22/05/2026
آج ہم دنیا کو حاصل کرنے کے لیے اپنا وقت بھی دیتے ہیں، اپنی محنت بھی لگاتے ہیں اور اپنا مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو ہم دنیا کے کاموں میں بغیر کسی فوری فائدے کی امید کے بھی بہت کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ دنیاوی تعلیم کے لیے ہزاروں، بلکہ لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، اور دل سے ایک “اُف” تک نہیں نکلتی۔ اساتذہ کی فیس دیتے ہیں، کوچنگ کے اخراجات اٹھاتے ہیں، کتابیں خریدتے ہیں، لیکن ہمیں یہ سب معمول کی بات لگتی ہے۔
لیکن جب دین کی بات آتی ہے تو ہمارا انداز بدل جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دین بالکل مفت مل جائے۔ قرآن سیکھنا ہو، دینی تعلیم حاصل کرنی ہو، بچوں کو دین پڑھانا ہو، تو دل چاہتا ہے کہ کوئی خرچ نہ ہو۔ بلکہ بعض اوقات تو یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ دین سیکھنے کے بعد ہمیں اس پر کوئی معاوضہ یا انعام بھی مل جائے۔
یاد رکھیے! دین سیکھ کر آپ کسی پر احسان نہیں کر رہے، بلکہ اپنے رب کے حق، اپنے دین کے حق اور اپنی آخرت کے حق کو ادا کر رہے ہیں۔
اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جو لوگ دین پڑھاتے ہیں، ان کی قدر بھی ہم بہت کم کرتے ہیں۔ ایک دینی معلم، ایک مولوی، ایک استاد جو آپ کے بچوں کو قرآن سکھا رہا ہے، دین سکھا رہا ہے، اخلاق سکھا رہا ہے، دراصل وہ صرف حروف نہیں پڑھا رہا بلکہ آپ کے بچوں کی آخرت سنوار رہا ہے۔ لیکن آج حالت یہ ہے کہ ان کے لیے اپنی جیب سے سو، دو سو یا پانچ سو روپے دینا بھی بہت بھاری محسوس ہوتا ہے۔
سوچیے! جو شخص آپ کے بچے کو دنیا سکھائے، اس پر ہم ہزاروں خرچ کر دیتے ہیں، اور جو شخص آپ کے بچے کی آخرت بنا رہا ہو، اس کے لیے دل تنگ ہو جائے؟ یہ کیسا معیار ہے؟
آج ہمارا معاشرہ دنیا کو پانے کے لیے پریشان ہے، وقت دے رہا ہے، مال دے رہا ہے، محنت دے رہا ہے؛ لیکن دین کو حاصل کرنے میں چاہتا ہے کہ سب کچھ مفت ہو جائے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا وقتی ہے، مگر دین اور آخرت ہمیشہ کے لیے ہیں۔۔۔