31/08/2026
طائف — وہ راستے جہاں سے میرے محبوب ﷺ گزرے
مسلمان گناہ گار کتنا ہی کیوں نہ ہو، اپنے نبی کریم ﷺ سے محبت کا انداز والہانہ رکھتا ہے۔
اور جس چیز کی نسبت میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ہوجائے، اس کی قدر و منزلت ایک عاشقِ رسول ﷺ کے لیے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔
اسی لیے سفرِ عمرہ کے دوران جب طائف جانے کا موقع ملا تو دل میں یہ خیال آیا کہ آخر وہ مقام کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے جہاں میرے محبوب نبی ﷺ دینِ اسلام کی دعوت لے کر تشریف لے گئے تھے؟
الحمدللہ! طائف کا سفر شروع ہوا تو یوں محسوس ہوا جیسے گاڑی آگے بڑھ رہی ہے، لیکن دل اور نگاہیں چودہ صدیاں پیچھے چلی گئی ہیں۔
ایک منظر بار بار آنکھوں کے سامنے آتا رہا:
تقریباً انچاس سالہ اللہ کا محبوب نبی ﷺ، حضرت زید بن حارثہؓ کے ساتھ، مکہ سے طائف کی طرف انہی پہاڑی راستوں سے گزر رہا ہے۔
آج ہمارے لیے گاڑی میں بیٹھ کر یہ سفر نسبتاً آسان ہے۔ تقریباً دو گھنٹے میں طائف پہنچ جاتے ہیں، مگر سڑک سے باہر نظر ڈالیں تو خشک، سنگلاخ پہاڑیاں، چٹانیں اور وادیاں آج بھی اس سفر کی دشواری کا کچھ اندازہ کرا دیتی ہیں۔
میں کبھی گاڑی کی ایک طرف دیکھتا اور کبھی دوسری طرف۔
دل میں عجیب کیفیت تھی۔
کاش!
ان پتھروں سے پوچھ سکتا کہ کیا تم نے کبھی میرے نبی ﷺ کے قدموں کو چھوا تھا؟
کیا ان وادیوں نے کبھی اس ہستی کے قدموں کی آہٹ سنی تھی جس کے لیے ہم اپنی جان، مال اور اولاد سے بڑھ کر محبت کا دعویٰ کرتے ہیں؟
پھر گائیڈ نے طائف کا محلِ وقوع، پہاڑوں کی بلندی اور اس شہر کی تاریخ بیان کرتے ہوئے جب واقعۂ طائف کا تذکرہ شروع کیا تو آنکھیں نم ہوگئیں۔
یہ وہی طائف تھا جہاں نبی کریم ﷺ دعوتِ اسلام کے لیے تشریف لے گئے۔
آپ ﷺ نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا، مگر جواب میں مذاق، تمسخر اور ظلم ملا۔
پھر شہر کے لوگوں نے آپ ﷺ پر پتھر برسائے، یہاں تک کہ جسم مبارک لہولہان ہوگیا۔
اور غور کیجیے!
جس ہستی کو ستایا جارہا تھا، وہ بددعا نہیں کررہی تھی؛
بلکہ رحمت بن کر آئی تھی۔
آپ ﷺ کو ایک باغ میں پناہ ملی جو عتبہ اور شیبہ بن ربیعہ کا تھا۔ انہوں نے اپنے غلام عداس کے ذریعے انگور بھجوائے۔ عداس نے نبی کریم ﷺ سے گفتگو کی اور حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر آیا۔ یہی ملاقات عداس کے لیے ایمان کا سبب بنی۔
آج اس مقام سے منسوب مسجد کو دیکھ کر دل میں ایک ہی خیال آتا ہے:
ہم تک یہ دین کتنی مشقتوں، کتنے آنسوؤں اور کتنی قربانیوں کے بعد پہنچا ہے!
ہم آج ایمان کو بہت آسان سمجھتے ہیں۔
ہمیں کلمہ پڑھنے کے لیے پتھروں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
ہمیں قرآن کی ایک آیت سکھانے کے لیے لہولہان نہیں ہونا پڑا۔
ہمیں دین کی دعوت دینے کے لیے طائف کے راستوں پر چل کر پتھر نہیں کھانے پڑے۔
یہ سب میرے نبی ﷺ نے برداشت کیا۔
اور پھر بھی امت کے لیے رحمت ہی رہے۔
اسی لیے طائف میرے لیے صرف ایک شہر نہیں…
طائف سیرت کا ایک زندہ باب ہے۔
طائف ہمیں بتاتا ہے کہ دین صرف الفاظ سے نہیں پہنچا؛
اس کے پیچھے نبی کریم ﷺ کی محنت، استقامت، صبر، قربانی اور رحمت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے، محبت کو اتباعِ سنت میں بدل دے، اور ہمیں اس دین کی قدر کرنے والا بنائے جو ہم تک اتنی قربانیوں کے بعد پہنچا۔
اللّٰهم صلِّ وسلم وبارك على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
چند اشعار — مستند شعراء کے کلام سے
مولانا الطاف حسین حالیؔ نے حضور اکرم ﷺ کی رحمت کو یوں بیان کیا:
«وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا»
اور اسی نعت میں آگے فرماتے ہیں:
«فقیروں کا ملجا، ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی، غلاموں کا مولیٰ
خطا کار سے درگزر کرنے والا
بداندیش کے دل میں گھر کرنے والا»
طائف کے سفر کے بعد یہ اشعار صرف پڑھے نہیں جاتے، محسوس ہوتے ہیں۔