✍️ ڈاکٹر نور الحق جدون
آج دل انتہائی رنجیدہ ہے… شیخ الحدیث حضرت مولانا ادریس صاحب کی شہادت کی خبر نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ اس سر زمین پر علمائے حق کو نشانہ بنایا گیا ہو، بلکہ ایک طویل سلسلہ ہے جس میں کتنے ہی عظیم علماء نے دین کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
یہ وہ ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا، جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اپنے دین پر آزادی سے عمل کر سکیں، مگر افسوس کہ اسی ملک میں علماء کی قدر کم اور ان پر مظالم زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی خدمت، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ معاشرہ میں لگا دیتے ہیں، انہیں اس طرح ہم سے چھین لیا جانا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
لیکن اس دردناک حقیقت کا ایک روشن پہلو بھی ہے…
یہ شہادتیں صرف سانحہ نہیں بلکہ سعادت بھی ہیں۔ ایک سچا عالمِ دین پوری زندگی اللہ کے دین کی خدمت کرتا ہے، اور دل ہی دل میں یہ آرزو رکھتا ہے کہ اس کا خاتمہ بھی اسی راہ میں ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعا کرتا ہے کہ اسے شہادت نصیب ہو۔ یہ کوئی معمولی مقام نہیں بلکہ اللہ کا خاص انعام ہے، جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔
لہٰذا اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ظلم، دھمکیوں اور قتل و غارت کے ذریعے دین والوں کو ڈرایا جا سکتا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ جن کے دلوں میں شہادت کی تمنا ہو، جو خود اللہ سے یہ مقام مانگتے ہوں، انہیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ ایسی قربانیاں دین کی طاقت کو اور بڑھا دیتی ہیں۔
مولانا ادریس صاحب کی شہادت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے — ایک طرف آنکھیں اشکبار ہیں، تو دوسری طرف دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ ایک عظیم کامیابی ہے، ایک بلند مقام ہے۔
اللہ تعالیٰ شہیدِ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
✍️ ڈاکٹر نور الحق جدون
جامعہ امام محمد
دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج
23/04/2026
دینی و عصری تعلیم ایک ساتھ
پاکستان کا ایک منفرد ادارہ جہاں آپ
📘 درسِ نظامی / حفظ القرآن کے ساتھ
🏫 اسکول، کالج یا یونیورسٹی کی تعلیم بھی جاری رکھ سکتے ہیں
✨ مکمل سہولیات: ✔️ مفت دینی تعلیم
✔️ مفت رہائش و طعام
✔️ سرکاری یا پرائیویٹ تعلیم کا اختیار
📍 مقام: جامعہ امام محمد، ٹوپی شہر (بالمقابل عاصم CNG) ضلع صوابی خیبرپختونخوا
📢 اہم اعلان:
انٹر (FA/FSc) امتحانات کی وجہ سے داخلوں میں توسیع
⏳ آخری تاریخ: 3 مئی (اتوار)
ایک بچہ مدرسے کے نام پر وقف کریں
آج کل دینی مدارس میں داخلے شروع ہیں۔ طالبانِ علومِ دینیہ مختلف اطراف سے دینی مدارس کی طرف آ رہے ہیں اور قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے کے لیے گھروں سے نکلے ہوئے ہیں۔
لیکن یہ تعداد اس کے مقابلے میں دس فیصد بھی نہیں جو سکولوں اور کالجوں کا رخ کر رہے ہیں۔ صبح اٹھ کر دیکھیں تو گلیوں اور محلوں میں سکول جانے والوں کی رنگ برنگی قطاریں نظر آتی ہیں۔
یہ اچھی بات ہے، ہونی بھی چاہیے، ہم اس کی ہرگز مذمت نہیں کرتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مدارس میں آنے والوں کی تعداد ہمارے علاقوں میں پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہو گئی ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کا کوئی اسکوپ نہیں، مدرسہ سے فارغ ہو کر کھائیں گے کہاں سے؟ اچھی ملازمت نہیں ملے گی، پیسے کمانے کا ذریعہ نہیں بن سکے گا۔ اسی سوچ کے تحت لوگ مہنگے سکولوں کا انتخاب کرتے ہیں، بھاری فیسیں برداشت کرتے ہیں، ان کے ہر قسم کے اخراجات اور نخرے بھی اٹھاتے ہیں۔
دوسری طرف مدارس میں تعلیم مفت، رہائش مفت اور کھانا بھی مفت ہوتا ہے۔ مدارس والے ترغیب بھی دیتے ہیں، سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں، لیکن اس سب کے باوجود دینی مدارس میں نئے داخل ہونے والے طلباء کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے
یہ دراصل “نقد اور ادھار” کا فلسفہ ہے۔ ہم نقد فائدے کو دیکھتے ہیں اور وہ بھی موہوم ہے۔
دین، دینداری اور دینی علوم سے ہماری دلچسپی کا یہ عالم ہو چکا ہے کہ ہمیں یہ خوف لاحق ہے کہ اگر بچہ مدرسے میں پڑھ گیا تو واپس آ کر نماز، روزہ اور دین کی باتیں کرے گا، اور شاید دنیاوی دولت نہ کما سکے۔
جبکہ سکولوں اور کالجوں سے فارغ ہونے والے نہ ہمیں “دقیانوسی” لگیں گے اور نہ ہی دین کی باتوں سے ہمیں پریشان کریں گے، بلکہ پیسہ بھی کمائیں گے، یوں ہمیں بھی سکون اور انہیں بھی سکون۔
حالانکہ حقیقت اور تجربہ کچھ اور بتاتا ہے۔ کتنے ہی سکولوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے سالہا سال نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں پھرتے ہیں۔ کتنے اپنی اسناد کی درجنوں نقول مختلف اداروں میں جمع کروا کر بھی ناکامی کا سامنا کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ نہ دنیا سنورتی ہے نہ آخرت۔
اس کے برعکس مدرسہ سے فارغ ہونے والا، اگرچہ بظاہر دنیا میں زیادہ نہ بھی کما سکے، لیکن وہ آپ کے لیے آخرت کا قیمتی ذخیرہ ضرور بنتا ہے۔ اور حقیقت یہ بھی ہے کہ جو دین کو صحیح سمجھ کر پڑھتا ہے، وہ دنیا میں بھی دوسروں کے مقابلے میں زیادہ باکردار، بااعتماد، فرمانبردار اور خدمت گزار ثابت ہوتا ہے۔
پھر بھی ہم نہیں سمجھتے
لہٰذا مؤدبانہ گزارش ہے کہ اپنے بیٹوں میں سے کم از کم ایک بیٹے کو ضرور مدرسے کے لیے وقف کریں۔
یاد رکھیں!
اولاد کی دینی تربیت والدین کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے۔
کچھ ترمیم کے ساتھ مولانا شاہ عبداللہ کے مضمون سے
محدود داخلے جاری ہیں
01/04/2026
تخصص فی علوم الحدیث کا چھٹاسال
30/03/2026
اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ علمِ دین حاصل کرنے کا سنہری موقع۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ جدید تعلیم (اسکول، کالج، یونیورسٹی) کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کرے تو یہ بہترین موقع ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ دین و دنیا دونوں میں کامیاب ہو تو اسے سکول کالج کے ساتھ سیکنڈ ٹائم میں جامعہ امام محمد میں داخل کروا کر دینی تعلیم ضرور حاصل کروائیں۔
تاکہ وہ برے ماحول، نشہ آور اشیاء اور غلط صحبت سے محفوظ رہے اور ایک اچھے اخلاق والا باکردار انسان بن سکے۔
اس طرح وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوگا اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کرے
ہمارے ادارے میں طلبہ صبح کے وقت اپنی مرضی سے سرکاری یا پرائیویٹ اسکول/کالج میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور شام کے وقت مدرسے میں آ کر دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
مدرسے کی طرف سے طلبہ سے کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ دور دراز کے طلباء کے لئے مدرسہ میں کھانا، پینا اور رہائش بالکل مفت فراہم کی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ایک دینی ماحول میں ان کی بہترین تربیت بھی کی جاتی ہے۔
اسی طرح جو افراد جاب کرتے ہیں وہ صبح اپنی ملازمت پر جاتے ہیں اور شام 4 بجے مدرسے میں اپنی دینی تعلیم کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں
اس سنہری موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل اور مضبوط دینی تربیت کو یقینی بنائیں۔
30/03/2026
یک سالہ تخصص فی علوم الحدیث کا چھٹا سال
📢 ضروری معلومات برائے داخلہ
جامعہ امام محمد بن الحسن الشیبانی میں نئے تعلیمی سال کے لیے درج ذیل شعبہ جات میں داخلہ شروع ہو چکا ہے:
▪️ شعبہ حفظ القرآن
▪️ درسِ نظامی (درجہ اولیٰ تا درجہ خامسہ)
▪️ تخصص فی علوم الحدیث
📅 داخلہ کا آغاز 28 مارچ بروز ہفتہ سے ہو چکا ہے۔
🔹درجہ اولیٰ اور شعبہ تخصص کے داخلے جاری رہیں گے۔
🔹 دیگر تمام درجات کی باقاعدہ کلاسز یکم اپریل بروز بدھ سے شروع ہوں گی۔
📌 قواعد و ضوابط:
جو طلبہ داخلہ لینا چاہتے ہیں وہ تاخیر نہ کریں، کیونکہ نشستیں محدود ہیں۔
داخلہ کے وقت درج ذیل چیزیں ہمراہ لانا ضروری ہیں:
✔️ چار عدد پاسپورٹ سائز تصاویر
✔️ شناختی کارڈ یا ب فارم کی کاپی
✔️ سرپرست کا ہمراہ ہونا لازمی ہے
━━━━━━━━━━━━━━━
📍 پتہ (Address):
جامعہ امام محمد، ٹوپی شہر
بالمقابل حبیب بینک، ضلع صوابی
━━━━━━━━━━━━━━━
📍 برائے مہربانی جلد از جلد تشریف لا کر داخلہ یقینی بنائیں۔
27/03/2026
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ مدرسے کے ساتھ ساتھ ریگولر سکول کالج یا یونیورسٹی میں بھی تعلیم حاصل کرے تو جامعہ امام محمد کا انتخاب کریں کیوں کہ یہاں مدرسے کی پڑھائی سیکنڈ ٹائم ہے صبح کے وقت کسی بھی سکول کالج یونیورسٹی میں ریگولر تعلیم حاصل کرنے کی سہولت موجود ہے اور یاد رہے کہ یہ مدرسہ ٹوپی شہر میں ہے جہاں سرکاری سکول کالج سمیت پرائیویٹ اعلی قسم کے سکولز اور کالجز موجود ہیں مثلا قائد اعظم، اربٹ کالج ، گلورئیس کالج،ایجوکئیر، ایجوکیٹر ،دار ارقم ، مون لائٹ اس کے علاؤہ بھی کئ کالجز موجود ہیں
ہمارے ادارے میں کھانا پینا، رہائش بالکل فری ہے
دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج
جامعہ امام محمد ٹوپی میں 28 مارچ سے داخلے شروع ہورہے ہیں
27/03/2026
📢 اہم اعلان برائے طلباء
📚 تمام قدیم وجدید طلباء کو مطلع کیا جاتا ہے کہ:
🗓 داخلے کا آغاز:
28 مارچ بروز ہفتہ
🎓 اسباق کا باقاعدہ آغاز:
یکم اپریل بروز بدھ
📌 بروقت داخلہ لے کر اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں۔
نوٹ: درجہ اولی کے اسباق کا آغاز میٹرک کے امتحانات کے بعد ہوگا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Topi