30/12/2025
ہمارے علاقوں سے اگر کوئی ہجرت کر کے ملتان یا کسی اپر پنجاب کے شہر میں جا کے بستا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنے بچوں کے ساتھ اردو میں یا پھر انگلش میں بات کرتے..
انکا ماننا ہے مادری زبان جیسے کہ سرائیکی یا بلوچی بچوں کے accent کو خراب کرتی ہے.
اور زبان کی بنیاد پہ لوگ جج کرتے ہیں تو وہ مادری زبان کی بجائے اردو اور انگلش پہ زور دیتے ہیں..
اور دوسرے یہ لوگ ہیں جو آپ تصویر میں دیکھ رہے ہیں!
30/12/2025
میں اور میری بہنیں بچپن کے بیشتر دن بھوکے سوتے تھے۔ میری ماں ہم سے جھوٹ بولتی تھی۔ وہ کہتی تھی: "ستارے گنو، تمہیں روٹی مل جائے گی... بہت ساری روٹی۔"
ہم ہر بار گنتے گنتے تھک جاتے اور سو جاتے۔
یوں ہماری نظریں ہمیشہ آسمان کی طرف اٹھتی رہتی تھیں، یہاں تک کہ ہم بھوک سے بے حال ہو جاتے۔
میری چھوٹی بہن مر گئی۔ اس کی آنکھیں آسمان پر جمی رہیں، میری ماں نے بتایا کہ اس نے گنتی پوری کر لی ہے۔
اس کے جنازے کے دن ہمیں بہت ساری روٹی دی گئی، ہم نے پیٹ بھر کر کھایا اور سو گئے، لیکن میری بہن کبھی واپس نہیں آئی۔ میں ہر روز اسے یاد کرتا ہوں کہ کاش ہم ساتھ کھیل سکتے...
- ماں، انہیں کہو کہ میری بہن کو واپس کر دیں اور اپنی روٹی لے جائیں۔ میں اس کی جگہ گنتی کر لوں گا اور وہ مجھے لے جائیں۔ لیکن انہوں نے انکار کیا اور میری بہن کبھی واپس نہ آئی۔
وہ واپس نہ آئی اور آج تک میں گنتی میں غلطی کرتا ہوں۔
ایک
دو
میری بہن
چار
رونے لگتا ہوں اور سو جاتا ہوں...
عبد المنعم عامر الجزائری
ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی
29/12/2025
پھر آپ یکایک ایک ایسے شخص بن جاتے ہیں
جو کسی سے شکوہ نہیں کرتا،
لاحاصل بحثوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے،
رخصت ہونے والوں کو پرسکون آنکھوں سے دیکھتا ہے
اور صدموں کو پراسرار خاموشی کے ساتھ سہہ لیتا ہے۔
— نجیب محفوظ، مصری ناول نگار
ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی
23/12/2025
میں یہ نہیں چاہتی کہ تم میرے جیسا سوچو،
نہ یہ کہتی ہوں کہ تم میرے عقائد کو اپنا لو،
نہ یہ طلب کرتی ہوں کہ تم میرے فیصلوں کی تائید کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاؤ۔
میری بس ایک درخواست ہے، ایک تمنا ہے کہ تم میرے وجود کا احترام کرو،
میرے مختلف اندازِ فکر کا مان رکھو، یہ تسلیم کرو کہ میرے عقائد، میرے ہیں، تمہارے عقائد سے جدا، میرے فیصلے میرے ہیں، تمہارے فیصلوں سے الگ۔
مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اپنے عقائد اور فیصلوں کو اپنے اس لمحے میں جیوں، یہاں، اسی جگہ، اپنے پورے وجود کے ساتھ،
بالکل اسی طرح جیسے تم اپنے حق کو جیتے ہو۔
— لبنانی مصنفہ جمانہ حداد
ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی
23/12/2025
چاند کبھی تو
تاروں کی بِھيڑ سے نِکلے
اور میری کِھڑکی ميں آئے
بِالکل تَنہا اور اَکيلا
ميں اُس کو بانہوں ميں بھر لُوں
اور ايک ھی سانس میں
وہ ساری باتيں کر لُوں
جو میری زُبان ، میرے تالوُ سے
چِِپکی رھتی ھیں
دِل ميں سِمٹی رَھتی ھيں
سَب کُچھ ایسا ھو جائے ، جَب نا.
چاند میری کھڑکی ميں آئے ، تَب نا.
اَمجد اِسلام اَمجد
23/12/2025
کِسی سِتارے سے کیا شِکایت
کہ رات سب کُچھ بُجھا ھُوا تھا
فَسردگی لِکھ رَھی تھی دِل پر
شِکَستگی کی نئی کہانی
ھمارے لہجے میں یہ تَوازن
بڑی صَعُوبت کے بعد آیا
کئی مِزاجوں کے دَشت دیکھے
کئی رَوَیّوں کی خَاک چَھانی
عَزم بَہزاد
22/12/2025
چہروں کی بدصورتی کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی
خطرناک وہ ہوتے ہیں جو اندر سے بدصورت ہوتے ہیں 🌱✨
20/12/2025
Ask Those Who Wait,
How Long One Second Is.
17/12/2025
سکینہ کھانا کھانے کے بعد کھڑی جوٹھے برتن دھو رہی تھی، جبھی زبیدہ نے کہا :
" بچا ہوا کھانا بچوں کے لیے لے جانا۔۔ "
اس وقت اُسے جو خوشی محسوس ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔۔!! وہ سوچ رہی تھی کہ بچے کیا کھائیں گے، کیونکہ صبح کو تو انہیں خالی پیٹ چھوڑ کر آئی تھی۔۔ بچی ہوئی بھنڈی ہی ان تینوں کے لیے کافی ہوگئی۔۔ پھر چاول تھے اور کچھ بوٹیاں مرغی اور بطخ کی بھی تھیں۔۔ ہائے، کاش نان بھی ہوتے۔۔۔ ان سے مانگنے میں کیا برائی ہے۔۔؟ اس کے منہ سے آواز نکلی ؛
" آنسہ زبیدہ، اگر تم کہو میں ایک دو نان لے لوں۔۔؟ "
••••
ناول : بھوک
مصنف : محمد البساطی
مترجم : ندیم اقبال
17/12/2025
کوئی امیر فالور بکس گفٹ دینا چاہے 😁
خیر 50٪ ہے بک کارنر پہ..
میرا تجربہ اچھا رہا، اچھا ورق، اچھی جلدی.. 👍✨
17/12/2025
"ایک دن آپ اس پختگی کی عمر کو پہنچ جائیں گے جس کی وجہ سے آپ وقتی اور عارضی رشتوں ، ٹھنڈی اور بے روح دوستیوں ، حماقت بھری بحثوں اور جعلی پن میں ڈوبی ہوئی مصنوعی چیزوں اور لوگوں کے ساتھ منسلک ہونے سے مکمل طور پر انکار کر دیں گے. "
فیودور دوستوفسکی
16/12/2025
اے میرے دوست، میں اذیت دینا نہیں جانتا۔
میں ہرگز کامل نہیں ہوں، لیکن میں نے کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا، سوائے اپنی ذات کے۔ میرے اندر ایک حصہ ضرور بُرا ہے، مگر میں نہ عہد توڑتا ہوں، نہ وعدہ خلافی کرتا ہوں اور نہ ہی کسی کی آنکھوں میں ٹوٹنے کا کرب دیکھ سکتا ہوں۔
مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ بے وفائی اور تنہائی کا انجام کیا ہوتا ہے۔
نہ ہی میں جدائی کا ہنر رکھتا ہوں اور نہ کسی کا ساتھ چھوڑنے کا
اور دوست، یہی وہ مسئلہ ہے جسے تم کبھی سمجھ نہیں پاؤ گے۔
– ڈاکٹر احمد خالد توفیق، مصری ناول نگار
ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی