Lyrics for Bazm-e-adab

Lyrics for Bazm-e-adab

Share

School Baz-e-adab

04/05/2026
Photos from Lyrics for Bazm-e-adab's post 18/04/2026


السلام السلام السلام السلام
السلام السلام السلام السلام
حق کے دلدار کو
،
شاہ ابرار کو
میرے سرکارﷺ کو
سب کے غمخوار کو
میرے سرکارﷺ کو
سب کے غمخوار کو
السلام السلام السلام السلام

ان کے رخسار پر
زلف خم دار پر
ان کی آنکھوں میں سرمے کی مقدار پر
ان کے قدموں پہ اور دھیمی رفتار پر
ان کے الفاظ کی پیاری مہکار پر
ان کے اخلاق پر
اعلی کردار پر
ان پہ لکھے گئے سارے اشعار پر
ایسے اوصاف عظمت کے مینار پر
روز جاؤں میں قربان سرکارﷺ پر
ان پہ پڑھتا رہوں میں درود و سلام
ان پہ پڑھتا رہوں میں درود و سلام
السلام السلام السلام السلام
،
،
ان کے احباب ؓ کو سارے اصحاب ؓ کو
چاندی رات کو ان کی بارات کو
ٹہرے لمحات کو اس ملاقات کو
اس ملاقات کو اس کی برکات کو
ان سوالات کو ان جوابات کو
ان کے دن رات کو انکے حالات کو
ان کے غزوات کو صلح کی بات کو
صبح کو شام کو ان کے پیغام کو
دینی احکام کو یعنی اسلام کو
السلام السلام السلام السلام
،
،
ان کے اطوار کو
اعلی کردار کو
نرم گفتار کو
تیز رفتار کو

آمنہ مائی کو
آپ کی دائی کو
بوڑھی ہمسائی کو
ہر شناسائی کو

ماں کی ممتاؤں کو
جنتی پاؤں کو
پیار کی چھاؤں کو
امتی ماؤں ؓ کو

عشق کے فخر کو
علم کے قصر کو
پیکر صبر کو
بنت بو بکر ؓ کو

ناز بردار کو
انکے غم خوار کو
چار کے چار کو
یعنی ہر یار ؓ کو

ان کے دلدار کو
عاشق زار کو
زانوئے یار کو
یار کو غار کو

عدل کی آب کو
جوش کی تاب کو
گوہر نایاب کو
ابن خطاب ؓ کو

مال کو جان کو
دست فیضان کو
ابن عفان کو
ان کے عثمان ؓ کو

تیر تلوار کو
فتح بردار کو
عزم کرار ؓ کو
ان کے گھر بار کو

فکر و احساس کو
ان کے الماس کو
علم کی پیاس کو
ابن عباس ؓ کو

ان کے جانباز کو
ایک دم ساز کو
حبشی ؓ انداز کو
اجلی آواز کو

اک سخن دان کو
اک ثناء خوان کو
نعت کی شان کو
یعنی حسان ؓ کو
السلام السلام السلام السلام
،
،
شاہ ذیشان کو
شان قرآن کو
جزو ایمان کو
رب کے مہمان کو
جزو ایمان کو
رب کے مہمان کو
السلام السلام السلام السلام،
مصطفى مصطفى
مصطفى مصطفى
منبع للصفى سيد الأنبياء
مشعل في الوفاء
كان في عطفة
لليتامى دفاء
حن قلبي له
فاض شوقاً إليه
ليس أرجو سوى شربة من يدية
كان في هدية
الصلاة عليه والسلام عليه منهاجاً وسطأ كان تُسعده بسمة البسطاء سيد في الكرم قمة في الغطاء
مصطفى مصطفى
منبع للصفى
سيد الأنبياء
مشعل في الوفاء
كان في عطفة
لليتامى دفاء
**
منبع للصفي سيد الأنبياء مشعل في الوفاء كان في عطفة لليتامى دفاء
***
مصطفى مصطفى
منبع للصفي سيد الأنبياء مشعل في الوفاء كان في عطفة لليتامى دفاء
حن قلبي له
فاض شوقاً إليه
ليس أرجو سوى شربة من يدية
الصلاة عليه والسلام عليه
للسماء ارتقى فأتي بالنقاء وغَدًا وجهه نيراً مشرقا كان من عفوه
حين حان اللقاء
قال فلتذهبوا أنتم الطلقاء

16/04/2026

عشق و جنگ کے اداب ہوا کرتے تھے۔۔۔۔۔جنابِ والا!
اگر ہم ماضی کے اوراق کو پلٹیں تو ہمیں ایک ایسا معاشرہ نظر آتا ہے جہاں اصولوں کی پاسداری زندگی کا حصہ تھی۔ لوگ اپنے وعدوں کے سچے، اپنے رشتوں کے مخلص اور اپنے کردار کے امین ہوا کرتے تھے۔ عشق میں وفا کی خوشبو ہوتی تھی اور جنگ میں بھی غیرت اور بہادری کے اصول قائم رہتے تھے۔ دشمن سامنے ہوتا تھا، اس کا وار کھلا ہوتا تھا اور اس کا مقابلہ بھی مردانہ وار کیا جاتا تھا۔. . . . . . جنابِ والا!
اگر ہم ماضی کی طرف نظر دوڑائیں تو ہمیں عشق اور جنگ دونوں میں اصولوں کی شاندار مثالیں ملتی ہیں۔
عشق کی دنیا میں حضرت خدیجہؓ اور حضرت محمد ﷺ کی محبت ایک ایسی مثال ہے جس میں خلوص، وفاداری اور قربانی اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا اور یہ عشق محض جذبات نہیں بلکہ عمل اور ایثار کا نمونہ تھا۔
اسی طرح حضرت علیؓ کا کردار دیکھیں کہ انہوں نے عشقِ رسول ﷺ میں اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ہجرت کی رات بسترِ رسول پر سو کر وفا کی لازوال مثال قائم کی۔
اگر جنگ کی بات کریں تو غزوہ بدر ایک عظیم مثال ہے جہاں تعداد کم ہونے کے باوجود مسلمانوں نے اصول، ایمان اور اتحاد کے ساتھ فتح حاصل کی۔ وہاں جنگ صرف جیتنے کے لیے نہیں بلکہ حق کی سربلندی کے لیے لڑی گئی۔
اسی طرح جنگ احد میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نظم و ضبط اور اصولوں کی پابندی کتنی اہم ہے، اور جب ان میں کمی آتی ہے تو نتائج بھی متاثر ہوتے ہیں۔
مزید برآں، تاریخ میں صلاح الدین ایوبی کی مثال بھی روشن ہے، جنہوں نے فتح بیت المقدس کے بعد اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی رحم، انصاف اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے جنگ جیتنے کے بعد بھی انسانیت کو مقدم رکھا۔
یہ وہ دور تھا جب عشق عبادت تھا اور جنگ بھی انسانیت کے دائرے میں رہ کر لڑی جاتی تھی
مگر افسوس! آج کا انسان ترقی کی دوڑ میں اخلاقی اقدار کو کہیں پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ آج جنگ صرف میدانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ذہنوں، نظریات اور رشتوں تک پھیل چکی ہے۔ اب وار تلوار سے نہیں بلکہ زبان، چالاکی اور فریب سے کیا جاتا ہے۔ دشمن چہرہ بدل کر دوست بن جاتا ہے اور دوست بھی کبھی کبھار دشمنی کا روپ دھار لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنابِ والا!
یہ دور ظاہری چمک دمک کا دور ہے، جہاں سچائی دب کر رہ گئی ہے اور جھوٹ کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سوشل تعلقات میں بھی خلوص کم اور مفاد زیادہ نظر آتا ہے۔ محبت اب احساس نہیں بلکہ اکثر ضرورت بن گئی ہے، اور وفا ایک نایاب چیز بن چکی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں؟
یا ہم اپنی اصل کھو کر ایک ایسے اندھیرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں نہ اعتماد باقی رہے گا اور نہ ہی انسانیت؟
جنابِ والا!
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنے کردار کا جائزہ لیں اور ان اقدار کو دوبارہ زندہ کریں جو ہمارے اسلاف کی پہچان تھیں۔ ہمیں سچائی، دیانتداری، وفا اور اخلاص کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ اصل کامیابی صرف دنیاوی ترقی میں نہیں بلکہ اچھے کردار میں ہے۔
آخر میں، میں یہی کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم نے اپنے رویوں کو نہ بدلا تو وہ دن دور نہیں جب ہم رشتوں، اعتماد اور محبت سے بالکل خالی ہو جائیں گے۔
آئیں! ہم سب مل کر ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں جہاں عشق میں خلوص ہو، جنگ میں اصول ہوں اور زندگی میں سچائی کا راج ہو۔

16/04/2026

تقریر: رات تو وقت کی پابند ہے، ڈھل جائے گی

محترم صدرِ مجلس، معزز اساتذہ کرام، اور میرے عزیز ساتھیو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!

آج میں آپ کے سامنے ایک نہایت حوصلہ افزا موضوع پر اظہارِ خیال کرنے جا رہا ہوں، جس کا عنوان ہے:
“رات تو وقت کی پابند ہے، ڈھل جائے گی”۔

محترم حاضرین!
اللہ تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات کو ایک مکمل نظم و ضبط کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
“الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ”
(سورج اور چاند ایک مقررہ حساب کے پابند ہیں۔)

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ”
(نہ سورج کو یہ سزاوار ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے۔)

یہ آیات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اس کائنات کا ہر نظام ایک طے شدہ اصول کے تحت چل رہا ہے۔

میرے عزیز دوستو!
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی میں بھی راحت اور پریشانی کا ایک قانون رکھا ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح ارشاد ہے:
“فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا”
(بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے، بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔)

نبی کریم ﷺ نے بھی ہمیں امید اور صبر کا درس دیا ہے۔ ایک حدیثِ مبارکہ میں آپ ﷺ نے فرمایا:
“عجباً لأمر المؤمن، إن أمره كله له خير…”
(مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے، اس کا ہر حال اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، اور اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، اور یہ دونوں اس کے لیے بہتر ہیں۔)

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
“واعلم أن النصر مع الصبر، وأن الفرج مع الكرب، وأن مع العسر يسرا”
(جان لو کہ مدد صبر کے ساتھ ہے، اور کشادگی تنگی کے ساتھ ہے، اور بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔)

محترم حاضرین!
وقت ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ ہر دکھ اور درد کا مداوا ہے۔ جب انسان مشکلات میں گھِر کر ہمت ہارنے لگتا ہے، تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وقت ہمیشہ نہیں رہے گا۔ یہ رات بھی ڈھل جائے گی، اور اس کے بعد ایک روشن صبح ضرور آئے گی۔

چاہے ہمارے مسائل گھریلو ہوں، معاشرتی ہوں یا ملکی حالات—ہمیں کبھی بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:
“لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ”
(اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔)

آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گا کہ
اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کا اختتام روشنی پر ہی ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صبر، حوصلہ اور کامل یقین عطا فرمائے۔ آمین۔

20/03/2026

پردے پر کلام

نظر کو اپنی جھکا کے رکھناحجاب سر سے لگا کے رکھنا
اے میری بہنوں حیا سے اپناہمیشہ دامن سجا کے رکھنا
نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قدم قدم پر کھڑے ہیں راہزن تمہارا ایمان لوٹنے کو
ہے وقیمتی بالیقین یہ دولت خدارا اس کو بچا کے رکھنا
نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ جانے دلدل میں کفرو باطل کےبھول کر بھی اے میری بہنوں
بہک نہ جائیں قدم تمہارےذرا سنبھل کے اٹھا کے رکھنا
نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑے ہی ارماں سےپالا تمکو تمہارے ماں باپ نے یقینا
تم ان کی ہر ایک ارزو کو گلاب جیسے کھلا کے رکھنا
نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم عائشہ خولہ فاطمہ ہو تمہاری رگ رگ میں خون انکا
صحابیہ سے تمہارا رشتہ زمانے کو یہ بتا کے رکھنا
نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری عزت وابرو کی نہیں ہے کوئی جہاں میں قیمت
ایماں کی خوشبو کو اپنے سینے بدن میں ہر پل بسا کے رکھنا
نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملے گی دونوں جہاں کی تم کو شرع پر چلنے میں کامیابی
تمہیں ہےمجاہدہ کی یہ نصیحت تم اسکو مقصد بنا کے رکھنا
نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Topi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Topi Swabi
Topi
23460