہر وقت بات چیت، لیکن پھر بھی ایک خاموش تعلق موجود رہتا ہے۔ ایسا تعلق جو لفظوں سے زیادہ احساسات پر قائم ہوتا ہے۔ دلوں کی قربت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ایک دوسرے کی قدر، فکر اور خلوص موجود ہو۔

محبت کا تعلق جسمانی فاصلے سے کم اور روحانی وابستگی سے زیادہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات دو لوگ مختلف شہروں، ملکوں یا براعظموں میں رہتے ہیں، لیکن ایک کی خوشی دوسرے کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتی ہے اور ایک کا دکھ دوسرے کے دل میں بے چینی پیدا کر دیتا ہے۔ ان کے درمیان کوئی ظاہری رابطہ نہ بھی ہو تو دل ایک دوسرے کی کیفیت کو محسوس کر لیتے ہیں۔

اس کے برعکس بعض رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں قربت تو موجود ہوتی ہے، لیکن اپنائیت نہیں ہوتی۔ لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، ایک ہی دسترخوان پر کھاتے ہیں اور روز ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، مگر ان کے درمیان احساس، توجہ اور محبت کا وہ رشتہ موجود نہیں ہوتا جو دو دلوں کو جوڑتا ہے۔ جب دلوں کے دروازے بند ہو جائیں تو فاصلے چند قدموں کے بھی بہت بڑے محسوس ہونے لگتے ہیں۔

حقیقی محبت صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں۔ یہ دوسرے کی خوشی میں خوش ہونے، اس کے غم کو سمجھنے اور اس کی خاموشیوں کو سننے کا نام ہے۔ محبت وہاں جنم لیتی ہے جہاں انسان دوسرے کی اہمیت کو دل سے تسلیم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سچے تعلقات وقت، حالات اور فاصلے کی آزمائشوں کے باوجود قائم رہتے ہیں۔

محبت ایک ایسا احساس ہے جو کسی قید میں نہیں رہتا۔ نہ دیواریں اسے روک سکتی ہیں، نہ فاصلے اسے کم کر سکتے ہیں۔ اگر دل میں خلوص ہو تو ایک معمولی سی بات بھی محبت کا پیغام بن جاتی ہے، اور اگر خلوص نہ ہو تو ہزاروں الفاظ بھی دل تک نہیں پہنچ پاتے۔ محبت کی اصل طاقت اس کے اظہار میں نہیں بلکہ اس کے اخلاص میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

انسان کی زندگی میں سب سے قیمتی رشتے وہ ہوتے ہیں جن میں محسوس کیے جانے کا احساس موجود ہو۔ جہاں آپ کی موجودگی کی قدر کی جائے، آپ کی کمی محسوس کی جائے اور آپ کی خوشی و غم کو اہمیت دی جائے۔ کیونکہ محبت آنکھوں سے نظر آنے والی چیز نہیں، دل سے محسوس ہونے والی حقیقت ہے۔ اور جب یہ حقیقت کسی رشتے میں موجود ہو تو فاصلے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔

"اثباتی جملے (Affirmations) کیا ہیں؟"اثباتی جملے (Affirmations) ایسے مثبت، پُرامید اور حوصلہ افزا الفاظ یا جملے ہوتے ہیں...
20/06/2026

"اثباتی جملے (Affirmations) کیا ہیں؟"

اثباتی جملے (Affirmations) ایسے مثبت، پُرامید اور حوصلہ افزا الفاظ یا جملے ہوتے ہیں جنہیں انسان روزانہ شعوری طور پر دہراتا ہے تاکہ اس کی سوچ، رویّے اور خود اعتمادی میں مثبت تبدیلی پیدا ہو۔ یہ جملے انسان کو اپنی صلاحیتوں پر یقین دلانے، منفی خیالات پر قابو پانے اور اپنے مقاصد پر توجہ مرکوز رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر: *"میں ہر روز بہتر ہو رہا ہوں"، "میں مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہوں"، "میں کامیابی کا مستحق ہوں"*۔ اگرچہ صرف اثباتی جملے دہرانے سے کامیابی خود بخود حاصل نہیں ہوتی، لیکن جب انہیں مستقل مزاجی، محنت، عملی اقدامات اور مثبت طرزِ فکر کے ساتھ اپنایا جائے تو یہ انسان کی ذہنی کیفیت، اعتماد اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بہت سے ماہرینِ نفسیات، کوچز اور کامیاب افراد مثبت اثباتی جملوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ سمجھتے ہیں۔🌷

*"اثباتی الفاظ (Affirmations) جو اندر کی دنیا بدل دیتے ہیں"*انسان اپنی زندگی میں بے شمار آوازیں سنتا ہے۔ کچھ آوازیں باہر...
20/06/2026

*"اثباتی الفاظ (Affirmations) جو اندر کی دنیا بدل دیتے ہیں"*

انسان اپنی زندگی میں بے شمار آوازیں سنتا ہے۔ کچھ آوازیں باہر کی دنیا سے آتی ہیں اور کچھ اس کے اپنے ذہن کے اندر سے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کی زندگی پر سب سے گہرا اثر اکثر انہی باتوں کا ہوتا ہے جو وہ خود سے کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہر وقت اپنی کمزوریوں، ناکامیوں اور محرومیوں پر توجہ مرکوز رکھے تو رفتہ رفتہ اس کی سوچ محدود ہونے لگتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنی صلاحیتوں، امکانات اور ترقی کے مواقع پر نظر رکھے تو اس کے اندر ایک نئی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مثبت الفاظ اور تعمیری سوچ انسانی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہرینِ نفسیات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انسان کا ذہن بار بار دہرائے جانے والے خیالات سے متاثر ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص شعوری طور پر ایسے جملے اپناتا ہے جو امید، حوصلے اور خود اعتمادی کو تقویت دیتے ہوں، تو آہستہ آہستہ اس کی ذہنی کیفیت میں تبدیلی آنے لگتی ہے۔ یہ تبدیلی کوئی جادوئی عمل نہیں بلکہ ایک تدریجی نفسیاتی سفر ہے۔ انسان اپنے بارے میں جیسا سوچتا ہے، اکثر ویسا ہی محسوس کرنے لگتا ہے، اور جیسا محسوس کرتا ہے، ویسے ہی فیصلے بھی کرنے لگتا ہے۔

تاہم مثبت سوچ کا مطلب حقیقت سے فرار اختیار کرنا نہیں ہے۔ زندگی کے مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ چیلنجز بھی آتے ہیں اور ناکامیاں بھی۔ لیکن فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ انسان ان حالات کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ ایک شخص رکاوٹ کو اختتام سمجھ لیتا ہے، جبکہ دوسرا اسے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع تصور کرتا ہے۔ یہی نقطۂ نظر مستقبل کے راستوں کا تعین کرتا ہے۔ جب ذہن مایوسی کے بجائے امکانات کو دیکھنا شروع کرتا ہے تو مشکل حالات بھی نسبتاً قابلِ برداشت محسوس ہونے لگتے ہیں۔

خود اعتمادی بھی اسی عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ بہت سے لوگ صلاحیت ہونے کے باوجود صرف اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے اوپر یقین نہیں ہوتا۔ وہ اپنی خوبیوں کے بجائے اپنی خامیوں پر توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو اسے دوسروں سے منفرد بناتا ہے۔ کسی میں علم کی قوت ہوتی ہے، کسی میں تخلیقی صلاحیت، کسی میں صبر، کسی میں قیادت، اور کسی میں دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ۔ جب انسان اپنی خوبیوں کو پہچان لیتا ہے تو اس کی شخصیت میں ایک مثبت استحکام پیدا ہوتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صرف اچھے الفاظ دہرانا کافی نہیں ہوتا۔ مثبت جملے تب مؤثر بنتے ہیں جب ان کے ساتھ عمل، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی شامل ہو۔ اگر کوئی شخص کامیابی کا یقین تو رکھتا ہو مگر کوشش نہ کرے، تو الفاظ محض الفاظ ہی رہ جاتے ہیں۔ لیکن جب یقین کے ساتھ محنت، اور امید کے ساتھ عمل شامل ہو جائے تو یہی سوچ ایک طاقت بن جاتی ہے۔ پھر انسان مسائل سے گھبرانے کے بجائے ان کا سامنا کرنے لگتا ہے اور ناکامی کو شکست کے بجائے تجربہ سمجھنے لگتا ہے۔

زندگی میں بعض اوقات سب سے بڑی ضرورت کسی نئے موقع، نئی جگہ یا نئے وسائل کی نہیں ہوتی، بلکہ اپنے بارے میں اپنا نقطۂ نظر بدلنے کی ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو کمزور کے بجائے باصلاحیت، بے بس کے بجائے بااختیار، اور ناکام کے بجائے سیکھنے والا سمجھنا شروع کر دیتا ہے تو اس کی دنیا بدلنے لگتی ہے۔ حالات شاید فوراً تبدیل نہ ہوں، لیکن ان حالات کا سامنا کرنے والا انسان ضرور تبدیل ہو جاتا ہے۔ اور اکثر یہی تبدیلی مستقبل کی بڑی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہے۔

ایک سال بعد آپ خود کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں؟اس جملے کو پڑھنے کے بعد، صرف ایک سیکنڈ کے لیے رک جائیے۔ اپنی آنکھیں بند کریں...
19/06/2026

ایک سال بعد آپ خود کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں؟

اس جملے کو پڑھنے کے بعد، صرف ایک سیکنڈ کے لیے رک جائیے۔ اپنی آنکھیں بند کریں اور تصور کریں۔ جون 2027 میں آپ کی زندگی کیسی ہونی چاہیے؟ آپ کا بینک بیلنس کتنا ہونا چاہیے؟ آپ کی پرسنل برانڈنگ کا لیول کیا ہونا چاہیے؟ آپ کے رشتے کتنے مضبوط اور آپ کا مائنڈ سیٹ کتنا پرسکون ہونا چاہیے؟

اس منظر کو اپنے دماغ کی اسکرین پر پورا واضح دیکھیں۔ اس کامیابی کو محسوس کریں۔ یہ ایک ایسا خواب ہے جو آپ سے آپ کا پورا پوٹینشل مانگ رہا ہے۔

ہم اکثر مستقبل کے بڑے بڑے خواب تو دیکھ لیتے ہیں، لیکن جیسے ہی آنکھیں کھلتی ہیں، ہم خود کو اسی پرانی جگہ پر پاتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہم تصور تو شاندار کرتے ہیں، لیکن ہمارے ایکشنز پرانے ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ آتا ہے کہ ہمیں وہاں پہنچنے کے لیے آج، ابھی اور اسی وقت کیا کرنا ہوگا؟

اگر آپ ایک سال بعد ایک بالکل مختلف اور کامیاب انسان بننا چاہتے ہیں، تو آپ آج وہی پرانے کام نہیں کر سکتے جو پچھلے کئی سالوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ اگر آپ کا دماغ آج بھی غیر تربیت یافتہ (Untrained) ہے، اگر آپ آج بھی اوور تھنکنگ اور سستی کے لوپ میں پھنسے ہوئے ہیں، تو ایک سال بعد بھی آپ ٹھیک اسی جگہ کھڑے ہوں گے جہاں آج کھڑے ہیں۔ مستقبل کو بدلنے کے لیے آج کے مائنڈ سیٹ کو بدلنا شرط ہے۔

مستقبل کو ڈیزائن کرنا این ایل پی میں ایک بہترین تکنیک ہے جسے ہم 'ٹائم لائن تھراپی' (Timeline Therapy) کہتے ہیں۔ اس کے ذریعے ہم نہ صرف ماضی ختم کرتے ہیں، بلکہ لاشعور کے اندر مستقبل کے گولز کو اس طرح پلانٹ کرتے ہیں کہ ہمارا پورا جسم اور ذہن آٹو پائلٹ پر اس ہدف کی طرف بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔

جب آپ کا مائنڈ سیٹ ٹرین ہو جاتا ہے، تو آپ کے اندر کا خوف ختم ہو جاتا ہے، آپ کا خود اعتمادی کا گراف عروج پر پہنچ جاتا ہے اور آپ روزانہ وہ ایکشنز لیتے ہیں جو آپ کو آپ کے خواب کے قریب کرتے ہیں۔

ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں مستقبل ان کا نہیں ہوتا جو صرف سوچتے ہیں، مستقبل ان کا ہوتا ہے جو اپنے لاشعور کو اپنے قابو میں کر کے آج سے عمل کرنا شروع کرتے ہیں۔ اپ کے ذہن میں جو بھی ہے اس پر فوری عمل کرنے کی کوشش کریں اور اپنے آنے والے سال کو بہترین بنائیں۔

زندگی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انسان اکثر اپنی صلاحیتوں سے پہلے اپنی عمر گننا شروع کر دیتا ہے۔ جیسے ہی کچھ برس گزرتے ہ...
19/06/2026

زندگی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انسان اکثر اپنی صلاحیتوں سے پہلے اپنی عمر گننا شروع کر دیتا ہے۔ جیسے ہی کچھ برس گزرتے ہیں، لوگ خود کو محدود کرنے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اب پڑھنے کی عمر نہیں رہی، کوئی سمجھتا ہے کہ خواب صرف جوانی کے لیے ہوتے ہیں، اور کوئی اپنے شوق، ارادے یا خواہشات کو اس لیے دفن کر دیتا ہے کہ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی وقت ختم ہوتا ہے، یا صرف ہمت کم پڑ جاتی ہے؟

اگر غور کیا جائے تو انسان کی اصل جوانی جسم میں نہیں، ارادے میں ہوتی ہے۔ جس شخص کے اندر سیکھنے کی خواہش باقی ہو، جو آج بھی نئے راستوں کے بارے میں سوچتا ہو، جو ناکامی کے بعد پھر سے کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھتا ہو، حقیقت میں وہی زندہ دل انسان ہے۔ عمر کا بڑھنا ایک فطری عمل ہے، مگر خوابوں کا ختم ہو جانا ایک ذہنی فیصلہ بن جاتا ہے۔ دنیا میں بے شمار مثالیں ایسی ملتی ہیں جہاں لوگوں نے زندگی کے ایسے مرحلوں میں کامیابی حاصل کی جب معاشرہ ان سے امید رکھنا چھوڑ چکا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے سب سے بڑے خوابوں کو صرف اس خوف سے ملتوی کرتے رہتے ہیں کہ “اب دیر ہو چکی ہے”۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ دیر تب ہوتی ہے جب انسان کوشش چھوڑ دے۔ اگر دل میں مقصد باقی ہو، ذہن میں جستجو زندہ ہو، اور قدم چلنے کے لیے آمادہ ہوں تو راستے ختم نہیں ہوتے۔ زندگی اکثر انہی لوگوں کو حیران کرتی ہے جو خود کو وقت کی قید سے آزاد کر لیتے ہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لوگوں کو جلدی فیصلے سنانے کی عادت ہے۔ کم عمر ہو تو کہتے ہیں ابھی تجربہ نہیں، زیادہ عمر ہو تو کہتے ہیں اب وقت گزر گیا۔ ایسے میں انسان اگر دوسروں کی رائے کا قیدی بن جائے تو وہ شاید کبھی اپنی اصل صلاحیتوں تک نہ پہنچ سکے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کتنے سال کے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے اندر آگ کتنی باقی ہے۔ کیا آپ اب بھی کچھ سیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ اب بھی بہتر بننے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کیا آپ کے اندر کوئی ایسا خواب موجود ہے جو ابھی تک آپ کو خاموش نہیں بیٹھنے دیتا؟

زندگی کا حسن بھی شاید یہی ہے کہ یہ ہر صبح ایک نیا موقع دیتی ہے۔ کچھ لوگ عمر کے اعداد گنتے رہ جاتے ہیں، اور کچھ لوگ انہی اعداد کے باوجود نئی منزلیں تلاش کرتے ہیں۔ فرق صرف سوچ کا ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے امکانات پر یقین رکھتا ہے تو وقت اس کا راستہ نہیں روکتا، بلکہ اس کے تجربات کو طاقت میں بدل دیتا ہے۔ شاید اسی لیے کچھ لوگ برسوں گزرنے کے باوجود تازہ، متحرک اور امید سے بھرے رہتے ہیں، کیونکہ ان کے اندر خواب ابھی زندہ ہوتے ہیں۔

Address

Near Hashmi Medical Store, 9-11/W-B, Murtazabad Vehari
Vehari
61100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when W M Shaheen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to W M Shaheen:

Shortcuts

Share