21/05/2026
(Copied )
انمول عرف پنکی کے علاوہ بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو حقیقت میں انمول ہیں۔ ذرا اس تصویر کو غور سے دیکھیے۔ یہ ہمارے سماج کی بدلتی ہوئی تصویر ہے۔
جنوبی وزیرستان کی ایک بیٹی، اپنے گھر اور علاقے سے دور خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کی تحصیل لاہور میں مردوں کے درمیان بیٹھی نہروں کے پانی کا مسئلہ حل کر رہی ہے۔ گرد و پیش میں کسان، عمائدین اور مقامی لوگ بیٹھے ہیں اور درمیان میں ایک خاتون افسر اعتماد کے ساتھ ان کے مسائل سن رہی ہیں۔ ہمارے ہاں جہاں ایک طرف عورت کا گھر سے نکلنا ہی آسان نہیں وہیں ایک عورت کا یوں مردوں کے بیچ جا کر عوامی مسائل حل کرنا اور فیصلہ سازی کا مرکز بننا بذات خود ایک بڑی تبدیلی ہے۔
یہ ہیں انمول انور جو اس وقت ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر تحصیل لاہور، ضلع صوابی کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ تصویر بادو بابا جہانگیرہ کے مقام کی ہے جہاں وہ نہری پانی کے مسئلے پر کسانوں اور مقامی افراد سے ملاقات کے لیے پہنچیں۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ بند پانی کھول دیا گیا ہے اور آئندہ بھی کسانوں کی ضروریات کے مطابق پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
انمول انور کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے۔ خود ان کے مطابق ان کے علاقے میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب بدامنی اور شرپسند عناصر کے باعث باقاعدہ فعال سکول موجود نہیں تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ٹانک سے حاصل کی جس کے بعد یہ جناح کالج فار ویمن اور یونیورسٹی آف پشاور چلی گئیں۔ ایف ایس سی کے بعد انہوں نے خیبر لا کالج میں داخلہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے سول سرونٹ بننا چاہتی تھیں۔
2024 میں انہوں نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ویمن یونیورسٹی صوابی میں لیکچررشپ ٹیسٹ ٹاپ کیا، مالاکنڈ یونیورسٹی کا ٹیسٹ ٹاپ کیا، پاکستان آرمی میں بطور کیپٹن ریکمنڈ ہوئیں، سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ کے لیے منتخب ہوئیں جہاں پورے صوبے سے صرف 10 امیدوار منتخب کیے گئے تھے اور ان میں انمول انور بھی شامل تھیں لیکن ان تمام مواقع میں انہوں نے سول سروس کا راستہ چنا۔۔۔
آج وہ خیبرپختونخوا کی ضلعی انتظامیہ کا حصہ ہیں۔۔ یہ تصویر ان تمام لڑکیوں کی امید ہے جو دور دراز علاقوں میں بیٹھ کر بڑے خواب دیکھتی ہیں۔۔۔ ان کو معلوم ہوجانا چاہیے خواب سچ ہوتے ہیں۔۔۔ انمول انور نے اپنے خواب سچ ہوتے دیکھ لیے ہیں۔
ادیب یوسفزئی