31/07/2015
پاک ستان کا مطلب کیا
ِْْمحمد اظہر راجہ
۶۶۵۰۰۰۳۱۲۳۰
اظھر پاکستان کیا ہے پاکستان کیوں ہے پاکستان کیسا ہے اور پاکستان کو کیسا ہونا چاہے یہ وہ سوالات ہیں جو میں اپنے آپ سے اکثر کرتا چلا آیا ہوں اور ان تمام سولات کے جوابات بھی اپنے ذھن میں خود اپنے آپ کو دیتا چلا آیا ہوں۔
مگر کبھی ان جوابات کو قلمبند نہیں کیا , آج جب میں پچاس سال سے زیادہ کا ہو چکا ہوں تو میرے دل نے اور ضمیر نے مجھے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا کہ مجھے ان سوالات کے جوابات کو تاریخ کے صفحات پر رقم کر دینا چاھے تا کہ جب خداوند کے حضور میری پیشی ہو تو میں خالق کائنات سے یہ عرض کر سکو ں کہ یا رب ا لعالمین میں تیری عطا کردہ عقل اور علم کے مطابق ۰۲ کروڑ عوام کے سامنے پاکستان کی حقیقت بیان کر آیا ہوں۔
عزیز ہم وطنوں خدا کی پیدا کردہ ساری کائنات اور خاص طور پر ہماری یہ زمین جس پر ہم آباد ہیں پاک اور قابلِِ قدر بھی .
اسی طرح پاکستان بننے سے پہلے بر صغیر پاک و ہند پر مشتمل سارا خطہ چو کہ رب کا پیدا کردہ تھا اسی لیے سارا خطہ ہی پاک تھا تو پھر ہمیں بر صغیر کے کچھ حصے کو الگ کر کے اسے پاکستان یعنی پاک جگہ کا نام دینے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی .
میرے بھائیوں اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ اللّہ کی پیدا کردہ زمین کا کوئی حصہ صرف اُسوقت ناپاک ہوتا ہے جب وہاں خدا کے قوانین کے بجائے شیطان کے قوانین نافذ کر دئے جائیں اور کوئی خطہ زمین صرف اسوقت پاک ہوا کرتا ہے جب وہاں رب کے نام کو بلند کیا جائے اور اللّہ کے بنائے ہوے قوانین سے وہاں کے لوگوں کو انصاف مہیا کیا جائے قائداعظم محمد علی جناح علامہ اقبال کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے خواہاں تھے اسی لیے وہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ خطہ زمین حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے جہاں حق تعالہ کے بنائے ہوے قوانین نافذ ہوں اسی لیے اس خطہ زمین کو حاصل کرکے اس کا نام پاکستان رکھا گیا سوال یہ ہے کہ آخر علامہ محمد اقبال نے پاکستان بنانے کا خواب کیوں دیکھا اور قائداعظم نے اس خواب کو تعبیر دینے کے لیے اتنی زبردست جدو جہد کیوں کی , کیا ایک غیر مسلم حکومت کے ماتحت رہ کر نماز نہی پڑی جاسکتی یا روزے رکھنا ممکن نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے بیشمار غیر مزہبی اور غیر مسلم ریاستوں میں مسلمان آباد ہیں وہ اپنی مزہبی رسومات کسی نا کسی طرح ادا کر تے ہیں نماز بھی پڑہتے ہیں روزہ زکواۃ اور حج کے فرائض بھی ادا کرتے ہیں سجدہ تو یروشلم میں ہو یا واشنگٹن مے بیروت میں ہو یا یونان میں نیو دہلی میں ہو یا اسلام آباد میں سجدہ تو سجدہ ہی رہے گا محترم قارئین مسلمان کو رب کے حضور سجدہ کے لیے کسی حاص حطہ زمین کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی تو پھر سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ آخر پاکستان کیوں بنایا گیا اور اس کے لئیے لاکھوں جانوں کا نزرانہ کیوں پیش کیا گیا قارئین حضرات خضرت علامہ اقبال اور قائداعظم جو کہ سچے مسلمان تھے ان کی خواہش تھی کہ ایک الگ حطہ زمین حاصل کر کہ وہاں اللّہ کا نظام انصاف نافذ کر کہ دنیا کو بتایا جائے کہ انصاف وہ نہیں جو کیمونسٹ اور سوشلسٹ دنیاں کو دکھا رہے ہیں اور ناہی انصاف وہ ہے جو اہلے مغرب کے غیر فطری نظام سے جھلکتا ہے اور ناہی انصاف مندروں اور کلیساؤں کی ظاہری چمک دمک میں پنہاں ہے انصاف تو رب کائنات کے بنائے ہوے اصولوں پر عمل کر نے سے ملتا ہے قائد اعظم کی حواہش تھی کہ ایک حطہ زمین حاصل کر کہ اس مے پاک صاف قوانین جاری کر کہ دنیاں کو یہ پیغام دیا جائے کہ ہمارے ملک کا نام ہی پاکستان نہیں . بلکہ ہمارے ملک کے ہر قانون سے انصاف اور ایمان کی پاک روشنی پھوٹتی ہے اسی روشنی جس سے پوری دنیاں کو روشن کیا جا سکتا ہے اور پاکستان دنیاں کی تاریکیوں کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے حقیقت مے قاعداعظم کی اصل سوچ یہ تھی وہ پاکستان کو دنیاں کے لیے ایک آئیڈیل ملک بنانا چاہتے تھے مگر افسوس کے قاعداعظم اور قاعدملت لیاقت علی خان کی جلد وفات سے یہ ممکن نہ ہو سکا اور پھر پچھلے ۵۶ سالوں میں آنے والے تمام پاکستانی حکمرانوں نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا نعرہ لگا کر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر نے کی کوشش کی مگر کسی ایک نے بھی پاکستان کو انصاف کا عملی نمونہ بنانے کی کوشش بھی نہیں کی وہ دنیاں کو یہ بتانے مے مخلص ہی نہیں تھے کے انصاف کے قوانین ہی دراصل اللّہ کے قوانین ہیں .
اس کے علاوہ چند مغرب زدہ اور نام نہاد ترقی پسند اور روشن خیال مفکران پاکستان الیکڑانک اور پرنٹ مڈیا میں بیٹھ کر اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے یہ شور مچانے میں مصروف رہے کہ پاکستان میں اسلامی قوانین یا شریعت محمدیﷺ کا نفاد قابل عمل ہی نہیں کیوں کہ چودہ سو سال پرانا نظام موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا .
قارئین اکرام میں ان صاحبان عقل و دانش سے کہوں گا کہ اگر آپ کی عقل اور مغربی علم اسلام کے لفظ کو قوانین کے ساتھ جڑا ہوا نہیں دیکھ سکتی تو پھر قوانین کے ساتھ اسلام کا لفظ ہٹا کر انصاف کا لفظ لگا دیں اس طرح آپ کے مغربی آقا بھی خوش ہو جائیں گے اور آپ کو بھی سکون قلب نصیب ہو گا بس ایک دفا پاکستان میں نظام انصاف نافذ ہونے دیجئے پاکستان کی ۰۲ کروڑ عوام آپ کی نسلوں کو دعائیں دے گی اور شاید نا انصافی کی چکی میں پسنے والی عوام سکھ کا سانس لینے کے بعد جو دعائیں آپ کو دیں گی اس سے آپ کی منافقانہ روش سے آنے والا عزاب الہی آپ پر سے ٹل سکے اور شاید خدا کو آپ پے رحم آجائے غزیز ہم وطنوں اگر یورپ اور امریکا میں انصاف کے کچھ قوانبن اور میرٹ کا نظام ہے اور بے روزگاروں کی کفالت کا نظام ہے یا حکومتی ارکان کے احتساب کا نظام ہے تو یہ قوانین بھی مغربی ممالک مے خلفاء راشدین کے نظام سے یا قرآن پاک کا تحقیقی مطالعہ کر کہ قرآن پاک سے حاصل کیے ہیں . یہ الگ بات ہے کے مغرب والے ان قوانین کو اللّہ کا قانون نہیں سمجھتے بلکہ انسان کے بنائیں ہوئے قوانین سمجھتے ہیں میں تو کہتا ہوں کہ کوئی بھی قانون جو اللّہ کی مخلوق کو انصاف مہیا کرے اور بیہودگی سے بچائے وہ اللّہ ہی کا قانون ہوتا ہے , انصاف اور اللّہ کی زات کو الگ الگ کیا ہی نہیں جا سکتا اسی لیے میرا ارباب اختیار سے مطالبہ ہے کہ وہ پاکستان مے نظامے انصاف نافذ کر دیں جس میں امیر اور غریب کے لیئے انصاف اور احتساب ایک جیسا ہو اور امیر اور غریب کو روزی کمانے کے ایک جیسے مواقعے میسر ہوں یقین کیجیے نظامے انصاف تمام فرقوں کے لیے یکساں قابل قبول ہو گا مولوی اور ملا سب خود بخود چپ ہو جائیں گے خدا کے لیے پاکستان کو اور پاکستان کے قوانین کو تمام برائیوں سے پاک کیجیے وہ قوانین جنہیں ۵۶ سالوں سے آپ نے اچھائیوں سے پاک کر نے کی کوشش کی ہے اللّہ پاک آ پ پر اور مجھ پر اپنا کرم فرمائیں آمین