16/07/2026
عزمِ مصمم اور انتھک جدوجہد کا استعارہ: ایاز علی چانڈیہ
بلوچستان کی مٹی ہمیشہ سے ایسے درخشاں ستاروں کو جنم دیتی آئی ہے جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور غیر متزلزل عزم سے نہ صرف اپنا بلکہ اپنے پورے علاقے کا نام روشن کیا ہے۔ انہی نمایاں اور قابلِ فخر ناموں میں سے ایک نام ایاز علی چانڈیہ کا ہے، جن کا تعلق نصیرآباد کے تاریخی علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے ہے۔
ایاز علی چانڈیہ کی زندگی کی کہانی محض ایک فرد کی کامیابی کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ ان تمام نوجوانوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے جو وسائل کی کمی کو اپنی منزل کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔
ایاز علی چانڈیہ کا تعلیمی سفر اس بات کا گواہ ہے کہ اگر ارادے پختہ ہوں تو راستے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں انہوں نے اپنی بنیادی تعلیم کا آغاز پرائمری سکول مہر اللہ خان کاسی، محبت شاخ سے کیا۔ یہ وہ بنیاد تھی جہاں سے انہوں نے علم کی پیاس بجھانے کا سفر شروع کیا۔
اپنی قابلیت کے بلبوتے پر انہوں نے 'وزیراعظم اسکالرشپ پروگرام' حاصل کیا اور ایبٹ آباد کے نامور ادارے انٹرنیشنل پبلک سکول اینڈ کالج سے میٹرک اور ایف ایس سی (FSc) کے مراحل بہترین نمبروں سے طے کیے۔
ایاز کی محنت رنگ لائی اور انہوں نے 'آل پاکستان اسکالرشپ' کے تحت پاکستان کی صفِ اول کی یونیورسٹی لمس (LUMS) میں داخلہ حاصل کیا، جہاں سے انہوں نے سیاسیات (Political Science) اور اکنامکس میں گریجویشن کی ڈگری مکمل کی۔
ایاز صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے حاصل کردہ علم کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے مختلف علاقوں میں تعلیمی سیمینارز کا انعقاد کیا اور ان میں بھرپور حصہ لے کر نوجوانوں کو تعلیم کی اہمیت سے روشناس کروایا۔
اپنی غیر معمولی تعلیمی صلاحیتوں کی بدولت ایاز علی چانڈیہ کا انتخاب انسپکٹر کسٹمز کے باوقار عہدے پر ہوا، جو کہ ان کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن ایک سچے عقاب کی پرواز کسٹمز انسپکٹر پر رکنے والی نہیں ہے۔
ان کا اصل خواب سی ایس ایس (CSS) پاس کر کے ملک و قوم کی اعلیٰ سطح پر خدمت کرنا ہے۔ ان کی شخصیت کی بنیادی خوبیاں انہیں اس منزل کے انتہائی قریب انشاءاللہ لے لائیں گی ، وہ دن رات ایک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔حالات جیسے بھی ہوں، وہ اپنے راستے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ہر مشکل کو وہ ایک نیا سبق اور آگے بڑھنے کا موقع سمجھتے ہیں۔
ان کی اس بے مثال لگن، محنت اور غیر معمولی قابلیت کو دیکھ کر یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ہم ایاز علی چانڈیہ کے سی ایس ایس (CSS) کے امتحان میں شاندار کامیابی کا سفر بھی اسی فخر اور وقار کے ساتھ لکھ رہے ہوں گے۔
اگر ایاز کر سکتا ہے، تو آپ بھی کر سکتے ہیں!
ایاز علی چانڈیہ کی زندگی پاکستان خصوصاً بلوچستان کے نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر آپ میں تڑپ ہے، تو اسکالرشپس اور مواقع آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایاز نے وزیراعظم اور آل پاکستان اسکالرشپس کے ذریعے اپنے خوابوں کو سچ کر دکھایا۔
پسماندہ ترین علاقوں سے نکل کر لمس (LUMS) جیسے اداروں تک پہنچنا اور پھر کسٹمز انسپکٹر بننا ثابت کرتا ہے کہ منزل کا تعلق وسائل سے نہیں، بلکہ آپ کے حوصلے سے ہے۔
محنت ایک دن کا کام نہیں، یہ روزانہ کا عزم ہے۔ جب تک آپ ہار نہیں مانتے، تب تک آپ کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔
ایاز علی چانڈیہ آج کے دور کے نوجوانوں کے لیے ایک حقیقی رول ماڈل ہیں۔ ان کا سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ خواب دیکھے بھی جا سکتے ہیں اور اپنی محنت کے بلبوتے پر انہیں تعبیر کی شکل بھی دی جا سکتی ہے!
ہم دعاگو ہیں کہ اللہ پاک ایاز علی چانڈیہ صاحب کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار کرے اور بلوچستان اور نصیرآباد کے عوام کے لئے اپنے خدمات سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے!!! آمین ثم آمین