GPS Gandheri Payan No 2

GPS  Gandheri Payan No 2 GPS Gandheri Payan 2 Circle Tangi Charsadda

18/02/2026

🌸 خوشی کا جھولا 🌸
سکول کا بریک ختم ہوا اور بچے جلدی جلدی کلاسوں کی طرف دوڑنے لگے۔ ایک طرف بچے کمروں کی طرف بھاگ رہے تھے، کتابیں اور ہنسی کی آوازیں فضا میں گونج رہی تھیں۔
لیکن اس سب کے درمیان ایک ننھا سا بچہ تھا، جو جسمانی یا ذہنی معذوری کے باوجود اپنی دنیا میں مکمل خوشی میں گم تھا۔ وہ جھولے پر بیٹھا، دونوں ہاتھوں سے زنجیروں کو مضبوطی سے پکڑے، اور پوری بے فکری سے جھول رہا تھا۔ جیسے دنیا کی ہر پریشانی اس لمحے میں ختم ہو گئی ہو۔
اس کی خوشی اتنی صاف اور قدرتی تھی کہ دوسرے بچے رک گئے اور اس کا تماشہ دیکھنے لگے۔ کچھ بچے حیرت سے دیکھ رہے تھے، کچھ مسکرا رہے تھے، اور کچھ اس کے جھولے کی رفتار کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی قہقہوں میں شامل ہو گئے۔
یہ ننھا سا بچہ دکھاتا تھا کہ معذوری کبھی خوشی کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اس کے جھولے کی حرکت، اس کی ہنسی، اور اس کی بے فکری نے سب کے دل چھو لیے۔
اس لمحے سب کو یہ یاد آیا کہ خوشی کبھی بھی چھوٹی نہیں ہوتی — اور کبھی کبھی بس ایک جھولا ہی کافی ہوتا ہے۔

گورنمنٹ پرائمری سکول گنڈھیری پایان نمبر 2 میں پی ٹی سی ہائیرنگ کے تحت منتخب ہونے والے نئے معلم شاہد علی کو دل کی گہرائیو...
26/01/2026

گورنمنٹ پرائمری سکول گنڈھیری پایان نمبر 2 میں پی ٹی سی ہائیرنگ کے تحت منتخب ہونے والے نئے معلم شاہد علی کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ کی شمولیت ہمارے طلبہ کے لیے علم، رہنمائی اور کامیابی کی نئی راہیں کھولے گی۔

والدین کے لیے ضروری اطلاع​سمر زون کے تمام سرکاری اسکول موسمِ سرما کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ کھل چکے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ...
16/01/2026

والدین کے لیے ضروری اطلاع
​سمر زون کے تمام سرکاری اسکول موسمِ سرما کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ کھل چکے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو فوری طور پر اسکول بھیجیں تاکہ ان کا تعلیمی وقت ضائع نہ ہو۔ تعلیم ہر بچے کا حق ہے اور ان کا بہتر مستقبل صرف اسکول سے جڑا ہے۔ آئیے مل کر اپنے بچوں کو علم کی روشنی سے منور کریں

Position Holders
31/12/2025

Position Holders

ډذو – یو خطرناک لوبہ"نن سبا ماشومان په کوڅو او لارو کې یوه نوې لوبه کوي چې عام خلک ورته "ډذو" وايي. دا لوبه که څه هم په ...
10/05/2025

ډذو – یو خطرناک لوبہ"

نن سبا ماشومان په کوڅو او لارو کې یوه نوې لوبه کوي چې عام خلک ورته "ډذو" وايي. دا لوبه که څه هم په ظاهره بې ضرره ښکاري، خو ډېر زیات خطرناک عواقب لري. ماشومان له پلاسټیک بوتل، پایپ او غبارې څخه یوه بندوق ته ورته آله جوړوي او پکې کوچني کاڼي یا د "شنډۍ" د ونې میوې ږدي، بیا یې یو بل ته ویشتي.

دا کوچني کاڼي یا شنډۍ کله ناکله د ماشومانو سترګو، مخ یا نورو حساسو غړیو ته لګېږي او سخت زیان رسوي. ډېر داسې پېښې شته چې ماشومان له دې امله د تل لپاره له سترګې بې‌برخې شوي دي یا د مخ زخمونه یې اخیستي دي.

30/04/2025

اولاد کو عزت دیں — تاکہ وہ آپ کی عزت کرے

والدین کے لیے ایک نصیحت

جب بچہ 12 یا 13 سال کی عمر میں داخل ہوتا ہے، تو وہ ایک نازک مگر اہم مرحلے سے گزر رہا ہوتا ہے۔ یہ وہ عمر ہے جہاں محبت، رہنمائی، اور عزت نفس کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، بعض والدین خاص طور پر باپ، اس عمر میں اولاد کے ساتھ سخت لہجہ اختیار کرتے ہیں، گالی گلوچ کرتے ہیں، اور دوسروں کے سامنے شرمندہ کرتے ہیں۔

یہی رویہ آہستہ آہستہ بچے کے دل میں باپ کے لیے نفرت، تعلیم سے بیزاری، اور زندگی سے مایوسی پیدا کر دیتا ہے۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ:

کچھ بچے ایسے ماحول سے تنگ آ کر سکول چھوڑ دیتے ہیں۔

بعض گھر سے بھاگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اور کچھ بچے تو نفسیاتی دباؤ میں آ کر زندگی سے ہاتھ دھونے کا بھی سوچنے لگتے ہیں۔

یہ صرف کہانی نہیں، بلکہ آج کے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے۔

محترم والدین! یاد رکھیں! آپ کی ایک سخت بات، آپ کی ایک گالی، آپ کی ایک جھڑک... آپ کے بیٹے کی پوری زندگی کو تباہ کر سکتی ہے۔ آپ کی زبان کا زخم جسم سے زیادہ دل پر لگتا ہے، اور دل کے زخم دیر سے بھرتے ہیں۔

تو کیا کریں؟

بیٹے کی غلطیوں پر سرِ عام نہیں، اکیلے میں محبت سے سمجھائیں۔

اس کے اندر خوداعتمادی پیدا کریں، اسے بےعزتی سے نہ روندیں۔

اس کی بات سنیں، اس کی رائے کو اہمیت دیں۔

اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے قیمتی ہے، اس کی موجودگی باعثِ فخر ہے۔

یاد رکھیں!
محبت، نرمی، اور عزت وہ انمول تحفے ہیں جو آپ اپنے بچوں کو دیں گے، تو وہ آپ کا سر ہمیشہ فخر سے بلند رکھیں گے۔

28/04/2025

اساتذہ کی ذمہ داری — نسلوں کی تقدیر کا فیصلہ

ہمارا معاشرہ آج جس اخلاقی زوال اور تباہی کا شکار ہے، وہ کسی بیرونی دشمن یا آسمان سے نازل شدہ فتنے کا نتیجہ نہیں۔ یہ انہی معصوم بچوں کی کہانی ہے جو ہماری گلیوں میں کھیلا کرتے تھے، ہمارے اسکولوں میں پڑھتے تھے، ہماری نظروں کے سامنے بچپن سے جوانی کی دہلیز تک پہنچے۔
ان معصوموں کی تربیت کس کے سائے میں ہوئی؟ انہی اساتذہ کرام کے سائے میں، جنہیں معاشرہ روحانی باپ کا درجہ دیتا ہے۔

آج جب ہم چوریاں، ڈاکے، قتل و غارت گری، خودکشیاں، والدین کی نافرمانیاں، عید اور شادی بیاہ میں بے حیائی، فضول خرچیاں، گانے باجے، فحاشی اور دیگر برائیاں دیکھتے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ نوجوان کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ ان کے دلوں میں حیا اور غیرت کیوں نہیں؟

اب حال ہی میں ہم نے عیدالفطر کی خوشیوں میں دیکھا کہ اکثر نوجوان بازاروں اور سڑکوں پر ناچتے، ایک دوسرے کو گلے لگاتے، بعض نے عورتوں کے برقعے اور کپڑے پہن رکھے تھے۔
کچھ نے برقعہ اوڑھ کر مذاق اڑایا، اور ہاتھوں میں بڑے بڑے باجے لیے ہوئے، بازاروں میں تماشے کرتے نظر آئے۔
یہ سب منظر دیکھ کر دل تڑپ اٹھتا ہے۔

کاش ہم یاد رکھیں کہ پہلے ہمارے پشتون ثقافت میں یہ غیرت تھی کہ بہنوں کے دوپٹے کا سایہ بھی کسی نامحرم کی آنکھوں تک نہ پہنچتا۔
لیکن آج کے نوجوان خود اپنے بہنوں کے کپڑے، برقعے اور دوپٹے پہن کر، گلیوں میں ناچتے اور دوسرے لڑکوں کو گلے لگاتے ہیں۔
گویا کہ اپنی بہنوں کی غیرت اور حیاء کو اپنے قدموں تلے روندتے ہیں — اور یہ سب تفریح اور خوشی کے نام پر ہوتا ہے!

یہ سب انہی نونہالوں کی کہانی ہے جنہیں ہم نے علم ضرور دیا، مگر تربیت نہ دی۔
کتابیں پڑھائیں، مگر کردار نہ سنوارے۔
قلم تھمائے، مگر اخلاق کا سبق نہ دیا۔

جب استاد خود بچے کو صرف ایک رٹا مشین سمجھ لے، جب معلم صرف نمبروں کی دوڑ میں لگ جائے، تو ایسے معاشرے میں جوان ہونے والے بچے بجائے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کے، ان کا دردِ سر بن جاتے ہیں۔

استاد کا مقام محض سبق یاد کرانے کا نہیں، بلکہ زندگی کے اصول سکھانے کا ہے۔
ایک حقیقی استاد اپنے شاگرد کو اپنا بیٹا سمجھتا ہے، اس کی تربیت اپنی اولاد کی طرح کرتا ہے۔
تمیز، اخلاق، سچائی، صبر، قربانی، غیرت، حیا — یہ سب اوصاف اگر استاد کے لہجے اور کردار سے نہ جھلکیں تو پھر کتابیں پڑھ کر بھی نسلیں گمراہ ہو سکتی ہیں۔

اے معزز اساتذہ! آپ کے سامنے اللہ نے معصوم پھول رکھے ہیں۔
انہیں اس طرح سنوارئیے کہ کل یہ معاشرہ خوشبو بن جائے۔
انہیں ایسا انسان بنائیے کہ جہاں جائیں خیر بانٹیں، برکت پھیلائیں، اور اپنے والدین اور اساتذہ کا فخر بنیں، نہ کہ شرمندگی کا سبب۔

آئیے عہد کریں کہ ہم تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھی اپنائیں گے۔
علم کے ساتھ حلم بھی سکھائیں گے۔
ورنہ خالی دماغ شیطان کا کارخانہ بن جاتا ہے اور خالی دل فتنوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

یاد رکھیں! اگر ہم نے آج بچوں کی تربیت نہ کی، تو کل یہی بچے ہماری بربادی کی کہانی لکھیں گے۔

25/04/2025

تعلیم – د رڼا لار"

تعلیم د ژوند هغه چراغ دی چی د تیارو نه مو د رڼا پر لور بیایي. هر ماشوم د گل غوندې نوی امید وی، خو دا امید هغه وخت پوره کیږی، کله چی مونږ ورته د علم او شعور اوبه ورکړو.

د سرکاری سکولونو دروازې د هر ماشوم لپاره پرانستې دی. دا هغه ځایونه دی چی هلته استادان د مور و پلار په شان محبت سره تعلیم ورکوي. هلته سبق یوازې د کتابونو نه نه، بلکې د ژوند لوئ درسونه هم زده کیږی.

زمونږ ماشومانو ته تعلیم ورکول یواځی د هغوی حق نه، بلکې زمونږ ذمه واري هم ده. راځئ چی دا ذمه واري پوره کړو، خپل ماشومان سکول ته بوځو، او د هغوی مستقبل روښانه کړو. یو داخل شوی ماشوم، یو بدلیدونکی جهان دی.

تعلیم صرف درسي کتابونه نه دی، تعلیم هغه وسيله ده چی انسان ته خپل حق، خپله لار، او خپل مقام ښيي. راځئ چی دا مہم یواځی د حکومت نه، بلکې د خپل ضمیر آواز وګرځوو.

"نن یو قدم واخلئ، ماشوم سکول ته بوځئ – دا به سبا د یو باوقاره ملت پیل وی!"

Address

Gandheri Tehsil Tangi
Tangi

Telephone

+923420940076

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GPS Gandheri Payan No 2 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share