مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ جو لوگ غریبوں اور مظلوموں کے حق کے لیے لڑتے ہیں… اور لڑتے لڑتے خود ہی امیر ہو جاتے ہیں!!! یہ جدوجہد ہے یا کوئی “پرافٹ اسکیم”؟ 😄
یعنی حق کی لڑائی بھی ایسی کہ مظلوم وہیں کے وہیں… اور مجاہد سیدھا امیروں کی صف میں! 😜
Fahim Ansari
I'm Fahim Ansari, I am an educational consultant my aim is to motivate people towards education..
چیٹ جی پی ٹی نے کمال کر دیا! اب ہر بندہ کالم نگار، بایوگرافر اور ادبی و فلسفی بنا بیٹھا ہے۔ بس کوئی علمی بات کرو اور دیکھو، داد کے ڈھیر لگنے لگتے ہیں؛ ورنہ لگتا ہے دماغ بند ہے یا بس Wi-Fi سست ہے!😜
جس کی عزت کرو وہ مجبور سمجھتا ہے۔
جس سے محبت کرو وہ بیوقوف سمجھتا ہے
02/03/2026
پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئینہ میں دیر تک چہرہ تک نہیں رہتا
بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا
14/02/2026
رمضان آرہا ہے پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک نہ دیں.
ضرورت مندوں کو تلاش کریں ان کی مدد کریں
03/02/2026
سی ایس ایس (CSS): بیوروکریسی کا دروازہ اور کامیابی کا سفر
کیا آپ پاکستان کی انتظامیہ کا حصہ بننا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کے اندر فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور ملک کی خدمت کا جذبہ ہے؟ اگر ہاں، تو CSS (Central Superior Services) کا امتحان آپ ہی کے لیے ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور باوقار مسابقتی امتحان ہے، جو عام گریجوئیٹ نوجوانوں کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچاتا ہے۔
یہاں اس امتحان کی مکمل تفصیلات سادہ اور دلچسپ انداز میں پیش کی جا رہی ہیں:
1۔ سی ایس ایس کیا ہے؟
یہ ایک کل پاکستان (All Pakistan) سطح کا امتحان ہے جو وفاقی حکومت کا ادارہ FPSC (فیڈرل پبلک سروس کمیشن) منعقد کرتا ہے۔ اس امتحان کے ذریعے نوجوانوں کو گریڈ 17 میں بطور "بیوروکریٹ" بھرتی کیا جاتا ہے۔ یہ افسران حکومتی مشینری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور پالیسی سازی سے لے کر نفاذ تک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
2۔ کون سے محکمے (Groups) ملتے ہیں؟
کامیاب امیدواروں کو ان کے نمبروں (Merit) اور ان کی پسند (Preference) کی بنیاد پر درج ذیل 12 گروپس میں سے کسی ایک میں تعینات کیا جاتا ہے۔ (نوٹ: کچھ گروپس کے نام تبدیل ہو چکے ہیں، یہاں نئے نام دیے گئے ہیں):
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS): (سابقہ DMG) – یہ سب سے زیادہ ڈیمانڈ والا گروپ ہے (اسسٹنٹ کمشنر / ڈی سی وغیرہ)۔
پولیس سروس آف پاکستان (PSP): (ASP/ SP وغیرہ)۔
فارن سروس آف پاکستان (FSP): (سفیر اور سفارتی عملہ)۔
کسٹم سروسز: (درآمدات و برآمدات پر ٹیکس معاملات)۔
ان لینڈ ریونیو سروس (IRS): (سابقہ انکم ٹیکس گروپ)۔
کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ۔
انفارمیشن گروپ۔
ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس (ML&C)۔
آفس مینجمنٹ گروپ (OMG)۔
پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس۔
پوسٹل گروپ۔
ریلوے (کمرشل اینڈ ٹرانسپورٹیشن)۔
3۔ اہلیت: کون اپلائی کر سکتا ہے؟
سی ایس ایس کرنے کے لیے درج ذیل شرائط پوری کرنا ضروری ہیں:
تعلیم: کم از کم سیکنڈ ڈویژن (C-Grade) کے ساتھ بیچلر ڈگری (14 یا 16 سالہ تعلیم)۔
عمر: 21 سے 30 سال۔ (عمر کا تعین امتحان والے سال کے 31 دسمبر سے کیا جاتا ہے)۔
شہریت: پاکستانی اور آزاد جموں و کشمیر کے شہری۔
رعایت (Age Relaxation): سرکاری ملازمین، مخصوص قبائلی علاقہ جات (بلوچستان، سابقہ فاٹا، گلگت بلتستان وغیرہ) اور معذور افراد کے لیے عمر کی بالائی حد میں 2 سال کی رعایت ہے (یعنی 32 سال تک)۔
4۔ امتحان کے مراحل (نئی تبدیلیوں کے ساتھ)
اب یہ امتحان 4 نہیں بلکہ 5 مراحل پر مشتمل ہوتا ہے، کیونکہ ایک نیا "اسکریننگ ٹیسٹ" شامل کیا گیا ہے۔
MPT (اسکریننگ ٹیسٹ): یہ پہلا مرحلہ ہے۔ یہ 200 نمبروں کا MCQs (معروضی) ٹیسٹ ہوتا ہے۔ تحریری امتحان میں بیٹھنے کے لیے اسے پاس کرنا لازمی ہے۔ (اس کے نمبر میرٹ میں شامل نہیں ہوتے)۔
تحریری امتحان (Written Test): یہ اصل مقابلہ ہے۔ کل 1200 نمبروں کے پیپرز ہوتے ہیں۔
میڈیکل ٹیسٹ (Medical): جسمانی فٹنس کا جائزہ۔
نفسیاتی ٹیسٹ (Psychological Test): امیدوار کی ذہنی صلاحیت اور رویے کی جانچ۔
انٹرویو (Viva Voce): یہ 300 نمبروں کا ہوتا ہے اور حتمی سلیکشن میں اس کا بہت اہم کردار ہے۔
5۔ نصاب اور مضامین (Syllabus)
تحریری امتحان کل 1200 نمبروں کا ہوتا ہے جسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
الف۔ لازمی مضامین (Compulsory Subjects) - 600 نمبر
یہ 6 پرچے ہر امیدوار کے لیے دینا لازمی ہیں (ہر پرچہ 100 نمبر کا ہے):
English Essay: (انگریزی مضمون)۔
English Précis & Composition: (انگریزی گرامر اور تلخیص)۔
General Science & Ability (GSA): (اس میں سائنس اور ریاضی دونوں شامل ہیں)۔
Current Affairs: (حالاتِ حاضرہ)۔
Pakistan Affairs: (مطالعہ پاکستان)۔
Islamic Studies: (اسلامیات) - غیر مسلم امیدواروں کے لیے اخلاقیات یا تقابلی ادیان کا آپشن ہے۔
ب۔ اختیاری مضامین (Optional Subjects) - 600 نمبر
ایف پی ایس سی (FPSC) نے مضامین کے مختلف گروپس بنائے ہوئے ہیں۔ امیدوار کو اپنی تعلیمی قابلیت اور دلچسپی کے مطابق 600 نمبروں کے مضامین کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
اس میں فزکس، کیمسٹری، پولیٹیکل سائنس، تاریخ، لٹریچر، قانون، اور علاقائی زبانیں (پنجابی، سندھی وغیرہ) شامل ہیں۔
6۔ پاسنگ مارکس (Passing Criteria)
یہ سب سے اہم نقطہ ہے جسے سمجھنا ضروری ہے:
لازمی مضامین: ہر پرچے میں پاس ہونے کے لیے کم از کم 40 نمبر لینا ضروری ہیں۔
اختیاری مضامین: ہر پرچے میں پاس ہونے کے لیے کم از کم 33 نمبر لینا ضروری ہیں۔
مجموعی ایگریگیٹ (Aggregate): صرف سبجیکٹس پاس کرنا کافی نہیں، بلکہ کل 1200 میں سے کم از کم 600 نمبر
50%) حاصل کرنا لازمی ہے، ورنہ فیل تصور کیا جائے گا۔
7۔ ٹائم لائن (معمول کا شیڈول)
اگست/ستمبر: MPT (اسکریننگ ٹیسٹ) کے اشتہار اور اپلائی کا وقت۔
اکتوبر/نومبر: اسکریننگ ٹیسٹ کا انعقاد۔
دسمبر: تحریری امتحان کے لیے فارم جمع کروانا۔
فروری: تحریری امتحان کا انعقاد۔
اکتوبر (اگلا سال): تحریری امتحان کا رزلٹ۔
8۔ اہم مشورہ
سی ایس ایس صرف رٹا لگانے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کے تجزیہ کرنے کی صلاحیت (Analytical Skills) اور انگریزی زبان پر عبور کا امتحان ہے۔ اگر آپ مستقل مزاج ہیں اور محنت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، تو یہ امتحان آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔
(محمد حارث)
#تعلیم
30/12/2025
ہم خواجہ سراوں/ ہیجڑوں کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں۔ ہم سب کو اس سے باز آ جانا چاہیے۔ آئیے میں اور آپ سب سے پہلے اپنی اصلاح کریں۔ اللہ کے ان بندوں کی عزت کریں اور ان کو اولاد کی طرح سمجھیں۔ انسان کی بڑی تکریم ہوتی ہے۔ تکریم انسانیت کو مجروح مت کریں۔ آپ کو جہاں بھی خواجہ سرا ملیں ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کی مدد کریں انسانیت کی قدر کریں🙏۔
مفتی شمائل ندوی نے ملحدین کے منہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کر دیئے۔🤐
21/12/2025
تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن سچے ہیں۔
1--پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے.
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔
یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔
2--دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔
خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
عالم "علم" بانٹتا ہے۔
پرامن انسان "امن و سکون" بانٹتا ہے۔
دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
مثبت اور تعمیری انسان موٹیویشن دیتا ہے
اسی طرح سیاہ دل و متعصب انسان "تعصب و نفرت" بانٹتا ہے
3--تیسرا قانون فطرت:
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لئے کہ
کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی" بڑھتی ہے۔
غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں معاشرے میں" ظلم و بےراہروی" میں اضافہ ہوتا ہے۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔۔اللہ پاک ہم سب کواچھی زندگی گزارنےکی توفیق عطا فرمائیں 🤲
16/12/2025
جناب!
میں سندھ کے تمام سندھی اور مہاجر بھائیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آخر یہ نفرتیں، سازشیں اور دشمنیاں کب تک؟
کیا ہم دونوں اس دھرتی کے بیٹے نہیں ہیں؟
کیا قوم پرست اور حق پرست قیادت کبھی واقعی سندھ کے عوام کی حقیقی آواز بنی ہے؟
کیا سندھی اور مہاجر مل کر اپنے مشترکہ مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتے؟
اکیسویں صدی میں، جب دنیا ترقی اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکی ہے،
کیا ہم اب بھی ایک دوسرے سے دست و گریباں رہنے پر مجبور رہیں گے؟
کیا ہم صرف انسان ہونے کے ناطے بھی ایک دوسرے کا احترام نہیں کر سکتے؟
کیا ہم ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والے نہیں بن سکتے؟
کیا ہم اصل مسائل کو چھوڑ کر مصنوعی اختلافات میں الجھے رہیں گے،
یا پھر مل بیٹھ کر، متحد ہو کر، ان مسائل کا حل تلاش کریں گے؟
آئیے!
سندھی اور مہاجر ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنائیں،
اور باہمی جھگڑوں کے بجائے اتحاد، شعور اور ترقی کا راستہ اپنائیں۔
یاد رکھیں!
نہ سندھی ہمیشہ زندہ رہیں گے اور نہ مہاجر،
لیکن اگر دونوں متحد ہو جائیں تو یہ دھرتی، یہ قوم اور یہ اتحاد ہمیشہ زندہ و آباد رہے گا۔
سندھ کے باشعور عوام!
سوچیے… سمجھئے… اور فیصلہ کیجئے۔
از قلم فہیم انصاری
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Thatta
73130