02/04/2025
🪷وضو کے بعد بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر پینا🪷
واضح رہے کہ متعدد روایات میں اس قسم کا مضمون وارد ہوا ہے کہ جس میں یہ ذکر ہے کہ صحابئ رسول حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وضو کے بعد بچا ہوا پانی نوش فرماتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے جس سے فی الجملہ اس عمل کا سنت ہونا ثابت ہوتا ہے۔چناں چہ بخاری شریف میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز پڑھ لینے کے بعد عصر کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے،جب عصر کا وقت آیا تو پورا وضو کرلینے کے بعد اس کا بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر پی لیا اور آخر میں ارشاد فرمایا کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسا کہ میں نے ابھی کیا،اسی طرح مسند احمد کی ایک روایت میں وارد ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو میں اعضاء وضو کو تین،تین مرتبہ دھو یا او ر آخر میں اس کا بچا ہوا پانی پی لیا اور پھر یہ ارشاد فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ان تمام روایات سے اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وضو کے بعد اس کا بچا ہوا پانی پینا سنت ہے۔باقی وضوکرنے کے بعد بچے ہوئے پانی سے صرف ایک گھونٹ پینا سنت نہیں ہے، بلکہ برتن میں بچا ہوا پورا پانی پینا سنت ہے، تاہم پانی زیادہ ہو تو جس قدر پی سکے پی لے۔
بخاری شریف میں ہے:
"عن علي رضي الله عنه أنه صلى الظهر، ثم قعد في حوائج الناس في رحبة الكوفة، حتى حضرت صلاة العصر، ثم أتي بماء، فشرب وغسل وجهه ويديه، وذكر رأسه ورجليه، ثم قام، فشرب فضله وهو قائم، ثم قال: إن ناسا يكرهون الشرب قياما، وإن النبي صلى الله عليه وسلم صنع مثل ما صنعت."
مسند احمد میں ہے:
"عن علي أنه توضأ ثلاثا ثلاثا، وشرب فضل وضوئه، ثم قال هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل."
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنها أن يدعو عند كل فعل من أفعال الوضو بالدعوات المأثورة المعروفة، وأن يشرب فضل وضوئه قائما، إذا لم يكن صائما."
( کتاب الطھارۃ،فصل آداب الوضو،)
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
"وأن يشرب من فضل الوضو قائما أو قاعدا لأنه صلى الله عليه وسلم شرب قائما من فضل وضوئه وماء زمزم."
(کتاب الطھارۃ،فصل من آداب الوضو أربعة عشر شيئا)
فقط واللہ أعلم
(یہ سنت بھی ترک کیا گیا ہے اسلیۓ اسپر عمل کرکے، اس فساد امت کے زمانے میں سو شھیدوں کی مثل ثواب حاصل کرنے کو غنیمت سمجھیں۔
🪸نوٹ:اس وقت اکثر نلکے سے وضو کیا جاتا ہے،کوزے وغیرہ نہیں ہوتے جسمیں بچا ہوا پانی پی سکےتو بہتر یہی ہے کہ آخر میں نلکے سے ہاتھوں میں پانی لیکر قبلہ کی جانب رخ کرکے بسم اللّٰہ پڑھتے ہوئے پانی پیا جائے ان شاءاللہ اس صالح نیت کی بدولت ثواب سے محروم نہ رہی