22/06/2026
سرمایہ کاری کا مقصد منافع ضرور ہوتا ہے، لیکن ہر منافع جائز نہیں ہوتا۔
ہر سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری پر منافع کا سوچتا ہے اور یہ اس کا حق بھی ہے۔ لیکن اگر کوئی سرمایہ کار ناقص پراڈکٹ، غیر معیاری خدمات یا دھوکہ دہی کے ذریعے منافع کماتا ہے تو یہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ معاشرے کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔
تعلیم کا شعبہ تو ویسے بھی ایک عام کاروبار نہیں۔ یہاں صرف عمارتیں نہیں بنتیں بلکہ نسلیں تیار ہوتی ہیں، کردار بنتے ہیں اور قوموں کا مستقبل تشکیل پاتا ہے۔
اگر کوئی تعلیمی ادارہ صرف منافع کو اپنا مقصد بنا لے اور معیاری تعلیم، بچوں کی تربیت، کردار سازی اور ان کے روشن مستقبل کو نظر انداز کر دے تو وہ صرف والدین کے ساتھ زیادتی نہیں کر رہا بلکہ پوری نسل کے مستقبل سے کھیل رہا ہے۔
منافع کمانا غلط نہیں، بلکہ ہر کاروبار کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ لیکن منافع ہمیشہ معیار، دیانت داری اور خدمت کے ذریعے حاصل ہونا چاہیے، نہ کہ کسی کا حق مار کر یا ذمہ داریوں سے چشم پوشی کرکے۔
ایک اچھا تعلیمی ادارہ وہ ہے جو منافع اور معیار کے درمیان توازن قائم رکھے، کیونکہ تعلیم صرف کاروبار نہیں بلکہ ایک امانت بھی ہے۔
یاد رکھیں:
"منافع کاروبار کو زندہ رکھتا ہے، لیکن معیار اور دیانت داری اسے باعزت بناتے ہیں۔"