میرا کتاب تبصرہ

میرا کتاب تبصرہ

Share

کسی بھی کتاب پر تبصرہ اس کے پڑھنے کے انتخاب میں آسانی پیدا کرتاہے ۔

کتاب سے محبت انسان کو ہر طرح کی پریشانی سے بچانے کی کوشش کرتی ہے ۔ محبت کتاب سے کرنا ضروری ہے

Photos from ‎میرا کتاب تبصرہ‎'s post 23/03/2026

میری خوش قسمتی تو دیکھیں آج عید کے تیسرے دن میرے بہت پیارے کتاب دوست سر محمد ذیشان احمد میرے گھر تشریف لائے ، ان کے ساتھ ہماری بھابھی بھی تھیں جو ان کی طرح کتابوں سے خوب محبت کرتی ہیں ۔ دونوں نے میری لائبریری کو دیکھا اور خوب سراہا ، بھائی اور بھابھی دونوں نے مُجھے مہمان نوازی کا شرف بخشا جس کے لیے میں دونوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
ذیشان بھائی لاہور سے میرے لیے میرے پسندیدہ ادیب راجہ انور صاحب کی دو اور"چَک پیراں دا جسّا" بلونت سنگھ کا شاہکار ناول بطور تحفہ لے کر آئے جس کے لیے میں تہہ دل سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
اللّٰہ پاک آپ دونوں کو ڈھیروں خوشیوں سے نوازے اور ہمیشہ خوش و خرم رکھے آمین ثم آمین 🤲🤲🤲🤲۔
محمد عمران اسحاق

17/03/2026

ایک نیا سفر نئی یادیں ، نیا اندازِ بیاں اور کمال کی منظر نگاری پڑھنے کے لیے امرتسر کی یادیں" پڑھنا شروع کی ہے ، ابھی چند صفحات ہی پڑھے ہیں کہ بس پڑھتا ہی چلا جاتا ہوں ۔
مرحوم اے حمید کی کیا ہی بات ہے ، لاجواب نثر نگار ہیں ، پہلی مرتبہ ان سے ملاقات ہورہی ہے ان کی اس تخلیق کے ذریعے اور مجھے قوی امید ہے کہ یہ ملاقات میری زندگی کی یادگار ہوگی ۔
کیا آپ نے اے حمید صاحب کو پڑھا ہے ؟
محمد عمران اسحاق

Photos from ‎میرا کتاب تبصرہ‎'s post 16/03/2026

دیدارِ کتب ( تحائف+خریداری)
پوری 30 کتب آئی ہیں میری لائبریری میں فروری سے 15 مارچ تک کے دوران ۔😊😊
میں اپنے ان دوستوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری پسندیدہ کتب مجھے تحفہ بھیجوائی ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے کئی کتابیں خود کو اس عید پر تحفہ دی ہیں ۔ بس یہی زندگی ہے اور ان کتابوں کے ساتھ ساتھ کتاب دوستوں کے ساتھ جو لمحات گزر جائیں وہی قیمتی ہیں ۔
باوجود اتنی خوب صورت اور پُرکشش کتابوں کے ابھی بھی کئی کتب ایسی ہیں جو نہ صرف نایاب ہیں بلکہ علم کا ایک ایسا خزانہ بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں جو نہ صرف اپنے قارئین کی روح کو سراب کرتی ہیں بلکہ ان کی شخصیت میں نکھار اور طبیعت میں ٹھہراؤ پیدا کرتی ہیں۔
محمد عمران اسحاق

15/03/2026

کچھ تحائف( پسندیدہ کتب) اور کچھ خریداری پسندیدہ کتابوں کی ۔
ان شاءاللہ جلد دیدار کرواتا ہوں ۔
محمد عمران اسحاق

10/03/2026

" دنیا رنگ رنگیلی" کے ساتھ ایک نیا اور دل چسپ سفر
بچپن سے یہ آرزو تھی کہ دنیا کی سیر کروں، مختلف ملکوں کے
نظارے آنکھوں میں بھر لوں مگر مادرِ وطن میں جب مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہو کہ دو وقت کی روٹی بھی رب العالمین کی بڑی نعمت لگتی ہو تو پھر یہ خواب آنکھوں میں ہی رہ جاتے ہیں۔ مگر اللّٰہ بھلا کرے اُن سفرنامہ نگاروں کا جنہوں نے اپنے قلم کی سیاہی کو معجزے میں بدل کر ہمیں دنیا کے حسین ترین مناظر سے روشناس کروا دیا ہے ۔

اگر جسم کی پرواز ممکن نہیں تو کیا ہوا ہمارے وطنِ عزیز نے ایسے شان دار تخلیق کار پیدا کیے ہیں جو الفاظ کی ناؤ پر سوار کر کے قاری کو دنیا کی سیر کراتے ہیں۔ ان کی منظر کشی ایسی حقیقی، ایسی جاندار ہوتی ہے کہ پڑھنے والا خود کو اسی فضا میں کھو دیتا ہے، وہیں کے نظاروں میں گم ہو جاتا ہے اور اپنے تخیل کی پرواز سے اُن ملکوں کی سیر کر کے ایسا لطف اٹھاتا ہے جیسے حقیقت میں وہاں موجود ہو۔

یہ قدرت کا خاص کرم ہے جو وہ اپنے چند نایاب بندوں پر فرماتا ہے۔ وہ اُنہیں دنیا کی سیر کراتا ہے اور پھر اُن کے قلم کو ایسی طاقت بخشتا ہے کہ وہ اپنے قاری کو بھی الفاظ کی لہروں پر سوار کر کے اپنے ساتھ لے چلتے ہیں۔ وہ نہ صرف دل کش مناظر دکھاتے ہیں بلکہ اُن ملکوں کے لوگوں کے رہن سہن، ان کی ثقافت، ان کی روایات اور تہذیب و تمدن کا جیتی جاگتا نقشہ بھی پیش کرتے ہیں۔

آج انہیں نایاب تحفوں میں سے ایک تحفہ میرے ہاتھ میں ہے۔ سفرنامہ "دنیا رنگ رنگیلی" ۔ تین مختلف ممالک کی ایک مسحور کن جھلک۔ سر طارق محمود مرزا نے نیوزی لینڈ، جاپان اور تھائی لینڈ کی سیر کی ہے اور اپنے مشاہدات کو ایسے مزے دار، ایسے پرلطف اور دل چسپ انداز میں قلم بند کیا ہے کہ قاری خود کو مرزا صاحب کے ساتھ سفر کرتا محسوس کرتا ہے۔

کتاب تو ابھی پڑھنی باقی ہے اور پھر ان شاءاللہ اس کا تفصیلی تبصرہ بھی پیش کروں گا۔ فی الحال اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ سفرنامہ دنیا دیکھنے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے ایک خوب صورت تحفہ ہے۔

محمد عمران اسحاق

09/03/2026

زیرِ تبصرہ کتاب: باشے
ایک داستانِ محبت جس میں ہر کردار کو اپنی محبت ملتی ہے سوائے ایک کے
مصنفہ: محترمہ آپی پاری شاہ صاحبہ
صفحات کی تعداد: 128
تبصرہ نگار: محمد عمران اسحاق

جب سے میں نے کتب بینی کا آغاز کیا ہے یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے کسی خاتون مصنفہ کی تخلیق کو پڑھا ہے اور یہ اعزاز حاصل ہے اُس قلم کار کو جو سوشل میڈیا پر اپنی خوب صورت تحریروں کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہیں محترمہ پاری شاہ صاحبہ۔ ان کا یہ ناول "باشے" محض ایک کتاب ہی نہیں بلکہ محبت کی ایک ایسی لازوال داستان ہے جو پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔

ناول کا مرکزی کردار عیسیٰ ہے ایک ایسا شخص جو محبت میں اس قدر ڈوبا ہوا ہے کہ اس کی محبت کی شدت اسے اپنی ہی ذات سے بڑھ کر کسی اور میں ڈھونڈنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ وہ اپنی عمر سے بڑی خاتون سے محبت کرتا ہے اور یہ عشق اس کے وجود کا حصہ بن جاتا ہے۔ عیسیٰ کی محبت کی انتہا، اس کی قربانیاں اور اس کے جذبات کی گہرائی سب کچھ پڑھنے کے قابل ہے۔

دوسرا اہم کردار محمل ہے جو عیسیٰ کی زندگی میں داخل ہوتی ہے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور ہوتا ہے۔ محمل اُس انسان کی زندگی کا حصہ بنتی ہے جو پہلے ہی کسی اور کی محبت میں گرفتار ہے۔ مگر محمل بھی محبت سے ادھوری نہیں رہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر آتا ہے صوفی باشے نامی وہ معصوم کردار جس کی آمد عیسیٰ کی زندگی میں ایک ڈرامائی انداز میں ہوتی ہے۔ صوفی باشے کا وجود، اس کی معصومیت اور عیسیٰ سے اس کا رشتہ۔ قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ آخر یہ صوفی کون ہے؟

اس ناول کی سب سے خوب صورت بات یہ ہے کہ یہاں دو افراد کے درمیان محبت ہے لیکن ان کے درمیان عمر کا فرق ایک دیوار کی طرح کھڑا ہے۔ ناول کا المیہ یہ ہے کہ ہر کردار کو اپنی محبت ملتی ہے، سوائے عیسیٰ کے۔ مرکزی کردار کو محبت کیوں نہیں ملتی؟ اس کا عشق ادھورا کیوں رہ جاتا ہے؟ یہ راز آپ کو "باشے" کے صفحات میں چھپا ہوا ملے گا۔

مصنفہ نے کرداروں کی نفسیات کو بہت خوب صورتی سے اجاگر کیا ہے۔ عیسیٰ کی بے چینی، محمل کی الجھن اور صوفی کی معصومیت سب کچھ قاری کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

ہر وہ شخص جس نے کبھی محبت کی ہو، جسے محبت ملی ہو یا جس کی محبت ادھوری رہ گئی ہو یہ ناول ان سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔

آخر میں، میں محترم فرحان بھائی کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے یہ ناول پڑھنے کا موقع فراہم کیا اور مصنفہ محترمہ آپی پاری شاہ صاحبہ کا بھی دل سے شکریہ کہ انہوں نے اتنی خوب صورت اور پرکشش تخلیق سے نوازا۔ ان کی مزید تحریروں کا بے صبری سے انتظار رہے گا۔

کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ عیسیٰ کی محبت ادھوری کیوں رہ گئی؟ کون ہے صوفی باشے؟ اور آخر محمل کیوں چلی گئی؟ تو پھر آپ کو پڑھنا ہوگا "باشے" ۔ ایک ایسی داستان جو آپ کو محبت کے حقیقی معنی سمجھائے گی۔.

" باشے" سے میرے پسندیدہ اقتسابات
" خود سے وہ محبت کرتے ہیں جن کو محبت سے محبت
ہوتی ہے ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔"
"کبھی کبھی محبت بانہیں کھولے اس وقت اپنی طرف بلاتی ہے جب اس کی طلب کرنے والے کہ پر کٹ چکے ہوں اور وہ محبت کی جانب اڑان بھرنے سے قاصر ہو۔۔۔۔۔۔"

" صحیح اور غلط کا ادراک ہر شخص کو ہوتا ہے لیکن جب وہ خود کو مٹانے لگ جائے تو وہ ہر عمل سے بری الزمہ ہو جاتا ہے ۔"

" کوئی بھی دکھ ہو یا درد دھواں بن کر آپ کی روح سے نکل سکتا اس وقت تک جب تک آپ کی زندگی ختم نہ ہو جائے ۔"

" مالی کی ذرا سی بھی لاپرواہی ننھی کونپل کو مرجھانے پر مجبور کر دیتی ہے نا!!!!!"......

”جو چیزیں ہماری نہ ہوں ان پہ ہمارا حق نہیں ہوتا ۔”
” کبھی ہماری چیزیں ہوتے ہوئے بھی ان پر ہمارا حق نہیں ہوتا “.

" کہتے ہیں جب کہہ نہ سکوں تو لکھ لو کیا پتا تمھارے لفظ تمھارے سامع بن کر تمھارا سہارا بن جائیں ، پھر وہ لفظ جو بھی پڑھے گا تمھارے سامعین میں شامل ہو جائے گا اور بلواسطہ تمھارا خیر خواہ بھی ۔"
" ماں نے کہا تھا بیٹا عورت ماں ، بہن ، بیٹی اور ہر محرم رشتے میں جائز ہے مگر جہاں نامحرم عورت کا احساس جاگے وہاں آگ ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Tulamba Town?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Tulamba
Tulamba Town