13/07/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص خاموش رہا، وہ نجات پا گیا۔"
ضروری نہیں کہ ہر موضوع پر آپ کی کوئی رائے ہو، یا ہر واقعے پر آپ تبصرہ کریں، یا اپنے اردگرد ہونے والی ہر بحث میں شریک ہوں۔
بعض اوقات خاموشی بھی عبادت ہوتی ہے، اور فضول یا بے فائدہ باتوں میں پڑنے یا بغیر علم و یقین کے لوگوں کی باتیں دہرانے سے خاموش رہنا دل کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔
اسی طرح ہر وہ راستہ جس پر لوگ چل رہے ہوں، ضروری نہیں کہ آپ بھی اسی پر چلیں، اور نہ ہی ہر وہ بات جو عام ہو جائے، اس کے پھیلانے یا اس کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ سچا مومن بولنے سے پہلے اپنے الفاظ کو تولتا ہے۔
لہٰذا اپنی زبان کی حفاظت کریں، اور اپنے آپ کو ہر رائے، ہر ٹرینڈ، یا ہر ایسی گفتگو کا قیدی نہ بنائیں جس میں آپ کے لیے کوئی بھلائی نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بندے پر سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اسے اچھی بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ایسی باتوں سے محفوظ رکھے جو نہ دنیا میں فائدہ دیں اور نہ آخرت میں۔