03/10/2022
🌹ٹین ایج بچے قرآن نماز پڑھنے میں دلچسپی نہیں لیتے🌹
سکرین کی ایڈکشن بڑھتی جارہی ہے، ماں ہونے کے ناطے دعاؤں کے علاوہ کیا کریں؟ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا وہ صرف نماز قرآن سے ہی بھاگ رہے ہیں یا باقی بھی کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتے؟ کیا وہ اچھا کھانا بنے تو شوق سے نہیں کھاتے؟ کیا وہ ذاتی زندگی میں ہلکی پھلکی سی تنظیم بھی قائم نہیں کر پا رہے؟ کیا وہ رات بھر جاگتے ہیں اور سکرین سے چپکتے ہیں؟ کیا وہ کسی سے بات چیت کرنے کے خواہشمند نہیں ہوتے؟ کیا وہ گھنٹوں اپنے کمرے میں بند رہتے ہیں؟
اگر ان میں سے کسی ایک کا یا ایک سے زیادہ کا جواب اثبات میں ہے تو اس کو ایک ساتھ دماغ میں سوار کرنے کے بجائے ایک ایک کرکے ان پر کام کرنے کی کوشش کرنی ہوگی اور ان پر کام کرنے اور بہتری لانے کے لیے سب سے پہلے سوال اٹھے گا کہ ہمارا تعلق اپنے بچے سے سخت گیر ٹیچر کا ہے یا مینٹور کا یا دوست کا یا ایسا جیسے ضروریات زندگی پوری کرنیوالا کوئی ملازم۔
جو بھی ہمارا رول ہوگا بات چیت بھی اُسی انداز کی ہوگی اور اس کے نتائج بھی اسی حساب سے نکلیں گے، ایک اچھے تعلق میں ہمیں اوپر بیان کردہ ہر کردار کا کچھ حصہ شامل کرنا ہوگا، ماں باپ بوقت ضرورت کبھی دوست بنیں گے، کبھی مینٹور، کبھی سخت استاد اور کبھی لاڈ اُٹھانے والے ملازم۔
اور اگر ہمارے بچے ان مسائل میں مبتلا نہیں اور محض دین سے ہی دور بھاگ رہے ہیں تو ذرا سا ٹھہریں اور اُن کی لگام کھنچنے کے بجائے اُنہیں تھوڑا ڈھیلا چھوڑ دیں، چلتے پھرتے اُن کو دیکھ کر ربنا ھب لنا من ازواجنا کی دعا کا ورد جاری رکھیں یعنی جس کے ہاتھ میں دلوں کو اُلٹ پلٹ کرنا ہے اس کے پیچھے پڑ جائیں، رب اجعلني مقيم الصلاة ومن ذريتي پڑھتے رہیں، ہم چاہتے ہیں نا بچے نماز خشوع و خضوع سے پڑھیں، قرآن ہر دن ہو، تروایح مکمل، اسلامک کلاسز سب کچھ جو ہمیں ملا یا جو ہمیں لگتا ہے کہ آئیڈیل بچہ وہی ہے جو دین و دنیا دونوں میں آئیڈیل ہو لیکن حقیقتاً ہم اس چکر میں جو نعمت و راحت پہلے ہی موجود ہے اور جو خوشی و سکون ان کے کچھ اور اچھے اعمال و افعال دیکھ کر محسوس کرنا چاہیے وہ بھی دوسرے غم میں بھول جاتے ہیں۔
پچھلے دنوں ایک عورت نے شوہر سے ایک خاص کیفیت میں کوئی لیکچر سنتے ہوئے بے ساختہ کہا دل چاہتا ہے ہمارے بچوں میں سے کوی نعمان علی خان، عمر سلیمان بنے اور اُن کا جواب بھی بے ساختہ تھا کہ دعا کرو یہ اچھے انسان بنیں، ضروری نہیں ہر ایک اچھائی کو ایک مخصوص ہی پیمانے سے ناپا جاۓ، ہوسکتا ہے ہم سے ہمارے بچوں سے اللہ سبحان و تعالی نے کوئی اور بڑا کام لینا ہو اور واقعی اُن کی بات بہترین لگی، ہمیں اصل میں اپنی پریشانی و تفکر کو غم بنانے کے بجاۓ اپنی اسٹرینتھ بنانا سیکھنا ہوگا کہ جیسے موسی علیہ اسلام کی والدہ نے اس پریشانی کے باوجود کہ بچہ دریا میں ڈولتا ہوا جارہا ہوگا اور ڈوب ہی نہ جاۓ ساتھ ہی ساتھ اُس کو بچانے کی ممکنہ کوشش کرتے ہوۓ بیٹی کو پیچھے روانہ کر دیا، کہیں نہ کہیں ہمیں بھی پریشانی کے ساتھ کوششیں اور تیز کردینی چاہیں، دین سے جُڑنا، قرآن سے محبت، نماز کا حق ادا کرنا یہ سب ہمارے لیے سب سے پہلے ضروری ہے تاکہ وہ ہمیں دیکھ کر اپنے لاشعور میں یہ تصوریں فکس کرلیں اور پھر اللہ کی توفیق کے بغیر دل کی تبدیلی کے بنا ڈنڈے کے زور پر یہ سب کروا کے ہم اُنہیں بد دل زیادہ کرتے ہیں۔
ہم اُنہیں توجہ دلاسکتے ہیں، یاد دلا سکتے ہیں اور بار بار یہ کرسکتے ہیں، اس سے نہ جھنجھلائیں کہ اتنے بڑے ہو گئے بار بار کہنا پڑتا ہے کیونکہ ماں باپ بننے کے لیے ہم نے جو خواہش اور دعا کی تھی اور اُن کو پہلی دفعہ گود میں لے کر جو آنکھیں ٹھنڈی کی تھیں یہ سب ایک ہی پیکیج کا حصہ ہے، یہ ساری بات میں پہلا مخاطب اپنا آپ ہے کیونکہ تربیت اولاد کسی کے لئے ایک اسموتھ سا سفر نہیں کہ جو چاہا مل گیا البتہ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں ہر دن آنسو گرنے کے ساتھ تھک جانے کے ساتھ پھر اُٹھ کھڑے ہونا ہے، اپنی غلطیوں کو چپکے چپکے چیک کر کے پھر خود سے سنبھل کر دوبارہ کمر ہمت باندھ لینا ہے، چاہے وہ اسکرین پر ضرورت سے زیادہ وقت گزاریں، جلدی جلدی نمازیں پڑھ کر مصلہ لپیٹ دیں لیکن اُن کی زندگی میں اگر ہم صرف یہ تصور ڈال دیں کہ ہم نہیں بھی دیکھ رہے تو اللہ انہیں دیکھ رہا ہے اور اُس کی نظر میں اُن کے لیے محبت ہے تو وہ کبھی نہ کبھی پلٹ آتے ہیں۔
جہاں تک بات اسکرین کی ہے یا کسی بھی انتہائی سنگین مسئلے کی جہاں والدین کا ایکشن لینا ناگزیر ہو وہاں بلاشبہ اصول ہونے چاہیں ڈسپلن ہونا چاہیے لیکن وہ بھی لچکدار اصول ہوں یعنی انتہائی نامعقول روئیے پر اگر کوئی سختی کی گئی اور کوئی سزا (عزت نفس مجروح کیے بغیر) مقرر ہوئی جس میں بچے کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہوا تو جب وہ واپس پلٹ کر معافی مانگ لے تو ہم بھی اصول کی جان سے نہ چمٹ جائیں بلکہ کچھ آسانی کر دیں.....
التماسِ دعا:
🌹The smart school Tando Adam 🌹