Meezan Online Quran Academy

Meezan Online Quran Academy Assalam O Alaikum.I am Online Holy Quran teacher.I teach Holy Quran perfectly with tajweed,Norani Qaida,namaz,basic masnoon,duain and every thing.

contact=+923421560901
+923139324269 I am online Quran tuter those who are interested so now contact me
+92-3421560901

02/04/2025

🪷وضو کے بعد بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر پینا🪷
واضح رہے کہ متعدد روایات میں اس قسم کا مضمون وارد ہوا ہے کہ جس میں یہ ذکر ہے کہ صحابئ رسول حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وضو کے بعد بچا ہوا پانی نوش فرماتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے جس سے فی الجملہ اس عمل کا سنت ہونا ثابت ہوتا ہے۔چناں چہ بخاری شریف میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز پڑھ لینے کے بعد عصر کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے،جب عصر کا وقت آیا تو پورا وضو کرلینے کے بعد اس کا بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر پی لیا اور آخر میں ارشاد فرمایا کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسا کہ میں نے ابھی کیا،اسی طرح مسند احمد کی ایک روایت میں وارد ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو میں اعضاء وضو کو تین،تین مرتبہ دھو یا او ر آخر میں اس کا بچا ہوا پانی پی لیا اور پھر یہ ارشاد فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ان تمام روایات سے اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وضو کے بعد اس کا بچا ہوا پانی پینا سنت ہے۔باقی وضوکرنے کے بعد بچے ہوئے پانی سے صرف ایک گھونٹ پینا سنت نہیں ہے، بلکہ برتن میں بچا ہوا پورا پانی پینا سنت ہے، تاہم پانی زیادہ ہو تو جس قدر پی سکے پی لے۔
بخاری شریف میں ہے:
"عن علي رضي الله عنه أنه صلى الظهر، ثم قعد في حوائج الناس في رحبة الكوفة، حتى حضرت صلاة العصر، ثم أتي بماء، فشرب وغسل وجهه ويديه، وذكر رأسه ورجليه، ثم قام، فشرب فضله وهو قائم، ثم قال: إن ناسا يكرهون الشرب قياما، وإن النبي صلى الله عليه وسلم صنع مثل ما صنعت."
مسند احمد میں ہے:
"عن علي أنه توضأ ثلاثا ثلاثا، وشرب فضل وضوئه، ثم قال هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل."
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنها أن يدعو عند كل فعل من أفعال الوضو بالدعوات المأثورة المعروفة، وأن يشرب ‌فضل وضوئه قائما، إذا لم يكن صائما."

( کتاب الطھارۃ،فصل آداب الوضو،)
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"وأن يشرب من فضل الوضو قائما أو قاعدا لأنه صلى الله عليه وسلم شرب قائما من فضل وضوئه وماء زمزم."

(کتاب الطھارۃ،فصل من آداب الوضو أربعة عشر شيئا)
فقط واللہ أعلم
(یہ سنت بھی ترک کیا گیا ہے اسلیۓ اسپر عمل کرکے، اس فساد امت کے زمانے میں سو شھیدوں کی مثل ثواب حاصل کرنے کو غنیمت سمجھیں۔
🪸نوٹ:اس وقت اکثر نلکے سے وضو کیا جاتا ہے،کوزے وغیرہ نہیں ہوتے جسمیں بچا ہوا پانی پی سکےتو بہتر یہی ہے کہ آخر میں نلکے سے ہاتھوں میں پانی لیکر قبلہ کی جانب رخ کرکے بسم اللّٰہ پڑھتے ہوئے پانی پیا جائے ان شاءاللہ اس صالح نیت کی بدولت ثواب سے محروم نہ رہی

31/03/2025

🪷عدت کے ضروری احکام 🪷
🥀عدتِ وفات چارمہینے دس دن ہے ، جبکہ عورت شوہر کے انتقال کے وقت حاملہ نہ ہو۔
اگر حاملہ ہو تو پھر وضع حمل عدت ہے خواہ ایک ساعت کیوں نہ ہو
🥀اگرچاند کی پہلی تاریخ کو شوہر کا انتقال ہواہے ، توچا ند سے مہینے لئے جائیں گے اوراگر کسی اورتاریخ کو انتقال ہواہے ، توپورے 130دن گزارنے ہوں گے۔
🥀عدتِ وفات اور طلاق بائن کی عدت میں سوگ کاحکم ہے ۔ سوگ کے یہ معنی ہیں کہ عورت زینت کوترک کرے ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ اس دوران معتدہ کسی قسم کے زیورات نہیں پہن سکتی۔ خوشبو کا استعمال کپڑے یا بدن پر نہیں کرسکتی۔ اسی طرح تیل سے بالوں کو سنوار نہیں سکتی نہ ہی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہے۔الغرض عدت کے دوران ہر طرح کی زینت اختیار کرنا ، ناجائز ہے ، مگر یہ کہ ضرورت کی وجہ سے ہو ،مثلاً سر میں تیل نہ لگانےکی وجہ سے درد ہو ، تو تیل لگانا یا آنکھوں میں درد ہو ، تو سرمہ لگانا یوں ہی سر میں درد کی وجہ سے موٹے دندان والی طرف سے کنگھی کرنا وغیرہ کی شرعاً اجازت ہے ۔ جیسا کہ معتمد کتبِ فقہ میں موجود ہے ۔
🥀پردہ کاوہی حکم ہے
، جوعدت کے علاوہ حکم ہوتاہے یعنی جن لوگوں سے عدت کے علاوہ پردہ ہے ،ان سے عدت میں بھی پردہ ہوگااورجن لوگوں سے عدت کے علاوہ پردہ نہیں ،ان سے عدت میں بھی پردہ نہیں۔عدت کی وجہ سے پردے کے الگ احکام نہیں۔
لوگوں کو یہ ایک غلط فہمی ہے کہ عدت میں پردے کیبارے میں پوچھتے ہیں کہ کن کن لوگوں سے پردہ ضروری ہے؟؟(ان افراد کا لسٹ الگ بھیجتا ہوں)
لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ جن لوگوں سے پہلے پردہ تھا ان لوگوں سے عدت کے بعد بھی پردہ ہے اور جن لوگوں سے عدت کے دوران پردہ ہے ان سے غیر عدت میں بھی پردہ ہے۔
🥀عورت کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ عدت شوہر کے گھر ہی پر گزارے۔ بلا ضرورتِ شرعیہ اس گھرسے نکلنا ناجائز ہے۔
نوٹ::باقی جو مسائل پوچھنا ہو تو کسی معتمد عالم سے استفسار کیا کرو۔
✒️۔۔۔

24/03/2025

میزان پبلک سکول گنجٸ کے کلاس 2 کے اس ننھے طالب علم نے بہت ہی خوبصورت انداز میں تلاوت کیا ہے ماشاأاللہ اللہ مزید ترقی سے مزین فرماٸیں

24/10/2023

Assalam o alaikum
I am Quran teacher for kids and women's. If anyone want to learn then contact me
+92342-1560901

Assalam O Alaikum.I am Online Holy Quran teacher.I teach Holy Quran perfectly with tajweed,Norani Qaida,namaz,basic masnoon,duain and every thing. contact=+923421560901
+923139324269

17/08/2023

*قراء سبعہ : ​*

صحابہ کرام میں سات صحابہ قرآن پڑھانے میں مشہور ہوئے۔ امام ذہبی فرماتے ہیں وہ یہ ہیں:

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ۔ ابو الدرداء عویمر بن زید رضی اللہ عنہ۔ ان سب نے آپﷺ سے قرآن سنا کر (عرضاً) حاصل کیا۔ قراء ائمہ عشرہ کی اسانید کا دارومدار انہی پر ہی ہے۔ دیگر صحابہ نے بھی قرآن کریم کو حاصل کیا مگر ان کی سند ہم تک نہیں پہنچ سکی۔ اس لئے انہی سات صحابہ کرام پر قراءۃ کی سند آکر تھم گئی۔ (معرفۃ القراء الکبار ۱؍ ۳۹)

بہت سے تابعین کرام نے ان صحابہ کرام سے قراء ۃ سیکھی۔ جو بیشتر علاقوں میں آباد تھے۔ صحیح قراء کی شروط کے مطابق جب علامہ ابوبکر احمد بن موسیٰ بن عباس ابن مجاہد تمیمی بغدادی (م: ۳۲۴ھ) نے "کتاب السبعۃ" لکھی اور ان قراء حضرات کی قراءۃ کو سات میں محصور کر دیا تو ضبط قراءۃ کے ساتھ نقل میں بھی پختگی آگئی۔ کیونکہ یہ قراءاۃ اس دور کی باقی قرائتوں کے مقابلہ میں عام وخاص کے ہاں متداول، مشہور اور سب سے زیادہ مستند اور صحیح تھیں۔ جس کا بہت زبردست اثر ہوا اور پھر یکے بعد دیگرے اس موضوع پر کتابیں آنا شروع ہ وگئیں۔ یہ سبعہ قراء درج ذیل ہیں:

*۱۔ عبد اللہ بن عامر یحصبی دمشقی* (۲۱۔۱۱۸ھ) ، جلیل القدر تابعی جو ابن عامر کے نام سے شام کے مشہور قاری تھے۔ ولید بن عبد الملک کے عہد میں دمشق کے قاضی رہے۔ ان کی کنیت ابونعیم تھی۔ تابعی تھے نعمان بن بشیر اور واثلہ بن اسقع سے ان کی ملاقات ہوئی۔ امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان کی خدمت میں بھی انہوں نے اپنا قرآن پڑھا۔ ہشام بن عبد الملک کے عہد میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کی سند ہشام سے یوں چلی۔ حدثنا الولید بن مسلم، حدثنا یحییٰ بن الحارث الذماری، عن عبداللہ بن عامر أنہ قرأ علی عثمان بن عفان۔ امام دانی فرماتے ہیں: انہوں نے سیدنا ابوالدرداء اور مغیرہ بن ابی شہاب سے عرضاً قراء ۃ حاصل کی ۔اہل شام میں ان کی قراء ۃ پانچ سو سال تک تلاوت، نماز اور تلقین میں غالب رہی۔ان سے دو راوی ابن عمار اور ابن ذکوان بالواسطہ روایت کرتے ہیں۔(معرفۃ القراء الکبار ۱/۸۲، غایۃ النہایۃ ۱/۴۲۳)
*٭ ابو الولید ہشام بن عمار سلمی* (۱۵۳۔۲۴۵ھ) جو دمشق کے امام خطیب، محدث، مقرئ اور مفتی رہے۔ انہوں نے عرضاً بہت سے قراء سے سنا۔ فصیح اللسان تھے، ان کی روایت بہت پھیلی۔ طویل عمر کے باجود ان کا حافظہ آخر عمرتک صحیح رہا۔ ابو الولید کی سند ابن عامر تک یہ ہے: ابو علی ایوب بن تمیم، اور سوید بن عبد العزیز،دونوں ابوعمرو یحییٰ بن الحارث الذماری سے اور وہ ابن عامر سے۔ ابوالولیدخود، ابوعبید القاسم بن سلام ، حلوانی، ہارون اخفش کے شاگرد تھے ۔ سند قراءت لینے کے لئے ان کے پاس بہت دور دور سے لوگ آتے۔((معرفۃ القراء الکبار ۱/۱۹۵، غایۃ النہایۃ ۱/۳۵۴)

*٭ ابن ذکوان* کا نام ابوعمرو عبد اللہ بن احمد بن بشر بن ذکوان القرشی الدمشقی (۱۷۳۔۲۴۲ھ) ہے۔ امام، استاذ اور ثقہ راوی ہونے کے علاوہ بلاد شام میں انہیں مشیخت حاصل تھی۔ جامع مسجد دمشق کے امام بھی رہے جبکہ وہاں خطیب ابن عمار تھے۔ ابن عمار کے شاگرد تھے مگر ان سے بڑھ کر مقرئ تھے ۔علم میں ہشام ان سے کہیں آگے تھے۔
(معرفۃ القراء الکبار ۱/۱۹۸، غایۃ النہایۃ ۱/۴۰۴)

*۲۔ عبد اللہ بن کثیر الداری (۴۵۔۱۲۰ھ)* مکی۔ قارئ مکہ تھے۔ عرضاً عبد اللہ بن السائب سے قراءۃ لی۔ اور ابی بن کعب و سیدنا عمر بن خطاب کو بھی اپنی قراءۃ سنائی۔ عبد اللہ بن السائب، مجاہد اور درباس سے علم قراءۃ سیکھا۔ ان سے متعدد تلامذہ نے قراءۃ سیکھی اور روایت کی جن میں ان کے اپنے صاحب زادے صدقہ اور اسماعیل بن عبد اللہ القسط، خلیل بن احمد، حماد بن سلمہ اور شبل بن عباد خاصے معروف شاگرد ہیں۔بڑے فصیح وبلیغ انسان تھے سفید ریش تھے، جسم لانبا تھا گندمی رنگ اور آنکھ سیاہ مگر مائل بسرخ تھی۔ ابو معبد ان کی کنیت تھی۔ ان کی قراء ۃ کو بالواسطہ قنبل اور البزی روایت کرتے ہیں۔ (معرفۃ القراء الکبار ۱/۸۶، غایۃ النہایۃ ۱/۴۴۳)

*٭ البزی(۱۷۰۔۲۵۰ھ):* کا نام احمد بن محمد بن عبد اللہ۔۔ بن ابی بزہ تھا۔ مکہ کے مقرئ اور مسجد حرام کے مؤذن وامام تھے۔ ایک محقق، ضابط اور متقن مقرئ تھے۔ (معرفۃ القراء الکبار ۱/۱۷۳ ، غایۃ النہایۃ ۱/۱۱۹)

*٭ قنبل:(۱۹۵۔۲۹۱ھ)* ان کا نام ابو عمرمحمد بن عبد الرحمن مخزومی اور قنبل لقب سے معروف تھے۔ اعلام قراء میں سے تھے۔ اتقان میں لاثانی تھے۔ حجاز میں قراءت کی تدریس انہی پر منتہی تھی۔ اطراف سے لوگ ان کے پاس پڑھنے کو آئے۔ مکی ایڈمنسٹریشن میں ان کی ملازمت تھی۔ علم وفضل کے مالک کے آگے سرنگوں ہوجاتے۔ ان کے شاگردوں میں ابوربیعہ، ابن مجاہد اورابن شنبوذ شامل ہیں۔ ( غایۃ النہایہ ۱/۲۵۴، لطائف الاشارات ۱/۱۰۱)

*۳۔ عاصم(۔۔۱۲۷ھ) :* ان کا نام ابوبکر عاصم بن بہدلہ بن ابی النجود تھا، کہا جاتا ہے کہ بہدلہ ان کی والدہ اور ابوالنجود ان کے والد تھے۔ تابعی اور اسدی تھے۔ فصاحت، اتقان، تحریر اور تجوید کے ماہر تھے۔ان کی قراءۃ بہت ہی خوبصورت تھی۔ کوفہ میں ابوعبد الرحمن السلمی کے بعد مسند تدریس انہی کی تھی۔ عاصم نے عرضاً زر بن حبیش عن عبد اللہ بن مسعود، ابو عبد الرحمن السلمی اور ابو عمرو الشیبانی سے روایت کی ہے۔ ان کی قراءۃ کی روایت بلاواسطہ ابو بکر بن عیاش اور حفص بن سلیمان نے کی ہے۔
(معرفۃ القراء الکبار ۱/۸۸، تہذیب التہذیب ۵/۳۸)

*٭ ابو بکر:* یہ شعبہ بن عیاش بن سالم ابو بکر الحناط کوفی ہیں جو سن ۹۵ ھ میں پیدا ہوئے ۔ امام عاصم کو انہوں نے تین بار قرآن پاک سنایا۔ عطاء بن السائب کے بھی شاگرد تھے۔ باعمل اور فقیہ تھے۔ ان کے بے شمار اساتذہ ہیں۔ شاگردوں کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے جن میں یعقوب بن خلیفہ الاعشی، یحییٰ العلیمی وغیرہ خاصے معروف ہیں۔ سن۱۹۳ھ میں فوت ہوئے۔
(معرفۃ القراء الکبار ۱/۱۳۴، غایۃ النہایہ ۱/۳۲۵)

*٭ حفص(۹۰۔۱۸۰ھ):*
آپ کا نام ابوعمر حفص بن سلیمان الاسدی کوفی ہے ب**ز بھی تھے حفیص کے نام س زیادہ معروف تھے۔ امام عاصم سے قراءۃ کو عرضاً اور بالمشافہہ حاصل کیا۔ ان کی بیوی کا بیٹا ان کا ربیب تھا۔ بغداد قیام پذیر ہوگئے وہاں مدتوں پڑھایا بھی۔ مکہ میں بھی مجاورت کی اور وہاں بھی قراءۃ پڑھائی۔ قراءت عاصم کے سب سے بڑے عالم تھے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین سب سے زیادہ صحیح روایت عاصم سے حفصبن سلیمان ہی کی ہے۔ حروف کے ضابط بھی تھے۔ ان کے شاگردوں میں عمرو بن صباح، عبید بن صباح اور حسین جعفی تھے۔ حفص کی روایت عالم اسلامی میں پھیلی ہوئی ہے اور اکثر و بیشتر مصاحف حفص عن عاصم کی روایت سے شائع شدہ ہیں۔ (معرفۃ القراء الکبار ۱/۱۴۰، غایۃ النہایہ ۱/۲۵۴)

*۴۔ ابو عمر و* زُباَّن بن العلاء تمیمی، المازنی (۶۸۔۱۵۴ھ) بصرہ کے مشہور قاری تھے۔ قراء سبعہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ حجاج کے خوف سے جب ان کے والد بھاگے تو یہ بھی ان کے ہمراہ حجاز آگئے۔ مکہ ومدینہ میں انہوں نے علم حاصل کیا۔ حسن بصری، عاصم، ابن کثیر، حمید بن قیس الاعرج اور ابو العالیہ الریاحی وغیرہ سے انہیں شرف تلمذ حاصل ہے۔ قراء میں سب سے زیادہ شیوخ انہی کے ہیں۔ عرضاً اور سماعاً ان سے بہت لوگوں نے قراءۃ روایت کی۔ قرآن کریم کے عالم اور عربی زبان کے ماہر تھے۔ صادق، ثقہ اور زاہد تھے۔ کوفہ میں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے مجاہد بن جبیر اور سعید بن جبیر کے واسطوں سے سیدنا ابن عباس اور ابی بن کعب سے روایت کی ہے۔ تلامذہ میں حسین الجعفی، اصمعی اور سیبویہ جیسے نابغہ لوگ ہیں۔ ان کی قراءۃ کی روایت بالواسطہ الدوری اور السوسی نے کی ہیں۔ (معرفۃ القراء الکبار ۱/۱۰۰، غایۃ النہایۃ ۱/۲۸۸)

*٭ الدوری(۲۴۶ھ):* ان کا نام ابوعمر حفص بن عمر بن عبد العزیز الدوری تھا۔ دور بغداد کا ایک محلہ ہے۔ نابینا تھے، سامراء آکر وہیں پلے بڑھے۔ علم قراءۃ کی طلب میں بڑی مسافرت کی۔ قراء ۃ میں ثقہ و ضابط اور امام تھے۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے دوری نے قراءۃ کو جمع کیا ہے مگر اس کا علم نہیں کہ کیا انہوں نے اسے یاد کیا تھا یا کتب میں جمع کیا تھا۔ اسماعیل بن جعفر سے قراءۃ لی جن کی سند امام نافع سے تھی۔ اسی طرح ابوبکر سے جو عن عاصم کی سند رکھتے اور سلیم جو حمزہ بن القاسم کے ساتھی تھے ان سے عن اصحابہ کی سند قراءۃ لی۔ اسی طرح کسائی اور یحییٰ الیزیدی سے بھی تلمذ حاصل ہے۔ طویل العمر ہونے کی وجہ سے ان کا حلقہ تلمذ خاصا وسیع تھا اور سند عالی لینے کے لئے ان کی مجلس میں خوب اژدحام ہوتا۔ (معرفۃ القراء الکبار ۱/۱۹۱، غایۃ النہایۃ ۱/۲۵۵)

*٭ السوسی (۱۷۳۔۲۶۱ھ)،* ان کا نام ابوشعیب صالح بن زیاد الرقی تھا۔ بہت بڑے مقرئ تھے۔ اہواز کے ایک مقام سوس کے طرف ان کی نسبت ہے۔ یحییٰ بن مبارک الیزیدی سے علم قراءۃ حاصل کرنے کے بعد ان کے قابل فخر شاگرد کہلائے۔ خود انتہائی ضابط، ثقہ قارئ تھے۔ ان کے شاگردوں میں ان کا بیٹا محمد، امام نسائی اور دیگر لوگ شامل ہیں۔ سوسی کی روایت ہی دراصل اہل رقہ کی روایت کہلاتی ہے یہ سب الیزیدی عن ابی عمرو سے روایت کرتے ہیں۔ (غایۃ النہایۃ ۱/۳۳۲، لطائف الاشارات۱/۱۰۱)

*۵۔ حمزہ(۸۰۔۱۵۶ھ) :* ان کا نام ابو عمارہ حمزہ بن حبیب الزیات ہے۔سلیمان اعمش، یحی بن وثاب، زر بن حبیش اور حمران بن اعین، سیدنا عثمان، وعلی، وعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے شاگرد ہیں۔ ان سے ابراہیم بن ادہم، سفیان ثوری اور کسائی وغیرہ نے روایت کی ہے۔ عاصم اور اعمش کے بعد قراءۃ کی امامت کا سہرا انہی کے سر ہے۔ بہت بڑے امام قراءۃ، حجت، ثقہ ، عابد وزاہد اور خشوع کرنے والے انسان تھے۔ عبد اللہ بن ابی اوفی اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما کو انہوں نے دیکھا اور پایا۔ خلف اور خلاد، ان کے بالواسطہ راوی ہیں۔ (معرفۃ القراء الکبار ۱/۱۱، غایۃ النہا یۃ۱/۲۶۱)

*٭ خلف(۱۵۰۔۲۲۰ھ):* ان کا نام ابومحمد خلف بن ہشام البزار ہے۔ بغدادی ہیں۔ دس سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا۔ ایک ثقہ، زاہد انسان تھے۔ انہوں نے قراءت کو عرضاً سلیم عن حمزہ لی۔ اپنی قراءۃ بھی کی جس میں وہ ایک سو بیس حروف میں اپنے شیخ حمزہ سے منفرد ہیں۔ (معرفۃ القراء الکبار ۱/۲۰۸، غایۃ النہایۃ ۱/۲۷۲)

*٭ خلاد:* ابو عیسیٰ خلاد بن خالد الشیبانی کوفہ میں سن ۲۲۰ھ میں فوت ہوئے۔ قراء ۃ میں امامت کا درجہ انہیں بھی حاصل تھا۔ انتہائی ثقہ، قراءۃ کی صحیح معرفت رکھنے والے، محقق استاذ تھے اور ضبط اور جلالت سے موصوف کئے جاتے۔
( معرفۃ القراء الکبار۱/۲۱۰، غایۃ النہایۃ ۱/۲۷۴)

*۶۔ نافع(۷۰۔۱۶۹ھ):* ان کا نام ابورویم نافع بن عبد الرحمن بن ابی نعیم تھا۔ اصفہان سے ان کا تعلق تھا مگر مدینہ میں پرورش پائی اور اسی کی طرف منسوب ہوئے۔ قراءۃ کو ابن ہرمز، ابو جعفر بن قعقاع، شیبۃ بن نصاح اور امام زہری وغیرہ سے عرضاً سیکھا۔ کہا کرتے کہ میں نے ستر تابعین سے پڑھا۔ ان کے شاگردوں میں ابن وردان، ابن جماز، مالک بن انس، اصمعی اور ابوعمرو بن العلاء جیسے ائمہ ہیں۔ ان سے عرضاً اور سماعاً قراءۃ کو روایت کرنے والوں میں اسماعیل بن جعفر، مالک بن انس، یعقوب بن جعفر اور عیسیٰ بن مینا قالون اور ابوعمرو بن العلاء جیسے ائمہ وقت شامل ہیں۔ قراءۃ کی مختلف صورتوں کے زبردست عالم تھے اور مدینہ کے علماء ائمہ سے مروی قراءۃ کی مختلف وجوہ سے بھی آشنا۔ قالون کہا کرتے: اخلاق کے اعتبار سے نافع انتہائی پاکیزہ انسان تھے۔ زاہد وسخی انسان ۔ مدینہ میں تقریباً ستر سال تک مسند تدریس پر رہے۔ اور مسجد نبوی کے امام بھی رہے۔ ان سے دو معروف راوی قالون اور ورش بلا واسطہ روایت کرتے ہیں۔

*٭ قالون(۱۲۰۔۲۲۰ھ):* ان کا پورا نام ابوموسیٰ عیسیٰ بن مینا بن وردان ہے بنو زہرہ کے مولی تھے۔ مدینہ کے قاری اور نحوی۔ کہا جاتا ہے کہ امام نافع کے ربیب تھے۔ انہی کے ساتھ بہت حد تک صحبت خاص رہی۔ انہوں نے ہی ان کا نام قالون رکھا جو رومی زبان میں خوبصورت قراءۃ والے کو کہتے ہیں۔ اس لئے کہ اصلًا قالون رومی تھے۔ بہرے تھے بگل کو نہیں سن سکتے تھے مگر جب کوئی قاری ان پر قرآن پڑھتا تو نہ صرف سمجھتے تھے بلکہ اگر وہ غلطی کرتا تو اس کی تصحیح بھی فرما دیتے۔ (معرفۃ القراء الکبار ۱/ ۱۵۵)

*٭ وَرْش(۱۱۰۔۱۹۷ھ):* ان کا نام ابو سعید عثمان بن سعید المصری تھا اور لقب ورش۔ امام نافع نے ان کا نام ان کے گورے پن کی وجہ سے رکھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حسن قراءۃ کی وجہ سے ان کا یہ نام پڑا۔مصر میں پیدا ہوئے اور طلب علم کے لئے مدینہ امام نافع کے پاس تشریف لائے۔ پورے قرآن مجید کی تلاوت انہیں کئی بار سنائی۔ محقق قراء کے شیخ کہلاتے ہیں۔ تلاوت میں بعض منتخبات ان کے کچھ ایسے ہیں جن میں اپنے شیخ سے انہوں نے اختلاف کیا ہے۔ مصر میں قراءۃ کی استاذیت انہی پر منتہی تھی۔ عربی زبان کے بھی ماہر تھے۔ (معرفۃ القراء الکبار ۱/۱۵۲، غایۃ النہایۃ ۱/۵۰۲)

*۷۔ الکسائی(۱۱۹۔۱۸۹ھ):* ​

ان کا نام ابو الحسن علی بن حمزہ الاسدی تھا۔ حمزہ الزیات کے بعد کوفہ میں قراءۃ کا ڈنکا انہی کا بجتا تھا انہوں نے حمزہ، ابن ابی لیلی، عیسیٰ بن عمر الہمدانی اور دیگر علماء وقراء سے قراء ۃ لی۔ اور ان سے عرضاً وسماعاً الدوری، ابوحمدون الطیب بن اسماعیل، ابو عبید القاسم بن سلام ۔۔ جو خلیفہ امین کے مؤدب بھی تھے۔۔ نے قراءۃ سیکھی اور روایت کی۔ نحو وعربی زبان اور غریب الفاظ میں اپنے وقت کے امام تھے اور آج بھی کسائی علم نحو کی علامت ہیں۔ الدوری اور اللیث ان کی قراءۃ کے بلاواسطہ راوی ہیں۔

*٭ الدوری:* ان کا تذکرہ اوپر گذر چکا ہے۔ مگر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ دوری ابو عمرو کے بھی راوی ہیں اور الکسائی کے بھی۔ جب ان کی روایت امام کسائی سے ہو تو ان کا تذکرہ ان کے نام کے ساتھ دوری الکسائی سے ہوتا ہے۔ ورنہ صرف عن ابی عمرو کہہ دیا جاتا ہے۔

*٭ اللیث(۔۲۴۰ھ)* ان کا نام ابو الحارث اللیث بن خالد ہے بغداد کے انتہائی ثقہ وحاذق انسان تھے۔ امام کسائی سے ان کو شرف تلمذ حاصل ہے اور قراءۃ ان کے سامنے پیش کرنے اور ان سے اجازہ لینے کا شرف بھی انہیں حاصل ہے۔ ان کے خاص شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مختلف حروف کو انہوں نے حمزہ بن قاسم احول اور الیزیدی سے روایت کیا ہے۔ ان سے قراءۃ کی روایت کرنے والوں میں بطور خاص سلمہ بن عاصم جو امام فراء کے ساتھی تھے اور محمد بن یحییٰ الکسائی الصغیر اور فضل بن شاذان ہیں۔ (غایۃ النہایۃ ۲/۳۴)

نوٹ: ابن مجاہد کی اس کوشش کو غلط سمجھا گیا اور یہ کہا گیا کہ بس قرائتیں ہیں تو یہی ہیں نیز یہی سبعہ حروف ہیں۔ حالانکہ ان کی مراد یہ نہ تھی کہ جو بھی ان سات قرائتوں سے نکلا وہ غلط ہوگا اور نہ ہی نبی ﷺ کے اس ارشاد ہے *إِنَّمَا أُنزْلِ القرآنُ* *عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ* سے یہی سات قراء ہی مراد ہیں بلکہ یہ سات قراء وہ ہیں جن کی قرائتیں مختلف علاقوں میں مشہور ہوگئیں ورنہ اہل مغرب تو انہیں جانتے ہی نہ تھے اہل عراق کے ہاں یہ جانی بوجھی تھیں۔ ابن مجاہد کی مانند دیگر علماء نے بھی سبع قراءات پر کام کیا اور کتب لکھی۔ جن میں بطور خاص ابومحمد مکی بن ابی القیسی (م: ۴۳۷ھ) کی کتاب التبصرۃ فی القراء ت السبع اور الکشف عن وجوہ القراءت السبع وعللہا وحججہا۔ اور ابو عمرو عثمان بن سعید الدانی (م: ۴۴۴ھ) کی کتاب جامع البیان فی القرائات السبع ۔ان کی دوسری کتاب التیسیر فی القراء ت السبع ہیں۔

08/07/2023
01/01/2023

ایک سال اور گزر گیا جس میں تم ایک رات بھی بھوکے نہیں سوئے تو اپنے أس عظیم رب کا شکر ادا کرو

04/12/2022

Address

Naer Pakistan Dipo Kandaghar Tehsil Takht Bhai District Mardan
Takht Bai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Meezan Online Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category