Hazrat Khuwaja Sufi Abdul Aziz Shah Naqeebi

Hazrat Khuwaja Sufi Abdul Aziz Shah Naqeebi

Share

میری خوش نصیبی ملا اِنکا دامن کہ اس سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے،�

28/04/2023

فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْکُرُوا اللهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِکُمْ۔
(النساء، 4 : 103)
ترجمہ
’’پھر اے (مسلمانو!) جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہر حال میں) یاد کرتے رہو۔‘‘

درگاہ شاہِ عزیزالاولیاء وہاڑی شریف

27/11/2022

بیــعت ہونےکا فــائدہ

حضرت مُعینُ الدّین اجمیری قدس سرہ العزیز کی عادتِ مُبارکہ تھی کہ ہمسائے کے ہر جنازے پر پہنچتے تھے۔اکثر اوقات میّت کے ساتھ قبر پر بھی تشریف لے جاتے اور تدفِین کے بعد جب لوگ چلے جاتے تو پِھر بھی کچھ وقت کے لیے آپ رحمۃ اللّٰه علیہ قبر پر بیٹھے رہتے۔
ایک دن حضرت خواجہ ہارونی رحمۃ اللّٰه علیہ کا ایک مُریِد فوت ہو گیا۔
خواجہ مُعینُ الدّین رحمۃ اللّٰه علیہ نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد حسبِ عادت اس قبر پر بیٹھے رہے اور مراقبہ فرمایا۔
حضرت خواجہ قُطب الدّین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔
اچانک حضرت مُعینُ الدّین رحمۃ اللّٰه علیہ دہشت کے عالم میں اپنی جگہ سے گھبرا کر اُٹھے اور آپ رحمۃ اللّٰه علیہ کے چہرۂ مُبارک کا رنگ متغیر تھا۔کچھ وقت کے بعد آپ رحمۃ اللّٰه علیہ کی طبیعت بحال ہوئی تو آپ رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا: •
'' بیــعت بھی عجیب چیز ہے۔ ''
حضرت خواجہ قُطب الدّین بختیار کاکی نے عرض کی کہ:
'' میں نے عجیب کیفیت دیکھی ہے۔پہلے آپ کا رنگ متغیر ہو گیا تھا اور پِھر کچھ وقت کے بعد بحال ہو گیا تھا اس کی کیا وجہ تھی؟ ''
فرمایا:
'' جب لوگ اس میّت کو دفن کر کے چلے گئے تو اسے عذاب دینے کے لیے دو فرشتے آئے۔وہ اسے عذاب دینا چاہتے تھے کہ حضرت عثمان ہارونی ( رحمۃ اللّٰه علیہ )
کی صُورت سامنے آ گئی۔آپ ہاتھ میں عصا لیے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا اے فرشتو! یہ ہمارے مُریِدوں میں سے ہے اسے عذاب نہ دو۔فرشتوں نے کہا!
آپ کا یہ مُریِد آپ کے طریقے پر نہ چلتا تھا۔آپ نے فرمایا! اگرچہ یہ میرے طریقے کے خلاف چلتا تھا،لیکن اس نے اپنا ہاتھ فقیر کے دامن میں ڈالا ہُوا ہے۔
غیب سے حُکم ہُوا اے فرشتو! اسے چھوڑ دو ہم نے اس کے پِیر کے طفیل اس کے گناہ بخش دیے۔طریقت کی بیعت ایسے کٹھن مرحلے میں کام آتی ہے۔

( مرآت العاشقین،صفحہ۲۲۱،۲۲۲ )

27/11/2022

فرمانِ قبلہ بابا حضور
پریشان ہونے سے کل کی مشکل دور نہیں ہوجاتی بلکہ اس سے آج کا سکون بھی چلا جاتا ہے۔

درگاہ شاہِ عزیزالاولیاء وہاڑی شریف

25/11/2022

*صالحین کا درجہ پانے کے لیے چھ گھاٹیاں*

حضرت احمد بن حضرویہ رح فرماتے ہیں،حضرت ابراہیم بن ادھم رح نے طواف کے دوران ایک شخص سے فرمایا،جان لو کہ تم صالحین کا درجہ اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک چھ گھاٹیوں کو عبور نہ کرلو..!
1- آسائش کا دروازہ بند کرکے سختی کا دروازہ کھولو۔
2- عزت کا دروازہ بند کرکے ذلت(یعنی عاجزی و تواضع) کا دروازہکھولو۔
3- آرام کا دروازہ بند کرکے محنت و مشقت کا دروازہ کھو لو۔
4- نیند کا دروازہ بند کرکے شب بیداری کا دروازہ کھولو۔
5- مال داری کا دروازہ بند کرکے فقر کا دروازہ کھولو۔
امید کا دروازہ بند کرکے موت کی تیاری کا دروازہ کھولو۔

Want your school to be the top-listed School/college in Vehari?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Vehari