15/08/2025
آج سوات اور بونیر کا منظر دیکھ کر دل ٹوٹ کر بکھر گیا… سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی، گھروں کی دیواریں زمین بوس ہو گئیں، صحن ویران ہو گئے، کھیت کھلیان مٹی میں دفن ہو گئے۔ نہ جانے کتنی ماؤں کی گود اجڑ گئی، کتنے بچوں کے خواب بہہ گئے، کتنے بوڑھے اپنے سہارا دینے والے کھو بیٹھے۔
یہ محض ایک قدرتی آفت نہیں… یہ ہر گھر، ہر دل، ہر آنکھ کا زخم ہے۔ آج ہم سب کا دکھ ایک ہے، آنسو ایک ہیں، دعا ایک ہے۔
کسی کا باپ نہ رہا، کسی کا بیٹا گیا
سیلاب سب کچھ بہا لے گیا…
ہم ان گمشدہ چہروں کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، زخمیوں کو صحت دے، اور متاثرہ خاندانوں کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔
آئیے! ہم سب صرف افسوس پر اکتفا نہ کریں، بلکہ اپنے ہاتھ، دل اور وسائل سب کھول کر ان کی مدد کریں، تاکہ یہ اجڑے ہوئے گھر پھر سے بس سکیں۔
10/07/2025
سچا خواب…!
آج رات نیند کی آغوش میں اچانک میرے مرحوم بڑے بھائی، روح الامینؒ آ گئے۔
نجانے کہاں سے آئے، مگر دل کے اتنے قریب آ گئے کہ جیسے ابھی یہی کہیں پاس ہوں…
مجھ سے بہت گلے شکوے کیے…
کہنے لگے:
"تم نے تو مجھے بالکل بھلا دیا… تمہیں میری یاد ہی نہیں آتی… دیکھو، میں اپنے گھر میں کتنا خوش ہوں!"
میں گھبرا کر چیخا، رویا، ان سے کہا:
"بھائی! میں تو ہر وقت آپ کو یاد کرتا ہوں… آپ کی مسکراہٹ آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے… آپ کے وہ مشفق ہاتھ، جو ہر مشکل وقت میں میرے سر پر ہوتے تھے… بھائی! میں کیسے آپ کو بھول سکتا ہوں…؟"
پھر نہ جانے کیوں… انہوں نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر دیا۔
میں زور زور سے دروازہ کھٹکھٹاتا رہا…
میری آواز ٹوٹ گئی، دل کانپ گیا، آنکھیں نم ہو گئیں…
لیکن انہوں نے دروازہ دوبارہ نہ کھولا…
اور اسی کوشش میں میری آنکھ کھل گئی…
آنکھ تو کھل گئی، مگر دل جیسے بند ہو گیا…
ایک عجب اداسی، ایک ان کہی سی کسک…
یاد آیا بھائی… وہ دن جب آپ مجھے ہنساتے تھے، حوصلہ دیتے تھے…
آپ کا وہ نرم لہجہ، وہ پیار بھری ڈانٹ، وہ شامیں جب ہم اکٹھے بیٹھ کر گپیں لگایا کرتے…
آج سب کچھ یاد آ رہا ہے… دل تڑپ گیا…
میرا پیارا بھائی، میرا سایہ، میرا مان…
روح الامینؒ…
اللہ آپ کی قبر کو نور سے بھر دے، آپ کی تنہائی کو جنت کے باغوں سے بدل دے…
آمین یا رب العالمین! 🌹💔
یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں…
محبت کبھی کم نہیں ہوتی…
اور بھائی… بھائی تو ہمیشہ دل کی دھڑکن میں زندہ رہتا ہے…!
27/06/2025
افسوس ہم مردہ قوم ہے۔
ریاست آج ان اٹھارہ افراد کو بچا سکتی تھی لیکن گھنٹوں کی چیخ و پکار رنگ نہ لائی اور یہ ایک ہی خاندان کے تمام افراد سیلابی ریلے کی نظر ہو گئے💔سوات
31/03/2024
Nasar khan s/o sujamat khan
Loc:manja swat
Namaze janaza 2 bajii manja (31/03/2024)
Talibe duaa...Allah de maghfirat naseeb ke
14/12/2023
حکومتِ خیبر پختونخواہ نے آنے والے اکیڈیمک سال 2024 کے لیے اساتذہ کرام، والدین اور پی ٹی سی کمیٹی سے تجاویز مانگی ہے کہ 2024 اکیڈیمک سال کے لئے ہم بچوں کو ہارڈ کاپیوں کی بجائے سافٹ فارم میں کتب مہیاء کرینگے۔۔۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا ایک ایسا صوبہ ہے جس میں اکثریت غریب لوگوں کی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہاں پر اکثر لوگوں کے کیساتھ موبائل بھی دستیاب نہیں ہوتا تو وہ اپنے بچوں کو موبائل کہاں سے دیں گے، اس کے علاوہ سگنل او نیٹ ورک کا بھی بہت بڑا ایشو رہتا ہے اس لئے سافٹ فارم میں کتب فراہم کرنا اچھا فیصلہ نہیں ہوگا اور اس کے بہت زیادہ نقصانات ہونگے۔
1. سافٹ میں بچے کتابوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔
2. بچے ڈیوائس کو محفوظ نہیں رکھ سکتے ہیں۔
3. ہر وقت بجلی یا چارج کے ساتھ منسلک ہونا بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔
4. اصل ہدف کے بجاۓ بچے سارا وقت فضول چیزوں کو دیکھنے میں صرف کریں گے جس سے بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہوگا۔
5. سکرین پر مطالعہ کرنے سے دماغوں پر بوج پڑتا ہے، سر میں درد ہوتا ہے اور نظر پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت زیادہ نقصانات ہیں مگر ہم یہاں مزید ان نقصانات پر بات نہیں کریں گے کیونکہ آپ سب جانتے ہیں کہ بچوں کے لیے چھوٹے عمر میں موبائل وغیرہ استعمال کرنا کتنا خطرناک ہے۔
حکومت اگر واقعی اس مسلے کے بارے میں سنجیدہ ہے تو چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔
1. فری ٹیکسٹ بکس ختم کرنی چاہیئے۔
2. ٹھیکیداروں کی بجائے عام مارکیٹ میں کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
3۔ کتب کی قیمت کم کی جائے اور جتنا خرچہ حکومت فری ٹیکسٹ بکس ڈیلیور کرنے پر ہر سال خرچ کرتا ہے اگر اس کا آدھا حصہ رقم بچوں کے والدین کو ان کے شناختی کارڈ پر بھج دیں گے تو والدین بچوں کیلئے مارکیٹ سے ارزاں کتب خرید سکیں گے اور ساتھ ساتھ بچوں اور والدین کے ساتھ کتابوں کا قدر بھی بڑھے گی۔
4. کتب کی تعداد کم کرنی چاہیے اس طرح والدین پر بھی کم بوج پڑے گا اور حکومت بھی اس جھنجھٹ سے چھٹکارا پائے گی۔
5. بنیادی مضامین ہونی چاہیے جس میں انگلش، اردو، پشتو، ریاضی اور ایک کمبائن کتاب جس میں اسلامیات، جنرل نالج اور معاشرتی علوم وغیرہ ہونے چاہیے جس سے سکول بیگ کا وزن بھی کم ہوگا اور بچوں کا ذہنی تناؤ بھی کافی حد تک کم ہو جائے گا۔