Biology for MDCAT

Biology for MDCAT

Share

Medical and Dental College Admission Test

10/01/2024
24/07/2022

The function of nucleolus is the synthesis of

O DNA
O m-RNA
O r-RNA
O t-RNA

14/06/2022

موبائیل فون کو سرہانے رکھ کر سونے سے دماغ پر کوئی اثر نہیں پڑتا- لیکن احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ سیل فون کو تکیے کے نیچے یا تکیے کے ساتھ رکھنے سے گریز کیا جائے- آپ نے شاید نوٹ کیا ہو گا کہ بعض اوقات سیل فون بنا کسی ظاہری وجہ کے بہت گرم ہو جاتا ہے لیکن اسے ری بوٹ کریں تو پھر نارمل ہو جاتا ہے- اس کی ایک ممکن وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض اوقات سیل فون کا پراسیسر جس سافٹ ویئر کو پراسیس کر رہا ہے اس میں کسی نقص کی وجہ سے اچانک سیل فون فل پاور پر چلنے لگتا ہے اور دھڑادھڑ انسٹرکشنز execute کرنے لگتا ہے- اس وجہ سے سیل فون کی power consumption میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بیٹری سے بہت زیادہ کرنٹ فلو کرنے لگتا ہے- یہ اضافی پاور حرارت کی صورت میں خارج ہوتی ہے- سیل فون کی باڈی ایسے ڈیزائن کی جاتی ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ حرارت خارج کرتا رہے تاکہ اس کا درجہ حرارت زیادہ نہ بڑھ پائے- لیکن اگر سیل فون تکیے کے نیچے ہو تو تکیہ حرارت کو خارج ہونے سے روکتا ہے- اس لیے سیل فون بہت زیادہ گرم ہو سکتا ہے جس سے تکیے کو آگ لگ سکتی ہے- خاص طور پر اگر سیل فون کے ساتھ چارجر بھی لگا ہے تو چارجنگ کی وجہ سے بھی بیٹری گرم ہو رہی ہے اور پراسیس کے لوڈ کی وجہ سے بھی سیل فون گرم ہو رہا ہے- ایسی صورت میں بیٹری کے پھٹنے کا امکان بھی ہو سکتا ہے- اگرچہ عملی طور پر اس قسم کے حادثے کا امکان بہت ہی کم ہے لیکن صفر نہیں ہے

31/05/2022

Best NMDCAT book (Biology Only)

12/05/2022

آج سے پچاس سال پہلے چاند سے لائی گئی مٹی پہ سائنسدانوں نے کامیابی سے پودے اگا لئے۔ جو پودے اس مٹی پہ اگائے گئے ہیں وہ Arabidopsis thaliana یا پھر cress (اردو میں شائد کائی) کے ہیں۔

یونیورسٹی آف فلوریڈا کے اس تجربے سے یہ ثابت ہو گیا یے کہ چاند کی مٹی پہ بھی ہم پودے اگا سکتے ہیں۔ اگر ہم چاند کی مٹی لیکر اس کو مناسب ہوا، پانی اور منرلز دیں تو پودے اس پر بھی اگ سکتے ہیں۔

مگر

ان پودوں نے اپنی گروتھ کے کچھ دن بعد اپنا رنگ ہرے سے گہرا لال کر لیا۔ اس گہرے لال رنگ کا مطلب یہ ہے کہ یہ پودے کسی قسم کے سٹریس میں جی رہے ہیں۔ پودے جب سٹریس میں ہوتے ہیں تو ان کے کچھ خاص جینز ایکٹویٹ ہو جاتے ہیں اور یہ ان کے پتوں کی رنگت بدل دیتے ہیں۔

اس دباؤ کی وجہ سے پودوں میں موجود 1000 جینز نے اپنا اظہار بدلا۔ جب ان جینز کو دیکھا گیا تو زیادہ تر کا تعلق مٹی میں دھاتوں کی موجودگی، ری ایکٹو آکسیجن کی موجودگی اور نمکیات نکلی ہیں۔

سب سے زیادہ مزے کی بات یہ تھی کہ اپالو 12 اور اپالو 17 کی مٹی پہ پودے اگے لیکن اپالو 11 کی مٹی پہ پودے نہیں اگ سکے تھے۔ اس بات کی وجہ یہ تھی کہ اپالو 11 کی مٹی کے نمونے چاند کی سطح پہ لمبے عرصہ تک رہے تھے جس کی وجہ سے ان پہ گروتھ نا ہو سکی۔ چاند کی سطح سے مٹی کے دس نمونے پچاس سال پہلے مختلف مشنز میں زمین پہ لائے گئے تھے۔

یہ تجربہ مستقبل کے خلائی سفروں میں کافی مددگار ثابت ہوگا۔ ہو سکے تو کل صبح یہ تجربہ اپنے بچوں کیساتھ ضرور شئیر کریں تا کہ وہ متاثر ہو سکیں کہ دنیا کن راہوں پہ چل رہی ہے۔

11/05/2022

*امام جعفر صادق نے جانوروں کے بارے میں ایک حیران کر دینے والی بات بتائی* آپ نے فرمایا "پرندے،کیڑے اور جانور بھی یقینی طور پر طبعی موت مرتے ہیں لیکن ان طبعی موت مرنے والے پرندوں کے مردہ جسم کسی کو نظر نہیں آتے آخر یہ لاشیں کہاں چلی جاتی ہیں ؟

مثلا ہمارے علاقوں میں بےشمار پرندے ،بلیاں ، چوہے اور دوسرے جانور پائے جاتے ہیں یہ جانور بھی اپنی طبعی موت مرتے ہیں.روزانہ ہزاروں پرندے اور دوسرے جانور مرتے ہوں گے *لیکن انکے مردہ جسم ہمیں کہیں نظر نہیں آتے* ..البتہ ان مردہ جانوروں کی لاشیں ہمیں نظر آتی ہیں جو قید میں مر جائیں یا انہیں زہر دے دیا ہو یا شکاری نے یا کسی دوسرے پرندے نے اسے گھائل کیا ہو..آہستہ آہستہ دم نکلتے ہوئے اپنے کسی جانور کو نہیں دیکھا ہوگا یہاں تک کہ کسی چیونٹی کو بھی نہیں..

امام جعفر صادق نے فرمایا " *یہ مردہ اجسام تمھیں اس لئے نظر نہیں آتے کہ چوپایوں،پرندوں اور دوسرے جانوروں کو اپنی موت کا علم اللہ کی طرف سے پہلے ہی ہو جاتا ہے وہ اس مقرر وقت سے پہلے پہلے پہاڑوں کی غاروں ، کھووں ، درختوں کے کھوکھلے تنوں ، زمین کے سوراخوں یا گہرے گڑھوں میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور وہیں مر جاتے ہیں*

یہ اللہ کا نظام ہے جس کی وجہ سے آج انسان سکون سے سانس لے رہا ہے ورنہ اگر باقی جانوروں ،کیڑوں کو چھوڑ کر صرف پرندوں کو لیا جائے تو ایک اندازے کے مطابق *دنیا میں پرندوں کی تعداد 700 ارب ہے اگر* یہ پرندے سرے عام طبعی موت مرتے تو زمین پر قدم رکھنے تک کی جگہ نہ ملتی ہر طرف انکے مردہ جسم ہوتے جو گندگی اور بےشمار بیماریوں کا سبب بنتے.. *"اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گے* " ..

Photos from Strange Things's post 04/12/2021
16/10/2021

گوگل ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر روز اور ہر وقت کوئی نا کوئی شخص کچھ نا کچھ سرچ کر رہا ہوتا ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سیکنڈ میں اوسطاً 63 ہزار، ہر منٹ میں 28 لاکھ، ہر گھنٹے میں 22 کروڑ 80 لاکھ، ہر دن میں 5 ارب 60 کروڑ سے زائد بار اور سال بھر میں 2 ہزار ارب سے زائد بار گوگل پر کچھ نہ کچھ سرچ کیا جاتا ہے

09/10/2021

واضح رہے کہ اس سال ہر زمرے میں نوبل انعام کی رقم 11 لاکھ 40 ہزار ڈالر (تقریباً 19 کروڑ 51 لاکھ پاکستانی روپے) ہے۔
کیمیا (کیمسٹری) کے نوبل انعامات: چند دلچسپ تاریخی معلومات

1901 سے 2020 تک کیمیا/ کیمسٹری کے شعبے میں 112 مرتبہ نوبل انعامات دیئے جاچکے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران 8 سال ایسے تھے جن میں کوئی نوبل انعام نہیں دیا گیا۔ 1916، 1917، 1919، 1924، 1933، 1940، 1941 اور 1942 میں کیمیا کا کوئی نوبل انعام نہیں دیا گیا۔
ان 120 سال میں کُل 185 افراد کو نوبل انعام برائے کیمیا دیا جاچکا ہے جن میں سے فریڈرک سینگر وہ واحد کیمیادان تھے جنہیں اس زمرے میں دو مرتبہ (1958 اور 1980 میں) نوبل انعام سے نوازا گیا۔
ان میں سے 63 نوبل انعامات برائے کیمیا ایک ایک سائنسدان کو (بلا شرکتِ غیرے) دیئے گئے؛ 24 انعامات دو دو ماہرین کو مشترکہ طور پر؛ جبکہ کیمیا کے 25 نوبل انعامات میں تین تین تحقیق کاروں کو ایک ساتھ شریک قرار دیا گیا۔
نوبل اسمبلی کے دستور کے مطابق کوئی بھی ایک نوبل انعام تین سے زیادہ افراد میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
کیمیا میں اب تک 7 خواتین نوبل انعام حاصل کرچکی ہیں؛ اور یہ تعداد سائنس کے دوسرے شعبہ جات کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
کیمیا میں نوبل انعام یافتہ خواتین میں سے بھی دو (میری کیوری اور ڈوروتھی کروفوٹ ہوجکن) نے بلا شرکتِ غیرے نوبل انعام حاصل کیا۔
2019 تک کیمیا (کیمسٹری) کا نوبل انعام حاصل کرنے والوں کی اوسط عمر 58 سال اور تقریباً پانچ ماہ رہی ہے۔
کیمیا میں سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ سائنسداں فریڈرک جولیٹ تھے جنہیں 35 سال کی عمر میں 1935 کے نوبل انعام برائے کیمیا میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مشترکہ طور پر حقدار قرار دیا گیا۔ ان کی اہلیہ آئرین جولیٹ کیوری، مشہور خاتون سائنسدان میری کیوری کی بیٹی تھیں۔
اسی کٹیگری میں سب سے عمر رسیدہ سائنسداں جان بی گڈاینف ہیں جنہیں 2019 میں نوبل انعام برائے کیمیا دیا گیا تو اُن کی عمر 97 سال تھی۔ وہ اب تک کسی بھی زمرے میں نوبل انعام حاصل کرنے والے سب سے عمر رسیدہ سائنسداں بھی ہیں۔
ویسے تو کیمیا کا نوبل انعام حاصل کرنے والے افراد میں تین نام ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں دو مرتبہ نوبل انعام حاصل کئے لیکن ان میں سے فریڈرک سینگر وہ واحد سائنسدان ہیں جنہیں کیمیا ہی کے شعبے میں دو مرتبہ نوبل انعام دیا گیا۔ میری کیوری اور لینس پاؤلنگ کو بھی اگرچہ دو دو مرتبہ نوبل انعام دیا گیا لیکن میری کیوری کو پہلا نوبل انعام فزکس میں جبکہ دوسرا کیمسٹری میں دیا گیا۔ اسی طرح لینس پاؤلنگ کو پہلا نوبل انعام کیمیا میں جبکہ دوسرا امن کے شعبے میں دیا گیا۔
نوبل انعام صرف زندہ افراد کو دیا جاتا ہے یعنی اس کےلئے کسی ایسے شخص کو نامزد نہیں کیا جاسکتا جو مرچکا ہو۔
1974 میں نوبل فاؤنڈیشن کے آئین میں تبدیلی کے ذریعے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سے کسی بھی شخص کو بعد از مرگ (مرنے کے بعد) نوبل انعام نہیں دیا جائے گا؛ لیکن اگر نوبل انعام کا اعلان ہونے کے بعد متعلقہ فرد کا انتقال ہوجائے تو وہ نوبل انعام اسی کے نام رہے گا۔
1974 سے پہلے صرف 2 افراد کو بعد از مرگ نوبل انعام دیا گیا تھا لیکن اس کے بعد سے اب تک کسی کو مرنے کے بعد نوبل انعام نہیں دیا گیا ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Mardan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Akakhel Colony
Mardan
23200