01/04/2026
👍
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Northwest Medical College unofficial., .
01/04/2026
👍
29/03/2026
"Keep doing your best everyday and if no one is proud of you, be proud of yourself."
اگر تم بے روزگار ہو اور نوکری کی تیاری کر رہے ہو تو فلحال خاندانی محفلوں سے دور رہو۔ لائبریری میں وقت لگاؤ۔
28/03/2026
18/03/2026
سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ عید الفطر 2026 جمعہ کو ہوگی۔
14/03/2026
🔴 “ایران عالمی معیشت کو دباؤ میں لا رہا ہے — امریکہ مشکل میں, ایران امریکہ کے لیے ایک اور ویتنام بن سکتا ہے”
"اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ (war of attrition) جاری ہے۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ ایران کی فوجی طاقت کو آہستہ آہستہ کمزور کیا جائے، جبکہ ایران عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ایران خاص طور پر خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو آخرکار امریکہ کو زمینی افواج بھیجنے کے بارے میں سوچنا پڑ سکتا ہے۔
لیکن اگر امریکہ ایران میں زمینی فوج بھیج دیتا ہے تو پھر واپسی کا راستہ تقریباً بند ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں یہ امریکہ کے لیے ایک اور ویتنام جیسی جنگ بن سکتی ہے، کیونکہ ایران جغرافیائی لحاظ سے ایک قدرتی قلعے کی طرح ہے—پہاڑی، مشکل اور دفاع کے لیے موزوں۔
اس وقت امریکہ کے پاس نہ اتنی افرادی قوت ہے، نہ صنعتی پیداوار کی وہ صلاحیت، اور نہ ہی وہ سیاسی عزم کہ وہ ایران کے خلاف طویل زمینی جنگ لڑ سکے۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ زمینی فوج بھیجنے سے گریز کرتے ہیں تو ان کے پاس چند دوسرے راستے موجود ہیں۔ ایک راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے فتح کا اعلان کر دیں اور پیچھے ہٹ جائیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس صورت میں بھی امریکی فوجی اڈے خطرے میں رہیں گے، خلیجی ممالک کی معیشتیں دباؤ میں رہیں گی، اور آبنائے ہرمز بند رہنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔
ایران کو لگتا ہے کہ اس کے پاس اس جنگ میں برتری ہے کیونکہ اس کے پاس سیاسی عزم بھی ہے اور وسائل بھی کہ وہ اس جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھ سکے۔
فرض کریں کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے اپنی افواج واپس بلا لیتا ہے۔ ایسی صورت میں خلیجی ممالک—جیسے سعودی عرب، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات—کو ایران کے ساتھ کسی نہ کسی طرح سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔
دوسری طرف خلیجی ممالک اپنی خوراک کا تقریباً 80 سے 90 فیصد حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرتے ہیں۔ اس لیے اگر توانائی کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ ان ممالک پر بھی پڑے گا۔
اگر یہ صورتحال جاری رہی تو عالمی مالیاتی نظام میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ موجودہ پیٹرو ڈالر سسٹم کمزور ہو سکتا ہے اور اس کی جگہ کوئی نیا نظام سامنے آ سکتا ہے—جیسے BRICS یا سونے پر مبنی مالیاتی نظام۔
امریکی معیشت کا ایک اہم حصہ خلیجی سرمایہ کاری پر بھی انحصار کرتا ہے، خاص طور پر ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اسٹارٹ اپ کمپنیوں میں سرمایہ کاری۔
اگر یہ سرمایہ کاری رک جاتی ہے تو امریکی معیشت کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے اور داخلی معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ سستی توانائی جدید عالمی معیشت کی بنیاد ہے۔
یہ صرف ایندھن کا مسئلہ نہیں بلکہ خوراک، کھاد، صنعتی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی سپلائی چین بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔
صرف دو ہفتوں میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں۔
اگر یہ صورتحال مزید جاری رہی تو عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور ممالک کو اپنی معاشی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں لانی پڑ سکتی ہیں۔
خلیجی ممالک کی ساخت بھی غیر معمولی ہے۔ یہ ریاستیں بنیادی طور پر تیل کی دولت، سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹس اور امریکی فوجی تحفظ پر قائم ہیں۔
ان کے پاس نہ قدرتی پانی کے بڑے ذخائر ہیں، نہ خوراک کی خود کفالت، نہ مضبوط جغرافیائی دفاعی رکاوٹیں، اور کئی جگہ آبادی بھی بڑی حد تک غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔
مثال کے طور پر دبئی میں تقریباً 90 فیصد آبادی غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔
کئی سالوں تک دبئی نے خود کو مشرقِ وسطیٰ کا نیا لندن یا نیا ہانگ کانگ بنانے کی کوشش کی، جہاں امیر لوگ ٹیکس فری ماحول اور پرتعیش طرزِ زندگی کے لیے آتے ہیں۔
لیکن یہ سارا ماڈل اس مفروضے پر قائم تھا کہ امریکہ خطے میں اپنی طاقت کے ذریعے امن اور استحکام برقرار رکھے گا۔
اب اگر امریکی طاقت کا وہ تصور ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا اثر صرف اسرائیل یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے امریکی عالمی نظام پر پڑ سکتا ہے۔
میرے مطابق اس جنگ میں ایک نظریاتی اور مذہبی پہلو بھی شامل ہے، جس میں بعض گروہ اسے ایک بڑی تاریخی تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھتے ہیں۔
میں خود ان نظریات پر مکمل یقین نہیں رکھتا، لیکن چونکہ ایران میں جنگ حقیقت بن چکی ہے، اس لیے مجھے لگتا ہے کہ میرے بعض پیش گوئی پر مبنی تجزیے کسی حد تک درست ثابت ہو رہے ہیں۔
میں اپنے تجزیے میں predictive modelling استعمال کرتا ہوں—یعنی ممکنہ نظریات پیش کر کے ان کی بنیاد پر مستقبل کے امکانات کا اندازہ لگاتا ہوں۔
دو سال پہلے میں نے پیش گوئی کی تھی کہ ایران میں جنگ ہو سکتی ہے، اور آج جب یہ جنگ حقیقت بن چکی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ میرے کچھ اندازے قابلِ غور ضرور ہیں۔"
(پروفیسر جیانگ فینگ — چینی نژاد سیاسی تجزیہ کار، جیوپولیٹیکل مبصر اور بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر۔)
#
جواد احمد کا گانا چلانا کا وقت ہوا چاہتا ہے۔اس گانے کو زندہ بھی ہماری کرکٹ ٹیم نے ہی رکھا ہے۔
15/01/2026
یہ پاکستان کا تعلیمی نظام نہیں، مذاق ہے۔ پہلے یونیورسٹی سے ڈگری لو، فیس دو، انتظار کرو۔ پھر دوبارہ پیسے دو تاکہ وہی یونیورسٹی یہ سرٹیفائی کرے کہ جو ڈگری اس نے خود دی ہے وہ جعلی نہیں ہے۔ یعنی ادارہ خود اپنی بات پر یقین نہیں رکھتا، مگر شہری سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ہر بار فیس دے۔
اس کے بعد فائل HEC جاتی ہے۔
نئی فیس، نئی لائن، نیا انتظار — صرف اس بات کے لیے کہ HEC یہ مان لے کہ اس کی اپنی affiliated یونیورسٹی نے واقعی ڈگری جاری کی ہے۔
لیکن یہاں بھی ریاست مطمئن نہیں ہوتی۔
پھر وہی ڈگری MOFA کو بھیجی جاتی ہے تاکہ HEC کے اسٹیمپ کو بھی چیک کیا جائے کہ کہیں وہ فیک تو نہیں۔
اس پورے عمل میں ہزاروں روپے الگ سے ضائع ہوتے ہیں، مہینوں کا وقت برباد ہوتا ہے، اور عزت نفس سب سے زیادہ پامال ہوتی ہے۔
اوپر سے ایسے لوگ لیکچر دیتے ہیں جنہوں نے خود کبھی ڈگری کا سامنا بھی نہیں کیا، مگر اختیار انہی کے پاس ہے۔
Life in Pakistan has become cheaper than anywhere else in the world. Every single day, we hear about people dying. Just a few days ago, 17 army personnel died in a terrorist attack. In the last two days, police and Rangers have killed 20 TLP protesters in Lahore. And yesterday, there was a terrorist attack on a police academy where 7 officers lost their lives.
This is just what has happened in the past few days, it’s unbelievable to even think almost 50 innocent people died. In any other country, even one killing would cause outrage, anger, rage, despite and agony. But in Pakistan, it’s become a part of daily life. No one seems to care anymore. The country feels like it’s standing on the edge of self-destruction, and everyone is just watching silently.
02/10/2025
Some ppl aren't good at sharing their problems because they're so used to being 'the listener'.
Throughout their life, they've been listening & solving friends problems. So their instinct is 'i'll figure it out on my own' when it comes to their problems.
17/08/2025
Less then 1% help in the past 10 years, always comes up with non-sense suggestion and present his fake wealth as supportive argument.
While you are barking against Pashtuns Al Khidmat, Khudai Khidmatgar, FixIt and other organisation saved and helped thousands of people.
Har time ba ghul khury time be tima de ne. A
27/07/2025
MOST IMPORTANT JOB SKILLS 2025