Superior science high school syed wala

Superior science high school syed wala weekly test are stared
improve confidence level

28/08/2021
27/06/2021


سوال : ایک ٹیچر کو کیسا ہونا چاہئے ؟
ٹیچر کی کچھ مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں جو اسے ایک ٹیچر بناتی ہیں ورنہ میری نظر میں ہر ڈگری ہولڈر یا پڑھانے والے کو آپ ٹیچر نہیں کہہ سکتے ۔ ڈگری لینا ایک الگ معاملہ ہے اور ٹیچنگ ایک الگ معاملہ ہے ۔ ایک اچھا ٹیچر بہترین کمیونیکیشن سکلز کا مالک ہوتا ہے کیونکہ اپنی بات دوسرے تک پہنچانا یا پھر کچھ لکھا ہوا سامنے والے کو سمجھانا ایک بڑی مہارت ہے ۔

ڈلیور کرنا ۔۔۔
ایک ٹیچر وہی ہے جسے ڈیلیور کرنا آتا ہو اور ڈیلیور کرنے کیلئے سب سے پہلی خاصیت ہی " کمیونیکیشن سکلز " ہیں ۔ ایک اچھا ٹیچر وہی ہے جو کلاس کے تمام طلباء کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیونیکیٹ کرتا ہے ۔ چالیس بچہ موجود ہے تو آپ پورا چالیس منٹ کا لیکچر ایک ہی طریقے سے ادا کریں گے تو کبھی بھی چالیس بچوں کی دلچسپی حاصل نہیں کر سکتے ۔
کسی بچے کے visual سکلز اچھے ہیں تو کوئی اچھا listener ہے تو کوئی ٹیکنیکل مائنڈ کا بچہ ہے تو کسی میں موسیقار والی دلچسپی ہے ۔ اچھا ٹیچر اچھا بولتا ہے ۔ اچھا لکھتا ہے ۔ اچھی باڈی لینگویج کا استعمال کرتا ہے ۔ اور اس کا پورا جسم اس کے الفاظ کا ساتھ دے رہا ہوتا ہے ۔
Eye contact
یہ بھی کمیونیکیشن کا ایک پارٹ ہے ۔ کلاس کے تمام بچوں کے ساتھ ایک ٹیچر کا آئی کنٹیکٹ ہونا چاہئے ۔ پورے لیکچر میں کسی ایک بچے یا چند بچوں پر نظر رکھنا کوئی اچھی خوبی نہیں ہے ۔ اس کا ایک نقصان تو یہ ہے کہ جس بچے پر آپ زیادہ دیر نظر رکھیں گے وہ الجھن اور پریشانی کا شکار ہوگا اور دوسرا نقصان ہے کہ کلاس کے زیادہ تر بچے آپ کی نظر سے اوجھل رہیں گے اور وہ لیکچر کے دوران ماحول میں بگاڑ پیدا کرتے رہیں گے ۔۔۔۔

اب جہاں تک بات ہے کہ بچے ٹیچر کی بات نہیں سنتے یا پھر شور کرتے رہتے ہیں تو میں آپ کو پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جن خصوصیات کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے اگر ایک ٹیچر میں یہ موجود ہو تو ممکن ہی نہیں کلاس میں کوئی بگاڑ پیدا ہو جائے ۔
مزید اضافہ کرتا چلوں کہ آج کا بچہ یا ہر عمر کا طالب علم کہانی میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ وہ آپ سے ریاضی، سائنس ، کمپیوٹر یا کیمسٹری بالکل نہیں پڑھنا چاہتا ۔ اس کی دلچسپی سٹوری میں ہے ۔ آپ اپنے ٹاپک کو ایک دن پہلے بیٹھ کر تیار ضرور کیا کریں ۔ اس میں جدت پیدا کریں ۔ اس موضوع کے بارے میں کچھ ایسا بتائیں جو کتاب میں موجود نہیں ہے ۔ اس موضوع کو دلچسپ کہانی میں تبدیل کیجئے ۔۔ روز مرہ یعنی عام زندگی سے مطابقت رکھنے والی مثالیں استعمال کیجئے ۔ اس سے بچوں میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے اور جب بچے دلچسپی لیتے ہیں تو وہ کبھی بھی کلاس کے ماحول میں بگاڑ پیدا نہیں کرتے ۔ ۔
ہمارے آج کے ٹیچرز کا المیہ ہے کہ وہ بس پوائنٹ ٹو پوائنٹ بات کرتے ہیں ۔ کچھ نیا نہیں لے کر آتے ۔ کلاس کے ماحول کو دلچسپ نہیں بناتے ۔ کلاس میں داخل ہوتے ہی وائٹ بورڈ سے چپک جاتے ہیں ۔ میری عادت رہی کہ میں کلاس میں داخل ہوتے ہی پانچ منٹ بچوں سے گفتگو کرتا تھا اور ان کی وہ تھکاوٹ اتار دیتا تھا جو پچھلے لیکچر سے ہوئی تھی ۔ اس کے بعد کچھ سوال بورڈ پر لکھتا اور اس کے مطابق ون بائے ون شروع کرتا ۔۔۔۔
کوشش کرتا کہ آخر میں لیکچر ختم ہونے سے تین چار منٹ پہلے ٹاپک کو مکمل کر لوں ۔ آخری کے تین چار منٹ کرسی پر بیٹھ کر پوچھتا ۔ بتائیں بھئی آج کے ٹاپک سے کیا سیکھا آپ نے ؟
اس طرح بچوں کا ٹیچر کے ساتھ بانڈ مضبوط ہوتا ہے ۔ ایک ٹیچر کو با رعب ہونا چاہئے لیکن سب سے پہلے وہ اپنی عادات اور فطرت سے بچوں کو واقف کروائے ۔ میرے طلباء جانتے تھے کہ سر لیکچر کے دوران بگاڑ کی اجازت نہیں دیتے ۔ حالانکہ میں نے کبھی کسی بچے پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ غصہ بھی بہت کم کرتا تھا لیکن بچوں میں ہمیشہ احساس ذمہ داری پیدا کی ۔ وہ کچھ غلط کرتے تو میری عادت ہوتی تھی کہ ڈانٹ دینے کی بجائے میں ان کی اس عادت کے مثبت اور منفی پہلو پر گفتگو کرتا تھا ۔
ایک مرتبہ ایک ٹیم نے کالج کا وزٹ کیا تو کہا کہ بچوں میں بہت ڈسپلن ہے ۔ مطلب کہ یہاں کے ڈسپلن انچارج بہت خاص ہیں تو بچوں نے جواب دیا کہ " ہمارا یہ سارا ڈسپلن وسیم صاحب کی وجہ سے ہے " ۔ ڈائریکٹر اکثر کہا کرتی تھیں کہ میں نے کبھی وسیم کو بچوں پر چیختے نہیں دیکھا ۔ غصہ بھی نہیں کرتا لیکن کبھی اس کی کلاس سے شور نہیں آتا ۔
یہ بتانے کا مقصد ہے کہ اس کی وجہ یہ سب خصوصیات تھیں جن کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں ۔۔۔
ٹیچر میں یہ خاصیت ہونی چاہئے کہ وہ بچے کے منفی سوال کا بھی مثبت جواب دے سکے ورنہ بچوں کو آپ کی کمزوری مل جاتی ہے کہ ٹیچر کو اس سوال سے یا اس بات سے چڑ ہوتی ہے اور وہ پھر بار بار آپ کو ہائپر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اپنی کمزوری کبھی مت دیں ۔ میں ہر منفی سوال کا مثبت جواب دیتا تھا اور نتیجہ یہ نکلا کہ بچوں نے منفی سوال کرنا ہی چھوڑ دیئے ۔۔۔ کوئی بچہ غلط حرکت کرتا تو میں نظر انداز کر دیتا جیسے میں نے دیکھا ہی نہیں اور پھر نتیجہ یہ نکلتا کہ بچے ایسی حرکت ہی نہیں کرتے تھے ۔

اب جہاں تک بچوں کے cheating کرنے کی بات ہے تو ہم نے بچوں کو کبھی concept یا creative learning کا بتایا ہی نہیں اور یہی ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔ ہم نے بچوں کو مارکس کی دوڑ میں لگا کر رٹا سسٹم میں بس طوطے پیدا کرنے پر زور دیا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ہمیشہ بچوں سے کہتا تھا کہ " آپ کا ٹیسٹ غلط ہو جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ آپ کو ٹیسٹ تیار نہیں ہے تو کوئی بات نہیں ہے لیکن cheating کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے مجھے " ۔ بچوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ آ چکی تھی تو وہ بڑی آسانی سے کہہ دیتے تھے کہ سر آج ہمیں ٹیسٹ تیار نہیں ہے ۔ میں کہتا تھا کوئی بات نہیں جتنا آتا ہے وہ دے دیجئے ۔ وہ تھوڑا بہت کر دیتے تو میں کہتا تھا کہ آپ اپنے ذہن سے سوچیں اور اس بارے جو کچھ آپ کے ذہن میں پیدا ہو وہ لکھ دیں ۔۔۔ جس بچے کو کچھ بھی تیار نہ ہوتا تو میری عادت تھی کہ کہتا " بیٹا خالی شیٹ پر اپنا نام لکھ کر مجھے دے دیں " ۔۔ اور کل یہی ٹیسٹ آپ نے دوبارہ فری لیکچر میں دینا ہے ۔ اگر کل دے دیں گے تو اس خالی شیٹ کو آپ کے سامنے پھاڑ دوں گا ورنہ یہی خالی شیٹ آپ کی فائل میں درج کر دوں گا ۔ اس طرح بچے سوچتے تھے کہ ایک موقع مل گیا ہے ۔ اگر اگلے دن بھی ٹیسٹ نہ دیتے تو تھوڑا سا پیار سے اور تھوڑا چہرے کے تاثرات بدل کر پھر سے کہہ دیتا تھا کہ " اب یہ آخری موقع ہے آپ کے پاس ورنہ پھر آپ کو پتا ہے کہ میں نے کل آپ کے فادر یا مدر کو بلا لینا ہے " ۔۔۔۔
بس اتنی سی وجہ تھی کہ میرے سٹوڈنٹ نقل کرنے کی بجائے خالی شیٹ دے دینے کو ترجیح دیتے ۔ اور دو یا گیں بار خالی شیٹ دینے سے بچوں میں احساس والی شرمندگی پیدا ہوتی ہے اور وہ خود کو بدل لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ موضوع میرے لئے بہت طویل ہے مزید لکھتے ہوئے کتاب بن جائے گی تو یہاں پر ہی اجازت چاہوں گا ۔

Comes and join for knowledge
22/04/2021

Comes and join for knowledge

Address

Mala Rajpota Nazad Girls School
Syedwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Superior science high school syed wala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category