05/05/2026
✍️ ڈاکٹر نور الحق جدون
آج دل انتہائی رنجیدہ ہے… شیخ الحدیث حضرت مولانا ادریس صاحب کی شہادت کی خبر نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ اس سر زمین پر علمائے حق کو نشانہ بنایا گیا ہو، بلکہ ایک طویل سلسلہ ہے جس میں کتنے ہی عظیم علماء نے دین کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
یہ وہ ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا، جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اپنے دین پر آزادی سے عمل کر سکیں، مگر افسوس کہ اسی ملک میں علماء کی قدر کم اور ان پر مظالم زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی خدمت، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ معاشرہ میں لگا دیتے ہیں، انہیں اس طرح ہم سے چھین لیا جانا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
لیکن اس دردناک حقیقت کا ایک روشن پہلو بھی ہے…
یہ شہادتیں صرف سانحہ نہیں بلکہ سعادت بھی ہیں۔ ایک سچا عالمِ دین پوری زندگی اللہ کے دین کی خدمت کرتا ہے، اور دل ہی دل میں یہ آرزو رکھتا ہے کہ اس کا خاتمہ بھی اسی راہ میں ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعا کرتا ہے کہ اسے شہادت نصیب ہو۔ یہ کوئی معمولی مقام نہیں بلکہ اللہ کا خاص انعام ہے، جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔
لہٰذا اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ظلم، دھمکیوں اور قتل و غارت کے ذریعے دین والوں کو ڈرایا جا سکتا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ جن کے دلوں میں شہادت کی تمنا ہو، جو خود اللہ سے یہ مقام مانگتے ہوں، انہیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ ایسی قربانیاں دین کی طاقت کو اور بڑھا دیتی ہیں۔
مولانا ادریس صاحب کی شہادت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے — ایک طرف آنکھیں اشکبار ہیں، تو دوسری طرف دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ ایک عظیم کامیابی ہے، ایک بلند مقام ہے۔
اللہ تعالیٰ شہیدِ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
✍️ ڈاکٹر نور الحق جدون