11/08/2025
Collaborative Action for Research and Development (CARD) is a grassroot joint initiative dedicated to language documentation, preservation, and research, with a special focus on ethnic minority languages in Northern Pakistan. Our mission extends beyond linguistics—we are committed to fostering education, socio-economic development, and empowerment within marginalized communities, particularly in regions like Swat, Dir, Chitral, and Gilgit-Baltistan.
By bridging research with grassroots action, we strive to safeguard linguistic heritage while promoting sustainable progress for underserved populations. Join us in our journey to preserve cultural diversity, enhance education, and uplift communities in Pakistan.
Collaborative Action for Research and Development (CARD) is a grassroot joint initiative dedicated to language documentation, preservation, and research, with a special focus on ethnic minority languages in Northern Pakistan. Our mission extends beyond linguistics—we are committed to fostering education, socio-economic development, and empowerment within marginalized communities, particularly in regions like Swat, Dir, Chitral, Indus Kohistan and Gilgit-Baltistan.
By bridging research with grassroots action, we strive to safeguard linguistic heritage while promoting sustainable progress for underserved populations. Join us in our journey to preserve cultural diversity, enhance education, and uplift communities in Pakistan.
15/10/2024
یہ دریائے سوات بچاؤ تحریک کا فیس بک پیج ہے۔ اس کو لائک کریں، فالو کریں اور اگے شریک کریں۔
https://www.facebook.com/profile.php?id=61564319824677
Save River Swat Campaign - دریائے سوات بچاؤ تحریک
A number of hydropower projects designed on the beautiful Swat River beyond the Madyan town in the Swat district wherein the River Swat is being diverted into tunnels are surely meant death to this beautiful river and the indigenous people around.
20/09/2024
شاندار گوجری شاعری مولانا نیاز احمد
سیری بڈئی بحرین سوات
Maulana Niaz Ahmad presents his Gojri poetry || Multilingual Mushaira || Bahrain Swat |
Niaz Sahib is from Seri Mankiyal Bahrain Swat.
12/09/2024
BBC Hindi
Pakistan के Nizamud Din जो भेड़-बकरियां चराते थे, वो Coke Studio तक कैसे पहुंचे? (BBC Hindi)
पाकिस्तान के एक शख़्स को उसकी आवाज़ ने फर्श से अर्श पर पहुंचा दिया. ये कहानी है निज़ाम तोरवाली की जो चारागाह से पहुं...
23/08/2024
دریائے سوات بچاؤ تحریک کا پہلا احتجاج: بحرین میں
---
ضلع سوات کے بالائی علاقوں بحرین، کالام اور گبرال کی وادیوں میں دریائے سوات پن بجلی کے 4 بڑے منصوبے بنائے جارہے ہیں جہاں ان علاقوں میں دریائے سوات کو 4 مقامات پر سرنگوں کے اندر ڈالا جاتا ہے۔ مدین قصبے کے پاس سے کالام تک، توروالی بلٹ کے بحرین وادی میں، ان منصوبوں میں سے تین کو بنایا جارہا ہے۔ مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ (207 میگا واٹ)، آسریت کیدام ہائیڈرو پاؤرپراجیکٹ (229 میگا واٹ)، کالام آسریت ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ اور گبرال کالام ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ (88 میگا واٹ) کے منصوبے ہیں۔
مدین ہائڈرو پاؤر پراجیکٹ کے لئے بحرین سے 6 کلومیٹر اوپر گاؤں کیدام/غوریجو سے دریائے سوات کو 12 کومیٹر سرنگ میں ڈال کر مدین کے قریب نکالا جائے گا۔ آسریت کیدام کے لیے دریائے سوات کو آسیرت کے مقام پر سرنگ میں ڈالا جائے گا اور کیدام میں پاؤر ہاؤس بنایا جائے گا۔ کالام آسریت پراجیکٹ کے لیے کالام کے شروع میں دریائے سوات کو سرنگ میں ڈالا جائے گا اور آسریت کے مقام پر نکالا جائے گا جبکہ گبرال کالام پراجیکٹ کے لیے گبرال دریا کو گبرال میں سرنگ میں ڈال کے کالام اور اتروڑ کے بیچ علاقے کنئی میں نکالا جائے گا۔
ان چاروں منصوبوں کا مطلب ہوا کہ مدین تا کالام 40 کلومیٹر کے فاصلے میں دریائے سوات سرنگوں میں بہے گا۔ اسی طرح دریائے گبرال جو کہ دریائے سوات کی سب سے بڑی معاون ندی ہے وہ سرنگ میں بہہ کر اتروڑ کو بائی پاس کرکے کنئی کے مقام میں سرنگ کے ذریعے نکالا جائے گا۔
مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ اور گبرال کالام ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ خیبر پختون خوا صوبے میں توانائی کے ذمہ دار ادارہ پیڈو (P**O) ورلڈ بنک کے مالی تعاون سے بنا رہا ہے جبکہ آسریت کیدام ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کا لائسنس ایک بیرونی نجی کمپنی کواک (Koak) کو دیا گیا ہے۔
یہ چاروں پراجیکٹ دریائے سوات کی تباہی کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ مدین تا کالام اور اتروڑ وادیوں کی سیّاحت، معیشت، ماحول، جنگلات، موسم ، ابی حیات، علاقے کے اب وہوا کے لیے زہر قاتل ثابت ہونگے۔
ان پراجیکٹس کے خلاف 23 اگست 2024ء کو بحرین سوات میں پہلا احتجاج کیا گیا جس میں بحرین قصبے کے لوگوں کے علاوہ ساتال، آئین، گھڑی، گری لگن، پرانہ گاؤں، پنجیگرام، درال وادی، درولئی، توروال، کیدام، گورنئی، پونکیا، رامیٹ، چھم گڑھی، مانکیال، بالاکوٹ، آسریت، بڈئی سیرئی، لائیکوٹ اور پشمال کے لوگوں نے ”دریائے سوات بچاؤ تحریک“ کے زیر اہتمام اس احتجاج میں شرکت کرکے ان منصوبوں کے خلاف اور دریائے سوات کو بچانے کے لیے اپنی بھرپور تحریک کا آغاز کیا۔
انہوں نے اعادہ کیا کہ وہ اپنی جو و جہد جاری رکھیں گے اور دریائے سوات کو دریائے درال کی موت مرنے نہیں دیں۔ دریا درال کو ایک اسی طرح منصوبے درال خوڑ ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کے ذریعے سرنگ میں ڈال کر ماردیا گیا ہے۔
11/08/2024
دریائے سوات بچاؤ تحریک کیا ہے؟ اس ویڈیو میں سنیں۔
دریائے سوات بچاؤ تحریک کیا ہے؟ اس ویڈیو میں سنیں || What is River Swat Protection Movement||
Saving River SwatThe Swat Valley is named after the river whose Sanskrit/Prakrit name is ‘Suvastu’, meaning pure or white water. This river is considered to ...
05/08/2024
دریائے سوات بچاؤ تحریک
۔۔۔۔۔۔
وادی سوات کا نام اس دریا کی وجہ سے پڑا جس کا سنسکرت/پراکرت نام سُواستو/Suvastuہے اور جس کا مطلب خالص یا سفید پانی ہے۔ ہندوکش پہاڑی سلسلے میں یہ دریا دریائے سندھ کے بعد سب سے اہم دریا سمجھا جاتا ہے۔ یہ دریا گبرال، مہودنڈ، مانکیال ، شینان گوٹ اور درال کے گلشئیرز سے نکلتا ہے اور پوری وادئی سوات کو سیراب کرتے ہوئے 320 کلومیٹر کا سفر طے کرکے دریائے کابل میں گرتا ہے۔ اس دریائے کے ان ضمنی/معاون ندیوں اور دریاؤں کو بھی سابق اداور میں تقدس حاصل رہا ہے۔ تبتی زائرین دریائے سوات سے متعلق اس اژدھاے والی کہانی کو بھی بتاتے ہیں جس کی رو سے اس دریا کے آخر یعنی گبرال میں گبرال نامی ایک اژدھا رہتا ہے اور جب وہ اس وادی میں بنی نوع انسانوں کی بدعملی کی وجہ سے تیش میں اتا ہے تو الٹی کردیتا ہے جس کی وجہ سے اس دریا میں سیلاب آجاتا ہے۔
دریائے سوات میں پہلے بڑے سیلاب کی خبر پہلی صدی عیسوی میں ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے پوری وادی پانی کے زیر اگئی اور اسی سیلاب کے بعد یہاں سوات میں بدھ مت کے سارے آثار پہاڑوں پر منتقل ہونا شروع ہوئے۔ تاریخ دانوں نے اس کے بعد کسی بڑے سیلاب کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ غالباً ہمارے یہاں بزرگ کہتے تھے کہ 1929ء کو دریائے سوات میں ایک بڑا سیلاب آیا تھا۔ اس کی شدّت کا پیمانہ یہاں کے بزرگ یہ بتاتے ہیں کہ وہ سیلاب بحرین میں کڑھا چٹان کو رکھے گئے دیریل (درولئی) گاؤں کے اس پل کے اوپر چڑھا تھا۔ یہ پل کافی اونچا تھا اس لیے اس کو سیلاب کی شدّت کا اور پانی کے بہاؤ کی مقدار کا پیمانہ بنایا گیا۔
2010ء جولائی کا سیلاب غالباً 1929ء کے اس سیلاب سے بھی بڑا تھا کہ اس میں یہ چٹان والا پل بھی بہہ گیا تھا اور اس کے بعد اگست 2022ء کا سیلاب اس سے بھی زیادہ شدّت کا تھا کہ پانی کا بہاؤ اور مقدار 2010ء کے سیلاب سے کوئی 30 تا 40 فی صد زیادہ تھا۔
وادی سوات کے مرکزی شہر بحرین میں دریائے سوات کا معاون مقدس دریا درال گرتا ہے۔ اس کے اوپر جو جھیل ہے جس کو اب زیادہ تر ڈنڈ غاڑا( توروالی میں ڈھان کأش جس کو ڈاکٹر توچی نے ڈھان کُشا لکھا ہے) کو مقدّس جھیل کہا گیا ہے اور اس کے بارے میں ڈاکٹر توچی کہتے ہیں کہ اس میں سوات میں بدھ مت کا پیشوا پدماسمباوا نہاتا تھا۔ درال وادی اور گبرال وادی ناموں کی ہم آواز مناسبت کے علاوہ دریائے سوات کے سب سے بڑے معاون دریا ہیں ۔
ہم توروالی میں دریائے سوات کو صرف ”گھین نھد یعنی بڑی ندی یا دریا“ کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ یہاںسوات میں دیگر ندّیوں میں سب سے بڑا ہے۔
دریائے سوات کے بغیر سوات کا وجود ناممکن ہے اور اس کے بغیر سوات کا اب و ہوا جس کی وجہ سے اسے ادھیانا یعنی باغ کہا گیا وہ تاریخ بھی نامکمل ہے۔ سوات کی سیّاحت بھی دریائے سوات کے بغیر ناممکن ہے۔
یوں تو اس دریا کو کئی خطرات کا سامنا ہے جن میں اس دریا کی آلودگی بھی شامل ہے اور یہ آلودگی روز بروز بڑھ رہی ہے کہ اس کے آس پاس آبادیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ تاہم جو سخت خطرہ اب اس دریا کو لاحق ہے وہ یہاں سوات میں مدین شہر سے لیکر کالام پوری توروالی بلٹ کے علاقے میں ہے۔
یہاں اس دریا پر تین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹس بن رہے ہیں جن میں کالام آسریت، آسریت کیدام اور ”کیدام مدین( سرکاری نام مدین ہائیڈرو پراجیکٹ) ہیں۔ ان تینوں منصوبوں کو دریائے سوات کے پانی پر بنایا جائے گا۔
کالام سے پہاڑ میں سرنگ کرکے اس کا پانی اسی سُرنگ میں ڈال کر آسریت کے مقام پر اس کے سامنے پاور ہاؤس بنایا جائے گا۔ آسریت سے پھر دریائے سوات کو پہاڑی کے اندر ڈال کر کیدام کے مقام پر نکال کر اگے پاؤر ہاؤس بن جائے گا اور کیدام کے ساتھ دان رامیٹ سے دریائے کو ایک بار پھر سرنگ میں ڈال کر کالاگے مدین کے قریب نکال کر پاؤر ہاؤس بنایا جائے گا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ دریائے سوات اس علاقے ، کالام تا مدین، اپنے راستے کی بجائے پہاڑوں کے اندر ہماری آنکھوں سے اوجھل سرنگوں میں بہے گا۔ دوسرے الفاظ میں یہ منصوبے بن گئے تو آپ مدین تا کالام، ستمبر تا مئی دریائے سوات کو نہیں دیکھیں گے۔
اندازہ ہے کہ اس کا کیا نتیجہ ماحولیات، علاقے کے درجہ حرارت، علاقے کی سیّاحت، اس وادی کے حسن اور یہاں کے چشموں و کھیتوں پر ہوگا؟ ظاہر ہے مدین تا کالام دریا نہیں ایک خشک خوڑ /کھار ہوگا۔ بحرین، مانکیال، کیدام، لائیکوٹ اور پشمال کی سیّاحت تباہ ہوجائے گی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اب اسی راستے یعنی بحرین تا کالام جگہ جگہ سیّاحتی مقامات بن رہے ہیں۔ یہ منصوبہ ان کی تباہی کا سبب بنے گا۔
بڑی ٹیکنیکل طریقے سے ریاست اور اس کے ادارے ایسے منصوبوں میں مقامی لوگوں کو ”براہ راست“ اور ”غیر براہ راست“ متاثرین میں تقسیم کرکے اپنا کام نکلواتے ہیں۔ جو براہ راست متاثرین ہیں ان کو رقوم دے کر مطمئن کیا جاتا ہے اور جو غیر براہ راست متاثرین ہیں ان کو اس مشاورتی عمل سے بھی دور رکھا جاتا ہے۔
ان تینوں منصوبوں میں کیدام مدین منصوبے (جس کا نام صرف مدین پن بجلی منصوبہ ہے) پر کام شروع ہونے والا ہے کہ اس کے لیے پروکیورمنٹ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ یہ 12 کلومیٹر طویل سرنگ ہوگا اور اس منصوبے سے 207 میگا واٹ بجلی کی پیدوار کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس پر کل لاگت 65 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ واضح ہو کہ یہ تینوں منصوبے اور ان کے ساتھ گبرال کالام منصوبہ ورلڈ بینگ کے پاکستان کے لیے بڑے منصوبے (Khyber Pakhtunkhwa Hydropower and Renewable Energy Development Program Project
) کے تحت اسی کی فنڈنگ سے بنائے جارہے ہیں۔ یہ تینوں منصوبے تحصیل بحرین میں سب سے زیادہ توروالی اور پھر گوجر قوموں کو متاثر کرتے ہیں۔ تینوں منصوبے دریائے سوات کو اس علاقے میں تباہ کر رہے ہیں۔
پاکستان ایک نرالہ ملک ہے۔ دنیا میں اب دریاؤں پر بڑے منصوبوں کی جگہ چھوٹے منصوبے بنائے جارہے ہیں کہ دریاؤں کا بچاؤ جنگلات کی طرح اب و ہوا کے لیے اہم ہوتے ہیں اور اسی طرح ابی حیات بھی ان ہی بدولت جاری رہتی ہے۔ مگر ہماری سرنگ میں پھنسی حکومتوں کو لمبے لمبے سرنگوں کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ اسی پرانی ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے پن بجلی کی پیدوار کے لیے طویل طویل سرنگ کھودے جارہے ہیں۔
کیدام مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ پر جب پچھلے سال پبلک ہیرئنگ مدین میں منعقد ہوئی تو لوگوں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا اور وہ اجلاس ناکام ہی ہوا تاہم اپنی کسی رپورٹ میں اس صوبے کے لئے توانائی کے ذمہ دار ادارے پیڈو/P**O نے ذکر نہیں کیا ہے۔
ان تینوں منصوبوں پر مقامی لوگوں کو سخت تحفظات ہیں۔ اب چونکہ صرف کیدام مدین والے پر کام کا اغاذ ہوا چاہتا ہے تو بحرین ، مانکر، آئین، درولئ، پونکیا، گورنئ اور دان رامیٹ کے لوگوں نے اس پر اپنے تحفظات کے بارے میں اجلاس شروع کیے ہیں۔ انہوں نے دریائے سوات کو بچانے کے لئے ایک تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے اغاز/kick off کے بارے میں تنظیم سازی اور لوگوں کی شمولیت ہورہی ہے۔
اب تک کوئی تین اجلاس ہوئے ہیں جہاں لوگوں کی اکثریت نے ان منصوبوں کے خلاف ڈٹ جانے کی بات کی ہے۔ اکثریت ان منصوبوں کے نہ ہونے کے حق میں ہے اور اس سلسلے میں کسی دوسرے پلان زیر بحث نہیں لانا چاہتی۔
دریائے سوات پوری سوات وادی کا ہے ۔ سوات میں موٹر واے بننے کی وجہ سے سوات کی سطح پر ایک تحریک چل رہی ہے تاکہ اس موٹروے سے سوات کی زرخیز زمینوں کو بچایا جاسکے۔ اس تحریک کا میں بھی حصّہ ہوں اور کئی بار ان کے اجلاسوں میں شرکت کر چکا ہوں۔
اب ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم دریائے سوات کو ان پہاڑوں کے اندر سرنگوں میں جانے سے بچائے۔ منگورہ، سیدوشریف، خوازہ خیلہ، مٹہ، فتح پور ، مدین اور کالام و اتروڑ کے لوگ بھی اس تحریک کا ساتھ دیں۔ سوات کی سول سوسائیٹی اور صحافی برادری اس تحریک میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
دریائے سوات بچاؤ، اپنی تاریخ بچاؤ، اپنا ماحول بچاؤ، اپنے وسائل بچاؤ!
23/07/2024
ٹین تھلیل (dominated) آں ٹین کوئیل (colonized) خلگا سی خُوئی!
۔۔۔۔
ٹین تھلیل (dominated)، ڈھأر کے کوئیل (marginalized)، کَگیل (stigmatized)، آمن ما شومیل (ashamed of themselves) آں ٹین کوئیل (colonized) خلگا سی چیر خُوئے ما اے خُوئی (attribute) أ ہویی یرأ ہے ایک دئی نہ تنگندی(tolerate)۔ ہے ایگ دئی سی بھاکؤ دا دُھو بات چھی، تُنُو سکا ہُم بھا ہؤ گے نہ چھودی! ہیِن گھن پدن (enmity) تُنُو سیت ہودُو۔ ہیِن گھن پختو (social coopetition) ہیلا تُنُو گام او کھام پرکے ہویی۔ ہے ایک دئی ما چیر بھیل ہودی۔ ڙادا ایشیِدو ہیِن گھین سیالی (competition) تُنُو گھأنڈی سی کُویوا سیت، شیِر سیت، لُوڑا سیت آں تیِسی کم سیت ہویی۔ ہے نیاشاما گھأنڈی سی ہات می بازار سی بھیڙی/تھیلی، مھیرے پُونی، بودی کے ای می ای لخا کا آنُودُو!
ہأ تباریخ ٹھیلیئی دئی ٹھیلئی دی نیئی دے ڈاب کے ایِڑی کی دی۔ اے وجہ دے ہیِن سوچ سی گیل (horizon) چیر تأنگ ہویی۔ ہے کو چیر مالدا او خط چھیِڙیل (educated) ہُم ہُوئیا بھی ہُم ہیِن سیالی مے گیلا پرکے ہویی۔ ہأ ئے تُںُوا سی قدر ہُم تھلا ییی کے یأ ہأ تُنُو ”گھن خلگے“ (external dominant ) سیِویِدأدو (praised)۔
ہے تُنُو تباریخ ما شیِد ہودی آں نأیی تُنُو مُشُوک جیدُون (past life) ما۔ ہیِن تباریخ بس بوپ داد سیت لھسَدُو آں بوپ داد کے ہُم تُنُو نذیِر (angle) دے بودی۔ ہرے ماݜ سی بوپ داد سی قصّہ لووئے دے پُونیل ہودی۔ ہرے ماݜ سی بوپ داد بس نواب ہودی!
ہیِن چاگُو (youth) تُنُو وخا چیر خیدی (promising) ہودی خو ہے چاگُو پوخ زُوان ہودیِدا ہے ہُم بھی تے پن دے بیَدی کامِک یأمنے ٹین تھلیل خلگا سی خُوئی سی ہویِدا۔ بغض (jealousy) او کیںہ(apathy) چیری ہودی۔ مالدا ہیدے ہُم آندرا بُوآز (stuffed calf) سی چھلے بُھوئے دے پونجَدی یا یی راجپوپ سی قَور سی چھلے تش ہودی۔ بن ہان ہودُو یرأ زُوأنی سی سے جوش او معصومی (innocence) کھأدے گأ!
کھأکأ مأ یأ بھائے بنُودا ہیِن سے فگر سی گیل چیر تأنگ ہوییو ہے قلارے ٹول تُنُو گام می کآں اے بأت پیش نُھوڑودی۔ ٹول سیاست پیش ہودی یا کو یِسی شیِرے کی بات ہیو یا کو یی کی بات کیو تیس پیش نھوڑودی! دئی ڙوگا ہیِما آمُوݜا بیدُو۔ ہے بھی تُںُو یار سأت پیاندی نأیی تُنُو سکا او گاموش! بس کنَے (by ears) پشَدی! کسی بارا می کا بُودو تی زید شیرتے یقین کودی۔ دماغ کے دا سرا زور نے دیدی!
بیٹھگا می یا ہوٹلا می بھئیدے کئی دأل بُوݜمَدی (back biting)۔ دئی سی ماس کئ کھادی۔ کئی نأ تُنُو کھام (nation, community ) سی کیا وخ نے دیدی! کئی آمن کھأدے لھاسُو! کئی دألا سی خلاف خلگا سی کن پونَدی!
بھیا قلارتے آں کو طاقت چھیو تُنُو کھام سی خزمت کوا! کھام بھا کوا۔ کھام گے پھی (shoulder) تھا۔ سیاست سی شوق تُھوا تیس کوا۔ خو ایسی کیا دئی سی قُوبا آں دئی ما شیتان سوؤ (demonize ) کی لازمی تُھوا کھأ! دئی سی بوٹی نہ بُوݜُوما!
کی ٹین تھیلئی دیِدا تھأ پیانا۔ کی تباریخ می تُھن ڙید لھاڑ تھأ دے تھوئے ما تُھن دھیریِن، جیدُون، تباریخ، شناخت (identity)، کلتُور (culture)، اختیار آں جیِب گھیرأدچی دا تھأ پیانا!
زبیر توروالی
مئی 2024ء
20/07/2024
مستعار لی ہوئی شناخت اور نفسیات
فرانٹز فینن نے نوآبادیت پر بحث کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوآباد کار صرف جنگ و جدل کے ذریعہ اپنا تسلط قائم نہیں رکھتے بلکہ وہ مقامی آبادیوں (indigenous populations) پر ایک جھوٹی شناخت ٹھونستے ہیں جو باہمی مساوات پر مبنی نہیں ہوتی اور جسے نوآباد کار ریاست یا معاشرہ ان کو دیتے ہیں۔ فینن اپنی کتاب ”Black Skin, White Masks“ میں ہیگل کی ”مالک/غلام“ کی جدلت پر تنقید کرتے ہویے لکھتے ہیں کہ تسلط کے حقیقی صورتوں میں جیسے کہ نوآبادکاری میں نہ صرف قبولیت اور شناخت کے شرائط بالادست طبقے اپنی مفاد کی خاطر طے کرتے ہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ مغلوب لوگوں میں ایک نفیساتی عمل (psycho-affective) سرایت کردیتے ہیں جہاں یہ مغلوب لوگ اپنی اس جھوٹی شناخت اور قبولیت کے لئے ان بالادست لوگوں کے شکرگزار ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح اس تسلط کو دوام بخشا جاتا ہے اور مقامی آبادیوں پر سیاسی اور سماجی غلبہ رہتا ہے۔ فینن انکو نوآبادیت کے اندرونی اثرات کہتا ہے اور کئی سالوں تک بطور ایک ماہر نفسیات کام کرتے ہوئے وہ ایسے ذرائع پر کام کرتا رہا جن کے ذریعے اس نفسیاتی نوآبادیت اور کمتری کو خودمختاری اور طاقت میں بدلا جاسکے۔
زبیر توروالی
ستمبر 2023ء